قائدِ اعظم ، قول و فعل کے تضادات

آصف جاوید

قائدِ اعظم محمّد علی جناح کے بارے میں یہ تاثّر عام ہے کہ قائدِ اعظم ایک بااصول، ایماندار، سچّے اور کھرے سیاستدان تھے۔ کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے، کسی کو دھوکا نہیں دیتے تھے، کسی کا اعتبار مجروح نہیں کرتے تھے، اور کبھی مفادات کی سیاست نہیں کرتے تھے۔

ہمیں بھی قائدِ اعظم کی شخصیت کے ان تمام اوصاف پر کبھی شک نہیں رہا ہے، مگر ہم جب تاریخِ پاکستان پر نظر ڈالتے ہیں ، مسلم لیگ کے قیام، دوقومی نظریہ کا پرچار ، مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن پاکستان کے حصول کی جدوجہد، حصولِ پاکستان، 11 اگست ، سنہ1947 ء کو مجلسِ قانون ساز میں قائدِ اعظم کی تقریر جو دراصل پاکستان کے ریاستی ڈھانچے کے خدوخال کا ایک خاکہ تھا، ، نئی کابینہ کی تشکیل میں قلمدانوں کی تقسیم ، بحیثیت گورنر جنرل قائدِ اعظم کے اقدامات، اپنے یومِ وفات تک قائدِ اعظم کے ریاستی امور پر فیصلے ، جب ان سب موضوعات پر تاریخی مواد کو کھنگالتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی غلط بیانی ضرور ہوئی ہے۔

برِّ صغیر کے مسلمانوں کو کوئی نہ کوئی فریب ضرور دیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد قائدِ اعظم کو خدانخواستہ کوئی دھوکے باز یا فریبی لیڈر قرار دینا ہر گز نہیں ہے، ہم تو تاریخ کے طالبعلم ہیں۔ اکثر ایسا تاریخی مواد ہاتھ لگ جاتا ہے جو ہمارے ناپختہ ذہن اور خام معلومات کی دھجّیاں بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ برِّ صغیر کے مسلمانوں ،خاص کر بنگالیوں اور مہاجروں کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہو۔

جن مقاصد کو سامنے رکھ کر حصولِ پاکستان کی جدوجہد کی گئی تھی، ملک تقسیم کیا گیا تھا، زمین تقسیم کی گئی تھی، تبادلہ آبادی ہوا تھا، ہجرت کی گئی تھی، جان و مال کی قربانیاں دی گئی تھیں، عزّتیں پامال ہوئی تھیں، خاک و خون کے دریا پار کئے گئے تھے۔ جس دو قومی نظرئیے کے تحت پاکستان بنایا گیا تھا، وہ صرف مقصد حاصل کرنے کے لئے ایک سلوگن تھا، پاکستان کا مقدمہ جیتنے کے لئے ایک دلیل تھی۔

جس کو ایک ذہین و چالاک وکیل نے اپنا مقدمہ جیتنے کے لئے بڑی کامیابی اور بے رحمی سے استعمال کیا تھا، اور جب مقصد حاصل ہوگیا ، مقدمہ جیت لیا گیا ، تو دلیل کو دلیل ہی رہنے دیا گیا، کبھی پاکستان کو ایک اسلامی شرعی ریاست یا فلاحی اسلامی مملکت بنانے کی کوئی شعوری کوشش جان بوجھ کر نہیں کی گئی۔ اور اگر کی بھی جاتی تو کیوں کر کی جاتی؟۔

قائدِ اعظم کو ئی کٹّر ملّا تو تھے نہیں، ایک مہذّب اور اعلیتعلیم یافتہ وکیل تھے، جو علی الاعلان شراب پیتے تھے، خنزیر کھاتے تھے، کلب جاتے تھے، مخلوط پاٹیوں میں شرکت کرتے تھے، نماز روزے حج، زکوۃ سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا، اور نہ ہی وہ کسی دینی مدرسے کے فارغ التحصیل ملّا تھے، وہ تو انگلینڈ کی مشہور قانونی درسگاہ لنکنز ان سے قانون کی پریکٹس اور تعلیم کے سند یافتہ تھے اور ایک کامیاب وکیل تھے۔ ۔

قائدِ اعظم بنیادی انسانی حقوق، انسانی مساوات و برابری کے اصول،جمہوری نظامِ حکومت، ہندوستان کے کثیر الثقافتی اور کثیر المذاہب معاشرے میں عوامی تعلّقات، باہمی میل جول، اور مشترکہ تاریخی و ثقافتی ورثے اور بین المذاہب تعلّقات کی اہمیت ، زمین حقائق کے ادراک اور جدید زندگی کے تقاضوں کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ قائدِ اعظم ایک کامیاب اور ذہین وکیل تھے، جو دلیل اور نظیر کی طاقت سے مقدمہ لڑنے اور جیتنے کے ماہر تھے۔

قائدِ اعظم برِّ صغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ سیاسی جماعت مسلم لیگ کے متّفقہ لیڈر اور سیاستدان تھے۔ قائدِ اعظم نے ایک سوشل سائنٹسٹ اور زیرک سیاستداں کے طور پر برِّ صغیر کی سیاست میں مذہب کےبطور ہتھیار استعمال کا کامیاب تجربہ کیا، قول و فعل کے تضادات کے اعلینمونے پیش کئے، قائدِ اعظم نے دو قومی نظرئیے کو پاکستان کا مقدمہ لڑنے اور جیتنے کے لئے بڑی مہارت اور کامیابی سے ایک دلیل کے طور پر استعمال کیا، اور جب مقدمہ جیت لیا تو، دلیل کو دلیل ہی رہنے دیا، کبھی بھی مسلمانوں کو دکھائے گئے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے کوئی شعوری وعملی اقدامات نہیں کئے۔

بلکہ 11 اگست سنہ 1974 ء کو قیامِ پاکستان کے رسمی اعلان سے تین دن قبل کراچی میں مجلسِ قانون ساز سے خطاب کرتے ہوئے، گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر قوم کو صاف صاف بتا دیا، کہ پاکستان کو کوئی تھیاکریٹک یعنی مذہبی ریاست نہیں بنایا جائے گا۔ بلکہ پاکستان ایک سیکیولر ریاست ہوگا، جس میں تمام مذاہب کے لوگ امن و آشتی اور وقار کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر رہیں گے۔ حوالے کے لئے ہم یہاں مجلسِ قانون ساز میں قائدِ اعظم کی مشہور تقریر کا اقتباس کا ویڈیو کلپ پیش کررہےہیں۔

 

قارئین سے درخواست ہے کہ اس اقتباس کو سن کر اندازہ لگائیں کہ کیاقائدِ اعظم پاکستان کو ایک بنیاد پرست اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے؟ یا ایک سیکیولر لبرل ریاست؟اور اگر قائدِ اعظم پاکستان کو ایک بنیاد پرست اسلامی ریاست بنانا چاہتے تو تو پھر 11 اگست سنہ 1947 ء کو مجلس قانون ساز سے خطاب میں قائدِ اعظم کیا قوم کے سامنے ہذیان بک رہے تھے؟ یا پھر اپنی پوری سچّائی اور دیانتداری کے ساتھ ایک نئی ریاست کے خدوخال بیان کررہے تھے؟۔

اور پھر جب پاکستان کی پہلی کابینہ تشکیل دی گئی تو اس کابینہ میں گنتی کے چند وزراء میں غیر مسلم وزیروں کو اتنی اہم وزراتیں کیوں دی گئیں؟، کیوں کابینہ کی تشکیل میں کسی دینی مدرسے کے فارغ التحصیل ملّا ، کسی عالم دین، کسی فقیہہِ شہر کو وزیر یا مشیر شامل نہیں کیا گیا؟ گورنر جنرل ہاؤس میں آزادی کی خوشی میں دی گئی ضیافت میں کھلے عام شراب و خنزیر کیوں پیش کیا گیاتھا؟۔

قائدِ اعظم کی موجودگی میں مخلوط پارٹیاں کیوں ہوتی تھیں؟ ۔ کیوں پاکستان سے جاگیر داری کا خاتمہ نہیں کیا گیا؟، جب پاکستان کو اسلامی شرعی ریاست بنانا ہی نہیں تھا تو پھر ہندوستان کی تقسیم کیوں کی گئی؟ دونوں طرف کے لوگوں کو کیوں ہجرت پر مجبور کیا گیا؟ کیوں آگ و خون کے دریا پار کئے گئے؟ غیر منقسم ہندوستان میں رہنے میں مسلمانوں کو کیا تکلیف تھی؟ قائدِ اعظم جب تک زندہ رہے کسی مائی کے لال میں یہ جراءت کیوں نہ ہوئی کہ وہ قائدِ اعظم سے ان سوالوں کے جواب طلب کرسکے؟

اپنی وفات کے دن تک قائدِ اعظم کے کئے گئے فیصلوں اور کابینہ کے اجلاسوں میں کوئی بھی ایسااقدام کیوں نہیں اٹھایا گیا ؟جس سے یہ ثابت ہو کہ قائدِ اعظم پاکستان کو ایک بنیاد پرست شرعی اسلامی ریاست، اسلام کا قلعہ اور صرف مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن بنانا چاہتے تھے۔ مگر نہیں بنا سکے۔

جب تک پاکستان قائم ہے، تاریخ ان تمام سوالات کے جواب مانگتی رہے گی۔ ہمارا مقصد قائدِ اعظم کو ایک مکّار اور چالاک اور فریبی سیاستداں ثابت کرنا نہیں ہے، بلکہ اپنے ذہنی خلفشار کا جواب تلاش کرنا ہے، اگر آپ میں سے کوئی تاریخی حوالہ جات سے یہ ثابت کردے کے قائدِ اعظم ، پاکستان کو ایک اسلامی شرعی ریاست بنانا چاہتے تھے، تو اس کا یہ تاریخ اور پاکستانی قوم پر ایک احسان ہوگا۔

یا تو ہم غلط ہیں، یا پھر تاریخ یا پھر قائدِ اعظم اور ان کی مسلم لیگ ؟ کوئی ایک نہ ایک مجرم ضرور ہے، بس آپ نے ا ن ہی سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہیں۔ اگر ان سوالوں کو اٹھانے پر ہم قصور وار ثابت ہوگئے تو آپ پر اپنا خون معاف کرتے ہیں۔ جو چاہیں سزا دے دیں ، شرط صرف ہمیں قصوروار ثابت کرنے کی ہے۔ جو شاید آپ نہ کرسکیں۔

12 Comments

  1. نواز خان says:

    محمد علی جناح ویسے ہی سیاسی لیڈر تھے جیسے آج کے ہیں۔انہوں نے اسلام کو ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا اور جتنا فائدہ حاصل کر سکتے تھے کیا، جیسے کہ ہماری آج کی سیاسی اشرافیہ کرتی ہے۔ ان کی ذاتی زندگی میں اسلام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا مگر یہ اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔
    قائداعظم نے نے فرقہ وارانہ سیاست کی ان کا نعرہ تھا مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ گیارہ اگست کی تقریر بھی محض خانہ پری تھی۔ لاکھوں لوگوں کو مروا کر سیکولرازم کی بات کرنا برصغیر کےعوام سے صریحا دھوکہ دہی ہے،
    نواز خان

  2. Hamid A Mian, MD says:

    اقبال اور جناح

    ” جو قوم اپنے محسنین کو بھلا دیتی ہے،اس قوم میں محسنین آنا بند ہو جاتے ہیں۔” (غلام احمد پرویز)
    اور جب وہ قوم ان کے کیریکٹر پر تنقید شروع کر دیتی ھے تو وہ قوم خود نفسیاتی الجھاؤ میں الجھ جاتی ہےاوراس قوم کا اپنا کیریکٹر بتدریج مسخ ھونا شروع ہو جاتا ہے۔
    ہاں جناح ایک سیکیولر انسان “تھا”، ہاں جناح ایک نیشنلسٹ “تھا” لیکن یہ یاد رھے کہ ہر انسان میں ایک ارتقا کا پہلو موجود ہوتا ہے اور اسکی نمود بتدریج ہو رھی ہوتی ہے۔

    یہ وہی جناح تھا جس کے نام پر جناح کانگریس ھال آج بھی موجود ہے۔ یہ وہی جناح تھا جس نے ھندوستاں کی آزادی کیلئے انگریز سے جنگ شروع کی۔
    یہ وہی جناح تھا جو اپنی خودی کی نمود اپنی ذات کی پختگی سے کر چکا تھا۔ ” جو کہتا تھا وہ کرتا تھا” ۔ یاد رہے قرآن میں ہے کہ وہ کیوں کہتے ھو جو کرتے نہیں ۔

    لِمَ تَقُوْلُوْنُ مَالَاتَفْعَلُونَُ ۔ (61/2)

    اصول پرست انسان کو عموماً ہمارے جیسے معاشرے میں ضدی تصور کر لیا جاتا ہے
    یاد رہے کہ جناح ایک اعلی درجہ کا قانون دان تھا اور قرآن ایک قانونی ضابطہ حیات ہےاور قرآن کو ایک قانونی ضابطہ حیات کی طرح سمجھنے کا شرف الللہ تعالی نےمحمد اقبال کو عطا کیا۔
    یاد رہے کہ اقبال بھی ایک نیشنیلسٹ “تھا.” مگر پھر اسی نے کہا…
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرھن اس کا ہے،وہ مذہب کا کفن ہے

    اقبال ہی وہ شخص تھا جس نے قرآنِ کریم سے دو قومی نظریہ کے تصور کو اخذ کیا۔ یہی تصور حضرت نوح سے لے کر حضرت محمدٌ تک ہر پیغمبر نے پیش کیا۔ یہ کوئ اقبال یا جناح کی اپنی ذہنی پیداوار نہیں تھی۔ یہ اسلام کا تقاضا ہے۔
    پھر یاد رہے کہ اقبال بھی ایک قانون دان تھا اور ایک معلم کی حیثیت سے انہوں نے جناح کو قرآن سےایک قانون کی کتاب کی حیثیت سےآشنا کرایا۔ ایک قانون دان کی حیثیت سے جناح خدا کے قوانین کو بہت جلد سمجھ گئے۔

    جناح اقبال سے ملتے رہے اور خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا
    اس عمل میں اقبال کو تین سے پانچ سال کا عرصہ لگا جبکہ ھیکٹربولیتھو اپنی کتاب
    ( Jinnah, Creator of Pakistan) میں ان ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ایک دھائ کا عرصہ بتاتا ہے۔

    یاد رہے یہ اقبال ہی تھا جس نے قرآن کو بحیثیت دین کے امت سے آشنا کرایا۔ ہم چودہ سو سال سے اسلام کو مذہب ہی سمجھتے رہے۔ حقیقتاً اسلام ایک دین یا سسٹم ہے اور ہر سسٹم کو نافذ کرنے کے لئے ایک قانونی ضابطہ حیات یا کونسٹیچیوشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور وہ قرآن ہے جو تمام انسانیت کے لیئے ضابطہ حیات ہے۔

    اقبال کی ساری تعلیم کا ماحاصل قرآن ہی کی تعلیم کو اُبھار اور نکھار کر امت کے سامنے لانا ہے۔ اور انسان کو اس کے مقام سے آشنا کرانا ہے۔

    ہم آج تک اقبال اور جناح کو سمجھ نہ سکے۔ کوئ انہیں مذہبی اور کوئ انہیں سیکیولر قرار دیتا ہے۔ حقیقتاً یہ دونوں الفاظ ان کی ذات کو زیبا نہیں دیتے۔
    وہ دونوں قانون دان تھے اور خدا کے قوانین کو بہت اچھی طرح سمجھ گئے تھے۔ اور جب کوئ خدا کے قوانین کو سمجھ لیتا ھے تو اس پر یہ فرض عائد ہو جاتا ہے کہ وہ ان قوانین کو انسانیت کی بھلائی کے لیئے اس دنیا میں کسی ایسے خطے پر نافذ کرےجہاں پہلے سے کوئ اور کونسٹیچیوشن نہ ہو۔ اس کے لئے ایک خطہ ارض کی ضرورت محسوس ہوئ۔

    اقبال نے یہ عظیم فریضہ جناح کے ذمہ لگا دیا۔کیونکہ اقبال ساری عمر جس مردِ مومن کی تلاش میں رہا وہ اسے جناح میں نظر آیا۔
    وہ پختہ ذات وہ خودی کا علمبردار اور اقبال کی اُمیدوں کا پاسدار
    “جناح”
    وہ دونوں ایک عظیم مشن کی ابتدا کر کے چلے گئے۔ یہی مشن خدا نے حضراتِ موسی اور ھارون کے ذمہ لگایا تھا۔ایسے رہبر اور لیڈر انسانیت کو بہت کم نصیب ہوتے ہیں۔

    اقبال جناح کا ایک ادنی سپاہی اور جناح اقبال کا ایک ادنی سپاہی، ان دونوں کی زبانی-

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    حامد

  3. Hamid A Mian, MD says:

    یاد رہے جب بھی کوئ قوم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو پسِ پُشت ڈال دیتی ہے تو اُس قوم کی یہ صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں۔ ہمارا المیہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہم نے آج قلم تو اُٹھا لیا جو کہ بندر کے ہاتھ میں استرا تھما دینے کے مترادف ہے۔ مگر ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت حقیقی معنی تک محدود ہے۔ الفاظ کے مجازی معنی اخذ کرنے سے محروم ہیں۔زبان کی گہرائ کو سمجھنے کے لئےاس زبان کے مجازی معنی اور محاوروں کا سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ جیسے میرا دل باغ باغ ہو گیا ایک محاورا ہے۔ یا عمر شیر ہے۔ ان محاوروں کا ہم حقیقی معنی میں ترجمہ نہیں کر سکتے۔ ان کو مجازی انداز میں سمجھا جائے گا۔ اب اگر آپ قائداعظم کی اُس ۱۱اگست کی تقریر کا دوبارہ سے تجزیہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ تقریر میثاقِ مدینہ کے مترادف ہے۔ اور پھر یاد رہے کہ اسلام ایک دین یا سسٹم ہے اور یہ مذہب کے خلاف ہے۔ اسلام جب بھی ایک سسٹم کی طرح نافذ ہو گا تو اس سسٹم کے اندر نہ ہندو ہندو رہے گا اور نہ آج کا مسلم مسلم رہے گا۔ وہ سب کے سب اُس سسٹم کے قوانین کے ماننے والے افراد بن جائیں گے۔ ایک قانون ایک قوم تشکیل کرتا ہے۔ میں نے آج تک جناح کی کسی تقریر میں تضاد نہیں دیکھا۔ جناح کیا چیز ہے ہم تو وہ قوم ہیں جو قرآن میں بھی تضاد ڈھونڈتے رہتے ہیں۔جیسا کہ میں نے اُوپر بیان کیا ہے کہ قائداعظم نہ ہی مذہبی انسان تھا اور نہ ہی سیکیولر انسان ۔ وہ ایک قانون دان تھا اور ایک قانون کی کتاب کو ہم سے بہتر سمجھ گیا اور ایک قوم کو دوسری قوم کے چنگل سے نکال کر سینا کی وادی میں لے آیا۔ اُس کا کام اس حد تک تھا۔ اس کے بعد کا کام ہمارے ذمہ ہے۔ اُ س کو ہم نبھا نہ سکے تو الزام تراشی پر اُتر آئے اور اپنے گناہوں کا ذمہ دار جناح کو ٹہھرا دیا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ وہ تو اپنا کام کر گیا۔ اس کی فکر نہ کریں ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ قرآن ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ جو انسان یا قوم گزر گئ وہ ذمہ دار ہے اپنے ہاتھوں سے کیئے ہوئے اعمال کی اور جو ہم اپنے ہاتھ سے عمل کریں گے اُس کے ہم ذمہ دار ہوں گے۔ ہم تم سے پوچھیں گے ہی نہیں کہ انہوں نے کیا کیا تھا ہم تو تم سے پوچھیں گے کہ تم نے کیا کیا تھا۔ میں آپ سب سے بڑی معذرت کے ساتھ یہ لکھ رہا ہوں میرا کبھی بھی مقصد کسی انسان کی تذلیل کرنا نہیں ہے۔ میرا مقصد اصلاح ہےاور حق پیش کرنا ہے ۔ جس کا جی چاہے اپنا لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے فیصلہ اس کا خدا پہ چھوڑ دیتے ہیں۔ خدا حافظ

  4. Hamid A Mian, MD says:

    قائداعظم نے فرمایا:
    “مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکومت کیا ہو گا؟ میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرزِ حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآنِ کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمدالللہ قرآن مجید ہماری رہنمائ کے لئے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔”(آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس سے خطاب منعقدہ۱۵ نومبر 1942۔
    یہ ہے وہ کام جسے ہم نے کرنا تھا

  5. Yousuf Ghauri says:

    اس سوال کا درست اور صحیح جواب سننے کا حوصلہ اور لکھنے والے ہنر وکمال کے درجے پہ پہنچنے میں ابھی حالات سازگار و موزوں نہیں ہیں اور ایسے ذرائع و وسائل بھی تلاش کرنا آسان نہیں مگر اس سوال کے جواب کی صلاحیت کہیں کہیں پھر بھی موجود ہے اور ذرائع و وسائل کی کمی کا شکار ہے اگر جواب حاصل کرنے کی طلب شدید ہے تو کچھ وسائل دستیاب کرنے پڑیں گے جواب حاضر خدمت کیا جا سکتا ہے ..یوسف غوری

    • کسی ایک وسیلہ یا ذریعہ کا ڈھکے چھپے الفاظ میں ذکر تو کر دیں۔یہاں اب کوئی دیوار برلن تو ہے نہیں جسے توڑنے کے لئے ہتھوڑے اور چھینی کی ضرورت تھی۔

  6. سرکار ! آپ کو اب ہوش آئی ہے۔ جید ہندوستانی علماء دین شرع متین نے توآج سے ستر برس سے بھی پہلے کہہ دیا تھا کہ پاکستان نہیں بلکہ پلیدستان بننے جارہا ہے۔( نقل کفر کفر نباشد)۔
    دین اور شریعت کا علم رکھنے والے ان علماء نے پوری کوشش کر لی کہ پاکستان کی “پ” بھی نہ بن پائے لیکن پتہ نہیں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے متشرع مسلم علماء کرام کی بات تو نہ سنی اور ایک داڑھی منڈھے اور مولانا مظہر علی اظہر کے مطابق ایک کافراعظم جو مبینہ طور پر شراب نوش اور خنزیر خور تھا،اس کے پیچھے ہو لئے۔ اس طرح برصغیر کے ان تمام مسلمانوں کی اُس نسل میں بھی قول اور فعل کا تضاد نظرآرہا ہے۔

  7. علاوُالدین کنگ says:

    سوال کرنا بڑی بات نہیں ۔ درست سوال کرنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بظاہر تو بے وقت کی راگنی ہے ۔ کہ جناب جناح کیسا طرزِحکومت چاہتے تھے ۔ آپ اسلامی جمہوری نظام کے قائل تھے

  8. صفوان الحق says:

    محترم کالم نگار میں زیادہ لمبی چوڑی بحث نہیں کرتا. اگر آپ اپنے آپ کو واقعی غیر جانبدار اور محقق قسم کے تاریخ کے طالب علم سمجھتے ہیں. تو جہاں قائد اعظم کے خلاف آپ نے اتنا سارا مواد ریسرچ کرکے نکال لیا ہے تھوڑی سی مزید محنت کرکے ایک محکمے کا بھی سراغ لگائیں جو قائداعظم نے پاکستان کے بننے کے فوراً بعد بنایا تھا. اس محکمے کا نام تھا department of Islamic reconstruction. اور علامہ محمد اسد کو اس کا ڈائریکٹر بنایا تھا تاکہ پاکستان کو جدید حالات کےمطابق اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے. اگر آپ بغض قائداعظم کا شکار نہ ہوئے تو آپ کو اس محکمے کا سراغ بھی لگ جائے گا اور اس کے اغراض و مقاصد بھی پتہ چل جائیں گے. لیکن اگر آپ کی آنکھوں پہ قائداعظم کے بغض کی پٹی بندھی ہوئی ہوئی تو پھر آپ یہ ریسرچ کرنے سے پہلے ہی اسے افسانہ سجھ کے مسترد کردیں گے. یہ محکمہ قائداعظم کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی سوچ کا آئینہ دار تھا جس میں علامہ محمد اسد نے بہت محنت کی لیکن سیکولر لابی نے علامہ صاحب کو اس محکمے سے ہٹا کے قائداعظم کی وفات کے بعد ریکارڈ سمیت آگ لگا دی اور تاریخ کو مسخ کرکے اس محکمے کو ایک افسانہ کے طور پہ مشہور کردیا. وہ دن اور آج کا دن جب بھی کسی ضروری ریکارڈ کو ختم کرنا ہو تو آگ لگا دی جاتی ہے. اور اس پہلی آگ کے بعد سرکاری ریکارڈ جلانے کی ایک پوری تاریخ بن چکی ہے.. قائد اعظم نے کہا تھا میری جیب میں سب سکے کھوٹے ہیں. آج انہی کھوٹے سکوں کے اعمال پاکستان کی تاریخ ہیں اور انہی کی اولادیں یا ان کے پروردہ آج بھی پاکستان کے حکمران اور پالیسی میکر ہیں اور وہی لوگ یا ان کے نمک خوار ہی عظیم قائد کی خدمات کے حوالے سے بغض کا شکار ہیں. شکریہ.

    • نجم الثاقب کاشغری says:

      محترم صفوان الحق صاحب
      اگر سب کچھ جلا دیا گیا تو آپ کے پاس جو معلومات ہیں ان کا ماءخز کیا ہے؟۔ اس دعویٰ کا کیا کوئی دستاویزی ثبوت ہے کہ قائد اعظم نے بنفس نفیس اس قسم کا کوئی محکمہ قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔ جناح پیپرز تو نہیں جلائے گئے ان میں اس کاکوئی ذکر؟؟۔ جس محکمہ کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کا ذکر علامہ اسد کے تصنیف کردہ ایک کتابچہ میں ملتا ہے(جو آجکل انٹرنیٹ پہ دستیاب ہے) لیکن اس میں بھی اس قسم کا کوئی ذکر موجود نہیں کہ گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کے احکامات کے مطابق یہ وفاقی سرکاری محکمہ قائم کر کے مجھے (علامہ اسد) اس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ نسخہ کے مطابق یہ کتابچہ اس وقت کی پنجاب حکومت نے شائع کیا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ نواب صاحب آف ممدوٹ نے اپنی صوابدید پرپارٹیشن کے معاً بعد پنجاب میں ایسا ایک محکمہ قائم کیا تھا نہ کہ قائد اعظم نے، کیونکہ اس کے سرورق پہ علامہ نے اپنے نام کے نیچے اپناجو عہدہ لکھا ہوا ہے وہ “ڈائریکٹر آف اسلامک ری کنسٹرکشن ویسٹ پنجاب گورنمنٹ”ہے۔( اس عہدہ میں کسی “ڈیپارٹمنٹ” کا ذکر ہی نہیں نہ ہی فیڈرل گورنمنٹ آف پاکستان کا۔)

  9. Dr. Tahmina Iqbal says:

    Only limited and sick mentality can draw an unclear sketch of national heroes. Such so called liberal intellect is just like a fly which can only choose a filth to sit on. This critical thinking needs to wash itself before it talks about leaders like jinnah or iqbal. This sort of approach cannot be taken as enlightened way of analysing but as sheer lack of genuine research.

  10. Hamid A Mian, MD says:

    تذلیلِ انسانیت قرآن کے مطابق بہت بڑا گناہ ہے۔قرآن کا اصول ہے لقد کرّمنا بنی آدم۔ اس لئےہمیں بہت زیادہ احتیاط سے اپنے الفاظ کو قلم بند کرنا چائیے۔ اور اس بات کو مدِ نظر رکھنا چاہئے کہ کسی انسان کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔ اور جو انسان اس دنیا سے جا چکے ہیں اور ان سے اگر خطا ہوئ ہے تو اس پر تنقید کریں مگر تذلیل آمیز الفاظ سے اُِجتناب کریں۔کیونکہ ایسا نہ ہو کہ آپ کی وجہ سے کسی انسان کے جذبات مجروح ہو جائیں۔ ایک اچھے انسان اور لکھاری کی یہ پہچان ہونی چاہئے کہ وہ بڑے پُروقار انداز سے اپنا مدعا بیان کرے جو حقائق پر مبنی ہو اور دلیل و برہان سے دوسروں کو قائل کر سکے۔ رائے دینے کا حق ہر انسان کو ہے مگر دوسروں کے جذبات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے۔
    شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *