قرار داد لاہور: مسودہ سر سکندر حیات خان نے تیار کیا تھا

آصف جیلانی 

یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ۷۷ سال بعد، لاہور میں مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد پاکستان کے بارے میں عجیب و غریب بحث چھڑ گئی ہے اور اس کا مسودہ تیار کرنے والے کے بارے میں طرح طرح کی آراء بیان کی جارہی ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد برطانوی سرکار کی ایماء پر سر ظفر اللہ خان نے ڈرافٹ کی تھی۔

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس تاریخی حقیقت کو کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا کہ قرار داد لاہور کا اصل مسودہ، اس زمانہ کے پنجاب کے یونیسٹ وزیر اعلی سر سکندر حیات خان نے تیار کیا تھا۔ یونینسٹ پارٹی اُس زمانہ میں مسلم لیگ میں ضم ہوگئی تھی اور سر سکندر حیات خان پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے انتقال سے پہلے یونینسٹ پارٹی سے مسلم لیگ کے اتحاد کی شدید مخالفت کی تھی ۔

سر سکندر حیات خان نے قرار داد کے اصل مسودہ میں بر صغیر میں ایک مرکزی حکومت (یونیں ) کے تحت کنفڈریشن کی بنیاد پرمسلمانوں کی اکثریت والی دو مملکتوں کے قیام کی تجویز پیش کی تھی، لیکن جب اس مسودے پر مسلم لیگ کی سبجیکٹ کمیٹی میں غور کیا گیا تو قائد اعظم نے خود اس مسودہ میں واحد مرکزی حکومت (یونیں )کا ذکر کاٹ دیا۔ 

یہ مسودہ جس میں واحد مرکز ی حکومت پر قائد اعظم کا خط تنسیخ کھچا ہوا ہے، برٹش لایبریری میں موجود ہے۔

سر سکندر حیات خان اس بات پر ناراض تھے کہ ان کے مسودہ میں ترمیم کی گئی ہے۔ انہوں نے گیارہ مارچ سن41 کو پنجاب کی اسمبلی میں صاف صاف کہا تھا کہ ان کا پاکستان کا نظریہ جناح صاحب کے نظریہ سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان میں ایک طرف ہندو راج اور دوسری جانب مسلم راج کی بنیاد پر تقسیم کے سخت خلاف ہیں اور وہ ایسی بقول ان کے تباہ کن تقسیم کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ 

سر سکندر حیات خان دوسرے سال سن 42میں پچاس سال کی عمر میں انتقال کر گئے، یوں جناح صاحب کو پنجاب میں شدید مخالفت کے اٹھتے ہوئے حصار سے نجات مل گئی۔ 

قرار داد لاہور کا ایک اور اہم پہلو جس پر اب بھی بحث جاری ہے ، وہ یہ ہے کہ اس میں واضح طور پر برصغیر میں دو مملکتوں کے قیام کا مطالبہ کیاگیا تھا ، ایک شمال مغرب میں مسلم اکثریت والے علاقوں اوردوسری جانب مشرق میں مسلم اکثریت والے علاقوں میں ۔ پھر ان علاقوں کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ قرارداد لاہور میں پاکستان کے نام سے واحد مملکت کامطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔ مسلم لیگ کے اجلاس کے دوسرے دن ہندوستان کے اخبارات نے اس قرارداد کو قرارداد پاکستان کا نام دیا تھا۔ اور اسی نام سے یہ قرار داد مشہور ہوئی۔

ایک سال بعد اپریل سن 41 میں مدراس میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قرارداد لاہور کو جماعت کے آئین میں شامل کیا گیااور اسی کی بنیاد پر پاکستان کے قیام کی تحریک شروع ہوئی لیکن اُس وقت بھی ان علاقوں کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی تھی جن پر مشتمل علیحدہ مسلم مملکتوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

پہلی بار پاکستان کے مطالبہ کے لئے علاقوں کی نشاندہی ۷ اپریل 1946 کی دلی کی تین روزہ کنونشن میں کی گئی جس میں مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے مسلم لیگی اراکین نے شرکت کی تھی۔ اس کنونشن میں برطانیہ سے آنے والے کیبنٹ مشن کے وفد کے سامنے مسلم لیگ کا مطالبہ پیش کرنے کے لئے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس کا مسودہ مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے دو اراکین، چوہدری خلیق الزماں اور ابوالحسن اصفہانی نے تیار کیا تھا ۔ اس قرار داد میں واضح طور پر پاکستان میں شامل کئے جانے والے علاقوں کی نشان دہی کی گئی تھی ۔ شمال مشرق میں بنگال اور آسام اور شمال مغرب میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان۔تعجب کی بات ہے کہ اس قرار داد میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تھا ، حالانکہ شمال مغرب میں کشمیر مسلم اکثریت والا علاقہ تھا اور پنجاب سے ملحق تھا۔

دلی کنونشن میں بنگال کے رہنما ابو الہاشم نے اس قرارداد کی پر زور مخالفت کی تھی اور یہ دلیل پیش کی تھی کہ یہ قرارداد، لاہور کی قرارداد سے بالکل مختلف ہے جو مسلم لیگ کے آئین کا حصہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ قرارد لاہور میں واضح طور پر دو مملکتوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا لہذا دلی کنونشن کو مسلم لیگ کی اس بنیادی قرارداد مین ترمیم کا قطعی کوئی اختیار نہیں ہے۔

ابو الہاشم کے مطابق قاید اعظم نے اسی کنونشن میں اور بعد میں بمبئی میں ایک ملاقات میں یہ وضاحت کی تھی کہ اس وقت چونکہ بر صغیر میں دو الگ الگ دستور ساز اسمبلیوں کے قیام کی بات ہورہی ہے لہذا دلی کنونشن کی قرارداد میں ایک مملکت کا ذکر کیا گیا ہے ۔ البتہ اُس وقت جب پاکستان کی دستور ساز اسمبلی آئین مرتب کرے گی تو وہ اس مسئلہ کی حتمی ثالث ہوگی اور اسے دو علیحدہ مملکتوں کے قیام کے فیصلہ کا پورا اختیار ہوگا۔ 

لیکن پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ، قاید اعظم کی زندگی میں اور نہ اُ س وقت جب سن چھپن میں ملک کا پہلا آئین منظور ہورہا تھا بر صغیر میں مسلمانوں کی دو آزاد مملکتوں کے قیام پر غور کیا ۔ پچیس سال کی سیاسی اتھل پتھل اور خونریز کشمکش اور سن 71کی خون آشام بنگلہ دیش کی جنگ کی تباہی کے بعد جب پاکستان دو لخت ہوا تو مسلمانوں کی دو الگ الگ مملکتیں ابھریں جن کا مطالبہ ۷۷ سال قبل قرار داد لاہور میں کیا گیا تھا۔

♦ 

One Comment

  1. چند لائنوں کی تبدیلی کردی گئی ہے۔
    اصل کالم عبدالقادر خان نے ’’میرے نشتر کی زد شریانِِ قیسِ ناتواں تک ہے‘‘ کے عنوان سے پچھلے سال روزنامہ اساس میں شائع کیا تھا۔

    https://www.dailyasas.com.pk/index.php/2014-01-02-10-22-33/57251-2016-04-16-17-34-57

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *