سندھ طاس معاہدہ کیوں ضروری تھا؟

آصف جاوید

تاریخ سے نا بَلَد لوگ اکثر الزام دیتے ہیں کہ پاکستان نے اپنے تین دریاؤں کا پانی انڈیا کو بیچ کر بہت بڑی غلطی کی۔ سندھ طاس معاہدہ کن حالات میں ہوا؟ کیوں ہوا؟ان عوامل کو سمجھنے اور جاننے والے لوگ تو اب مر کھپ چکے ہیں ، جو تاریخ کا ادراک رکھتے ہیں ، وہ گاہے بگاہے تاریخی ریکارڈ کو درست کرنے اور عوام تک درست معلومات پہنچانے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔

جب 1947 میں انڈیا تقسیم ہوا اور پاکستان آزاد ہوا، تو اس وقت صورتحال یہ تھی کہ ورثے میں ملے ہوئے آب پاشی کے چند بڑے بڑے نظاموں کے ہیڈورکس ہندوستان میں ہی رہ گئے تھے۔ مرکزی باری دو آب کی تمام نہریں اور وادی ستلج کے تمام پروجیکٹس، پانی کی سپلائی کے لئے ان کے ہیڈورکس، ان تمام دریاؤں کے محتاج تھے، جن پر ہندوستان کا قبضہ تھا۔ دریائے سُتلج، دریائے بیاس، دریائے راوی ، جن کا پانی ان نہروں میں آتا تھاان کے تمام منبع ہندوستان میں ہی رہ گئے تھے۔ اور ان میں بہنے والا پانی ، پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے ہندوستانی علاقے میں لمبےلمبے فاصلے طے کرتا تھا۔

تقسیم کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد انڈیا کو پاکستانی نہروں کے پانی کی سپلائی روکنے کی شرارت سوجھی تھی۔ اور انڈیا کے اس غیر ذمّہ دارانہ اقدام نے پاکستان کے لئے نازک صورتحال کھڑی کردی تھی۔ ہماری فصلوں کو پانی کی شدید ضرورت تھی، ورنہ فصلیں تباہ و برباد ہوجاتیں اور قحط کا سامنا کرنا پڑتا۔ پاکستان نے سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا، انڈیا کی چند شرائط کو قبول کرنا پڑا، ان شرائط کو قبول کئے بغیر ان نہروں کے آب پاشی نظام میں پانی کا بہاؤ نا ممکن تھا۔ اگر انڈیا کی شرائط نہ مانی جاتیں تو، ہمارے وسیع اور عریض زرعی رقبے تباہ و برباد ہوجاتے۔

یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رکھنی چاہئے کہ اُس وقت سندھ طاس کا آبپاشی نظام ، دریاؤں کے بہتےہوئے پانی پر قائم تھا۔ کسی بھی قسم کے جمع شدہ پانی کے ذخائر پر نہیں تھا۔ پانی کا بہاؤ موسم کی تبدیلیوں کا محتاج تھا، کیونکہ بہاؤ کا سارا دارومدار کوہِ ہمالیہ کے بالائی سلسلوں میں برفباری اور بارشوں کی مقدارپر قائم تھا۔

ہندوستان کی اوّلین خواہش یہ تھی کہ وہ کسی بھی طرح دریائے راوی، دریائے بیاس، اور دریائے ستلج کے پانی کے مکمّل کنٹرول اور دریائے چناب کے پانی کے جزوی کنٹرول کو اپنے لئے یقینی بنالے۔ چنانچہ ہندوستان نے ان دریاؤں پر انجینئرنگ کے بڑے پروجیکٹس شروع کردئے تھے۔ چونکہ ان تینوں دریاؤں کا پانی ہندوستانی علاقوں سے گذرتا تھا، لہذا کسی بھی وقت ان تینوں دریاؤں کے پانی سے پاکستان کو محروم کر دینا ، انڈیا کے لئے چنداں مشکل نہ تھا۔ پاکستان کو اُس وقت اپنے مستقبل کی پلاننگ کے منصوبوں میں اس خطرے کا پوری طرح ادراک تھا۔

سندھ طاس کے پانی پر انڈیا کے ساتھ ایک بڑی جنگ اور فیصلہ کن مرحلے کے قوی امکانات تھے۔ کشمیر کا مسئلہ تو بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ تھا، مگر دریاؤں اور نہروں کے پانی کا مسئلہ تو قطعی طور پر انسانی زندگی کی بقاء اور اقتصادی و معاشی اہمیت کا حامل مسئلہ تھا۔ اس مسئلے کو کسی بھی قیمت پر فی الفور حل کرنا پاکستان میں انسانی زندگی کی بقاء اور ملکی اقتصادیات کے لئے بہت ضروری تھا۔ زمیں کے ایک ٹکڑے کے لئے لڑی جانے والی جنگ سے زیادہ اہمیت انسانی زندگی اور ملکی معیشت کی بقاء تھی۔ یہ پاکستان کے چار کروڑ اور ہندوستان کے ایک کروڑ باشندوں کی بقاء کا مسئلہ تھا۔ دونوں ملکوں کی مجموعی آبادی کا دس فیصد حصّہ ان دریائوں کے پانی پر اپنی زندگی اور معیشت کا انحصار کرتا تھا۔

سنہ1955 اور 1956 میں اس مسئلے نے شدّت اختیار کرلی تھی۔ پاکستان کی پوزیشن فوجی اور اقتصادی اعتبار سے نہایت کمزور تھی۔ ستّر 70 فی صد معیشت کا دارومدار زراعت پر تھا، اور زراعت کا دارومدار سندھ طاس کے نظامِ آب پاشی پر قائم تھا۔ بڑی نازک صورتحال تھی۔ پاکستان بالکل ہی غیر محفوظ تھا۔ ان دریاؤں کے منبع جات بھی ہندوستان میں رہِ گئے تھے اور ان دریاؤں کو کنٹرول کرنے والے ہیڈورکس بھی ہندوستان میں ہی رہِ گئے تھے۔

ہندوستان نے ان دریاؤں پر ایسے انجینئرنگ پروجیکٹس شروع کررکھے تھے جو کسی بھی وقت ان دریاؤں کا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ہندوستان کی فوج طاقت اور سائز کے اعتبار سے پاکستان کی فوج سے تین گُنا بڑی، مضبوط اور طاقتور فوج تھی۔ جنرل ایّوب خان پاکستانی افواج کا سربراہ تھا، برٹش انڈیا فوج سے ورثے میں ملا تھا، وہ ہندوستانی فوج کی طاقت کو بخوبی سمجھتا تھا۔ وہ ایک زیرک انسان تھا، بخوبی سمجھتا تھا کہ اگر ہندوستان سے مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹ گیا ، بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہوا تو جنگ کرنا پڑے گی، جنرل ایّوب کو پاکستان کے غیر محفوظ اور کمزور ہونے کا پوری طرح احساس تھا۔

جیو پولیٹیکل حالات پاکستان کے حق میں بالکل نہ تھے۔ ہر بات پاکستان کے ہی خلاف پڑتی تھی۔ مصلحت اسی میں تھی کہ ہندوستان کے ساتھ کوئی باعزّت سمجھوتہ کرلیا جائے، خواہ اس میں پاکستان کو کچھ خسارہ ہی کیوں نہ اٹھا نا پڑے ، لہذا سندھ طاس پر مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ایک باعزّت معاہدہ کرنے میں ہی پاکستان کی بقاء تھی۔ اگر اس وقت کی قیادت نے سندھ طاس معاہدہ کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر باعزّت طور پر حل نہ کیا ہوتا ، تو جنگ نا گُزیر تھی۔ اور اگر اس وقت پانی کے لئے جنگ کرنا پڑتی تو آج شاید پاکستان کا وجود بھی نہ ہوتا۔ کشمیر کے لئے چار جنگیں لڑیں، نتائج سب کے سامنے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *