مذہبی انتہا پسند اور دہشت گرد پاکستانی سیاست میں

پاکستان کی مذہبی انتہا پسند جہادی تنظیم جماعت الدعوۃ نے سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ، امریکہ اور انڈیا جماعت دعوۃ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہیں جبکہ تنظیم کے سربراہ حافظ سعید ان دنوں نظربند ہیں۔

پاکستان میں کئی دہشت گرد تنظیمیں نام بدل کر کام کررہی ہیں۔ جس میں سر فہرست مولانا محمد احمد لدھیانوی کی اہلسنت والجماعت ہے جو پہلے سپاہ صحابہ کے نام سے فرقہ وارنہ قتل و غارت میں ملوث تھی۔ جماعت الدعوۃبھی لشکر طیبہ کا دوسرا نام ہے جب اس پر بین الاقوامی فورم پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

جماعت الدعوۃ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایک سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس حوالے سے مشاورت جاری ہیں حتمی اعلان جلد کردیا جائے گا۔ اس تنظیم میں حافظ سعید کا کیا کردار ہوگا اور ممکن طور پر کن جماعتوں سے اتحاد کیا جائے گا، ان سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید ان دنوں نظر بند ہیں، انھیں کشمیر میں سرگرم جہادی تنظیم لشکر طیبہ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر 2008 میں انڈین شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد جماعت الدعوۃ پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں استاد اور جماعت الدعوۃ پر تحقیقی کتاب ’جہاد اور دعوۃ ‘ کی مصنفہ پروفیسر ثمینہ یاسمین کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوۃ نے پچھلے چھ سات سالوں سے ایسے اشارے دینا شروع کردیے تھے کہ وہ سیاست میں آنا چاہ رہے ہیں۔’انھوں نے اتحاد سازی کی باتیں کرنا شروع کردی تھیں۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ جو باقی اسلامی گروپ ہیں ان کے ساتھ مل کر وہ کوئی موقف اختیار کرسکتی ہے تاکہ یہ پیغام دیا جاسکے کہ ان کی بھی ایک سیاسی حیثیت ہے‘۔

جماعت الدعوۃ کو سیاسی جماعت کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ تنظیم کے ترجمان نے اس کا جواب نہیں دیا تاہم تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں جمہوریت سے جماعت الدعوۃ کا ایک نظریاتی اختلاف رہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سیاسی جماعت ان کی نہیں بلکہ ان کے مہربانوں کی ضرورت ہے۔’جہادیوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا جو منصوبہ تھا اس کے تحت اسٹیبلشمنٹ جہادیوں کو دوسرے کاموں پر لگا رہی ہے اور ان کی امیج بلڈنگ کی جارہی ہے‘۔

پاکستان کی سیکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ کا عمومی موقف یہی ہے کہ دہشت گردوں کو قومی دھارے میں لایا جائے۔ ایسٹیبلشمنٹ اچھے طالبان کو بھی قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے سیاسی حکومتوں پر دباؤ ڈالتی رہتی ہے۔ اور وقتا فوقتاً ان کا سوفٹ امیج میڈیا کے ذریعے پرموٹ کیا جاتا رہتا ہے۔ یہ دہشت گرد تنظیمیں اور جماعتیں سیکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے سماج میں فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھی عمل کر رہی ہیں۔

دوسری طرف ان مذہبی جماعتوں کی دہشت کا یہ عالم ہے کہ میڈیا میں کوئی بھی ان کی دہشت گردی کی سرگرمیوں پر زبان نہیں کھول سکتا۔

جماعت الدعوۃ کا جہاں بین الاقوامی طور پر ایک دہشت گرد جہادی تنظیم کے طور پر جانی جاتی ہے وہاں اس کی مقامی شناخت فلاحی کام ہے۔ اس کا ادارہ فلاح انسانیت کراچی اور لاہور سمیت کئی شہروں میں سرگرم ہے، جہاں تعلیم اور صحت کے شعبے کے علاوہ آفات اور حادثات میں رضاکار لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

پروفیسر ثمینہ یاسمین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ ہے وہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ جماعت الدعوۃ ہی پاکستان کو سمجھتی ہے اور اسی نے لوگوں کی مدد کی، ہسپتال بنائے ہیں۔ اس کے علاوہ جب سیلاب آتے ہیں تو یہ ہی لوگ مدد کرتے ہیں۔ ان کے نکتہ نظر سے جماعت الدعوۃ ان کی نمائندگی کر رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر جماعت الدعوۃ کی سیاسی جماعت کا نام ملی مسلم لیگ موجود ہے جبکہ جماعت الدعوۃ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دو تین نام زیر غور ہیں حتمی نام طے نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ پورے ملک بالخصوص پنجاب میں اہل سنت و الجماعت کا ووٹ بینک ہے، یعنی ہر ضلعے اور ہر حلقے میں اس کا دس سے پندرہ ہزار ووٹ مل جاتا ہے، اس کے باوجود وہ جھنگ کی ایک نشست کے علاوہ نہیں جیت سکتے۔ اہل حدیث مکتب فکر کے تو اس سے بھی کم ووٹ ہیں ان کا خیال نہیں ہے کہ جماعۃ الدعوۃ مسئلہ پارلیمنٹ میں جانا ہے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ’جماعت الدعوۃ کی یہ معاشرے میں ضم ہونے کی ایک کوشش ہے تاکہ اس کی آڑ میں اثر رسوخ بڑھا سکیں اور دوسرا فوج یہ کہہ سکے گی دیکھیں یہ معاشرے میں ضم ہوگئے ہیں یہ عسکریت پسند نہیں‘۔

ملکی سیاست میں جہاں ایک جانب عوامی سیاسی جماعتوں کو میڈیا کے ذریعے بدنام کیا جاتا ہے تو وہیں دوسری طرف فرقہ وارانہ اور دہشت گرد تنظیموں کو سیاست میں لانچ کرنے کا عمل انتہائی خطرناک ہے۔ شریعت نافذ کرنے کی دعویدار یہ جماعتیں سماج کو مزید تباہی کی طرف لے جائیں گی۔اور شاید پاکستان کی سیکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ کا بھی یہی مقصد ہے کہ ملک میں سیاسی عمل مستحکم نہ ہونے دیا جائے۔

BBC/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *