حسن روحانی کی نئی کابینہ میں خاتون نہ کوئی سنی

ایران کے صدر حسن روحانی کی نئی کابینہ پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس میں صرف مرد اراکین پارلیمان کو وزارتیں دی گئی ہیں۔

حسن روحانی کو ایران میں نسبتاً اعتدال پسند شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں چند خواتین کو بھی شامل کریں گے۔خیال رہے کہ ایران میں سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے صرف ایک خاتون کابینہ میں وزارت کے عہدے پر رہی ہیں۔

بی بی سی کی فارسی سروس کے مطابق ایران کی موجود کابینہ میں صرف نائب صدور کے عہدوں پر دو خواتین فائز ہیں۔ ایران کی پارلیمان میں 17 خواتین ممبر ہیں۔نئی کابینہ کو ابھی پارلیمنٹ سے منظوری ملنی باقی ہے جبکہ حسن روحانی کی اس کابینہ میں کوئی سنی رکن پارلیمان بھی شامل نہیں ہے۔

حسن روحانی نے اپنے حریف ابراہیم رئيسی کو مئی میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں مزید شہری آزادیاور مغرب سے رشتے استوار کرنےکے نام پر شکست دی تھی۔

فروری میں خواتین، اعتدال پسندی اور ترقیکے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس میں انھوں نے سیاست اور ثقافت میں خواتین کی زیادہ نمائندگی کی بات کی تھی۔

انھوں نے خواتین کے حقوق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو وہ روزگار کے مواقعوں میں برابری لائیں گے اور خواتین کو ملازمت میں آنے کے مواقع فراہم کریں گے۔

اب ان کے ناقد 68 سالہ عالم پر اپنا عہد توڑنے کا الزام لگا رہے ہیں۔حزب اختلاف کے رہنما مہدی کروبی جو ابھی قید میں ہیں ان کے بیٹے محمد کروبی نے ٹویٹ کیا: ‘گذشتہ دو انتخابات میں عوام کا جو پیغام تھا اس کی جھلک مجوزہ کابینہ میں نہیں ہے۔

ٹویٹ میں مزید کہا گیا: ‘آپ خواتین اور مذہبی اقلیت کو نظر انداز کر کے پورے ملک میں مساوات کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟

خواتین امور کی سابق نائب صدر شاہین دوخت مولاوردی نے روزنامہ اعتماد سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘کابینہ میں خواتین کی عدم موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ ہم پانی پر چل رہے ہیں۔

نئی کابینہ میں اعلیٰ وزارتوں میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ جواد ظریف وزیر خارجہ ہی ہیں اور اسی طرح بیجان نامدار کو وزیر تیل برقرار رکھا گيا ہے۔ جنرل عامر حاتمی کو نیا وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے اور اس سے پہلے وہ اسی وزارت میں نائب کے عہدے پر تھے۔

اس کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر 35 سالہ محمد جواد ہیں جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک انجینیئر ہیں اور انہیں ٹیلی کام کی وزارت سونپی گئی ہے۔

1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک صرف ایک خاتون کسی وزارت کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔ مرضیح دستجردی سنہ 2009 سے 2013 تک احمدی نژاد کے دور حکومت میں وزارت صحت کے عہدے پر فائز رہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس منتخب کردہ کابینہ میں پارلیمان کی جانب سے کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی کیوں کہ ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی منظوری کے بعد ہی ان تمام اہم عہدوں پر وزرا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

BBC

2 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    Iran President Hassan Rouhani has appointed three women as vice-presidents and one as a civil rights assistant following criticism of his all-male cabinet.

    http://www.bbc.com/news/world-middle-east-40873247

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    While there were seven women and 10 minorities in Obama’s first 22-member Cabinet, Trump’s 24-member advisory body has four women and four minorities.

    https://www.businessinsider.com.au/trump-cabinet-compared-to-obama-diversity-women-minorities

    In Australia,women were not considered eligible even to vote in its capital city(ACT) and Northern Australia until 1911.In Australian New South Wales Janice Crosio was the first woman Cabinet Member appointed in 1984.

    In Western Australia Ms. Carol Martin the first indigenous woman elected to a State Parliament in 2011 !.

    Despite Brazil having 107 million women, Temer’s government will mark the first time since the 1970’s that the Brazilian cabinet features zero women. (Forbes2017).

    Interesting facts !;but no problem ,continue criticizing only the Ayatollah of Iran in the headlines.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *