غلطی کہاں ہوئی

سید نصیر شاہ

 

برصغیر تقسیم ہوا لاکھوں انسان قتل ہوئے بے انتہا عورتوں کی عصمتیں برباد ہوئیں جائدادیں لُٹیں یقیناًلوگوں نے ایک بہت بڑی قیامت کا سامنا کیا ہم مغربی پنجاب کے لوگوں نے ہندوؤں اور سکھوں کی تباہی دیکھی اسی طرح بھارت میں شامل ہونے والے علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ بے رحمی ہوئی۔ 

اب اُس قیامت کو بیتے ہوئے باسٹھ سال ہو رہے ہیں تیسری نسل جوان ہو رہی ہے لیکن پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں نفرتیں ختم نہیں ہو رہیں دونوں ملکوں پر بھوک کے منحوس سائے گہرے اور تاریک ہو رہے ہیں حکومتیں عوام کی غربت دور کرنے کی بجائے ملکی وسائل مہلک اسلحہ کی خریداری اور تیاری میں جھونکتے جا رہے ہیں جو نسلیں تقسیم کے بعد پیدا ہوئیں انہوں نے نفرت کی سیاست پڑھی ہے، انہیں زہر بھرے جذبے پلائے گئے، وہ تو ان ہی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

مگر پرانے لوگ سوچنے لگے ہیں کہ انہوں نے اپنی نسلوں کے لیے کیوں یہ زہر یلاورثہ چھوڑا دونوں ملکوں میں یرغمال بنی ہوئی اقلیتیں عذابوں میں لتھڑی ہوئی زندگی گزار رہی ہیں، غلطی کہاں ہوئی؟ غلطی کس کی تھی؟ غلطی کیوں ہوئی؟ یہ سوالات سلگتے ہوئے انگاروں کی طرح سوچنے والے ذہنوں پر رکھے ہوئے ہیں۔

طالب علم پریشان ہیں کہ ہمارے بزرجمہروں نے یہ نظریہ نکالا کہ قوم مذہب سے بنتی ہے ہمارے قومی شاعر اقبال نے اسی کو اپنامطمع نظر بنا کر نظموں کی بھرمار کی ۔ہمارے قائداعظم نے اسی نظریہ پر کہ قوم وطن سے نہیں مذہب سے بنتی ہے پاکستان کے نام سے برصغیر کے ٹکڑے کرائے جب ایسا ہو گیا تو ہم نے پوچھا اہل پاکستان اب اپنی قوم اور قومیت کیا لکھیں فرمایا گیا ’’پاکستانی‘‘ لکھو یعنی اب قوم وطن کے نام پر بن گئی۔

یہ تضادات لوگوں کو پریشان کرتے تو لوگ سوال اٹھاتے ہیں غلطی کہاں ہوئی؟ فرد ہویا قوم جب بھی ٹھوکر کھائے یہی سوچ ابھرتی ہے، غلطی کا تعین ہو جائے تو اسے درست کر لیا جاتاہے تب ہی ترقی کی منزل کی طرف بڑھنے کی راہیں کھلتی ہیں مگر ہمارے ہاں ایک اور بڑی مصیبت ہے کہ کہا جاتا ہے ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطاست‘‘ بزرگوں کی غلطی پکڑنا یعنی اس پر گرفت کرنا غلطی ہے یہی وہ گمراہ کن نظر یہ ہے جوبھٹکی ہوئی قوموں کو اور زیادہ بھٹکا دیتا ہے جو قومیں بھٹکتے بھٹکتے تباہ اور بے نام ونشاں ہو گئیں اُن سے یہی خطا ہوئی تھی کہ کسی شخص کو انہوں نے رہبرورہنما تسلیم کیا پھر آنکھیں بند کر کے، بے چون وچرااس کے پیچھے چلتی گئیں بدقسمتی سے وہ غلط تھا۔

سواس کی غلطی پوری قوم کو بربادیوں کے اس گڑھے میں گراگئی جو پاتال تک اندھی گہرائیوں میں لے جاتا تھا۔ جہالت اور ضلالت کے پاس ہمیشہ ایک ہی دلیل رہی ہے’’ اِناَّ وَجَدْناَ آباَ ءَنَا کَذَیکَ ےَفْعَلُوْن(ہم نے اپنے آباؤاجداد کو یہی کرتے ہوئے پایا) قوموں کی تباہی میں سب سے بڑا کردار ’’ اعاظم پرستی‘‘ یعنی ہیرو پرستی کا ہوتا ہے ہم پاکستانیوں نے ایک شاعر اقبال کو ’’پیغمبری کردوپیمبر نتواں گفت‘‘ کا تاج پہنا کر’’بعد ازخدابزرگ‘‘ بزرگ بنا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک دوسراعر ش تراشا اور اُس پر ’’ محمد علی جناح‘‘ ’’قائداعظم ‘‘ اور بابائے ملت‘‘ بنا کر بٹھا دیا اب جو ان بتوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا ہے ہم اُس کی آنکھیں نکال دینے کو لپک پڑتے ہیں۔ حالانکہ جسے ہم قائداعظم کہتے ہیں اس نے کہا تھا۔

’’ میں بھی انسان ہوں مجھ سے بھی غلطی ہو سکتی ہے لہٰذا ہر شخص کو اختیار ہے کہ میرے کام کے بارے مشورہ دے اور اس پر تنقید کرے‘‘( قائداعظم کی تقریر جلسہ عام دہلی 8نومبر1946)۔

مگر اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کبھی آپ نے یہ بات کہنے والے شخص کی کسی غلطی کی نشاندہی کی، اس پر کبھی تنقید کی؟ نہیں کبھی نہیں بلکہ آپ نے توہمیشہ یہ کوشش کی کہ جو آدمی ان کی کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے زبان کھولے اس کی زبان گدی سے کھینچ لی جائے۔ بزرگوں اور سچے رہنماؤں کا احترام ضرور کرنا چاہیے مگر ان کے احترام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ انہیں اسی مقام پر بٹھایا جائے جو ان کے لیے موزوں ہے۔ ان کی عظمتوں کے ساتھ اُن کی کمزوریوں خامیوں اور کوتاہیوں کو بھی بیان کیا جانا چاہیے تاکہ آپ کا قاری دیانتداری سے دونوں پہلوؤں کو دیکھ کر فیصلہ کر سکے کہ اوصاف حمیدہ کیاہیں اور خامیاں کیا ہیں؟ 

جو چیزیں زیادہ ہونگی اور جن کا پلڑا بھاری ہو گا وہ ان کو سامنے رکھ کر اس کے صحیح مقام کا تعین کرے گا۔ہیروورشپ اسی لیے قوموں کی تباہی کا سبب بنتی ہے کہ اس میں انسان کی کوتاہیوں سے صرف نظر کر کے اُسے ’’ معصوم‘‘ منزہ عن الخطاء‘‘ بنا کر انسان کے مرتبہ سے بلند ترکر دیا جاتا ہے اُسے بالکل ہی ’’ فوق البشر‘‘(سپر ہیومن) بنا دیا جاتا ہے ۔فانی انسان اس کے متعلق پڑھ کر یہ سمجھتا ہے وہ اس کی پیروی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ توبشری کمزوریوں سے بھرا ہوا ہے اور جس کی سوانح وہ پڑھ رہا ہے وہ تو ان سے بہت بلند تھا حالانکہ بڑے لوگوں کی سوانح اس لیے پڑھی جاتی ہیں کہ 
Lives of great man all remind us we can make our lives sublime

اس طرح لوگوں کے دلوں میں یہ عقیدہ گھر کر جاتا ہے کہ تاریخ کو کسی انقلاب سے دوچار کرنا عام انسانوں کے بس کی بات نہیں یہ ’’دیوتائی‘‘ کام ہے کوئی دیومالائی شخصیت آئے گی اور یہ کارنامہ سرانجام دے گی آدمی پھر ہاتھ پر ہاتھ دھرکر بیٹھ جاتا ہے کہ’’مردے ازغیب بروں آیدوکار ے بکند‘‘ قوموں کی آنکھیں کسی’’ مہدی‘‘ کسی ’’عیسیٰ‘‘ کے انتظار میں سفید ہونے لگتی ہیں۔ ہیروورشپ میں پاکستان کی نصابی کتابیں بنانے والے مصنفین نے کورانہ عقیدت کے جذبات میں لت پت وہ زبان استعمال کی ہے کہ طالب علموں کے دماغ شخصیت پرستی کی دلدل میں ڈوب گئے ہیں جہاں سے وہ زندگی کے کسی مرحلہ پر بھی باہر نہیں نکل سکتے اور یہ دلدل تضادات کی ہے۔

سب سے پہلے تو یہ دیکھئے کہ فرقہ اسماعیلیہ کو مسلمانوں کے تمام فرقے حتیٰ کہ اثناعشری اہل تشیع بھی کفریہ عقائد کے حامل سمجھتے ہیں اور فرقہ اسماعیلیہ سے وابستہ لوگ تمام مسلمانوں کو گمراہ بلکہ کافر سمجھتے ہیں۔ ادھر اسی فرقہ اسماعیلیہ کے امام سرآغا خان مسلم لیگ کے موسسین اولیٰ میں شامل ہیں ادھر مسلم لیگ، ان مرتبین نصاب کی نظر میں اسلام کو ہی نظریہ پاکستان کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ قائداعظم جنہوں نے اسلام کے نظام حیات کو عملاً بروئے کارلانے کے لیے پاکستان لے کر دیا اسلام کے ساتھ ان کا کیا رشتہ تھا؟ اس کی وضاحت کے لیے اُن تفاصیل کو چھوڑدیجئے جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ خنزیر کے گوشت سے بنے ہوئے سینڈوچ بڑئے شوق سے کھاتے تھے اُن کے پرانے رفیق جناب یوسف ہارون مرحوم کی یہ بات دیکھ لیجئے۔

’’قائدِ اعظم لبرل آدمی تھے پہلی دفعہ جب انہوں نے نماز پڑھی تو میرے ساتھ جامع مسجد گئے تھے اور کہنے لگے یوسف کس طرح نماز پڑھنی ہے میں نے کہا جس طرح میں کروں اسی طرح آپ کرتے رہیں امام صاحب نے جب دیکھا کہ قائداعظم نماز پڑھ رہے ہیں انہوں نے نماز ہی لمبی کر دی‘‘(روزنامہ پاکستان میگزین سیکشن، یوسف ہارون کا انٹرویو اکتوبر2008/12بحوالہ توصاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہواراہی 74)۔

مجھے یاد ہے احرارعلماء بھی یہ واقعہ بیان کرتے تھے آخر میں معلوم نہیں وہ’ زیب داستاں کے لیے‘‘ یا بیان حقیقت کے طور پر بھی بڑھا یا کرتے کہ قائداعظم امام سے پچھلی صف میں دائیں طرف بیٹھے تھے جب امام نے نماز ختم کی اور دائیں طرف سلام پھیر کر کہا’’ اسلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ تو قائداعظم نے جھٹ فرمایا’’ وعلیکم السلام امام صاحب‘‘۔

یہ ایک برہنہ حقیقت ہے کہ قائداعظم نے کیبنٹ مشن پلان قبول کر لیا تھا۔ ہر تاریخ لکھنے والے نے یہ بات لکھی ہے یہاں طالب علم اور استاد دونوں چکر اجاتے ہیں کہ اس وقت دوقومی نظریہ کدھر چلا گیا تھا؟ یہ سوال جب اٹھتا ہے تو اس کے جواب میں صرف شور مچادیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں جناب ارشاد احمد حقانی پر روزنامہ جنگ میں سچ لکھنے کی دھن سوار ہوئی تو وہ اپنے کالم میں لکھ بیٹھے قائداعظم نے کیبنٹ مشن پلان قبول کر کے تقسیم ہند سے روگردانی کرلی تھی۔

بس یہ لکھنا تھا کہ ایک سابق بیوروکریٹ ڈاکٹر صفدر محمود لنگر لنگوٹ کس کر حقانی صاحب کو پچھاڑنے کے لیے اکھاڑا سجا بیٹھے۔ پھر بہت سے وہ لوگ جوشاید اس تحریک کے دوران ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ان کی حمایت میں آگئے اور روزنامہ جنگ کے کالموں میں وہ واویلا ہوا کہ الامان والحفیظ۔ دلیل کسی کے پاس نہ تھی شوروغوغا تھا کہ قائداعظم پر حملے بند کرو یہ وہی ہیروورشپ ہے جو قوموں کی بربادی کا باعث بنتی ہے ہمیں اس طرح کی شخصیت پرستی سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے ۔

ہمیں یہ اطمینان ضرور ہونے لگا ہے کہ اب کچھ لوگ اس کھوج میں نکل رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت دوپڑوسیوں کی نصف صدی سے زائد عرصہ کی دشمنی جو دونوں ملکوں کے لیے ہر آن جہنم دہکائے رکھتی ہے کب ختم ہو گی؟ یہ غلطی کس سے ہوئی تھی اور کہاں ہوئی تھی؟ گویا اب کچھ لوگوں کو ’’احساس زیاں‘‘ ہونے لگا ہے اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ کوئی ایک ماہ قبل لاہور کے جناب نور محمد قریشی ایڈووکیٹ نے اپنی تازہ تصنیف تو صاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہواراہی‘‘ مجھے بھیجی اور فون پر مجھ سے رابطہ کر کے کتاب کے متعلق رائے بھی طلب کی، میں کیا اور میری رائے کیا؟ قریشی صاحب کا حسن ظن ہے ان کی اسی کتاب سے مجھے تحریک ہوئی اور میں نے یہ چند سطور لکھ دی ہیں۔

قریشی صاحب نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں، قریشی صاحب کے دیباچہ نگا ر احسان الحق ملک نے اپنی تحریر کی ابتداء میں ہی جامعہ حفصہ کے سانحہ پر آنسو بہائے ہیں۔ میں جامعہ حفصہ میں خون خرابہ کرنے والوں کے بھی خلاف ہوں اور اُن لوگوں کے بھی خلاف ہوں جنہوں نے اپنے مذہب اور اپنے عقائد کو دوسروں پر بجبر وزورنافذ کرنے کو ہی خدا کی منشاء قرار دے کر یہاں کے بچوں کو بندوقیں اور کلاشنکوفیں تھمائیں۔ کتاب کے مصنف نے قائداعظم کے متعلق بہت سی معلومات جمع کر دی ہیں جن میں سے اکثر ان تضادات کی نشاندہی کرتی ہیں جو پاکستان بنانے والی لیڈرشپ کے کردار میں رہیں ہیں۔میں کتاب پر تبصرہ لکھ رہا ہوں نہ تنقیدبس ایک ہلکاتاثر لکھ دیا ہے۔

نیا زمانہ اپریل2009

پاکستان ایک تجربہ

6 Comments

  1. Abdul khaliq says:

    No doubt, we owe honest and true story of partition & our leadership to our young generation. Hope this truth may help guide our youth to direct country in right direction

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شُد پریشاں خوابِ من از کثرتِ تعبیرہا !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غلطیوں کی بحثیں اگر چل پڑیں تو وہ حضرتِ آدم کے خُلد سے نکالے جانے پہ ہی جا کر ختم ہونگی۔ پتہ نہیں ہم بنگلہ دیش کی طرح ماضی کی غلطیوں اور ان پر بحثوں سے چھٹکارا حاصل کر کے خاموشی سے ترقی کی راہ پہ کیوں نہیں گامزن ہو سکتے۔ بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ ہم سے زیادہ ہیں ۔بجٹ کا خسارہ ہم سے کم، انفرادی غربت ضرور ہے کم لیکن شرح بیروزگاری ہم سے کم ہے۔
    http://www.nationmaster.com/country-info/compare/Bangladesh/Pakistan/Economy

    جہاں تک ماضی اور تاریخ کا تعلق ہے تو مشہور مصنف سیموئیل بٹلر کا مشہور قول درست ہے کہ
    “God cannot alter the past, though historians can.”

    مورخین کے بعد رہی سہی کسر ایسے نام نہاد دانشور،ادبا،صحافی اور سیاستدان پوری کر دیتے ہیں جوہٹلر کے مشیر پروپیگنڈا جوزف گوبلزکے قول کےمطابق ایک ہی جھوٹ کو بار بار اتنا دہراتے ہیں کہ وہ سچ بن کر مشہور ہو جاتا ہے:۔
    “Repeat a lie often enough and it becomes the truth”

  3. نجم الثاقب کاشغری says:

    ۔۔۔۔۔۔۔۔ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا، پر یاد آتا ہے
    وہ ہر ایک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
    بہت سی مبینہ تاریخی غلطیوں میں سے ایک غلطی کیبنٹ مشن پیکٹ کی متفقہ منظوری کے معاً بعد مولانا ابوالکلام آزاد صاحب کا آل انڈیا کانگریس کی صدارت سے مستعفی ہونا اورانہی کی تجویز پر اس عہدہ پرپنڈت جواہرلال نہروصاحب کا براجمان ہونا بھی ہے جس کا احساس بعد میں مولانا صاحب موصوف کوانتہائی شدت سے ہوا۔
    آل انڈیا مسلم لیگ کے سابق صدر الحاج چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب (سابق وزیرخارجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان) اس ضمن میں اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ: ـ(کیبنٹ) وفد کے منصوبے کی منظوری تک کانگرس کے صدر مولانا ابولکلام آزاد تھے۔جب لیگ اور کانگرس نے منصوبے کی منظوری دیدی تو مولانا آزاد نے یہ سمجھتے ہوئے کہ کہ ملک کے دشوار اور پیچیدہ آئینی مسٔلہ کا حل میسر آگیا ہے، کانگرس کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔اور پنڈت جواہر لال نہرو کا نام کانگرس کی صدارت کےلئے تجویز کیا اور ان کے انتخاب کی مؤثر تائید کی چنانچہ پنڈت صاحب کانگرس کے صدر منتخب ہوگئے۔ بعد کے حالات کی روشنی میں مولانا صاحب نے اپنے اس اقدام کو اپنی ساری زندگی کا نہایت مضرت رساں اقدام قراردیا‘‘۔(تحدیث نعمت)۔
    اس کی تفصیلی وجوہات بتاتے ہوئے مصنف مزید لکھتے ہیں کہ ’’کانگرس کا صدر منتخب ہوتے ہی پنڈت نہرو نے کیبنٹ منصوبے کی بعض شقوں کی اپنی تعبیر کا اعلان کیا مثلاً آسام کے متعلق انہوں نے فرمایاکہ منصوبےکی متعلقہ شق کی رو سےآسام کو اختیار ہےکہ وہ اپنی مجلس قانون ساز کے ذریعہ ابھی اس فیصلہ کا اعلان کردے کہ وہ سرے سے علاقہ نمبر ایک (آسام و بنگال۔ ناقل) میں شامل نہیں ہونا چاہتا اورشروع سے ہی وہ علاقہ نمبر تین(یعنی پنجاب سرحد سندھ اور بلوچستان پر مشتمل ’’علاقہ نمبر دو‘‘کے علاوہ باقی سارا ہندوستان۔ ناقل) میں شامل ہو جائے۔ یہ تعبیر منصوبے کے الفاظ کے بالکل خلاف تھی اور منصوبےکے الفاظ ہر گز اس تعبیر کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ لیکن پنڈت صاحب بحیثیت صدر کانگرس اپنی اس تعبیر اور دیگر تعبیرات پرجواسی قماش کی تھیں مصرتھے ۔ جس کے نتیجے میں یہ صورتحال پیدا ہوگئی کہ منصوبےپراتفاق کا اظہار کرنے کےتھوڑے ہی عرصہ بعداپنے صدرکے منہ سے کانگرس نےعملاً منصوبے کو رد کردیا۔قائد اعظم کے لئے اب کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ اعلان کردیں کہ کانگرس کی اس بد عہدی کے پیش نظر وہ منصوبےکو عملی جامہ پہنانے میں شریک نہیں ہو سکتے۔ (تحدیث نعمت از محمد ظفراللہ خان صفحہ چارسو اکانوے)۔
    رہا یہ مبینہ ‘‘الزام’’ کہ قائد اعظم کا کیبنٹ مشن پیکٹ کوقبول کرلینا تقسیم ہند سے روگردانی یا دوقومی نظریہ سے ان کا انحراف تھا، مکمل طوردرست نہیں۔ کیونکہ اس پیکٹ کےمطابق دس برس کے بعد تقسیم ہندکی گنجائش اور اس کی متفقہ اجازت موجود تھی۔ الحاج محمد ظفراللہ خان صاحب اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ :’’ قائداعظم کا برطانوی وفد کے منصوبے کو منظور فرما لینا ان کے صاحب تدبر ہونے کا ثبوت تھا۔میری نظر میں برطانوی منصوبے کاایک قابل قدرپہلو یہ تھا کہ اس میں پہلے دس سال میں اکثریت کو موقع دیا گیا تھاکہ وہ اپنے منصفانہ رویئے اور حسن سلوک کے ذریعہ اقلیتوں کا اعتماد حاصل کریں اور انہیں یقین دلائیں کہ آزاد ہندوستان میں ان کے جائز حقوق کی مناسب نگہداشت ہوگی ۔۔۔ہرچند کہ سابقہ تجربہ کوئی ایسا امید افزا نہیں تھا پھر بھی قائداعظم کا اس منصوبہ کو عملاً آزمانے پرتیار ہو جانا اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کا مؤقف کسی قسم کی ضد یا ہٹ دھرمی پر مبنی نہیں تھا۔۔۔۔بہر صورت آخر نتیجہ یہ نکلا کہ ہر صاحب فہم کی نظر میں وفد کی ناکامی کی ذمہ داری کانگرس پر عائد ہوئی اور پاکستان کا مطالبہ مضبوط تر ہوگیا‘‘۔(ایضاً۔ صفحہ چارسو ترانوے)۔

    بہت سے قارئین کو علم ہی ہوگا کہ تحریک آزادی کے اسی دور میں ایک تیسری اقلیتی قوم یعنی دلّتوں نے بھی ایک خودمختارعلاقہ کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ اعلیٰ ذات کے اکثریتی ہندو انہیں اچھوت قرار دیتے ہیں۔انہیں بھی اسی ہندو اکثریت کی جاری و ساری شرمناک بدسلوکی اور استحصال کا شکوہ تھا ۔ بیچاروں کی آواز(سہ قومی نظریہ) ہندو مسلم دو قومی نظریہ کےنقار خانہ میں کسی نے نہ سنی۔ گزشتہ ستر برسوں سے ہندوستان میں دلّت اقلیت کے ساتھ جس قسم کاغیرا نسانی سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی تفصیلات جان کرکوئی بھی مخلص پاکستانی (یعنی باشندہ موجودہ پاکستان جومذکورہ کیبینٹ مشن پیکٹ میں مجوزہ ’’علاقہ نمبر دو’’ پر مشتمل ہے)، یہ کہنے میں خود کو حق بجانب سمجھتا ہے کہ :۔
    ہوا جب غم سے یوں بے حس، تو غم کیا سر کے کٹنے کا
    نہ ہوتا گر جدا تن سے، تو زانو پر دھرا ہوتا !۔

    تاریخی اعتبار سے یہاں تک تو ٹھیک ،لیکن اب کوئی یہ پوچھ بیٹھے کہ آج کچھ پاکستانی کچھ دوسرے پاکستانیوں کے سرکٹے ہوئے یا زانو پہ دھرا دیکھنے کی کوششوں میں کیوں مصروف نظرآتے ہیں تو یہ کہانی پھر سہی!۔

  4. کلیم اللہ ملک says:

    میری ذاتی رائے کے مطابق الحاج سر ظفر اللہ خان ایک قابل وکیل تھے نہ کہ سیاستدان یعنی ٹیکنو کریٹ۔اایک سیاست دان اور ٹیکنوکریٹ کی رائے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ الحاج میں
    اتنی قابلیت تھی کہ وہ کسی بھی کیس کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی دھجیاں بھی اڑا سکتے تھے۔اس کی واضح مثال قرارداد مقاصد کے حق میں ان کی تقریر ہے جو انھوں
    نے اس وقت کی حکومت کے کہنے پر کی تھی۔ اور اس کا خمیازہ آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں چٹو پادھیائے اور جوگندر ناتھ منڈل کے ویژن کا اندازہ کرلیں جنھوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی تھی۔ لہذا ایک سرکاری ملازم اور سیاست دان کے ویژن میں بہت فرق ہوتا ہے۔
    میری رائے کے مطابق تحدیث نعمت میں جن حالات و واقعات کا ذکر کیا گیا ہے انہیں پڑھ کر اپنی رائے دی جاسکتی ہے لیکن جہاں وہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں وہ انتہائی متعصب ہے۔

  5. اختر بلوچ صاحب کے بقول ’’مارچ 1949 میں جوگندر ناتھ منڈل نے قرارداد مقاصد کی حمایت کی‘‘۔،
    https://www.dawnnews.tv/news/1023595/08july2015
    نہ بلوچ صاحب نے کوئی مسند دستاویزی حوالہ دیا نہ آپ نے۔اب کس کی بات کو درست مانیں؟۔
    ظفراللہ خان سیاستدان نہیں تھے تو آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کیسے منتخب ہو گئے۔اصل میں ان کی زندگی میں بہت سے ادوار آئے۔ وہ سیاستدان بھی رہے، اور بعد میں ملازم بھی۔وکیل تو بہرحال تھے ہی۔
    سریش چندر چٹوپادھیا کا اختلافی بیان بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔اس کا احساس آج ہرباشعور پاکستانی کو ہو رہا ہے۔خود ظفراللہ خان کی جماعت احمدیہ پاکستان میں اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔
    بہرحال اب یہی ہے کہ جو ہونا تھا سو ہو گیا،آگے کیا کرنا ہے؟۔

  6. جب ہم ایسی باتیں کرتے ہیں تو کراچی والے غدار ہیں وہ پہلے مسلمان پاکستانی کیوں نہیں ؟ کہتے یہ کیوں کہتے ہیں ایسا کیوں ویسا کیوں ؟ وہ اپنے باپ کو گالی دیتےہیں یہ بکواس کی جاتی ہے ہم سے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *