قرار داد لاہور(پاکستان) کا مصنف کون؟

تبصرہ: لیاقت علی ایڈووکیٹ

ستتر 77سال قبل 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ منٹو پارک لاہور میں ایک قرار داد منظور کی گئی جسے آج ہم’ قرار داد پاکستان‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس قرار داد میں پہلی دفعہ مطالبہ پاکستان کو آئین اور قانون کی اصطلاحات میں بیا ن کیا گیا تھا۔

قبل ازیں مسلم علیحدگی پسندی بطور تحریک تو موجود تھی لیکن اس کے ممکنہ آئینی اور قانونی خد و خال واضح نہیں تھے۔ قرار داد لاہور میں مجوزہ پاکستان کو ہندوستان کے جن علاقوں، خطوں اور صوبوں پر مشتمل ہونا تھا ان کی نشاندھی کی گئی تھی۔ اس قرار داد کا مصنف کون تھا اس بارے میں متضاد دعاوی موجود ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد برطانوی سرکار کے ایما پر سر ظفر اللہ خاں نے ڈرافٹ کی تھی اور انگریز سرکار اس قرار داد کے ذریعے کا نگریس کو دباؤ میں لانا چاہتی تھی جب کہ مسلم لیگ کا مقصد اس قرار داد کو کانگریس سے سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال کرنا تھا ۔

معروف مسلم لیگی رہنما ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی مسلم لیگ کے اس اجلاس میں شریک تھے انھوں نے لکھا ہے کہ جس دن یہ قرار داد اجلاس میں پیش ہوئی تھی اس دن بھی یہ امر زیر بحث تھا کہ یہ قرار داد کس نے ڈراٖفٹ کی تھی کیونکہ اس قرارداد میں بڑے واضح انداز میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی بات کی گئی تھی۔ اس قرارداد میں ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں میں دو آزاد مسلمان ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

لیکن 9اپریل1946کو نئی دہلی میں مسلم لیگ کے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے نو منتخب ارکان اور لیگی عہدیداروں کے کنونشن میں قرار داد لاہور سے انحراف کرتے ہوئے ’ایک ریاست‘ کی قرارداد منظور کر الی گئی حالانکہ اس کنونشن کو قرار داد لاہور کے مندرجات میں تبدیلی کوئی آئینی اختیا ر حاصل نہیں تھا۔مزید براں لیگی کنونشن کی منظور کردہ اس قرار داد میں مذکورہ صوبوں کے علاقوں میں رد و بدل کا کوئی ذکر نہیں تھا جب کہ قرار داد لاہور میں کہا گیا تھا کہ مناسب علاقائی رد وبدل کے بعد شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں میں دو آزاد اور خود مختار مسلم ریاستیں قائم کی جائیں۔

زیر نظر کتاب’ قرار داد لاہور کس نے لکھی‘ ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مارچ 2017 میں معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی کے ایک مختصر ٹی ۔وی انٹرویو کے پس منظر میں لکھے گئے تھے۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں میز بان نے ڈاکٹر مبار ک علی سے یہ پوچھا تھا کہ قرار داد لاہور کی آپ کے نزدیک کیا اہمیت ہے ؟ ڈاکٹرمبارک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں واقعات کے بیانئے میں برابر تبدیلی ہوتی رہتی ہے کیونکہ نئے ماخذ سامنے آتے رہتے ہیں اور نئی معلومات اُن کی حقیقت کو بدلتی رہتی ہے ۔

ا س لئے قرارداد لاہور کے بارے میں ایک تحقیق یہ ہے کہ قرار داد ہندوستان کے وائسرائے کے ایما پر سر ظفراللہ نے لکھی تھی۔ ڈاکٹر مبارک علی کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی میزبان نے ان سے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔ ڈاکٹر مبار ک علی کے اس انٹرویو سے ناراض بہت سے کالم نگاروں نے ان کے موقف کا مدلل جواب دینے کی بجائے ان کی شخصیت پر ناروا حملے کرنا شروع کرد یئے اور انھیں غدار تک قرار دے دیا۔

ہمارے ہاں ریاست کے منطقی جواز کے بارے میں اختلافی نکتہ نظر کو غداری یا ملک دشمنی قرار دینا، فکری بد دیانتی اور فسطائی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔کسی شہری کی حب الوطنی یا ملک دشمنی کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز اتھارٹی صرف اور صرف عدلیہ ہے ۔کسی فرد واحد یا ریاستی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی فرد یا کمیونٹی کو فکری اختلاف کی بنا پر ملک دشمن قرار دے کر اس کا میڈیا ٹرائل کرے۔

اس طرز عمل کا نتیجہ ہم بنگلہ دیش کی صورت میں دیکھ چکے ہیں مگر ہمارے دانشوروں اور اکابرین نے بنگلہ دیش کے قیام سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ملک دشمنی کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

فکشن ہاؤ س نے قرارداد لاہور کے سیا ق و سباق میں مختلف اخبارا ت میں ڈاکٹر مبارک علی کے موقف کی حمایت اور مخالفت میں لکھے گئے کالموں کو بلا امتیاز اس کتاب میں جمع کردیا ہے ۔ نظریاتی ریاستوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تاریخ کو ریاست کے نظریاتی فریم ورک میں تشکیل دیتی ہیں۔ اگر ریاست کے تاریخی بیا نئے کو کچھ واقعات اور شہادتیں غلط ثابت کرتی ہوں تو ایسے واقعات اور شہادتوں کو تسلیم کرنے کی بجائے یا تو ان کا سرے سے انکار کر دیا جاتا ہے یا پھر انھیں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

نظریاتی ریاستوں کے اس رویے کی وجہ سے معاشرے کے مجموعی ذہن میں گمراہ کن شعور پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ نہ تو ماضی کی درست تفہیم کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے حال کا تجزیہ کر سکتا ہے۔ پاکستان میں قدم قدم پر تاریخی معروضیت کو جھٹلایا جاتا ہے۔ تاریخی واقعات ہوں یا تاریخی شخصیات ان کی ٹیلرنگ کچھ اس انداز میں کی جاتی ہے کہ ریاستی بیانئے کو تقویت ملے اور اس کی ’سچائی‘ کی دھاک عام آ دمی کے ذہن پر بیٹھ سکے۔

قرار داد لاہور کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔یہ قرار داد کن حالات میں منظور ہوئی اور اس کے پس پشت کون سے سیاسی محرکات اور شخصیات تھیں ان کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس قرار داد کا سارا کریڈیٹ جناح کو دے دیا جاتا ہے۔

مسلم لیگ کے اہم رہنما چوہدری خلیق الزمان جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے صدر بنے،نے اپنی کتاب’ شاہراہ پاکستان‘ میں کہتے ہیں کہ مسلم لیگ کی تمام قرار دادیں وہی لکھا کرتے تھے ،یہی ایک قرار داد پاکستان تھی جو بد قسمتی سے وہ نہ لکھ سکے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قرارداد بالکل غلط الفاظ میں مرتب کی گئی اور کسی نہ سوچا کہ ان ا لفاظ سے قرار داد کا مفہوم یکسر بدل ہی نہیں بگڑ کا رہ جائے گا ۔

ساتھ ہی چوہدری صاحب نے ماتم کیا ہے کہ کاش ورکنگ کمیٹی کے ارکان اُن کی آمد کا انتظار کرتے کہ وہ اپنے وسیع سیاسی تجربے کی بنا پر قرار داد صحیح الفاظ میں مرتب کر سکتے۔ دراصل یہ قرار داد منظور ہونے سے دو ہفتے قبل سر ظفر اللہ نے یہ قرار داد لکھ کر وائسرائے ہند لارڈ لنلتھگو کو بھیج دی تھی جسے وائسرائے نے اپنی سفارشات کے ساتھ برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ لارڈ زٹلینڈ کے پاس 12 ۔مارچ 1940 کو بھیج دیا تھا۔

وائسرائے کے اس سے ظا ہر خط ہوتا ہے کہ اس منصوبہ کی نقل مسٹر جناح کو بھی بھیجی گئی تھی اور یہ منصوبہ اس لئے تیار کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ اسے اپنا لے۔ یہ قرار داد منظوری سے تھوڑی دیر قبل ہی مسلم لیگی زعما کے حوالے کی گئی تھی یہی وجہ تھی کہ جب یہ قرارداد جو انگریزی زبان میں تھی اجلاس میں پیش کی جارہی تھی تو مولانا ظفر علی خان جب اس کا ترجمہ کرنے لگے تو پنجاب کے وزیر اعظم سر سکندر حیات جو بہت پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اپنی جگہ اٹھ کر مولانا کے پاس آکر بیٹھ گئے اور جب تک مولانا ترجمے میں مصروف رہے سر سکندر برابر قرار داد کے انگریزی متن اور اُردو ترجمے کے ایک ایک لفظ پر غور فرماتے رہے ۔

یہ صحیح ہے کہ سر سکندر مرحوم لفظ پاکستان سے ہمیشہ گھبراتے اور اس کے بجائے قرار داد لاہور کا لفظ استعمال کرتے تھے لیکن اس رات ان کا یکا یک پچھلی صفوں سے اُٹھ کر مولانا ظفر علی خاں کے پاس آکر بیٹھ جانا اور ترجمے کے ایک ایک لفظ پر کڑی نگاہ رکھنا کہ آیا اُردو الفاظ انگریزی متن کا صیحح مفہوم ادا کرتے ہیں یا نہیں ، اس بات کا ثبوت تھا کہ انہیں قرار داد کی ترتیب و تدوین میں خاصا دخل تھا ۔

کتاب میں ڈاکٹر مبارک علی ، ڈاکٹر صفدر محمود، مجیب الرحمان شامی ،غافر شہزاد ،مقتدا منصور، اسلم گورداسپوری کے مضامین شامل ہیں۔

نام کتاب: قرار داد لاہور کس نے لکھی

ترتیب: ڈاکٹر مبارک علی

صفحات:160 قیمت :300 روپے

پبلشر: فکشن ہاؤس مزنگ روڈ لاہور ۔

فون: 042-36307550-1

6 Comments

  1. Hamid A Mian, MD says:

    جنہیں قرآن میں غلو کرنے میں شرم نہ آئیی! یہ تو پھر بھی تاریخ ہے۔
    حذر اےچیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

  2. آصف جیلانی says:

    میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ اس حقیقت کو کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ قرارداد لاہور کا مسودہ اس زمانے کے پنجاب کے یونینسٹ وزیر اعلی سر سکندر حیات خان نے تیار کیا تھا ۔ یونینسٹ پارٹی اس زمانہ میں مسلم لیگ میں ضم ہوگءی تھی اور سر سکندر حیات خان پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے۔ سر سکندر حیات خان نے قرارداد کے اصل مسودہ میں بر صغیر میں ایک مرکزی حکومت کی بنیاد پر کنفڈریشن کی تجویز پیش کی تھی لیکن جب اس مسودے پر مسلم لیگ کی سبجیکٹ کمیٹی میں غور کیا گیا تو قاید اعظم نے خود اس مسودہ میں واحد مرکزی حکومت کا ذکر کاٹ دیا۔ اس مشودہ میں واضح طور پر بر صغیعر میں دو مملکتوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا ، ایک شمال مشرق کے مسلم اکثریت والے علاقوں پر مشتمل اور دوسی بنگال کے مسلم اکثریت والے علاقہ پر مشتمل مملکت۔ قرارداد کا یہ مسودہ برٹش لایبریری میں رکھا ہوا ہے۔

  3. لیاقت علی ایڈووکیٹ says:

    یونینسٹ پارٹی ضم نہیں ہوئی تھی بلکہ سکندر جناح پیکٹ کے مطابق صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی یونینسٹ پارٹی ہوگی جب کہ اسمبلی سے باہر یہ مسلم لیگ کہلائے کی ۔ علامہ اقبال اور ان کےساتھیوں ملک بر کت علی ، مل لال دین قیصراور عاشق بٹالوی وغیرہ کو اس معاہدے کے نتیجے میں کچھ نہیں ملا تھا اس لئے وہ اس کی مخالفت کرتے تھے، جناح بشمول علامہ اقبال کسی کواس حوالے سےگھاس نہیں ڈالتے تھے۔

  4. نجم الثاقب کاشغری says:

    کتاب کے تعارف و تبصرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کتاب میں اس موضوع کے بارہ میں مختلف صاحبان کی پیش کردہ “تحقیقات” اور آراء کو کتابی شکل میں یکجا کردیا گیا ہے۔پتہ نہیں اس میں محترم سید عاصم محمودصاحب کا تحریر کردہ مضمون بھی شامل ہے یا نہیں جس میں انہوں نے حوالہ جات کے ساتھ دلائل دیتے ہوئے ذیلی عناوین کے تحت لکھا ہے کہ:۔

    1۔”کیا سر سکندر خالق ہیں؟
    بعض مورخین نے سر سکندر حیات خان کو قرارداد لاہور کا خالق قرار دیا ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی وفاقی سکیم میں خودمختار مسلم ریاستوں کا تصور عنقا تھا بلکہ سبھی مسلم ریاستیں وفاق کے تابع تھیں جن پر بعد از آزادی ہندوؤں کا قبضہ ہوجانا تھا۔ سرسکندر نے اپریل 1939ء میں اپنی سکیم پیش کی تھی۔
    تحریک پاکستان کے رہنما،سید شریف الدین پیرزادہ اپنی کتاب’’Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah and Pakistan‘‘ کے باب’’Jinnah, the Two Nation theory and the demand for Pakistan‘‘ میں لکھتے ہیں ’’انگریز وائسرائے نے سرسکندر کو اپنی سکیم پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی میں اسے عبداللہ ہارون سکیم کے مقابلے میں پیش کیا جاسکے۔ اس ضمن میں پیرزادہ صاحب نے گورنر پنجاب کا خط بنام وائسرائے ہند بطور ثبوت پیش کیا ہے۔ یہ انکشاف واضح کرتا ہے کہ سرسکندر انگریز ایجنٹ تھے جو مسلم لیگ میں شامل ہونے کے بعد بھی اپنے آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی پوری سعی کرتے رہے۔
    مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے رکن اور مشہور سیاست داں، چوہدری خلیق الزماں اپنی خود نوشت ’’شاہراہ پاکستان‘‘ میں رقم طراز ہیں :’’4 فروری (1940ء) کو مجلس عاملہ میں سرسکندر حیات نے اپنی سکیم کی پر زور وکالت کی۔لیکن دو گھنٹے تک بحث مباحثے کے بعد جناح کی تائید سے سکیم نامنظور کردی گئی۔‘‘
    حقائق سے عیاں ہے کہ اوائل میں سرسکندر نے انگریز حکمرانوں کے کہنے پر یا اپنی مرضی سے قرارداد لاہور کی تیاری میں حصّہ لیا۔وہ مسلم اکثریتی صوبوں کی خود مختاری کے تو خواہش مند تھے، مگر انیںر غیر مسلم وفاق کے ساتھ نتھی کرنا چاہتے تھے۔ جب مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے ان کی سکیم مسترد کردی، تو وہ قرارداد لاہور سے لاتعلق ہوگئے۔ 23 مارچ کے عام جلسے میں وہ موجود نہیں تھے۔سرسکندر ویسے بھی اندرون خانہ مسلم لیگ کے مخالف تھے۔ ان کی تا عمر سعی رہی کہ مسلم لیگ پنجاب میں قدم نہ جمانے پائے۔11 مارچ 1941ء کو پنجاب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے سرسکندرنے خود کہا تھا’’میں نے جو قرارداد (لاہور) تیار کی تھی، اس میں (مسلم لیگ) کی مجلس عاملہ انقلابی تبدیلیاں لے آئی تھی۔ لہٰذا میری قرارداد اور منظور ہونے والی قرارداد میں بہت فرق تھا۔‘‘(بحوالہ Lahore Resolution and question of provincial autonomy ازپروفیسر شریف المجاہد،ڈیلی بزنس ریکارڈر،23 مارچ،2007ء)۔

    2۔سرظفراللّٰہ خان کا قصہ
    یہ دسمبر 1981ء کی بات ہے،ممتاز سیاستدان ولی خان نے لاہور کے مشہور ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قرارداد پاکستان سرظفراللہ خان کی تخلیق ہے اور یہ کہ برطانوی وائسرے ہند، لارڈ لنلتھگو نے یہ قرارداد ان سے لکھوائی تھی۔ بعدازاں اس دعویٰ کو ولی خان نے اپنی انگریزی کتاب کا بھی حصہ بنا دیاجس کا ذکر درج بالا ہو چکا۔کتاب میں بغیر حوالہ مصنف نے انڈیا سیکرٹری کے نام لارڈ لنلتھگو کے خط کا ذکر کچھ یوں کیا ہے:
    Upon my instruction Zafarullah wrote a memorandum on the subject. Two Dominion States. I have already sent it to your attention. I have also asked him for further clarification, which, he says, is forthcoming. He is anxious, however, that no one should find out that he has prepared this plan. He has, however, given me the right to do with it what I like, including sending a copy to you. Copies have been passed on to Jinnah, and, I think, to Sir Akbar Hydari. While he, Zafarullah, cannot admit its authorship, his document has been prepared for adoption by the Muslim League with a view to giving it the fullest publicity.
    یہ خط عیاں کرتا ہے کہ برطانوی حاکموں کے حکم پر ایک متنازع مذہبی پس منظر رکھنے والی اہم شخصیت نے وہ قرارداد تحریر کی جو تحریک پاکستان کے ضمن میں مسلم لیگ کا ’’میگناکارٹا‘‘بن گئی۔ لیکن حقائق کچھ اور افشا کرتے ہیں۔ہفت روزہ چٹان میں ولی خان کا انٹرویو شائع ہوا، تو ملک بھر میں ہلچل مچ گئی اور دانشور اپنی آرا پیش کرنے لگے۔ حقیقت جاننے کی خاطر روزنامہ پاکستان ٹائمز، راولپنڈی نے 13 فروری 1982ء کو سرظفراللہ خان کا انٹرویو شائع کیا جو تب حیات تھے۔ اس انٹرویو میں سر ظفر اللہ نے دعویٰ کیا کہ نوٹ انہوں نے اپنی مرضی سے تحریر کیا تھا۔ اسی انٹرویو میں انڈیا سیکرٹری کے نام لارڈ لنلتھگو کا خط بھی شائع ہوا جس کا متن ظفر اللہ خان نے اخبار کو مہیا کیا تھا۔ وہ ملاحظہ فرمائیے:
    ‘I sent by the last bag a copy of Zafarullah’s note on dominion Status which I remarked purported to be statement of the position from extremer point of view. I introduced that qualification because I have not at that time had an opportunity of discussing its precise nature with him and certain of the propositions contained in it, were likely to appear formally under the name of a Member of my council, might, I think, have justified a description in those terms.
    I asked him yesterday to put me a little more in the picture, and he told me first that this is a first draft only; secondly that, provided he is protected on that point and the paper is not used publicly, I may do what I like with it, including sending a copy to you; thirdly that copies have been passed to Jinnah and I think to Hydari and fourthly that while he, Zafarullah cannot of course admit its authorship, his document has been prepared for adoption by the Muslim League with a view to its being given the fullest publicity.I cannot claim even yet to have had time to absorb it fully, and I would prefer to suspend my comments on it until later. But it is a substantial and trenchant piece of work and I shall be greatly interested in your own reaction to it.
    ولی خان صاحب کی کتاب میں دیئے گئے خط اور درج بالا خط میں واضح فرق ہے۔ یہ عیاں کرتا ہے کہ ولی خان نے اپنا دعویٰ سچ ثابت کرنے کی خاطر خط کا متن توڑ مروڑ کے پیش کیا جو ایک قسم کی علمی بددیانتی ہے۔
    دور جدید کی ممتاز مورخ، ڈاکٹر عائشہ جلال نے حیات ِقائد پہ لکھی اپنی انگریزی کتاب ’’The Sole Spokesman‘‘ میں سر ظفر اللہ خان کے نوٹ پر تفصیلی بحث کی ہے۔ چونکہ ان کا شمار ’’ریاستی مورخین‘‘ میں نہیں ہوتا لہٰذا ڈاکٹر صاحبہ کے افکار اہمیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کتاب کے دوسرے باب ’’Jinnah and the League’s search for survival‘‘ میں رقم طراز ہیں:
    ’’وسط فروری 1940ء میں ظفر اللہ خان نے اپنا نوٹ وائسرائے ہند کو بھجوایا۔ انہوں نے اس میں تین سکیموں کا ذکر کیا۔ اول سکیم چودھری رحمت علی سکیم سے مشابہ تھی جسے انہوں نے ’’نہایت غیر عملی‘‘ قرار دیا۔ دوسری ’’فیڈرل سکیم‘‘ تھی۔ اس کے تحت انہوں نے اسلامی ریاستیں قائم کرنے کی تجویز دی جو وفاق کے ماتحت ہوں۔ تیسری ’’علیحدگی سکیم‘‘ تھی۔ اس کے تحت مسلم اکثریتی صوبوں کی دو اسلامی ریاستیں قائم کردی جاتیں۔جناح نے یہ نوٹ دیکھا۔ مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی میں بھی اسے پیش کیا ہوگا۔ مگر سرظفراللہ کی دونوں سکیموں کو قبولیت نہ ملی۔ فیڈرل سکیم کی رو سے دونوں اسلامی ریاستیں کئی معاملات میں انگریزوں (یا ہندوؤں) کی محتاج بن جاتیں۔ جبکہ علیحدگی سکیم میں مسلم اقلیتی صوبوں میں آباد مسلمانوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔مزید براں جناح اسلامی ریاستوں (یا ریاست) میں مضبوط مرکز (وفاق) چاہتے تھے تاکہ ازحد صوبائی خود مختاری کی خرابیوں سے بچا جاسکے۔‘‘
    گویاقائداعظم اور مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی نے سر ظفر اللہ خان کے نوٹ کا جائزہ ضرور لیا اور ممکن ہے کہ کچھ نکات سے استفادہ بھی کیا ہو۔ مگر آخر کار اسے بھی بقیہ سکیموں کا حصہ بنا دیا گیا۔ یہ نوٹ ’’لنلتھگو پیپرز‘‘ میں محفوظ ہے۔ اس کا نمبرMSS EUR,F /125/9 ہے۔ ساتھ لارڈ لنلتھگو کا خط بھی ہے جو 12 مارچ 1940ء کو لکھا گیا۔ لارڈ لنلتھگو 1936ء تا 1943ء وائسرے ہند رہا ۔ اس دوران لارڈ نے جو سرکاری خط کتابت کی، وہ لنلتھگو پیپرز کے نام سے برٹش لائبریری میں موجود ہے۔
    یہ عین ممکن ہے کہ جب مسلم لیگ نے دانش وروں سے سکیمیں طلب کیں، تو سرظفراللہ نے بھی ایک سکیم تیار کر کے بھجوادی۔”۔
    https://www.express.pk/story/794025/
    سرظفراللہ خان صاحب کا مذکورہ بالا انٹرویو نہایت اہم ہے کیونکہ یہ خود”گھوڑے کے منہ سے” اس کا قصہ سننے کی بات ہے نہ کہ غائبانہ فلسفیانہ بحثیں کرنے کی۔

  5. سر ظفراللہ کے بارے میں ایک کتاب ڈاکڑ پرویز پروازی نے بھی لکھی ہے اس کا مطالعہ کر لیں جس میں ظفراللہ نے دعوی کیا ہے یہ قرارداد انہی کی ڈرافت شدہ ہے

  6. نجم الثاقب کاشغری says:

    کتابیں لکھنے پڑھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔میری آنکھوں میں تعصب کی سلائی پھیردی جا چکی ہے اور کانوں میں نفرت کا سیسہ پگھلا کرڈالا جا چکا ہے۔میں مان ہی نہیں سکتا کہ ایک قادیانی،مرزائی،زندیق،کافر،غیر مسلم،یہود کا ایجنٹ،انگریز کا خودکاشتہ پودا،شیزان پینے والا اور قادیان جانے والا قرارداد لاہور کا بھی مصنف ہو سکتا ہے۔پاکستان تو ایک درویش بابے نے بنایا تھا جس کی مدد کے لئے نبی پاک ﷺ کی روح کو ایک پیر صاحب نے عملیات فتوحیہ کر کے زمین پہ آنے پر مجبور کردیا تھا۔چنانچہ میاں بشیر احمد زیر عنوان قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ بارگاہ رسالتمآب ﷺ میں ” لکھتے ہیں کہ
    ” نازک ترین حالات کوحضرت فقیر نور محمد سروری قادری مولف عرفان نے جب دیکھا تو ازحد پریشان ہوئے کہ اگر قیام پاکستا ن عمل میں نہ آیا تو یہ ایک بہت بڑا قومی المیہ ہوگاا ور پھر اس کی تلافی قیامت تک نہ ہو سکےگی چنانچہ آپ نے صحرا میں جا کر پاک ریت پر قبر مبارک کا نقشہ بنایا اور بڑے جوش و خروش اور جذبے کے ساتھ وہ مخصوص دعوت پڑھی حضور سرورکائنات ﷺ کی روح پر فتوح سے رابطہ قائم کیا اور خشوع و خضوع کے ساتھ دعا مانگی وہ دعوت موثر ثابت ہوئی دعا قبول ہوئی قبولیت اور اجابت درحق سے استقبال کے لیے نازل ہوئی قائد اعظم اور مسلمانان ہند کو تائید ایزدی اور غیبی امداد و حمایت حاصل ہوئی تحریک پاکستان کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آگیا!۔”۔

    اسی طرح یہ جو کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم کو ایک “قادیانی مرزائی کافر غیر مسلم” عبدالرحیم درد نے ہندوستان واپس آنے پر رضا مند کر والیا تھا یہ بھی میں ہرگز نہیں تسلیم کر سکتا انہیں تو پیغمبر اسلام ﷺ نے خود لندن میں یہ کہہ کر کہ ” مسٹر جناح” ہندوستان جاؤ،واپس ہندوستان جانے کا حکم دیا تھا تھا۔چنانچہ یہی میاں بشیر احمد صاحب انکشاف فرماتے ہیں کہ قائد اعظم نے بشرط رازداری بتا یا کہ لندن میں :۔” کسی نے میرا بستر نہایت زور سے جھنجھوڑا میں ہڑبڑا کر اٹھا پورا کمرہ معطر تھا میں نے فوری طور پر محسوس کیا کہ ایک غیر معمولی شخصیت میرے کمرے میں موجود ہے۔میں نےکہا آپ کون ہیں؟آگے سے جواب آیا:میں تمہار پیغمبر محمدﷺ ہوں میں جہاں تھا وہیں بیٹھ گیا دونوں ہاتھ باندھ لیے اور سر جھکا لیا۔ فوراً میرے منہ سے نکلا آپ پر سلام ہو میرے آقا ﷺ ایک بار پھر وہ خوبصورت آواز گونجی!(مسٹر جناح برعظیم کے مسلمانوں کو آپ کی فوری ضرورت ہے ہے اور میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ تحریک آزادی کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں میں آپ کے ساتھ ہوں آپ بالکل فکر نہ کریں انشاء اللہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے)میں ہمہ تن گوش تھاصرف اتنا کہہ پایا:آقا! آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔میں مسرت و انبساط اور حیرت کے اتھاہ سمندر میں غرق تھا کہ کہاں ان کی ذات اور کہاں میں اور پھر یہ شرف ہم کلامی یہ عظیم واقعہ میری واپسی کا باعث بنا۔”۔
    اور آخر پہ ان “تاریخی حقائق” کے انکشافات کی سونامی کا آخری ریلا ان الفاظ میں :۔
    مشہور درویش اور ولی اللہ حضرت مولانا سلطان محمد نے ایک دفعہ فرمایا تھا۔’’میں نے خواب میں دودرویش ولی اللہ پاکستان کے بارے میں بحث کرتے ہوئے دیکھے جن میں ایک زمین پر لاٹھی سے ایک لکیر کھینچ دیتا تھا دوسرا بحث کے بعد مٹا دیتا تھا اس بحث اور مباحثے میں آخر لکیر کھینچنے والا درویش ولی اللہ اپنے دوسرے مخالفت کرنے والے درویش ولی اللہ کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور درویش ولی اللہ لکیر کھینچنے میں کامیاب ہوگیا اور دوسرے نے اسے قبول کر لیا۔” ۔
    /http://meraymohsin.com/3138
    یہ ہیں “اصل” حقائق ،خبردار جو تاریخ پاکستان کے حوالے سے قادیانیوں ،اسمٰعیلیوں ،پارسیوں،شیعوں کی جو بات کی۔ (کیسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *