کراچی والو! ایک دفعہ پھر تمہارے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے

آصف جاوید

وزیر اعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس کے لئے ادارہ شماریات کی جانب سے مردم شماری کے ابتدائی اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں۔ اور ان نتائج کی روشنی میں قومی وسائل کی تقسیم ، ترجیحات، اور مستقبل کے ترقّیاتی منصوبہ جات کے لئے وفاق کی جانب سے رقوم کی فراہمی اور امور مملکت کی سمت متعین کرنے کیلئے لائحہ عمل تیّار کیا جائے گا۔

حکومت کے محکمہ مردم شماری نے تازہ مردم شماری کے جو عبوری نتائج جاری کئے ہیں ان کے مطابق کراچی کی آبادی ایک کروڑ 40لاکھ اور لاہور کی آبادی ایک کروڑ 10لاکھ ظاہر کی گئی ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی اور لاہور کی آبادی کو تقریباً یکساں طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔

اگر حکومتی اعداد و شمار پر بھروسہ کرلیا جائے ، تو پھر دونوں شہر وں کا آباد رقبہ، دونوں شہر وں کے فضائی منظر کا پھیلاؤ اور وسعت، دونوں شہروں میں گھروں کی تعداد ، (واضح رہے کہ کراچی کی اکثریت آبادی کثیرالمنزلہ اپارٹمنٹس میں رہتی ہے) ، دونوں شہروں میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد، دونوں شہروں کی رجسٹرڈ گاڑیوں میں استعمال ہونے والے فیول کی مقدار، دونوں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں کی تعداد، دونوں شہروں میں سڑکوں کی مجموعی لمبائی کی تعداد، دونوں شہروں کی آبادی کو سپلائی کئے جانے والے پانی کی مقدار ، دونوں شہروں میں استعمال ہونے والے دودھ، گوشت، سبزی، فروٹ اور دیگر ضروریات زندگی کی مقدار و تعداد، دونوں شہروں کے سیوریج کی نکاسی مقدار، دونوں شہروں سے نکلنے والے کچرے کی مقدار، دونوں شہروں میں کاروباری مراکز کی مقدار، دونوں شہروں میں کاروبار کے حجم کے مقدار، دونوں شہروں میں مریضوں کی تعداد اور دونوں شہروں میں استعمال ہونے والی ادویات کی مقدار، دونوں شہروں میں انسانی ضرورتوں کی مقدار ، وغیرہ وغیرہ سب یکساں ہونی چاہئیں۔

مگر کیا ایسا ہے؟؟؟؟

اگر میرے ان سوالوں کے جوابات ہاں میں ہیں تو یہ اعداد و شمار درست ہیں، ورنہ یہ اعداد و شمار جھوٹ کا پلندہ اور گھٹیا قسم کی انجینئرڈ سوشل اربن انجینئرنگ ، اور کراچی کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی ناقص قسم کی سازش ہیں ، جس میں تمام منطقی، سائنسی اور شماریاتی اصولوں کو پامال کرکے ایک مکروہ سازش کے تحت کراچی کے مظلوم عوام کو قومی وسائل اور اقتدار سے محروم رکھ کر ریاستی سازش کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ

پاکستان کی آبادی میں سالانہ 2 اعشاریہ 4 فیصد کی اوسط سے اضافہ ہوا، اس وقت ملک کی کل آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 تک پہنچ گئی ہے، محکمہ شماریات کے جاری کردہ ان اعداد و شمار میں افغان مہاجرین اور سفارت کار شامل نہیں ہیں۔

صوبہ پنجاب 11 کروڑ 12لاکھ 442 کی آبادی کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔

کراچی کی آبادی ایک کروڑ 40لاکھ اور لاہور کی آبادی ایک کروڑ 10لاکھ ہو گئی ہے، فیصل آباد ملک کا تیسرا بڑا شہر بن گیا، جبکہ راول پنڈی اور حیدرآباد 5بڑے شہروں میں شامل ہوگئے۔

وفاقی ادارے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار 51 نفوس کے ساتھ دوسرے، خیبر پختونخوا 3 کروڑ 5 لاکھ 23ہزار 371 کی آبادی کے ساتھ تیسرا بڑا صوبہ بن گیا ہے جبکہ فاٹا کی کل آبادی 50لاکھ 1ہزار 676ہے۔

محکمہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رقبے کے لحاظ سےملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی کل آبادی 1 کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 افراد پر مشتمل ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کل آبادی 20لاکھ 6ہزار 572 نفوس پر مشتمل ہے۔

مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق قومی سطح پر پنجاب اور سندھ کی آبادی کم رہی، سندھ کی شہری آبادی 52 اعشاریہ صفر 2 فیصد ہوگئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور فاٹا کی آبادی میں اضافہ ہوا۔

مجموعی آبادی میں مردوں کی تعداد 10 کروڑ 64 لاکھ 49 ہزار اور خواتین کی تعداد 10 کروڑ 13لاکھ سے زیادہ ہے، شہری آبادی 7 کروڑ 55 لاکھ اور دیہی آبادی 13کروڑ21لاکھ ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر ملک بھر میں مردم شماری کا آغاز پندرہ مارچ سنہ 2017 سے شروع کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ 1998 میں ہوئی تھی۔ اس طرح اب یہ عمل 19 سال بعد دوبارہ ہو ا ہے۔

صوبہ سندھ کو سنہ 1972 میں سندھ دیہی اور شہری کی بنیاد پر کی گئی لسّانی تقسیم کے نتیجے اور فرزندانِ زمین کو انڈیا سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کے مقابلے میں 40:60 کے تناسب سے ترجیحی دیہی اور شہری کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے بعد، صوبہ سندھ میں لسّانی نفرتوں میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ دیہی اور شہری ظالمانہ کوٹہ سسٹم پورے پاکستان میں ، صوبہ سندھ کے علاوہ کہیں نافذ نہیں ہے۔ اِس ظالمانہ کوٹا سسٹم کو نافذ ہوئے 45 سال گزرگئے ہیں۔ اِس کوٹا سسٹم کے نتیجے میں آج صوبہ سندھ کی نوّے فیصد سرکاری ملازمتیں فرزندانِ زمین کے قبضے میں ہیں۔ سندھ سیکریٹریٹ میں چپراسی سے لے کر چیف سیکریٹری تک کا عہدے پر فرزندانِ زمین کی اجارہ داری ہے۔ جبکہ صوبے میں فرزندانِ زمین کی عددی تعداد 45 فیصد سے بھی کم ہے۔

اگر صوبہ سندھ میں منصفانہ اور ایماندارانہ مردم شماری ہوجاتی ہے، تو اِس بات کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں کہ کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے 45سال گزرنے کے بعد تلاشِ روزگار کے لئے پاکستان کے دوسرے صوبوں سے سندھ کے شہری علاقوں(بالخصوص کراچی اور حیدرآباد )میں ہونے والی نقل مکانی ، اربنائزیشن اور ڈیموگرافیکل تبدیلیوں کے نتیجے میں سندھ کی شہری آبادی کو دیہی آبادی کے مقابلے میں ، اس کا جائز حق ملنے کا امکان پیدا ہوجا تا۔ حقیقی اعداد و شمار کی بنیاد پر شہری سندھ سے ناجائز کوٹہ سسٹم کے خاتمے میں مدد ملتی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا جاتا۔ ۔ مگر بدنیت ریاستی گماشتوں نے ایک بار پھر اپنی مکروہ سازش سے سندھ شہری خصوصاً کراچی کے عوام کو قومی وسائل و اقتدار میں منصفانہ شرکت سے محروم کردیا ہے۔

ریاست کے مکروہ کھیل اور قوم پرستی کے رجحان نے ایک مرتبہ پھر سندھ شہری کے عوام کے لئے با عزّت زندگی کا حصول جہنّم بنا دیا ہے۔

کراچی اب صرف مہاجروں کا ہی شہر نہیں، یہاں پٹھان، پنجابی، بلوچی اور دیگر زبانیں بولنے والے بھی کثیر تعداد میں مستقِل طور پر آباد ہیں۔جن کی رابطے کی زبان اردو ہے۔ اور مہاجروں کے ساتھ ساتھ وہ بھی سندھی قوم پرستوں کی نفرتوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

سنجیدہ حلقوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ سندھ سےلسّانی امتیاز کے خاتمے کے لئے، لسّانی کوٹہ سسٹم کو ختم کیا جائے، اور ہر شہر کی آبادی کی بنیاد پر سرکاری ملازمتوں، وسائل اور ترقّیاتی فنڈز کی تقسیم کی جائے۔ ہر شہر کو یکساں ترقّی دی جائے۔

سنجیدہ حلقوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی مبصّرین و عدالتی نگرانی میں پورے ملک میں مردم و خانہ شماری کے منصفانہ اور شفاف عمل کے ذریعے جنس، عمر، سماجی ساخت اور سماجی تقسیم کا شماریاتی ڈیٹا مرتّب کیا جائے، تعلیم کا تناسب، پیدائش و اموات، بیماریوں کا تناسب کا ڈیٹا بیس بنایا جائے۔ پاکستان کی معاشرتی ساخت کیا ہے؟ صوبہ جات کی ترجیحات کیا ہیں؟ صوبوں کے وسائل کا تخمینہ کیا ہے؟ صو بوں کی آبادی کی ضروریات کیا ہیں؟ مستقبل کی منصوبہ بندی کیا ہے؟ سب کے اعداد و شمار کا ڈیٹا اور تخمینہ تیّار کیا جائے۔

منصفانہ اور ایماندارانہ مردم شماری کے نتائج سامنے رکھتے ہوئے نئی انتخابی حلقہ بندیاں کرکے پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور بلدیات کی نشستیں از سرِ نو مقرّر کی جائیں ۔ ایک فرد ،ایک ووٹ کے فارمولے کو حقیقی شکل دی جائے۔ نسلی بنیاد پر ترجیحات کے خاتمےکیا جائے۔ اگر پاکستان کو حقیقی اور منصفانہ ترقّی دینی ہے توسماجی انصاف، انسانی برابری اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہی محرومیاں اور نفرتیں ختم کی جا سکتی ہیں۔ دوسرا کوئی علاج نہیں ہے۔

4 Comments

  1. N.S.Kashghary says:

    حیرت کی بات ہے کہ ابھی بھی اتنے زیادہ لوگ کراچی میں مقیم ہیں !۔ کیونکہ پچھلے بیس پچیس برسوں میں کراچی کی کتنی ہی آبادی سربند بوریوں،ٹارگٹ کلنگ،اغوا و گمشدگی،اور کراچی آپریشنوں کی نذرہوگئی۔بہت سے فرزندان زمین پنجاب،سرحد،بلوچستان واپس لوٹ گئے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کراچی کے بہادرباسیوں کی عظمت اور حوصلہ کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔
    کوٹہ سسٹم (اور دیگر مسائل)کا ایک مؤثرعلاج کراچی کو الگ سے ایک صوبہ بنادیناہوسکتا ہے۔کوٹہ سسٹم کا پس منظربھی تو دیکھنا چاہئے۔ کیونکہ مبینہ طور پرقیام پاکستان کے بعد سے فرزندان زمین کو(زمین سمیت)غیرسندھیوں کی اپارتھیڈ کے ہاتھ یرغمال بنا دیا گیا تھا۔
    ارجنٹینا میں چوبیس صوبے ہیں۔اکثر صوبے ایک ایک شہر پر مشتمل ہیں۔ہر صوبہ خارجہ پالیسی،دفاع وکرنسی کو چھوڑ کرباقی ہر شعبہ میں آزاد اورخود مختار ہے۔ پاکستان کے اربابِ حل وعقد وصاحبانِ اقتدار واختیارارجنٹینا کے صوبائی نظام سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے۔

  2. Syed Shahzad says:

    A few days back, I read the newspaper about population of Karachi that there had been massive falsification of data in the Karachi region of the Census Bureau submitted to nation. It became harder for Census workers to forge results. The Census report also showed that Karachi population is 14 to 16 Million and Lahore population is 12 Million it is big joke in 21 century. Karachi is huge population if will do again check I am sure Karachi population more than 26 to 28 Million people are living in Karachi. Karachi to Compare Lahore Karachi have lot of building jungle in Karachi compare to Lahore if few place have building. . I give to two example 1998 time Gulsthan e Jahir population not more than 7 lake people are lived there but now almost more than 31 lake people are living in Gulsthan e Johor approx., second in Scheme 33 Karachi in 1998 only few thousand people are living there but now almost cross to more than million people are living in Scheme 33.
    Karachi people are educated and they know each of single things they know
    The standard population-counting census mentioned in the Constitution only takes place once per decade, in years ending in zero. Democracy must be built through open societies that share information. When there is information, there is enlightenment. When there is debate, there are solutions. When there is no sharing of power, no rule of law, no accountability, there is abuse, corruption, subjugation and indignation
    There are various ways the scammers can do this: send fake surveys through the Karachi population.

  3. تازہ مردم شماری میں لاہور،پشاور، اسلام آباد اور کوئٹہ میں آبادی بڑھنے کی شرح کراچی سے اگر زیادہ ہے تو یہ حیران کن نہیں ۔ ان شہروں کی آبادی کے نئے اعداد و شمار کو جائداد کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ، کرایوں میں ہونے والی تیزی اور کراچی کے بگڑے ہوئے حالات سے بھی تقویت ملتی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے فاٹا اور کراچی سے مسلسل نقل مکانی ہو رہی ہے، اس کی تصدیق اور پڑتال گاڑیوں میں استعمال ہونے والے فیول، ماہانہ رجسٹر ہونے والی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں وغیرہ سے کر لینا مردم شماری کی شفافیت کو واضح کرنے میں معاون ہو سکتا ہے

  4. Real population of Karachi matters little. The federation doesn’t care and the province is hell bent on undercounting Karachi, so their voice can be suppressed with fewer seats in national and provincial assemblies, so their share of resources can be minimized and so their share of opportunities can reduced to nothing. Various parts of Karachi are discriminated in census, voter registration and issuance of CNIC’s. Karachi’s contributes lion’s share to the public revenues yet receives nothing even for the operation of essential services. Every mile of road, continuous dumps of garbage along the streets, inadequate supply of water, ineffective governance and extensive corruption is deliberate, unrelenting and the purpose is to strangulate the city altogether.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *