آوازیں جو خاموش کردی گئیں 

محمدحسین ہنرمل

آٹھ اگست کوئٹہ کے لئے ایک ایسی خوں آشام صبح ثابت ہوئی جس نے اگرچہ اہل درد کو آٹھ آٹھ آنسو رُلا دیاتو بے دردوں کیلئے عید کا اہتمام بھی کیا۔اس دن کو وہ مخصوص آوازیں خاموش کرانادشمن کی اولین ترجیح تھی جس کا خوف اُن کے اعصاب پرپیہم سوار اور کانوں میں زہر گھول رہی تھی ۔ انصاف اورامن کے یہ دشمن آٹھ اگست کی صبح سویرے تک مضطرب تھے کہ کہیں پھرسے وہ موقع ضائع نہ ہوجائے جو بلال کاسی کے خوں کے بدلے ان کوفراہم کیاگیاتھا۔

پھر تھوڑی دیر بعد اُن کی بے چینی ختم ہوئی اور خوف کے بھوت ان کی دماغوں سے اتر گئے۔کیونکہ دوپہر سے پہلے پہلے موقع کیش کرکے انہی آوازوں کو عمربھر کیلئے خاموش کردیاجن کااسی شام بھی اٹھنے کاامکان تھا۔

پل پھر میں ایسی بے درد چالاکی اور عیاری کے ساتھ ان آوازوں کے ساتھ حساب برابر کرلیاگیا، کہ گویاحساب برابرکرنے والے خود بھی ششدر رہ گئے ہونگے ۔کوئٹہ کاسول ہسپتال اب شفاخانے کی بجائے ایک مقتل میں تبدیل ہوچکاتھااور ہرسُو انسانوں کے خوبصورت منارے زمیں بوس پڑے دکھائی دیتے تھے۔ شہر کی خوشگوار فضاء کوکالے دھووں اور بارُود کامنحوس تڑکا لگ گیاتھا۔رُت بدل گئی تھی اورحق وانصاف کے متوالوں کے پھولوں جیسے حسین اور نازک چہرے لہو کے تالاب میں اوندھے پڑے تھے ۔شاید زبیرحسرت نے ایسے ہی المناک حادثوں کے وقت کہاتھا ،

ما بہ اکثر پہ جنازو باندے گلونہ لیدل 
حسرتہ نن می د گلونو جنازے اولیدے

۔’’ماضی میں سجاوٹ کی خاطر مجھے اکثر جنازوں کے اوپر پھول دیکھنے کو ملتے تھے لیکن حیف آج مجھے خود پھولوں کے جنازے نظر آئے‘‘۔ 

وہ آوازیں کیسی آوازیں تھیں کہ جن سے دشمنانِ انصاف کو اتنی چڑتھی؟وہ آوازیں کن لوگوں کی تھیں جن کے جسموں کے پرخچے اڑانے کے لئے بولہبی منصوبوں کی تیاریاں لمبے عرصے سے ہورہی تھیں؟ جی ہاں وہ کالے کوٹوں والے ان باہمت وکلاء کی وہ غیر معمولی آوازیں تھیں جوبولہبی آئین پر عقیدہ رکھنے والوں کو ایک لمبے عرصے سے حق و انصاف کے بچاؤکی خاطر للکار رہی تھیں۔ان آوازوں میں پہلی آواز باز محمدکاکڑ کی شامل تھی جو ایک زمانے سے امن اور انصاف کے دشمنوں کے کانوں میں زہر گھول رہی تھی ۔

یہی آوازیں بلال کاسی ، عسکر خان اور کانسی کی آوازوں سے بھی تشکیل پاتی تھیں جس کو ہوا میں تحلیل کرنے سے گویا(دشمنوں کے مسلک کے مطابق) ثواب داریں ملتا تھا۔ان آوازوں میں عدنان کاسی، چاکر رند ، قاہرشاہ ، حفیظ مندوخیل ، ایمل خان، عین الدین ناصر، داودکاسی، عطاواللہ کاکڑ، بشیر زہری،اور امان لانگو کے علاوہ درجنوں اورآوازیں انصاف کے لئے اٹھتی تھی ،جسے عمر بھر کے لئے سکوت کی نیند سلادیاگیا۔دشمناںِ انصاف کو کالے کوٹوں والے وکلاء کے ان گرجدارآوازوں سے عداوت کرنے کی بنیادی علت یہی تھی کہ اس کی خاموشی کے بغیرامن کے غارتگروں کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی تھی۔

آٹھ اگست کو انصاف کے پرچم برداروں کوپل بھرمیں موت کے گھاٹ اتار کر بے شک انصاف اور امن کے دشمنوں نے ضرور عید منایاہوگا ۔ دہشت گردوں اور یہاں پر موجودسہولت کاروں کی شکل میں ظلم آج بھی بچے جن رہاہے، لیکن امن اور انصاف کے دشمن یہ نہ بھولیں کہ عدل بھی صاحب اولاد ہوسکتاہے ۔ہمیں یقین ہے کہ ہمارے شہداء کی سرخ اور لال قربانیاں عنقریب رنگ لائے گی اورا بولہبی منصوبوں کے ماسٹر مائنڈزضرورِ عبرت کا نشان بنیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *