کیا آپ بیتی لکھنا ممکن ہے؟۔6

انفرادی ارادے اور جاری بیانیے کے درمیان تعلق کا مطالعہ 

قسط 6 : اسیری کا بیانیہ

قدیم یونانیوں کے تجرباتِ زندگی نے انھیں سمجھایا کہ زندگی کی ذمّے داریاں قبول کرنا بہت دوبھر کام ہے۔ انھوں نے اس ذمے داری سے گریز کے لیے آسمانوں پر دیوی دیوتاؤں کا ایک خاندان تخلیق کر لیا۔ اس کے بعدانسانوں کی تمام تر کارستانیوں کی ذمے د اری انھی دیوی اور دیوتاؤں کے سر پر آگئی۔ اس طرح انسان اپنے ہی بنائے دیوی دیوتاؤں کے اسیر بن گئے۔ قدیم یونانی معاشرے پر تحقیق کرنے والے ایک ماہر عمرانیات ای ۔ آر۔ ڈوڈزنے لکھا ہے کہ کوئی بھی فرد اپنی انفرادی نفسیاتی حیثیت میں خود مختار نہیں۔ وہ اپنے اندر جاری پیچیدہ خلفشار کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

مثلاََ، اچانک ذہن میں انجانے خو ف یا انتباہ کا اشارہ ملنا، اچانک کسی جذبے کی طاقتورَ رو کا ابھاریا کسی صورتحال میں اپنے موقف یا فہم کو معیّن کرنے میں دشواری۔ یہ سب معاملات قدیم یونانیوں کے نزدیک انسانوں کی زیست کو ناقابلِ اعتباربنا دیتے ہیں۔ اس صورتحال کو بااعتبار بنانے کے لیے ایک خارجی قابلِ اعتبار اور با وثوق نظام فکر استوار کیا گیا۔ یہ نظام دیوی دیوتاؤں پر مشتمل تھا۔اس میں سوچنے، احساسات کی شناخت کرنے اور ہرکام کے کرنے کے اسلوب طے کر دیے گئے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی سے ابہام کا خاتمہ ہو گیابلکہ واقعات کے اسباب کا تعّین کرنا بھی سہل ہوگیا۔ کارگزاری انسانوں کی ہوتی اور اس کی ذمے داری دیوتاؤں کے سر پہ آتی تھی۔ لوگ اپنے احساسات کو ظاہر کرنے کے لیے آسمانوں پر بسے دیوی، دیوتاؤں ، بد روحوںیا جنّا ت میں سے کسی کا انتخاب کر سکتے تھے۔ 

انسانوں نے جو کہانی اپنی آسانی کے لیے بنائی تھی، وہ خو د اس کے اسیر بن کر رہ گیا۔ زندگی میں حقیقت اور افسانہ اس طرح ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا مشکل ہو گیا۔ کائنات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ریاضیاتی یا جیومیٹریکل تجرید کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بات گلیلیو نے سمجھائی تھی۔ اس تجرید کے وسیلے سے کسی کیفیّت کو سمجھنے کے بعد واپس حقیقی دنیا میں آنالازمی ہوتا ہے اور اس کی تجرباتی شہادت کے لیے تجربات کرنا ہوتے ہیں۔ قدیم یونانیوں نے اپنی سماجی اور فکری صورتحال کا درست ادراک کرنے کے لیے آسمانوں پر تجرید ی جست تو لگائی مگر واپس حقیقی دنیا میں نہ لوٹ سکے۔ اس طرح سماج کی حقیقت محض تجرید بن کر رہ گئی۔

سماج ،افراد سے بالاتر ہوتا ہے۔ اس کی ساخت تجرید پر مبنی ہوتی ہے اور اس کا اظہار زبان کی صورت میں ہوتا ہے ۔زبان بھی افراد سے بالاتر ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے زبان نہ صرف ابلاغ کو کنٹرول کرتی ہے بلکہ سماجی تنظیم کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کی حسّیات جو بھی ہوں ، ان کے اظہار کے لیے آپ کو زبان کا سہارا لینا پڑے گا۔ زبان کے الفاظ ضروری نہیں کہ وہ آپ کے احساسات کے ترجمان بنیں۔ زبان احساسات کے معیار طے کرتی ہے۔ انھی معیارات کی بنیاد پر انفرادی تجربات اور احساسات کو معانی ملتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ وسیع تر بیانیے کی اشاعت کے لیے بیان کی گئی دیو مالائی کہانیاں، داستانیں اور قصّوں میں راوی ہی کرداروں کے چلن کو معیّن کرتا ہے۔ کرداروں کی اپنی کوئی خواہش یا مرضی نہیں ہوتی، وہ کہانی کو ایک طے شدہ نتیجے تک پہنچانے کا وسیلہ ہوتے ہیں۔جس طرح ان کہانیوں میں انفرادی کردار کے پنپنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اسی طرح ان سے بننے والے ایک بڑے بیانیے کی گرفت میں زندگی گزارنے والے لوگوں کو اپنے انفرادی احساس یا ارادے کو ظاہر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ 

کچھ عرصہ پہلے ایک بڑے شہر میں رات کو ایک چلتی بس میں پانچ لوگوں نے ایک لڑکی کے ساتھ اس کے دوست کے سامنے جنسی تشدد کیا۔ پھر دونوں کو چلتی بس سے نیچے پھینک دیا۔ کچھ دنوں کے بعد لڑکی مر گئی۔ لڑکی کے ساتھ جو ہوا، اس اندوہ کوکسی زبان میں بیان کرنا ممکن نہیں۔سماجی بیانیے میں کسی انفردی احساس یا دکھ کو منفرد نہیں سمجھا جاتا۔ سب کا ایک ہی میزانیہ ہوتا ہے۔ ا س میزانیے میں کسی بھی انفرادی دکھ یا اندوہ کو عامیانہ اور سرد پیرائے میں پیش کیا جاتا ہے۔ جب کسی فرد کے د کھ کو عامیانہ بنا دیا جاتا ہے تو خود وہ شخص اپنے دکھ کو عامیانہ اور ہلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس طرح انفرادیت جب انفرادی حدود سے ماورا معانی ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہے تو ایک عامیانہ سطح پرآجاتی ہے۔ شاید یہ بھی سماجی انتظام کا ایک عملی حل ہے۔

عورتوں پر ہونے والے تشدد اور جنسی حملوں کو یہ کہہ کرعامیانہ بنا دیا جاتا ہے کہ کم یا زیادہ ، ایسا سب کے ساتھ تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ ا ب زیادہ سوچیں گے تو گزارا کیسے ہوگا؟ زبان کے علاوہ انفرادی حدود سے ماوراایک پہلو قانون و انصاف سے متعلق ہے۔اگر ہرفرد اپنے اپنے دکھ کا اثر اور گہرائی اپنی حساسیت کے حساب سے کرے گا تو پھر قانون اور انصاف کا معیار بنانا ممکن نہ رہے گا۔ قانون بھی زبان کی طرح انفرادیت سے بالاتر ہوتا ہے۔ اسی لیے قانون کا کام اور ہدف انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ صرف جرم پر قانون کااطلاق اور اس سے متعلقہ کارروائی کرنا ہوتا ہے۔ انصاف محض نفسیاتی کھپاچ یا جھنجھنا ہی ہے۔

جبر کے بیانیے میں جو ’سچائی ‘ تخلیق کی جاتی ہے اس کی بنیاد ایک مخصوص علم پر ہوتی ہے۔ اس علم کے باوثوق ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جس حقیقی زندگی سے دوچار ہیں انھیں اس میں سے معانی تلاش کرنے میں مدد ملے۔ یہ کلی طور پر زندگی سے بے ربط ہوتا ہے۔ اس علم کاکوئی جواز بھی میسر نہیں ہوتا۔اس علم کی سچّائی کا انحصار اس کے پیچھے موجود کسی سچائی یا حقیقت سے نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ کوئی بھی علم کسی حقیقی کیفیت کو براہِ راست یا باالواسطہ اس حقیقت کے عکس کی نمائندگی کرتا ہے۔

جبر کے بیانیے کی اساس بننے والے ’علم‘ کا انحصار محض روایت پر ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ اس کو کون بیان کر رہا ہے۔ چونکہ جبر کے بیانیے میں کسی گروہ کا مفاد ہوتا ہے اس لیے یہ علم اس کی طاقت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک ’سچ ‘کے طور پر سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک عورت اپنی خواہشات کو فراموش کرکے یہ مان لیتی ہے کہ اس کی ذات کا جواز صرف یہ ہے کہ وہ دوسروں کی خدمت کر تی رہے۔ اس طرح وہ اپنی زیست کا حق ختم کر دیتی ہے۔ 

جبرکی روایت کا علم اسے کہتا ہے کہ وہ بڑی فرمانبردار ہے اور اس طرح وہ ایک پسندیدہ فرد بن گئی ہے۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ جبر کا بیانیہ اس کی انسان ہونے کے ناطے توقیر اور حقوق سے سراسر انکار کر رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ دھوکہ اور فریب کر رہا ہے۔ اس علم کی تخلیق اور اس کے تحفظ کے لیے مخصوص نظریاتی گروہ، مراعات یافتہ گروہ کے ساتھی ہوتے ہیں۔مثا ل کے طور پر عورت سے وابستہ علم سے فائدہ مردوں کو ملتا ہے اور وہ اپنی برتری منوا کر عورت کا استحصال کرتے ہیں۔ ایسے علم کی ایک نسل سے دوسری نسل تک ترسیل کے مرکزی ادارے گھر، سکول، تعلیمی نظام، میڈیا اور دیگر نظریاتی ادارے ہوتے ہیں۔ 

اسیری کے بیانیے میں لوگ اپنی زندگیاں بسر تو کر لیتے ہیں مگر ان کی زندگیوں میں حبس رہتا ہے۔جب انسانی دماغ میں تخیّل اور تخلیق کی موجود صلاحیت کو زندگی کے معاملات میں دخل اندازی سے روک دیا جاتا ہے تو وہ ماورائے زندگی کئی گوشے سنوارتے ہیں۔ زندگی کی سیاست ،جمالیات اور فنونِ لطیفہ میں جلوہ گرہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آج سے ایک صدی پہلے جب انگریزوں کے دور میں شہروں میں روزگار پیدا ہونے لگے تو دیہات سے شہروں میں ہجرت ہونے لگی۔ صدیوں سے ایک جگہ رہنے والے لوگوں کے لیے یہ تجربہ المناک واقعے سے کم نہ تھا۔ وہ اپنے دیہات یا برادری سے دوراپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے۔ اسی دور میں لوگ انگریزوں کی فوج میں بھرتی ہونے لگے۔ فوج میں بھرتی ہونے کا مطلب ساری زندگی پردیس میں گزارنا تھا۔

اس طر ح لوگوں نے اپنی زندگی میں اپنی مٹی یا جنم بھومی کو چھوڑنے کا تجربہ کیا۔ پردیسی ہونے کا تجربہ ایک دکھ کی صورت میں لوک گیتوں میں جھلکنے لگا۔مثلاََ، ’ تیری دو ٹکیاں دی نوکری ،تے میرا لاکھوں کا ساون جائے‘۔ اسی تناظر میں جبر کا تجربہ دراصل انسان کو اپنے آپ سے ملنے سے روکتا ہے۔ وہ اپنے اندر نہیں جھانک سکتا، اسے ہر وقت اپنے ظاہر اور خارج کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوتا ہے کیونکہ جبر کے بیانیے میں زندگی کے تمام معانی اسی ظاہر اور خارج کے ساتھ وابستہ رہتے ہیں۔یعنی، ہر فرد اپنے آپ سے بچھڑا رہتا ہے۔

اس نفسیاتی کیفیت کا اظہارادب میں ایک بے نام محبوب کی جستجو میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح اپنے آپ سے بچھڑنے کا غم ایک جمالیاتی گوشہ تراشتا ہے۔ اس گوشے میں خیالی دنیا بنائی جاتی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے خیالوں کی اس دنیا میں محبوب سے وصال اور اٹھکیلیوں کی باتیں کی جاتیں، مگر یہ جبر کے بیانیے کا عکس نہیں ہو سکتا تھا۔ جبر کے بیانیے میں اپنے آپ سے بچھڑنے کا دکھ اور اس کا تجربہ، محبوب کی کہانی بناتے وقت ہجر اور درد بن کر سامنے آتا ہے۔ جب دل میں پیار امڈ رہا ہو تو سارا جگ خوشبو سے لبریز ہو جاتا ہے۔ جب دل میں دکھ پل رہا ہو تو دکھ کی کہانیاں سکون دیتی ہیں۔ اس سے دل کا بوجھ کم ہوجاتا ہے۔ 

صرف ادب ہی نہیں ، جبر کے بیانیے کے زیرِاثر پیدا ہونے والی موسیقی میں بھی اداسی اور تڑپ آجاتی ہے۔ متبادل گوشے سنوارنے کا سلسلہ صرف جمالیات تک محدود نہیں رہتا۔ جس طرح اپنے آپ سے بچھڑنے کاغم متبادل رستے تلاش کرتا ہے اسی طرح زندگی میں جن محرومیوں سے واسطہ پڑتا ہے وہ مافوق البشردنیاؤں سے تلاش کرنے کی جستجو کی جاتی ہے۔ جب کسی تدبیر سے حالات کو اپنے حق میں تبدیل کرنا ممکن نہ رہے تو انسان جادو ٹونے کی وساطت سے حالات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

جب ظلم سہنے کے بعد انصاف نہ ملے اور اس کا کرب رگوں کوکچلنے لگے توایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ آدمی اپنی جان لے کر اس اندوہ سے آزاد ہو جائے۔ اگر زیست کی مجبوریاں ایسا کرنے سے بھی روک دیں تو انصاف تو کیا خود اپنی زندگی کو گمنام ماورائی گزرگاہوں پر چھوڑنا پڑتا ہے۔ قدیم دور میں لوگ ایسے دکھ کے باعث اچانک ایک دن اپنوں کو چھوڑ ہمیشہ کے لیے کہیں چلے جاتے تھے۔ یہ درست ہے کہ جبرکے بیانیے میں درگزر اور معافی کے رویوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ زندگی چلتی رہے۔

سچ یہ ہے کہ ظلم سہہ کر اسے درگزر کرنا یا ظالم کو معاف کرنا انسانی دماغ کبھی قبول نہیں کرتاکیونکہ انسانی جان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ دماغ کسی بھی ایذارساں محرک کو یاد رکھے اور اس جیسی صورتحال کے ذرا سے شائبے کی صورت میں بھی دماغ ایسے محرک کا شعوراجاگر کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس شخص نے آپ کو تکلیف دی ہو وہ کیا اس سے ملتا جلتا شخص بھی آپ کو برا لگتاہے ۔دکھ سہہ لیں ، آپ دکھ دینے والے کا کچھ نہ بگاڑ سکیں، آپ کے دماغ میں اس دکھ کا ڈنک ہمیشہ رہتا ہے۔ آپ اس سے چھٹکارے کے لیے کوئی اور متبادل تلاش کر لیتے ہیں مگر بھولتے نہیں۔ 

قسط اول

کیا آپ بیتی لکھنا ممکن ہے؟-1

قسط دوم

کیا آپ بیتی لکھنا ممکن ہے؟-2

قسط سوم

کیا آپ بیتی لکھنا ممکن ہے؟۔3

قسط چہارم

قسط پنجم

کیا آپ بیتی لکھنا ممکن ہے؟.5

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *