ہمارا جذام زدہ اورکوڑی معاشرہ

ارشدنذیر

کل کے ڈان میں یہ خبر چھپی ہے کہ ٹنڈوآدم میں ذہنی طورپر معذور شخص کو توہینِ رسالت کے الزام کی وجہ سے دو افراد نے قتل کردیا۔

رپورٹ کے مطابق اس شخص پر توہینِ رسالت کا الزام تھا۔ اس پر الزام تھا کہ یہ شخص خود کو پیغمبر کہتا تھا۔ 15 روز قبل عدالت نے اُس کو ذہنی مریض ثابت ہونے کی بنا پر بری کردیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم ایسی صورت میں بھی ہمارا یہ پیارا پیارا اور آفاقی سچائیوں والا مذہب کیا حکم دیتا ہے۔

البتہ میں یہاں کے مذہب فروشوں کی اس حوالے سے حرکات جانتا ہوں اور دین کے حوالے سے اپنی سیاست چمکانے اور ریاست کی طرف سے انہیں دی گئی کھلی چھوٹ کے بارے میں بھی اچھی طرح سے واقف ہوں۔ ہمارے ہاں ایسے دین فروش ملاؤںکی کوئی کمی نہیں ہے جو آج بھی ایسے قاتلوں کو تو جنت کا ٹکٹ دیتے پھرتے ہیں۔ لوگوں کی مذہبی جذباتیت کو برانگیخت کرتے ہیں، لیکن رتھ فاؤ جیسے مسیحاؤں کو اپنے مذہبی تعصبات کی وجہ سے اپنی نفرتوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

بھلے ایسے مسیحاؤں نے ہمارے ہی معاشرے کے نیم مردہ جزام زدہ، کوڑی مسلمانوں کا علاج کرکے انہیں نئی زندگی دی، کے لئے دعا مغفرت اور اُسے جنتی ماننے تک کے فعل کے قائل نہیں ہیں۔ رتھ نے ان سے ان کا مذہب چھینا اور نہ ہی ان سے ان کا کلمہ چھینا، اب وہ جتنی عمر زندہ رہیں گے، کلمہ ہی پڑھتے رہیں گے۔ اس کلمے کا ثواب اُسے ملے گا یا نہیں، اس کے بارے میں بھی فتویٰ انہیں نام نہاد علماسے پوچھیئے۔

اس کے برعکس بھی ان مذہب فروشوں کی منطق پر ذرا غور فرمائیے۔ کہتے ہیں کہ ایک حافظِ قرآن جب اپنے سینے میں قرآن محفوظ کرلیتا ہے تو وہ روزِ محشر اپنی سات پشتوں کو بخشوا لے گا۔ کچھ تو بخشش کے اس عمل میں بغیرحساب کتاب بخشش کی دلیل اور فتوے بھی جاری کرتے رہتے ہیں۔ بعینہ جب کوئی مسلمان ایک مشرک کو کلمہ گوبنالے، تواُس کے لئے بھی جنت میں اعلٰی مقام اور بلند درجوں اور مراتب کی بشارتیں ہیں۔

ہمارے ملک میں تبلیغی اپنے ہی مسلمان جن کے بارے میں اُن کا اپنا یہ خیال ہے کہ یہ جہالت کی وجہ سے درست کلمہ نہیں پڑھ سکتے، کو تبلیغ کرکے بھی پوری کی پوری جنتِ فردوس کے حقدار بنے پھرتےہیں۔ لیکن جب ان سے یہ پوچھ لیا جائے کہ محترم علامہ صاحب اگر ایسے کسی کوڑی اور جزام زدہ مریض جس کا کلمہ درست نہیں تھا کا علاج اس ڈاکٹر کیا اور اس علاج کے عوض اسے نئی زندگی عطا ہوئی اور بعد ازاں آپ نے جا کر اُس کو درست کلمہ پڑھایا تو کیا پھر بھی یہ ڈاکٹر جہنم رسید ہوگی۔ تو بھی آپ کو سادہ سا جواب یہی ملے گا کہ وہ تو جہنمی ہے۔ جنت میں تو صرف مسلمان ہی جائیں گے؟

ہمارے یہ مفتیاں عظام اور علامہ اس بات پر بضد ہی رہیں گے کہ ایسے تمام لوگ دنیا دار ہیں، یہ مشرک ہیں۔ ان کا ایمان ٹھیک نہیں ہے اس لئے جنت تو ان کے لئے ہو ہی نہیں سکتی۔ ذرا سوچیئے کہ ہمارا معاشرہ ذہنی جزام کا شکار ہے یا صرف ہم ہی سچے ہیں۔ اس دنیا کا حقیقی مذہب صرف ہمارے پاس ہی ہے باقی سارے کے سارے فاسق و فاجر ہیں۔ ذرا سوچ کر جواب دیجیئے۔ خبر کا لنک ذیل میں درج ہے۔

https://www.dawn.com/news/1350975

3 Comments

  1. Yar ye muslims pata nahe kia ches hain.ye kabhe bhe normal insan nahe ban sakte. Pore history yehe kehte he. IN Muslims ko chor do .

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    جزام یا کوڑھ کا علاج اینٹی بیاٹکس کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔اگر علاج تاخیر سے شروع کیا جائے توجو دائمی نقصان اعصاب کو پہنچ چکا ہوتا ہے اس کی تلافی ناممکن ہو جاتی ہے(مریض مستقلاً بے حس ہو جاتا ہے) لیکن پھر بھی کوشش یہی کی جاتی ہے کہ مزید نقصان نہ ہو اس لئے اینٹی بیاٹک استعمال کراوئے جاتے ہیں۔اسی طرح چونکہ یہ بیماری ایک سے دوسرے کو لگتی ہے ،تو مریض کے اہل خانہ اور دیگر میل جول رکھنے والوں کو بھی جراثیم کش ادویات حفظ ماتقدم کے طور پر استعمال کروائی جاتی ہیں۔گویا پورے گھر سے جزام (لیپرسی) کے ان جراثیم کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔
    پاکستانی معااشرے کے جس ذہنی کوڑھ اورمعاشرتی جزام کی آپ نے نشاندہی کی ہے۔اس کے جراثیم کا منبع اس ملک کا ترامیم شدہ آئین ہے۔پہلے اسے اینٹی بیاٹک دے کر جراثیم سے پاک کرنا پڑے گا اور پھر ساتھ ہی سارے متاثرہ معاشرہ کو۔ مسئلہ یہ ہے کہ آئین کو جب بھی اینٹی بیاٹک دی جائے وہ بیمار گدھے کی طرح سلوتری سے پہلے دوا والے بانس میں پھونک مار دیتا ہے اور اینٹی بیاٹک گدھے کے منہ میں جانے کی بجائے الٹا سلوتری کے منہ میں پہنچ جاتی ہے۔جو اس کے سائڈ ایفکٹ کی تاب نہ لا کر علاج کی مزیدجرات کرنے سے توبہ کر لیتا ہے۔لہٰذہ اس قسم کے کوڑھ کا فی الحال کوئی علاج ممکن نہیں۔لیکن قدرت اپنا انتقام تو بہرحال لے ہی لیتی ہے۔یہ جو حال ہی میں آئل ٹینکر کا جو واقعہ ہوا تھا،اسی علاقہ کے لوگوں نے کچھ عرصہ قبل اسی طرح ایک فاتر العقل شخص کو توہین قرآن کے جرم میں پٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا تھا۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح اس علاقہ کے لوگ پھر خود جلتے پٹرول کی زد میں آکر جل مرے تھے وہ مکافات عمل ہی تھا۔ (لَها ما كَسَبَت وَعَلَيها مَا اكتَسَبَت)۔ہر وہ تہذیب جس میں ظلم وبربریت کی انتہا ہو جائے بالاخر خود اپنے ہی خنجر سے خودکشی کر لیتی ہے۔کہتے ہیں کہ جب ہلاکوخان بغداد پر قہر خداوندی بن کر ٹوٹا تھا اس وقت وہاں ان بحثوں میں ایک دوسرے کاخون بہایا جارہا تھا کہ کوا حلال ہے یا حرام۔محترم اثر چوہان صاحب نے اپنے ایک کالم میں ہلاکوخان کے حوالہ سے ذکر کیا تھا کہ اگر اس کی روح یہیں کہیں بھٹکتی پھر رہی ہو تو اسے چاہئے کہ فوراً کسی کے جسم میں حلول کر جائے۔شاید ٹھیک ہی کہا ہو،غالباً آج کا ہمارا ماحول ایک عدد ہلاکو خان کی آمد کاہی بزبان حال تقاضا کر رہا ہے۔کیونکہ پاکستانی قانون کے مطابق اب کوئی مجدد،مصلح یا ریفارمرتو آنے سے رہا۔

  3. I was always told that Islam is a religion of peace and its followers, Muslims are peaceful and tolerant people.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *