جوتے چمکانے والا لڑکا اور ڈھیلے کیریکٹر والے لیڈر

بیرسٹر حمید باشانی

کسی بھی سماج میں تبدیلی کا سہرا ہمیشہ حکمران طبقات کے سر سجتاہے۔ یا پھر اس کا کریڈٹ لیڈر لے لیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر تبدیلی کا حقیقی انجن عوام ہوتے ہیں۔ عام لوگ جب مختلف واقعات پر رد عمل دیتے ہیں، بولتے ہیں، حرکت میں آتے ہیں تو چیزیں بدلنا شروع ہوتی ہیں۔ انقلاب آتے ہیں۔ بدی کی جگہ نیکی آتی ہے۔ ظلم کی جگہ انصاف لیتا ہے۔ یہ ایک سست رفتار اور صبر آزماسلسلہ عمل ہوتا ہے۔ مگر یہ سلسلہ شروع تب ہوتا ہے جب ہر شخص اپنے حصے کا ردعمل دکھاتا ہے۔ لوگ خاموش رہنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے میں کوئی چھوٹا سا واقعہ، کسی بڑی تبدیلی، کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

میں آج صبح گاڑی میں ٹورانٹو کا ایک لوکل ریڈیو سن رہا تھا۔ نیوز کاسٹر آج سے چالیس برس قبل ہونے والے ایک واقعے کے بارے میں بات کر رہی تھی۔ اس واقعے نے اس شہر کی لینڈسکیپ بدل کر رکھ دی تھی۔ تب اس شہرکا ایک علاقہ شہر گناہ کے نام سے مشہور تھا ۔ یہاں پر غیر قانونی اور بلا اجازت درجنوں بالغوں کے تفریح کے کلب، ننگی رقص گائیں، لائیو سیکس کے کلب ، فحش کتب خانے اور بالغوں کے وڈیو سٹور تھے۔

ینگ سٹریٹ کا یہ علاقہ اپنی سوغات اور خدمات کی وجہ سے شمالی امریکہ کا مرکز اور اپنی نوعیت کا واحد علاقہ تھا۔ دنیا بھر سے شوقین لوگ یہاں آتے تھے۔ یہاں کی شامیں دنیا کی رنگین ترین شامیں مانی جاتیں تھی۔ شام ڈھلتے ہی ینگ سٹریٹ کے اس علاقے میں ایک ہجوم امنڈ آتا تھا۔ اس ہجوم میں ہر طرح لوگ ہوتے۔ اس میں دنیا بھر کے نو دولتیے ہوتے ۔ہالی ووڈ کے اداکار ہوتے۔گلوکار اور براڈکاسٹر ہوتے۔ شمالی امریکہ کے کئی لاکھ پتی اور تاجر ہوتے۔۔ ۔ اس ہجوم میں قاتل ، چور، ڈاکو، بلادکاراور دوسرے جرائم پیشہ لوگ بھی ہوتے۔

ٹورانٹو شہر میں تب بھی قانون کی حکمرانی تھی، مگر اتنی سخت نہیں جتنی اب ہے۔ قانون یہ تھا کہ شہر میں اس طرح کے بارز اور کلب چلانے کے لیے لائسنس درکار ہے۔ لیکن اگر کوئی بغیر لائسنس کے ایسا کچھ چلاتا ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ پانچ سو ڈالر جرمانہ ہو سکتا تھا۔یہ پانچ سو ڈالر دوسرے الفاظ میں لائسنس ہی سمجھا جاتا تھا۔اس طرح اس بظاہر چمکتی دمکتی دنیا کے اندر ایک تاریک دنیا آباد تھی۔اس دنیا میں رات کی تاریکی میں انسانی خرید و فروخت سے لیکر چائلڈ لیبر اور جنسی تشدد جیسے جرائم ہوتے تھے۔ 

شہر کی پولیس جانتی تھی کہ ان کلبوں میں کام کرنے والی اکثر لڑکیاں انسانی سمگلنگ اور زور زبردستی کا شکار ہیں، مگر وہ ان سے چشم پوشی کرتے۔ شہر کے انسانی حقوق کے کارکن اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر سوچنے والے انسانی جسم کے کاروبار اور جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے مگر کوئی ان کی سنتا نہ تھا۔ شہر کے کئی بڑے اور بد کردارسیاست کار ان کلبوں کے مستقل گاہگ تھے۔ پولیس یہاں سے گزرتے ہوئے نظریں دوسری طرف رکھتی۔چنانچہ یہاں کے شب و روز چلتے رہتے۔ 

پھر ایک دن اس شہر میں ایک بچہ قتل ہو گیا۔ وہ اس شہر میں جوتے پالش کرنے والا ایک بارہ سالہ غریب بچہ تھا۔ عمیونل جیکس نامی یہ بچہ ڈاون ٹاون ٹورانٹو میں جوتے چمکا کر اپنے غریب بہن بھائیوں اور والدین کی مدد کرتا تھا۔ یہ بچہ چند سال قبل اپنے خاندان کے ساتھ پرتگال سے ہجرت کر کہ اس شہر میںآیا تھا۔ اس شہر میں آکر اس نے پھول بیچنے شروع کیے۔ مگر پولیس نے اسے پھول بیچنے سے منع کر دیا کہ اس شہر میں کسی شے کی خرید و فروخت کے لیے پرمٹ درکار تھا۔ چنانچہ وہ جوتے چمکانے والا لڑکا بن گیا۔ مگر جس جگہ وہ یہ کام کرتا تھا وہ اس شہر کا سب سے خطرناک اور بدنام علاقہ تھا۔

اسی بازار میں ایک شام ایک شخص اس بچے کو کام کا جھانسا دیکر ایک مساج پارلر کے اوپر لے گیا جہاں چار لوگوں نے مل کر اس بچے کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کر دیا۔ اس قتل کا انکشاف ہوتے ہی یہ بچہ پورے شہر کا بچہ بن گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں غصے سے بھرے ہوئے لوگ گھروں سے نکلے اور انہوں نے سٹی ہال کا رخ کر لیا۔ یہ احتجاج کی لہر تھی ۔ لوگوں نے کلبوں، بارز اور قحبہ خانوں کو ریگولیٹ کرنے ، ہیومن ٹریفیگنگ اور چائلڈ لیبر کے خلاف اواز اٹھائی ۔

احتجاج اتنا شدید تھا کہ حکام کو ایکشن لینا پڑا۔ پولیس ان کلبوں پر ٹوٹ پڑی ۔ جو لوگ ان کلبوں اور ہیومن ٹریفیکنگ سے لاکھوں کماتے تھے بہت تلملائے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر پولیس آپریشن بند نہ ہوا تو وہ ان بد کردار اور کرپٹ سیاست کاروں کو نام ظاہر کر دیں گے جن کی ان کو آشیر بادحاصل تھی اور ان کے مستقل گاہگ تھے۔ مگر آپریشن بند نہیں ہوا۔ اور رقص و سرود اور جنسی تسکین کے اس کاروبار کو دھیرے دھیرے قانونی اور اخلاقی پابندیوں کے تابع کر دیا گیا۔

آج چالیس سال بعد اس شہر میں سینکڑوں کلب اور بارز ہیں۔ رقص و سرود ہے۔ جنسی تسکین کے سامان ہیں۔ مگران میں انسانی سمگلنگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہر میں کوئی بوٹ چمکانے ولا بچہ نظرنہیں آتا۔۔ ڈھیلے کیریکٹر والے سیاست کار اب بھی ان کلبوں کے مستقل گاہگ ہیں۔ مگر کلبوں کے مالکان کو ان کی آشیر باد کی ضرورت نہیں۔وہ اب قانون اور اخلاق کے دائرے کے اندر رہ کر اطمینان سے اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ اور قانون ان کا رکھولا ہے۔

بہت سارے لوگ اس کا کریڈٹ ایک جوتے چمکانے والے بچے کے قتل پر بے ساختہ اٹھ کھڑے ہونے والے عوام کے ہجوم کو دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *