نیر مسعود:کس کو خبر ہے میر سمندر کے پارکی 

صائمہ ارم

حقیقت یک سطحی نہیں ہوتی۔ہو ہی نہیں سکتی۔حقیقت ایک بھید ہے،۔بھاؤ بتلاتی چنچل کا بھید۔ایسی چنچل کہ بھاؤبھی بتلاتی ہے اور چلمن سے بھی لگے جاتی ہے۔اب ایسی ناری کا کوئی کیا کرے،اسے گھرہستن کہیے یا بازارو۔اسے گھر میں بٹھائیے کہ کوٹھے پہ،یوں تو ہر گھر میں بھی کوٹھا ہوتا ہی ہے۔نیر مسعود  کی کہانیاں ایسی ہی ہیں۔سرسری گزرنے والوں کے لیے گزشتہ لکھنو کی سر گزشت۔اور بھید بھری چنچل کا پیچھا کرنے والوں کے لیے جہان دیگر۔

جب ان کی کہانیوں سے میرا پہلا تعارف ہو تو وہ وقت ابھی آنے والا تھا جب ان کی کہانیوں میں جادوئی حقیقت نگاری کے عناصر ڈھونڈے جاتے، اور ان کو اس تناظر میں عظیم افسانہ نگار تسلیم کیا جاتا۔یوں بھی اردو فکشن کے نقاد نت نئی اصطلاحوں سے تبھی واقف ہو پاتے ہیں جب مغرب میں کہیں ان کا چرچا ہو، اس سادہ وقت میں مجھے صرف یہ علم تھا کہ سیمیا کے عنوان سے کہانیوں کی ایک کتاب شائع ہوئی ہے اور بقول سہیل احمد خان، یہ کہانیاں واقعات بیان کرتے ہوءے مارواٗیت تک جا پہنچتی ہیں۔

 میں نے وہ کہانیاں پڑھ لیں اور ان  کی کہانی کے عشق میں مبتلا ہو گئی۔

وقت بیتتا رہا ۔نیر مسعود کی تحریریں منظر عام پہ آتی رہیں۔ان سے ملاقات کا اشتیاق بڑھتا رہا،لیکن سر حد پہ لگی باڑ ،ملاقات کے سبھی امکانات کو معدوم کرتی رہی۔میں نے ان کی کہانیوں سے ان کی شخصیت کو تلاشنا شروع کر دیا۔حالانکہ میں جانتی تھی کہ کسی تخلیق کار کی شخصیت کو اس کی تخلیق سے جاننے کی کوشش کرنا ایک گمراہ کن معاملہ ثابت ہو سکتا ہے،اور ایسا بہت ممکن ہے کہ اگر کبھی خوبیء قسمت مجھے لکھنو میں ادبستان کے بڑے دروازے تک لے گئی تو مجھے مایوسی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے یا شدید غصہ کا۔

اکتوبر ۲۰۱۴ کی ایک شام ،جب میں دہلی سٹیشن سے لکھنو جانے والی گاڑی میں سوار ہوئی ،اس وقت بھی یہ خیال دامن گیر تھا کہ اگر شخص ،افسانہ نگار نیر مسود سے مختلف ہوا تو؟۔ایک مرتبہ تو دل چاہا کہ اردہ ترک کر دوں۔لیکن اس لمحے کے آنے تک  ریل گاڑی دہلی سے چھوٹ چکی تھی،ڈبہ بھانت بھانت کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔اور میں پرانی دہلی کے پولیس بھون سے لکھنو جانے کے اجازت نامے پہ مہر لگوا چکی تھی۔ سو اب لوٹ جانا ممکن نہیں رہا تھا۔

سوچا اب جو ہو سو ہو، اور کچھ نہیں تو حضرت گنج میں رام ایڈوانی سے ملیں گے،ان کی کتابیں دیکھیں گے،اور توفیق ہوئی تو کچھ کتابیں خرید بھی لیں گے۔نوابوں کے شہر کو چلے ہیں تو لگے ہاتھوں آصف الدولہ کے بنائے بڑے امام باڑے کی بھول بھلیوں میں کھو جانے کی کوشش کریں گے، نہ کھو سکے تو چھوٹے امام باڑے کی شان و شوکت دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے۔یہ بھی نہ ہوا تو عبرت پکڑنے کی خاطر گومتی کے کنارے پہ بس کے اجڑ جانے والی دلکشا کوٹھی اور ریزیڈنسی کی دیواروں پہ ۱۸۵۷ کی گولیوں کے نشانوں پہ آنسو بہائیں گے ،اور پھر مدرا راکشش سے ملنے تو جانا ہی ہے ۔

مگر یہ سب خیالات تبھی تک تھے جب تک ارتضیٰ کریم کے توسط سے محسن خان مجھے لینے لکھنو اسٹیشن پہ نہین پہنچ چکے تھے۔ حال احوال پوچھنے کے بعد جب انھوں نے کہا کہ کیا پروگرام ہے تو بے ساختہ میرے منہ سے نکلا : نیر مسعود سے ملنا ہے۔وہ تو بہت بیمار ہیں،آج کل کسی سے نہیں ملتے ، مجھے علم ہے،میں ان کی زیارت کر لوں گی، بی جی تو ہیں نا،ان کے ہاتھ کی بنی چائے پی لوں گی۔ اچھا،چلیے کچھ سوچتے ہیں۔ میں ازابیل کو اطلاع دے چکی تھی،ان کا پیغام آ گیا کہ انھوں نے بی بی جی سے بات کر لی ہے۔ازابیل اور تمثال تو اس وقت امریکہ تھے لیکن انہوں نے بتا دیا کہ میں شام کو نیر مسعود کے ہاں جا سکتی ہوں۔

میری پرانی خواہش پوری ہونے کا وقت قریب آ رہا تھا۔

شام ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی جب میں ،محسن خان اور شکیل صدیقی ادبستان کے باہری دروازے پہ  پہنچے۔دروازہ بھڑا ہوا تھا مگر اس میں تالہ نہیں تھا۔محسن خان نے نہایت بے تکلفی سے دروازہ کھولا اور ہم احاطے میں داخل ہوئے۔گو ازابیل مجھے بتا چکی تھیں کہ ادبستان میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے بطخیں میرا استقبال کریں گی لیکن جس ادبستان کا تصور میرے ذہن مین پختہ ہو چکا تھا اس میں چھوٹی چھوٹی میناؤں کا خیال تو رہ سکتا تھا،اتنی بڑی بڑی خونخوار جان پڑنے والی بطخوں کا نہیں جو اپنی بڑی بڑی چونچیں کھولے بھد بھد کرتیں ہماری طرف بھاگی چلی آرہی تھیں ۔

میں سراسیمہ ہوئی لیکن محسن اور شکیل کے اطمینان میں کوئی فرق نہ آ یا اور وہ بطخوں کے بڑے سے ڈربے نما پنجرے کے سامنے ایک چھوٹے دروازے مین سے گزر  گئے۔یہ نیر مسعود کا گھر تھا ۔ حویلی بدل چکی تھی گو غور کرنے پر پرانا وقت اب بھی دھیان پڑ سکتا تھا۔عمارت کئی مکانوں میں بٹ چکی تھی۔ ایک چھوٹی سی راہداری نے ہمیں پہلے بڑے کمرے تک پہنچایا۔کمرے میں ایک مسہری،دو الماریاں ،تپائی اور دیوار کے ساتھ لگے، نیچی پشت والے پرانے صوفے رکھے ہوئے تھے۔

بی بی جی نے ہمارا استقبال کیا اور بیٹھنے کے لیے کہا۔ چند لمحے بیتے ہوں گے کہ اندرونی دروازے کا پٹ کھلا اور ایک  لاغر بدن مگر طویل القامت شخص واکر کے سہارے  آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔یہ نیر مسعود تھے۔مہین سفید بال،چہرے پہ داڑھی کے بال یوں گویا مور کے انڈے ہوں،سفید چکن کا کڑھا ہوا کرتا مانوگنجفہ کی اماں نے مرنے سے پہلے اپنے ہاتھوں سے کاڑھ کر انہیں پہنایا ہو،سفید پاجامہ۔ گیہواں رنگت بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے مرجھائی ہوئی لیکن انکھوں میں ایک عجیب کشش۔

ہم ان کے احترام میں نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔بی بی جی  نےانہیں سہارا دے کر مسہری پہ لٹا دیا، ضعف کی وجہ سے وہ بیٹھ نہیں سکتے تھے۔مجھے علم تھا کہ شدید اور طویل بیماری نے ان کی یادداشت پر بھی اثر ڈالا ہے اور سماعت و بصارت پر بھی۔ان کی بولنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوچکی تھی۔کمرے میں خاموشی تھی،کچھ پر اسرار قسم کی خاموشی۔

جیسے مسکن کا وہ کونا کہ جس پہ کسی کی نظر نہیں پڑتی مگر وہ ہر گھر میں، ہر کمرے میں موجود ہوتا ہے۔ بے نام،انجانا،سب کے سامنے ہوتے ہوئے بھی سب کی نظر سے خفیہ لیکن اطمینان بخش ۔میں نے خود کو اسی گوشے میں کھڑا ہوا پایا۔

محسن نے مجھے ان سے متعارف کروایا۔لاہور کا نام سنتے ہی ان کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گئی اور کیوں نہ بڑھتی۔آخر یہ الطاف فاطمہ اور محمد سلیم الرحمان کا شہر تھا۔ بی بی جی ابھی تک خاموش ، نیر مسعود کی پائیتی سے لگی بیٹھی تھیں،متوجہ ہوئیں۔ اور کیوں نہ ہوتیں۔میں صائمہ جو تھی ،ان کی لاڈلی کی ہم نام۔

نیر مسعود کی آنکھوں کی چمک اور بی بی جی کی توجہ سے شہہ پا کر میں نے نیر صاحب کے قریب بیٹھنے کی اجازت چاہی جو بآسانی مل گئی۔اب میں نیر صاحب کی سرگوشی نما آواز سن سکتی تھی اور ان سے بات چیت کر سکتی تھی۔ان کی آواز دھیمی تھی مگر آواز کی پچ بتا رہی تھی کہ کبھی وہ متانت بھری گرجدار آواز کے مالک ہوں گے۔میرے اس خیال کی تصدیق اظہر مسعود نے کی ،جو اس محفل میں قدرے دیر سے آئے تھے۔

میری خوش بختی کہ اس روز نیر صاحب کی طبیعت بہت بشاش تھی۔لفظ اگرچہ ٹوٹ ٹوٹ کر اور لمبے وقفوں سے ادا ہو رہے تھے،بعضے بعضے جملے بھی ادھورے رہ جاتے لیکن ابلاغ کا کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا  تھا۔مجھے یوں لگا کہ جیسے وہ گفتگو نہیں کر رہے،کہانی سنا رہے ہیں، اور جان بوجھ کر کچھ خالی جگہیں چھوڑتے جاتے ہیں کہ سننے والا اپنے چشم تصور سے خود ان کو بھر لے۔میں آج تک ان کی کہانیاں پڑھتی آئی تھی اب سن رہی تھی۔

ایک سوال جو میں ہر بڑے ادیب سے کرتی ہوں ،ان سے بھی کیا۔ آپ کیسے لکھتے ہیں۔۔میرے سوال پہ ان کے لب ذرا سے کھنچے گویا مسکرا رہے ہوں۔ میں اب بھی ایک کہانی لکھ رہا ہوں۔  بڑا کوڑا گھر کی ہاجرہ بیگم کی طرح، انہوں نے گویا خود کو بتایا۔میرے خیال کی تصدیق ہو گئی۔ یہ ملاقات نہیں ،کہانی تھی،کہانی کا ایک حصہ تھا۔اور جیسے ان کی کہانیوں میں موت اچانک در آتی ہے،اس کہانی میں بھی موت در آئی ہے۔کہانی کا اگلا حصہ اپنے بھید بھرے سینے میں لیے وہ  کربلا منشی فضل حسین کربلا میں جا سوئے ہیں۔

  If I shall exist eternally, how shall I exist tomorrow?

فرانز کافکا  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *