سہ ماہی ’ تاریخ ‘ کا تازہ شمارہ

تعارف: لیاقت علی ایڈووکیٹ

پاکستان میں ویسے تو سبھی سماجی علوم کی عمومی صورت حال کبھی بھی قابل رشک نہیں رہی لیکن تاریخ نویسی کے نام پر تو وہ تماشاہ رچایا گیا ہے کہ الاماں الحفیظ ۔ ریاستی نظریہ سازوں ، مذہبی سیاسی جماعتوں سے وابستہ دانشوروں اور قوم پرستی کے زیر اثر تاریخ لکھنے والوں مورخین نے تاریخی تحقیق و تفتیش کے نام پر وہ گرد اٹھائی ہے کہ تاریخی واقعات ہوں یا شخصیات سب کی پہچان اور شاخت مشکل ہوکر رہ گئی ہے۔ جھوٹ، افترا پردازی ,موضوعیت اور مبالغہ آرائی کو تاریخ کا نام دے دیا گیا ہے۔

پاکستان میں تاریخ سے دھوکہ دہی کی یہی وہ صورت حال تھی جس میں نامور مورخ کے۔کے۔ عزیز نے کئی سال قبل ’تاریخ کا قتل‘ کے نام سے ایک مبسوط کتاب لکھی تھی جس میں ہماری قومی سیاسی تاریخ میں بیان کئے گئے جھوٹ اور غلط بیانی کا پول کھولا گیا تھا۔ علمی مایوسی کی اس صورت حال میں کچھ دانشور اور قلم کار ایسے بھی ہیں جو نام و نمود اور حکومتی سرپرستی سے بے پرواہ ہو کر روشن خیالی ، حقیقت پسندی اور عوام کی جدوجہد کی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک علی کا شمار ایسے ہی دانشوروں میں ہوتا ہے جو تاریخ کو ہمہ جہتی تعصبات و توہمات ے علیحدہ رکھتے ہوئے معروضی پیرائے میں تاریخی واقعات اور تاریخی شخصیات کو پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مبارک علی نے اپنی متعدد کتابوں، لاتعداد مضامین اور مقالات میں بر صغیر کی تاریخ ، شخصیا ت اور تحریکوں کا بے لاگ تجزیہ اور جائزہ لیاہے۔ ڈاکٹر مبارک علی کے زیر ادارت ایک سہ ماہی رسالہ ’ تاریخ‘ مسلسل اور تواتر سے شائع ہورہا ہے جس میں تاریخ، عمرانیات ۔ ہم عصر سیاسی تاریخ اور سماجی علوم کے دیگر شعبوں سے متعلق تحقیقی اور علمی تحریریں شامل ہوتی ہیں۔

سہ ماہی ’تاریخ‘ کا شمارہ 57 زیر نظر ہے جس میں حسب روایت بہت سے تاریخی اورعلمی موضوعات پر تحقیقی مضامین شامل کئے گئے ہیں۔ معروف دانشور اور فلسفی اشفاق سلیم مرزا نے اپنے مضمون’ مارکس ازم، قوم پرستی اور قومی سوال‘ میں مارکس اور اینگلز کے قوم پرستی بارے نظریات کا تاریخی تناظر میں جائزہ لیا ہے ۔مرزا لکھتے ہیں کہ مارکسیوں کے ہاں قومیت کا مسئلہ اس لئے بھی الجھا رہا کہ وہ اسے طبقاتی حوالے کی عینک سے دیکھتے رہے لیکن قومی سوال اتنا سادہ نہ تھاکہ اُسے ظالم اور مظلوم کی تفریق کی قربان گاہ پر چڑھا کر ایک طرف پھینک دیا جاتا ۔

روزا لکسمبرگ بھی اسی قومی سوال سے نبرد آزما ہوتی رہی بلکہ الجھتی رہی۔وہ اسے سرمایہ دارانہ استحصال سے جوڑ کر دیکھتی رہی اور سمجھتی تھی کہ طبقات کے خاتمے کے ساتھ یہ مسئلہ خود بخود ختم ہوجائے گا۔اس لئے انقلاب کو قومی مسئلے کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے اور اپنی تمام قوتیں انقلاب کو کامیاب بنانے کے لئے مجتمع کر دینی چاہئیں۔دوسر ی طرف قومی مسئلہ کو اُبھارنے سے تفریق پید ا ہوجائے گی اور انقلاب نقصان پہنچے گا ۔روزا لکسمبر گ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ :’ وہ معاشرے یا سماج جن کی بنیاد طبقات پر ہو وہاں قوم ایک سماجی اکائی کے طور پر وجود پذیر نہیں ہوسکتی‘۔

ڈاکٹر ریاض احمد شیخ نے تقسیم ہند سے قبل متحدہ بنگال میں چلنے والی تیبا کسان تحریک(1946-50) کا جائزہ لیا ہے ۔تیبا کسان تحریک کو بیسویں صدی میں متحدہ بنگال میں چلنے والی سب سے منظم اور موثر کسان تحریک تصور کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ اس سے قبل بھی بنگالی کسان متعدد تحریکیں منظم کر چکے تھے لیکن اس تحریک کی خصوصیت اس کا سیاسی او ر نظریاتی اثاثہ ہے۔یہ تحریک کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر چلی تھی ۔

برصغیر کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کانگریس اور مسلم لیگ کا کردار اس تحریک اور کسانوں کے مطالبات کے متعلق مایوس کن رہا بلکہ یہ جماعتیں کسی حد تک اس کسان تحریک کے مطالبات کی بھرپور مخالفت کرتی رہی تھیں۔یہ اسی تحریک کا فیضان تھا کہ دیہی بنگال کا بہت بڑا حصہ کمیونسٹ تحریک کا بہت بڑا مرکز بن گیا اور بنگال کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہونے کے باوجود ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح اس تحریک کے زیر اثر علاقوں میں فرقہ ورانہ کا تصاد م دیکھنے کو نہیں ملا ۔

برصغیر کے میلوں،ٹھیلوں اور تہواروں کی روایت بہت قدیم ہے اور ان کا پس منظر مذہبی سے زیادہ مشترک ثقافتی ورثہ ہے۔ تقسیم کے جلو میں ہمارے تہواروں کے اس مشترکہ ثقافتی ورثہ کو مفاد پرستوں نے تنگ نظر فرقہ ورانہ مقاصد کی بھینٹ چڑھادیا ہے۔ بسنت موسم بہار کا تہوار ہے جسے ہر مذہب کے پیروکار جو ش و خروش مناتے رہے ہیں لیکن پاکستان میں بسنت کو ہندوانہ تہوار کہہ کر زبردستی ختم کر دیا گیا ہے ۔

ریاض اختر نے ’بسنت ایک تاریخی جائزہ‘ کے عنوان سے بسنت کے تہوار کا عہد بعہد تاریخی جائزہ لیا ہے۔ گذشتہ چند بر سوں میں بسنت کے تہوار کے خلاف فتاوی آنے شروع ہوئے ہیں ۔ابتدا میں تو اسے ہندو تہوار کہہ کر اس پر پابندی کی مہم کا آغاز ہوا مگر لوگوں پر خاطر خواہ اثر نہ دیکھ کر اسے علم دین کی مناسبت سے ایک جذباتی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔کہا یہ جانے لگا کہ ہندووں نے (راج پال ) کی کتاب کی اشاعت سے اور ہندو پبلشر کے قتل کے بعد غازی صاحب کی شہادت کو اپنی فتح اور جشن کو پتنگ بازی کے ذریعے منانے کا آغاز کیا۔

مذہب چونکہ ہمیشہ ہی سے ایک طبقہ کے لئے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کا آلہ رہا ہے اس لئے کچھ علما ء نے پتنگ بازی پر مذہب کی آڑ میں پابندی لگانے کی مہم میں زور پید اکئے رکھا۔ پابندی تو لگ گئی مگر اس کا سبب مذہب ،ہندووانہ تہوار یا علم دین کی شہادت نہیں تھا ۔

ڈاکٹر غلام عباس نے ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھایا ہے جس پر بہت کم علمی کام ہوا ہے ۔ ڈاکٹر موصوف نے’عہد وسطی کے ہندوستان میں رسول خدا کے نقش پا کی آمد‘ کی تاریخ بیان کی ہے ۔ ڈاکٹر غلام عباس لکھتے ہیں کہ عید میلادالنبی ،عزاداری،محرم الحرام اور صوفی تقریبا ت وغیرہ مسلم جنوبی ایشیا کے ہم عصری مروجہ ،بصری یا تمثیلی کلچر کے اہم ترین جزو ہیں۔

عید میلاد کی تقریبات بریلوی سنیوں کے لئے مخصوص ہیں اور عزاداری محرم شیعوں کی امام حسین سے عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب کہ صوفیا ء اور ان کے مزار ات سے عقیدت بریلوی اور شیعہ دونوں فرقوں میں یکساں مقبول ہیں۔۔ عید میلاد کے بصری یا نظری کلچر کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے مثلا میلاد منانے کا طریقہ کار اور بریلوی عقیدت سے متعلق تصاویر جن میں پیغمبر اسلام صلعم کے تبرکات ۔آپ کا روضہ اقدس اور خانہ کعبہ شامل ہیں ۔

حضور کے تبرکات میں آپ کے موئے مبارک،نقش پا اور نعلین پاک کو سنی بریلوی عقیدت مندی کے حوالے سے خاص مقام حاصل ہے۔ یہ تبر کات کیوں کر اور کیسے ہندوستان پہنچے؟ ان تبرکات کی زیارت اور میلاد شریف کی تقریبات کے مابین خاص مناسبت کیسے پیدا ہوئی ؟ اور سنی بریلوی عقیدت کے مطابق حضور کے تبرکات کے حوالے سے کس طرح عوامی سطح پر الوہیت کی تمثیل کا آغاز ہوا؟

ان تمام سوالات کے علاوہ یہ مطالعہ اس امر کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح عربوں میں پہلے سے موجود اپنے آباو اجداد کے تبرکات سے محبت کی روایت اسلامی شریعت میں تصویر کے ممنوع قرار دینے کے باوجود حضور کے حوالے سے الوہیت کی اس خاص حس کو عوامی سطح پر قائم کیا ۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان نے اپنے مضمون 8جنوری کی طلبا تحریک کے ثمرات پر روشنی ڈالی ہے۔ طالب علموں کی اس تحریک نے نہ صرف کراچی بلکہ ملک کے دوسرے شہروں کے طلبا کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے متحرک و منظم کیا تھا۔ پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کے بہت سے رہنماؤں کا تعلق طلبا کی اسی تحریک سے تھا ۔ زبانی تاریخ کی ترتیب تدوین ہم عصر تاریخ نویسی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے ۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں اورل ہسٹری ڈیپارٹمنٹس کام کر رہے ہیں۔

زبانی تاریخ نویسی کی اہمیت‘ پر ڈاکٹر عبداللہ بن ابراہیم العسکر کے مضمون کا ارود ترجمہ قابل اشاعت ہے۔محمد تقی کے ترجمہ کردہ اس مضمون میں زبانی تاریخ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’زبانی ورثہ دراصل خیالی کہانیوں، معارف، مذاہب ،نظریات اور چند عادات کا مجمو عہ ہے‘۔ مصنف کا موقف ہے کہ زبانی روایات کے اندر بہت سے حقائق پنہاں ہوتے ہیں جو عموماًا تحریری تاریخ میں نہیں پائے جاتے سو کوئی بھی مورخ رابرٹ لویز کی یہ بات کہ ’مجھے کسی صورت میں زبانی روایات پر یقین نہیں ہے ‘ کو تسلیم نہیں کرسکتا اس لئے کہ انسانی تاریخ میں کسی بھی عوامی حکایت یا ضرب الامثال اور تمام رسوم و رواج کے ساتھ کوئی نہ کوئی حقیقت جڑی ہوتی ہے۔

اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہ ہے یہ وہ عمومی بیانیہ جو ہمارے ہاں بہت مقبول ہے لیکن حقیقت کیا ہے اس پر سے بھارت کے ایک مسلمان دانشور ڈاکٹر مسعود عالم فلاحی نے اپنی کتاب ’ہندوستان میں ذات پات او ر مسلمان ‘ میں پردہ اٹھا یا ہے۔ ڈاکٹر فلاحی کی کتاب پر ڈاکٹر ریاض احمد شیخ کا تبصرہ بہت عمدہ کوشش ہے ۔ یہ تبصرہ مسلمانوں میں ذات پات کے نظام کی تفہیم میں مدد دیتا ہے۔

سہ ماہی تاریخ کا شمارہ 57 اپنے مضامین، تراجم اور کتابوں پر تبصروں کی بنا پر تاریخ کے طالب علموں اور مطالعہ کے شوقین عام قاری کے لئے باعث دلچسپی ہوگا ۔

نام کتاب: سہ ماہی ’تاریخ‘۔

ایڈیٹر: ڈاکٹر مبارک علی

صفحات:224 ملنے کا پتہ: تاریخ پبلیکیشنز۔

بک سٹریک،68۔مزنگ روڈ لاہور ۔پاکستان

فون: 924236307551

3 Comments

  1. Naseem afghan says:

    یہ نیت پر ھم کو مل جائے گا یا یہ کتاب ھم نیٹ سے ڈون لود کر سکتاھے

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    اردو زبان میں اس قسم کا جریدہ جاری کرنا (اورپھراسے جاری رکھنا کہ تاریخ کا حصہ نہ بن جائے) انتہائی مستحسن اور قابل ستائش اقدام ہے۔
    ویسے یہ تاریخ بھی عجیب مضمون ہے۔ کسی دور میں مڈل اور میٹرک میں تاریخ کے پرچہ میں تینتیس فیصد نمبر لینے والا بھی پاس قرار دے دیا جاتاتھا ،شاید اس کی خشکی کی وجہ سے ۔
    بہت سے لوگ “تاریخ” کو “ماضی” سمجھ لیتے ہیں،حالانکہ دونوں میں فرق ہے۔سیموئیل بٹلرکا مشہور قول ہے کہ خدا بھی ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتا لیکن تاریخ دان کر لیتے ہیں۔

    ایسے تاریخ دان بھی موجود ہیں جو آپ کو بتا سکتے ہیں کہ بحیرہ مردار “مردار” ہونے سے قبل کتنا عرصہ بیمار رہا تھا !۔
    تھامس جیفرسن نے غالباً ٹھیک ہی کہا تھا کہ مجھے تاریخ پڑھنے سے زیادہ مستقبل کے خواب دیکھنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔آج کل کے دور میں تو خبروں کی بھی تصدیق نہیں ہوپاتی، تاریخ کی کیسے ممکن ہے۔ مؤرخین کسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر ماضی کا سفر تو کرتے نہیں،اپنے سے پہلے تاریخ دانوں کے ہی حوالہ جات دہراتے رہتے ہیں۔اسی بنا پر کسی من چلے نے تاریخ کے
    بارہ میں کہا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو نہیں بلکہ مؤرخین ایک دوسرے کو دہراتے ہیں! ۔

    اکثر مؤرخین محض تاریخ کےوقائع نگار ہی نہیں ہوتے بلکہ تاریخی حقائق و واقعات کی اصل وجہ بھی آپ کو بتا سکتے ہیں مثلاً

    I know why the sun never sets on the British Empire: God wouldn’t trust an Englishman in the dark.(Duncan Spaet)

    آخر پہ ایک عدد(کاپی پیسٹ) لطیفہ اور اجازت
    Why do Historians laugh three times when they hear a joke?

    Once when it is told,
    once when it is explained to them,
    and once when they understand it.

    نوٹ: یوم آزادی کے تاریخی دن پر تھوڑاسا دل پشوری کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

  3. حنیف چوھان says:

    سہ ماہی تاریخ کیا موبائل پر دستیاب ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *