پشتون نیشنل ازم، حرف تمنا

فضل مولا زاہد

ایمل خٹک کا نام کسی تعارف کا محتاج تو نہیں۔ ہے بھی تو اِس قلم کا اتنا مقام کہاں کہ اُن کی ہمہ جہت شخصیت پر کچھ لکھنے کا ’’پنگا‘‘ لے۔ اتنا عرض ضرور کریں گے کہ وہ معروف پشتون سیاسی رہنما اجمل خٹک کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ آپ نہ صرف یہ کہ پشتون قوم کی محرومیوں اور سلگتے ہوئے اَن گنت مسائل و مشکلات پر گہری نظر رکھتے ہیں، اُن کو قلم بند کرتے ہیں بلکہ اس حوالے سے دوستوں کے ساتھ بحث و مباحثہ اور عملی جدو جہد میں شریکِ کار رہتے ہیں۔ 
اِس مردِ درویش کو جب سے میں نے جانا، اپنی قوم کی اس اجیرن زندگی میں بہتری لانے کے لئے کام کرتے ہوئے پایا۔ وہ تھکتے ہیں نہ اُن کے جذبے ماند پڑتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہم اُن جیسے قومی دانشور اور محبت وسادگی کے پیکر کی دوستی کے دعویدار ہیں۔

اُنہوں نے حال ہی میں کئی دوستوں کے ساتھ ایک طویل بحث و مباحثے کے نتیجے میں اُٹھنے والے سوالات پر’’پشتون نیشنل اِزم، ماضی حال اور مستقبل‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ شائع کیا ہے، جس میں گذشتہ چند دہائیوں کے حالات و واقعات کے تناظر میں پشتون معاشرے کی ساخت، سیاسی رجحانات اور تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ سات حصوں پر مشتمل اِس کتابچے کی ابتدا پشتون قومی آزادی سے ہوتی ہے اورآخر میں کئی سوالوں اور دعوتِ فکر و نظر پر ختم ہوتا ہے۔

پہلا حصہ پاک و ہند کی تقسیم سے پہلے پشتونوں میں آزادی کے تصور اور سیاسی بیداری کی وجوہات کا احاطہ کرتا ہے۔ دیگر کے علاوہ،عام ہندوستانیوں کے ساتھ انگریزوں کا امتیازی سلوک اور توہین آمیز رویے، امیر امان اللہ خان کے خلاف انگریزوں کی ریشہ دوانیاں اور سلطنتِ برطانیہ کی خلافتِ عثمانیہ کے خلاف ہونے والی سازشیں بھی اُن وجوہات میں شامل تھیں، جو سیاسی بیداری اور بعد میں آزادی کے خوابوں کی تعبیر پر منتج ہوئیں۔ محلاتی سازشوں کے باعث سلطنتِ عثمانیہ میں شکست و ریخت کا عمل شروع ہوا، تو اس کی حفاظت کے لئے ہندوستان بھر میں خلافت تحریک شروع ہوئی۔ انگریزوں کے غلام ہونے کے باوجود برصغیر کے مسلمانوں نے اس تحریک میں محبت و ایثار اور جوش و جذبہ کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

اس تحریک نے ہندوستان بھر اور خاص کر پشتون علاقوں کی عوامی بیداری میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس دوران میں بیس سے تیس ہزار لوگوں نے افغانستان ہجرت کی۔ اگرچہ یہ ہجرت حکومت افغانستان کے عدم تعاون کی وجہ سے ناکام ہوئی۔ تاہم اس تحریک اور اس ہجرت کے عمل نے آزادی کی اِفادیت پر، غلامی کے طوق پر اور گوروں کے ظلم و ستم کی روش پر ہندوستان کے طول و عرض میں عمومی اور مسلمانوں اور پشتونوں کے بیچ ایک نہ ختم ہونے والے مباحثے کے ساتھ ساتھ بیداری کی ایک گہری لہر کو خصوصی جنم دیا۔

شاطرگوروں کی نا انصافی، منافقت اور دو رنگی کے باعث لوگوں کا یہ یقین پکا ہوگیا کہ دنیا میں کمزوروں اور مظلوموں کو انصاف نہیں ملا کرتا اور ان کو اپنا مقدمہ تک پیش کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔جملہ معترضہ سہی، کتاب’’ طالبان کی واپسی‘‘ کے مصنف مقدر اقبال کے مطابق آئر لینڈ کا رہائشی اور ڈاکومنٹری جرنلسٹ ’’مسٹرجمی ڈورن‘‘ اپنے ہی قوم کے متعلق کچھ یوں کہتا ہے:’’ کاش، میں بیسویں صدی میں پیدا نہ ہوتا، اگر میری پیدائش اتنی ہی ضروری تھی، تو کاش! میں گورا نہ ہوتا۔ کیوں کہ آج کی لغت میں قصائی اور گورے میں کوئی خاص فرق نہیں‘‘۔

نااُمیدی اور مایوسی کی اس کہر نے آزادی کے متوالوں کے جذبوں کو جلا بخشی اور وہ استعماری قوتوں کے خلاف ایک بھرپور عزم و ہمت کے ساتھ میدان میں اُترے۔ آزادی کے بعد پاکستان میں قوم سازی کا عمل بڑے بھونڈے طریقے سے کیا گیا۔ نئی زبان اور نئے کلچر کو متعارف کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ مذہب کا سہارا لے کر مقامی ثقافت اور جمہوری اقدار کو دبایا گیا۔ تاریخِ عالم میں پہلی بار یہ انہونی ہوئی کہ پاکستان میں ناقص قوم سازی کے عمل کے نتیجے میں اکثریتی قوم نے اقلیتی قوم سے آزادی حاصل کی۔ افغان جہاد، گریٹ گیم اور سٹریٹجک ڈیپتھ پالیسی پر بھی بحث کی گئی ہے، لیکن اس پر تفصیل کے ساتھ مزید بحث کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔

کیوں کہ یہ ایسے موضوعات ہیں، جس کے متعلق (میرے خیال میں) مختلف طبقۂ فکر کے لوگ اپنے پہنے ہوئے کھوپوں کی وسعت سے آگے دیکھنے کو کسی صورت روادار نہیں۔ پشتون قوم پرستوں میں اختلافات پر بھی بات کی گئی ہے، جس کی واضح وجوہات میں انا پسندی، تربور ولی، سیاسی اختلافات اور سماجی پس منظر کا بڑا عمل دخل رہاہے۔ کہیں سخت گیری اور انتہا پسندی، تو کہیں میانہ روی یاانتہا پسندی کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ کہیں رویے لچک دار، تو کہیں غیر لچک دار ہوتے ہیں۔ بہر حال سماجی و اقتصادی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ فرق آ ہستہ آہستہ کم ہورہا ہے۔ تبدیلی کے یہ اثرات رہنماؤں کی سطح پر تو نظر آ رہے ہیں، لیکن عام کارکنوں کی سطح پر نہیں۔ کیوں کہ عام کارکن ’’زمین جنبد نہ گل محمد‘‘ والی کیفیت سے نکلنے کو کسی صورت تیار نہیں۔ 

گذشتہ چند سالوں سے جاری شورش، طالبانائزیشن اور فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں پشتون بیلٹ میں وسیع پیمانے پر کشت و خون اور تباہی و بربادی نے پشتون ذہن اور خاص کر نوجوانوں کو جھنجوڑا ہے۔ پاکستان کے پشتون علاقے تین دہائیوں سے زائد عرصے سے سرد جنگ اور نئی گریٹ گیم کا اہم محاذ رہے ہیں۔ عالمی قوتوں کی سٹرٹیجک شطرنج اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری و ساری ہے۔ افغان جہاد اور بعد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ بیرونی امداد آئی، لیکن تباہی و بربادی ہمارے اور فوائد اور تعمیر وترقی کے اثرات کسی اور کے حصے میں آئے، جس سے مایوسی مزید بڑھی۔ مایوسی پھیلنے کی ایک اور وجہ حقیقی قیادت کا فقدان بھی ہے۔ موجودہ قوم پرست قیادت کا عوام سے تعلق کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔

موروثی سیاست میں خاندانی مفادات کو فوقیت دینے سے بھی کارکنوں اور حامیوں میں بے چینی اور بے دلی بڑھ رہی ہے۔ قیادت کی ترجیحات اور عوامی مطالبات اور مسائل و مشکلات میں کوئی جوڑ نہیں۔ اسی وجہ سے قیادت اور عوام میں خلیج اور دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ بجا طور پر اس کے اثرات دانشور طبقے پر بھی پڑے ہیں، جن کی اکثریت میں سیاست سے لاتعلقی اور بیگانگی بڑھ رہی ہے۔ اچھی اور خوشی کی بات یہ ہے کہ پچھلے تین چار دہائیوں سے پشتون ریجن میں جاری بدامنی، معصوم بچوں، خواتین اور عام لوگوں کے سفاکانہ قتلِ عام، بنیادی مسائل و مشکلات کے حل میں حکومتی عدم دلچسپی، سرد مہری، بیگانگی اور ’’سی پیک‘‘ جیسے بڑے منصوبوں میں مسلسل نظر انداز کرنے، بار بارجھوٹ، دغا بازی اور مکاری کے باوجود، زیادہ تر پشتون اب بھی بہتری کی اُمید میں موجودہ آئینی و جغرافیائی ڈھانچے کے اندر معاملات کو دیکھنے اور حل کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ لیکن مصنف نے واضح انداز میں وارننگ دی ہے، جس سے ہم اتفاق کرتے ہیں کہ نوجوان نسل نے دوسرے زاویوں سے چیزوں کو دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اور اگر صورتحال اسی طرح جاری رہی، تو یہ کمزور آوازیں آگے جا کر مضبوط ہو سکتی ہیں۔ 

مضمون ہذا میں پشتون قوم کی فینٹسی اور رومانس سے متعلق جن فکری مغالطوں اور مبالغوں کا ذکر کیا گیا ہے، خواہش ہے کہ اُس پر ایک اور کالم میں تفصیل سے بات کی جائے، کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اِن مبالغوں اور مغالطوں کی وجہ سے ہی ہم ایک ایسے گہرے کھڈے میں گِھر چکے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ موجودہ معروضی اور موضوعی صورتحال کے تناظر میں بحث کو نچوڑتے ہوئے مصنف مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے تین ممکنہ راستوں کی نشان دہی کرتاہے۔

اول، موجودہ جغرافیائی فریم ورک کے اندر پشتونوں کے حقوق اور اس کے لئے جد و جہد کرنا۔ دوم، قومی آزادی کی بات کرنا، کیوں کہ موجودہ انتظام کے تحت حقوق کا ملنا مشکل ہے، اس لئے آزادی کیلئے جدو جہد کی جائے۔ سوم، موجودہ فریم ورک میں رہ کر زیادہ سے زیادہ حقوق کیلئے جد و جہد کی جائے۔ قوم کو بیدار اور منظم کیا جائے اور آزادی کا آپشن بھی کھلا رکھا جائے۔ لوگوں میں سیاسی جماعتوں کے حوالے سے جو مایوسی موجود ہے۔ اس کے حوالے سے دو اہم سوال یہ بھی اُٹھتے ہیں کہ اس صورتحال میں ایک نئی جماعت بنائی جائے یا پہلے سے موجود جماعتوں پر داخلی دباؤ بڑھانے کیلئے مختلف پریشر گروپس بنائے جائیں جو درپیش قومی مسائل پر نہ صرف رائے عامہ ہموار کریں بلکہ سیاسی جماعتوں پر عوامی مطالبات کے حل کرنے کیلئے دباؤ ڈالیں۔

ایسے گروپس کی ایک واضح مثال ’’پختون خوا اولسی تحریک‘‘ کی ہے، جس کے رہنما دیگر اِیشوز کے علاوہ بہت بہتر انداز میں ’’سی پیک‘‘ پر ایڈوکیسی کا بیڑہ اُٹھائے ہوئے ہیں۔ مصنف نے صائب الرائے پشتونوں کو دعوت دی ہے کہ اِس تحریر میں چھیڑے گئے موضوعات پر ایک جامع اور وسیع بحث و مباحثہ کی شروعات کی جائے اور مزید تحقیق و جستجو بھی کی جائے، تاکہ اُس بنیاد پر پشتونوں کا مقدمہ ہر فورم اور ہر پلیٹ فارم پر مثبت اور بہتر انداز میں پیش کیا جا سکے۔

حرفِ تمنا: کہتے ہیں کہ قوم پرستی کا جذبہ قوم کی ترقی و خوشحالی اور آپس میں پیار و محبت تک محدود ہو، تو اس سے بہتر اور کوئی بات نہ نہیں۔ مبادا، اس سے خوشحالی سے زیادہ پریشانیاں اور محبت سے زیادہ عداوت، نفرت اور انتقام کے جذبات پروان چڑھنے کا احتمال ہو، تو پہلے اِس عمل کو اسی پلڑے میں تول کر آگے کے راستے کا تعین ہونا چاہیے۔ اس موقعہ پر بارگاہِ ایزدی میں تھوڑا سا گلہ ضرور کریں گے۔۔۔!

اور نہ در بہ در پھرا، اور نہ آزما مجھے
بس میرے پردہ دار بس، اب نہیں حوصلہ مجھے
صبر کرو محاسبو، وقت تمہیں بتائے گا
دہر کو میں نے کیا دیا، دہر سے کیا ملا مجھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *