اِنتہا پسندی کی زَنجیریں اُور جشنِ آزادی

یوسف صدیقی

آج پاکستان رَجعت پسندی ،قدامت پسندی اُور دہشت گردی دَلدل میں پھنسا ہوا ہے ۔جناح ؒ کا پاکستان ’’ملائیت‘‘ کی انتہا پسندی کی زنجیروں میں جکڑا جاچکا ہے ۔ایسے حالات میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے پاکستان کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے پریشان حال ہر پاکستانی شہری ریاست سے یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا قائد اعظم ؒ نے تقسیم کے وقت موجودہ سماج کی تشکیل و ترتیب کا ’’رجعتی خواب‘‘ دیکھا تھا یا سیکولر اور رُوشن خیال پاکستان بنانے کے خواب دیکھا تھا ؟۔یہ بات روزِ رُوشن کی طرح واضح ہے کہ قائد اعظم ؒ نے لوگوں کو رَنگ ،نسل اُور مذہب کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنانے کے لیے پاکستان نہیں بنایا تھا ۔جناح نے پاکستان کی ریاست کو مذہب سے علیحدہ کر نے کے لیے اپنی11اگست کی تقریر میں فرمایا تھا ۔

’’ ہند کی تقسیم کے بعد کسی ایک مملکت یا دوسری مملکت میں اِقلیتوں کا وجود ناگزیر ہے ۔آپ میں سے ہر شخص خواہ وہ اِس ملک کا پہلا شہری ہے یا دُوسرا یا آخری ،سب کے حقوق و مراعات اُور فرائض مساوی ہیں۔قطع نظر اِس سے کہ کس کا کس فرقے سے تعلق ہے ۔اُور ماضی میں اِس کے آپ کے ساتھ کس قسم کے تعلقات تھے ۔اُور اِس کا رنگ و نسل یا عقیدہ کیا ہے !۔ آپ کس قدر ترقی کریں گے اِس کی کوئی اِنتہا نہ ہو گی ۔اِس مملکتِ پاکستان میں آپ آزاد ہیں ۔اَپنے مندروں میں جائیں ،اَپنی مساجد میں جائیں یا کسی اُور عبادت گاہ میں۔آپ کا کسی مذہب ،ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو کاروبارِ مملکت کا اِس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ کو تاریخ کے حوالے سے علم ہو گا کہ اِنگلستان میں کچھ عر صہ قبل حالات اِس سے بھی اَبتر تھے، جیسے آج ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔رُومن کیتھولک اُور پرو ٹسٹنٹ نے ایک دوسرے پر ظلم ڈھائے ۔آج بھی اَیسے ملک موجود ہیں ،جہاں ایک مخصوص فرقے کے ساتھ اِمتیاز برتا جاتا ہے ۔اُور اِن پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم اَ یسے حالات اُور اَیسے زَمانے میں سفر کا آغاز کر رہے ہیں،جب اِس طرح کی تفریق روا رَکھی نہیں جاتی۔مختلف ذَاتوں اُور عقائد میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی ۔ہم اِس بنیادی اُصول کے ساتھ اِبتدا کر رَہے ہیں کہ ہم ایک مملکت کے یکساں شہری ہیں۔‘‘ ۔

بانی پاکستان کے بعدمسلم لیگ کی رجعت پسند قیادت رجعتی قانون سازی کر تی رہی۔ لیاقت علی خان نے قراردا دِ مقاصد کے نام پرِ اِقلیتوں اُور سماج کی کمزور اِکائیوں کو عضوِ معطل بنا کر رکھ دیا ۔اَگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں رجعتی بالادستی کا پہلا قدم قراردادِ مقاصد کی پارلیمنٹ میں منظورہونا تھا ۔لیاقت علی خان کی متعارف کردہ یہ قرارد اد اور ان کے ترجمان الحاج سر ظفراللہ کی طرف سے بھرپور تائید پاکستان کی تاریخ کا شرمناک باب ہے۔

مولانا مودودی کی کتب ’’مسئلہ قومیت‘‘ اور ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘‘ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ امر واضح ہوتا ہیکہ مودودی صاحب پاکستان کے قیام کے شدید مخالف تھے ، اور وہ اس شرط پر مملکتِ پاکستان کے قیام کے حامی تھے کہ نئے ملک میں اُسے ’’خلیفہ ‘‘ یا ’’امیرالمومنین‘‘ بنایا جائے ۔مولانا مودودی نے اپنی اس خواہش کا اظہار ڈھکے چھپے الفاظ میں ’’ خلافت و ملوکیت ‘‘ نامی کتاب میں بھی کیا کہ ’’ صالح عناصرکی قیادت ایک ایسا شخص ہی کر سکتا ہے جو اسلامی قوانین کا ماہر ہو، اُور یہ شخص اپنی پوری حیات میں مسلمانو ں کا ’’خلیفہ ‘‘ ہوتا ہے ۔اِس کی اطاعت کر نا ہر مسلمان پر فرض ہے۔اِس کو معزول کر نے کے جدوجہد کر نا ’خروج‘ کے دائرہ کار میں آتا ہے ‘‘۔پاکستان میں تو ہر مسلم فرقہ خلافت کاعلم اٹھائے کھڑا ہے ۔

جب قرار دادِ مقاصد اسمبلی سے منظور ہو گئی تو ملاؤں میں مزید جدوجہد کا داعیہ پیدا ہو گیا ۔ ملاؤں نے پاکستان کو رجعت پسندی کی زنجیروں میں جکڑنے کے لیے ’’تحریک ختم نبوت‘‘ چلانے کا اعلان کیا ۔پورے ملک میں مناظروں،مجادلوں اُور مباہلوں کا انعقاد کیا ۔مولویوں نے خوب تقاریر کیں۔ملک میں تشددکی آگ بھڑکانے کے لیے اپنے حصے کا کام سر انجام دیا ۔ہر ’’مسلمان ‘‘ کو اس لڑائی میں شمولیت کی دعوت دی جانے لگی ۔تحریک ختم نبوت اُور تحریک نفاذِ نظام مصطفی کے اثرات کی وجہ سے پاکستان کی ریاست نے اِقلیتوں پر وہ ظلم کیے جن کا تصور کر نے سے بڑے بڑے لوگوں کا سر شرمندگی سے جھک جاتا ہے ۔یہ رجعتی ڈرامے قسط دَر قسط چلتے رہے ۔ ریاست بھی ملاؤں کے سامنے ’’بھیگی بلی ‘‘ بنی رہی اور لوگوں کو ’’غیر مسلم ‘‘ قرار د یتی رہی ۔

احمدیوں کو ’’غیر مسلم‘‘ قرار دِینے سے ملاؤں کی تحریک ختم نہیں ہوئی، بلکہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی وجہ سے ملاؤں کو عقیدے کی بالادستی کی جنگ لڑنے کے لیے مزید دلائل ملے ۔جب 80ء کی دہائی میں ایران کے حکومتی ایوانوں میں پگڑی باندھ کر ایک ملاں اُبھر کر سامنے آیا تو پاکستا ن کے اندر اہل تشیع کے اِس ملاں کے ساتھ رابطے دیکھ کر ہمارے قومی سلامتی کے ذمہ دار ’’خفیہ والے ‘‘ پریشان ہو گئے کہ اُور انہیں اِس غلط فہمی نے پریشان کر دیا کہ یہ نہ ہو کہ پاکستان کی شیعہ کمیونٹی بھی ایرانی طرز کا ’’ اسلامی انقلاب ‘‘ برپا کر دے۔ ہمارے قومی سلامتی والوں نے اِس مشکل گھڑی میں ’’ملاؤں ‘‘ کے ساتھ رابطہ کیا ۔ملاؤں نے رِیاستی بالادستی کی جنگ کو رجعتی بالادستی کی جنگ میں تبدیل کر تے ہوئے ’’شیعہ ‘‘ کو کافر قرار دینے کا فیصلہ کیا ۔

اِس رَجعتی جنگ کا سر خیل دیوبندی ملاں حق نواز جھنگوی تھا ۔ حق نواز جھنگوی نے ایک تنظیم ’’ سپاہ صحابہ ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔پاکستانی ریاست نے ایک پالیسی کے تحت اس تنظیم کو ’’بڑھاوا‘‘ دیا ۔دیکھتے دیکھتے یہ تنظیم سعودی عرب اور پاکستان کی ریاستوں کے تعاون سے پاکستانی پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ۔سپاہ صحابہ کے کارکنوں نے جی بھر کر شیعہ کا خون بہایا ۔ان دنِوں ’’شیعہ اور سُنی‘‘ جنگ پاکستان میں لڑی جا رہی تھی۔اچانک حق نواز قتل ہو گیا ۔حق نواز جھنگوی کے قتل ہو جانے کے بعد اس تنظیم کی قیادت مختلف اُوقات میں اعظم طارق ،اِیثار قاسمی اُور علی شیر حیدری کے ہاتھوں میں رہی ۔آ ج کل یہ تنظیم محمد احمد لدھیانوی کی سربراہی میں تشددکی ’’آگ ‘‘ بھڑکا رہی ہے ۔ تاہم اَب رِیاست اِعلانیہ اُور فخریہ اِس جماعت کی حمایت سے گریز کر رہی، بلکہ ایک پالیسی کے تحت خفیہ بنیادوں پر اِس تنظیم کی مالی اُور عسکری امدار جاری ہے ۔

دُوسری طرف وہابی ملاں اِس آگ و خون کے کھیل میں کہاں پیچھے رہنے والے تھے!!! ۔وہابی ملاؤں نے 80ء کی دہائی میں حافظ سعید کے ’’سسرِمحترم‘‘عبد اللہ بہاولپوری کی قیادت میں اپنے علم الکلام کے پٹاخے چلاکر پاکستان کو ’’برباد‘‘ کرنا شروع کر دیا ۔پروفیسرعبد اللہ بہاولپوری نے پہلے بہاولپور میں ’’ آگ ‘‘ بھڑکائی: جب وہاں پر لوگوں نے اس کو بری طرح دُھتکار دیا ،تو یہ آدمی مظفر گڑھ میں اپنے نظریات پھیلنے لگا ،جدیدیت کو قدامت میں بدلنے کے لیے آج بھی اُس کی لگائی گئی آگ پوری آب و تاب سے بھڑک رہی ہے ۔ اور پھر ایک اور وہابی مولوی احسان الٰہی ظہیر نے پاکستان میں اپنے مخالفین کو کافر قرار دے کر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ 

احسان الہٰی ظہیر کی جوشیلی تقریروں اور مناظروں نے وطن عزیز میں فضاکو’’معرکہ حق و باطل‘‘ کے نظریات سے آلودہ کر دیا ۔آخرکار یہ مولوی بھی لاہور میں ایک بم دھماکے کا شکار ہو گیا ۔اس مولوی نے اپنی ’’ اولا صالحہ ‘‘ کی شکل میں اپنے اِثاثے چھوڑے۔یہ اِثاثے آج بھی (اِبتسام الٰہی ظہیر اُور فضل الٰہی ظہیر کی شکل میں) رُوزانہ ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر اَپنی دُنیا اُور دُوسروں کی آخرت سنوارنے کے لیے زبانی ’’ جمع خرچ‘‘کرتے نظر آتے ہیں۔اِس رجعتی معرکہ ’’خیرو شر ‘‘ میں بریلوی ملاؤں نے بھی سلیم قادری، الیاس قادری ،احمد نورانی اور طاہر قادری کی قیادت میں اپنا حصہ ڈالا ۔

سلیم قادری نے سنی تحریک کی بنیادَ رکھی اُور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اپنی جدوجہد شروع کر دی ۔اِس جہاد میں خود سلیم قادری بھی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ آج کل ثروت اعجاز قادری اِس جماعت کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں۔اپنے مخالفوں کو ’’ کافر ‘‘ قرار دے کر ان کا قتل کر نا: اُور رجعتی لکیروں کے فقیر بن کر قدامت پرستی کا پُرچار اس جماعت کی دعوت ہے ۔الیاس قادری نے اپنے مرشد اعلیٰ حضرت احمد رضاخان بریلوی کی کتاب ’’ بہارِ شریعت‘‘ کی طرز پر ایک کتاب ’’فیضانِ سنت‘‘ لکھ کر پاکستان کے مستقبل کو روشن خیالی سے بچانے کے لیے جہاد شروع کیا ۔جہادی مصنوعات کی طرح ٹوپیوں اور مسواکوں کے اس تصورِ طریقت نے بھی اپنی جگہ سماج کی پسماندہ پرتوں کو متاثر کیا ۔

احمد نوارانی کا پس منظر قدیم تھا ۔اس شخص کی قدامت پرستی کے وارث اس کا بیٹا انس نورانی ،ڈاکٹر فریدہ احمد اور قاری زاور یہادر ہیں ۔نورانی گروپ نے بھی پاکستان کو ’’اسلامیانے ‘‘ کے عمل میں سے گزارنے کے لیے اپنا حصہ ڈالا ۔اس طرح ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا پس منظر بھی ایک قدامت پسند ملاں جیسا ہے جو خود کو قابل قبول بنانے کے لیے اپنے آپ پر ’’جدیددیت‘‘ کا لیبل لگا رہا ہے ۔طاہر قادری کے روشن خیالی اپنے آپ کو سماج میں قابل قبول بنانے کی ’’شاطرانہ چال ‘‘ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان قدامت پرستوں کی رجعتی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ۔اُور پھرآ ج کل پاکستان کی سڑکوں پر رجعت پسندی اور قدامت پسندی کی بالاتری کی جنگ بڑی شدت سے لڑی جا رہی ہے ۔ وطن عزیز میں ہر طرف خون خرابا جاری ہے ،مذہب کے نام پر معصوم لوگوں کا قتلِ عام کیا جارہا ہے ۔احمدیوں کو چونکہ کافر قرار دے دیا گیا تھا لہذا وہ بھی پاکستان میں خلافت قائم نہ کر سکے۔

قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہماری حکومت اور ریاست کے پاس اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ سماجی برائیوں کو ختم کر سکیں ۔ہر طرف چور بازاری قائم ہے ۔سرِ عام قوم کی ماؤں ،بہنوں کی عزتیں لٹتی ہیں۔سیاست دانوں کی اُقربا پروری نے ملک کو تباہی کے دَہانے پر پہنچا دیا ہے ۔قوم کے خون پسینے سے کمائے ہوئے پیسے ٹیکس کی شکل میں حکومت کے پاس پہنچتے ہیں ۔اور ہمارے حکمران وہ سرمایہ اپنے رشتے داروں ،مولویوں،سرمایہ داروں،اخباری کالم نگاروں اُور سماج کے بااثر پرتوں کوتقسیم کر کے اپنے عوام دشمن اقدامات ’’ جائز ‘‘ کروا لیتے ہیں۔اس سارے کھیل کا نتیجہ مہنگائی کے اَژدھا کی شکل میں قوم کو ڈسنے لگتا ہے ۔اس وقت پاکستان میں کئی لو گ تین وقت کا کھانا کھانے کے بجائے ایک وقت کا کھانا کھا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔

ان تمام حالات کی وجہ سے بے روزگاری کا طوفان آ رہا ہے۔لوگوں کو روز گا ر میسر نہیں ہے ۔لوگ’’ کالی معیشت‘‘ مثلاََ چوری چکاری ،قتل و غارت ،سمگلنگ اور بردہ فروشی وغیرہ میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ بے روزگاری کی وجہ سے سماج میں ثقافت اور ادب مٹتا جا رہا ہے ۔پاکستان کے سماج کے لیے ادبی سرگرمیوں کے لیے کوئی دل کشی باقی نہیں رہی ہے ۔عوام ہر چیز پر ٹیکس دیتے ہیں ۔جبکہ اشرافیہ ٹیکس دینے کے بجائے اُلٹا لوگوں کا پیسہ چوری کر رہا ہے ۔زرخیز زمینوں پر قبضہ کر کے شہروں کے شہر آباد کیے جا رہے ہیں ۔’’تار کول ‘‘سے بنی ہوئی سڑکوں کی گرمائش کی وجہ سے انسانی رویوں میں سرد مہری آ رہی ہے ۔دیہات جو تہذیب تمدن کے ساتھ ساتھ فطرت کی بھی حسین تصویر پیش کر تے تھے ،اِن دیہاتوں کی زندگی کو گھامڑ پن سے تشبیہ دے کر لوگوں کو نفسیاتی طور ’’مریض‘‘بنادیا گیا ہے ۔

پاکستان کو قائم ہوئے 70سال کا عرصہ ہونے کو آیا ہے ۔کیا ہم واقعی ہی آزاد ہیں؟؟؟؟۔یہ وہ سوال جس کا جواب نہ حکمرانوں کے پا س ہے ،اور نہ ہی ملاؤں کے پاس ہے ۔ملاؤں ،جرنیلوں،ججوں ،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی دولت اور جائیداد میں روز بروز اضافعہ ہو تا جا رہا ہے ۔غریب اور سماج کی پسماندہ پرتیں غربت مہنگاہی اور بے روز گاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔پاکستان میں نہ اعلیٰ میعار کی تعلیم ہے ،اور نہ ہی صحت کی اچھی سہولیات میسر ہیں ۔آج بھی ہمارے ملک کے بہت سے حصوں میں بچوں کے لیے اسکول نہیں ہیں ۔یونی ورسٹی کی تعلیم بہت مہنگی ہے ۔اور ہائی اسکولز میں پیشہ ورانہ رہنمائی نہ ہو نے کی وجہ سے بہت سے طلبہ خود کو جدید دنیاکے تقاضاؤں سے ہم آہنگ نہیں کر پاتے ۔لوگوں میں شعور کی پستی کی وجہ سے ’’سانحہ احمد پور شرقیہ‘‘ جیسے واقعات روز پیش آ رہے ہیں ۔

صحت کی سہولیات کا یہ حال ہے کہ بہاولپور جیسے ڈویژن میں ’’برن یونٹ‘‘ ہی نہیں ہے ۔پورے ڈویژن بہاولپور میں صرف ایک ہسپتال ہے ۔ہر تحصیل میں ہسپتال نامی ادارے میں سہولیات تو بہت دور کی بات ڈاکٹر ہی ناپید ہیں۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ اس مملکتِ پاکستان میں سب باشندوں کو جینے کا حق ملنا چاہیے ۔ہر کمیونٹی کے لوگوں کو ان کا’’ حق‘‘ دیا جائے ۔لوگوں کے حقوق غضب کر نے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے ۔اِس وقت پاکستان کا منظر نامہ انتہا بھیانگ ہے ۔رجعت پسندی نے اس منظر نامے کو مزید وحشی بنا دیا ہے ۔یہ عہد ہم سب کے لیے انتہائی کھٹن ہے ۔ پاکستان کے عوام کو خلافت نہیں جمہوریت چاہیے ۔ہم سب کو اس سارے رجعتی ماحول سے ایک سیکولر اور لبرل پارٹی ہی نجات دِلا سکتی ہے ۔

3 Comments

  1. Faheem Aamer says:

    Great article. Exhaustive research. Stay blessed.

  2. سر۔ پاکستان میں کون سی پارٹی سیکولر ہے؟۔ اگلے سال الیکشن میں کوئی سیکولر پارٹی حصہ لے رہی ہے؟۔براہ کرم اس بارہ میں رہنمائی یا مشورہ عطا فرمائیں۔ تا کہ اسے ووٹ دیں۔ متبادل پارٹی یا امیدواروں کے نام بتا دیں توبات مکمل ہو جائے گی۔ورنہ تو وہی بات ہے کہ زمین میں آلودگی بہت ہی زیادہ ہے،چاند پہ کوئی نہیں۔ لیکن چاند پہ جائیں کیسے اور کون لے کے جا رہا ہے؟۔ہم خود زمین کی آلودگی سے تنگ آچکے ہیں۔۔ہر بار مذہبی غنڈوں اور دہشتگردوں کے ناموں کی فہرست دا جمات پاس حوالدار کی طرح سنا دینا کوئی سیکولرسکالروالا کام نہیں۔

  3. یوسف صدیقی says:

    کوئی بھی سیاسی جماعت مکمل طور پر شاید ہی سیکولر ہو۔ سیکولر ازم کا مطلب ہے مذہب کو سیاست سے علیحدہ کرنا اور یہ کام بٹن دبانے سے نہیں ہونے والا۔ مگر ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ کونسی جماعت بتدریج آئین میں شامل مذہبی بنیادوں پر کی گئی قانون سازی کو ختم کر تی ہے۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری عمل مسلسل چلے۔ جمہوری عمل ہی ایسا عمل ہے جس سے سماج ترقی پسندی کی طرف جاتا ہے ۔جب تک پاکستانیوں (خاص کر سچے مسلمانوں ) کے ذہنوں میں خلافت کا خناس موجود رہے گا جمہوریت کا چلنا مشکل ہے۔

    سیکولرازم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی فوجی ایسٹیبلشمنٹ ہے۔ پیپلز پارٹی کے پچھلے دور میں اس جماعت نے کوشش کی تھی کہ ضیا دور کی قانونی سازی ختم کی جائے مگر دوسری تمام جماعتوں نے مخالفت کی۔اگر نواز شریف میثاق جمہوریت پر عمل کر لیتا تو حالات میں کسی حد تک بہتری کی طرف جاتے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ فوجی ایسٹیبشلمنٹ کے پاس طاقت ہے جو مسلسل جمہوریت کے خلاف سیاسی جماعتوں کو کمزور کرتے رہتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود میرا یقین ہے کہ اگر جمہوری عمل مسلسل چلے تو ایسٹیبشلمنٹ کا زور بھی ٹوٹے گااور عوام کے حق میں قانون سازی ہوگی۔

    میری کوشش ہوتی ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کو زیر بحث لاؤں ۔مین سٹریم میڈیا پر جو حقائق پیش کیے جارہے ہیں اس کی تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی کوشش کرتا ہوں۔اگر آپ کے خیال میں یہ عمل دہ جماعت پاس حوالدر والا کام ہے تو براہ مہربانی اسے نہ پڑھا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *