ریمنڈ ڈیوس کی رہائی اور جرنیلوں کا کردار

ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا پول کھول دیا ہے۔آئی ایس آئی کے سربراہ  جنرل پاشا  امریکہ  میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے خلاف میمو گیٹ کا پلندہ لے کر چیف  جسٹس  افتخار چوہدری کی عدالت میں گئے تھے۔ ان کا الزام تھاکہ حسین حقانی امریکی ایجنٹ ہیں لیکن خود اومان کے ساحل پر امریکی سی آئی اے کے سربراہ پنیٹا کے روبرو ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا وعدہ کر رہے تھے۔ ریمنڈ ڈیوس لکھتا ہے کہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سیشن جج کی عدالت میں جنرل پاشا بیٹھے پنیٹا کو ڈیوس کی رہائی کا میسج کر رہے تھے۔

معروف تجزیہ نگار اورانگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر ضیاء الدین نے ان انکشافات پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’جب یہ واقعہ ہوا توجنرل پاشا نے مجھ سمیت تین صحافیوں کو بلایا اور بتایا کہ اگر وہ ریمنڈ ڈیوس کو رہائی نہ دلاتے تو اس بات کو امکان تھا کہ جیل میں اس کو کوئی قتل کر دیتا جیسا کہ ایک بھارتی جاسوس کے ساتھ بھی ہوا تھا‘‘ ۔ضیاء الدین نے مزید بتایا کہ جنرل پاشا نے یہی وجہ سیاسی حکومت کو بھی بتائی تھی، لیکن یہ صرف ایک بہانہ تھا۔ وہ کہتے ہیں  کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ اس میں سویلین حکومت یا حسین حقانی کا کوئی کردار تھا، ’’ اسےخالصتاً فوج کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔ اس وقت اصل حاکم ہی کیانی اور جنرل پاشا تھے۔ سویلین حکومت کی اتنی جرات نہیں کہ وہ ان معاملات میں کچھ بولے۔ پاشا نے ہمیں خود بتایا تھا کہ وہ امریکیوں کو یقین دلا چکے تھے کہ ریمنڈ ڈیوس کو کچھ نہیں ہو گا‘‘۔

سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے ستائیس جنوری 2011ء کو لاہور میں دو افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے قتل کر دیا تھا۔ امریکا کا موقف تھا کہ ڈیوس نے یہ اقدام اپنی ذاتی دفاع میں اٹھایا تھا۔ اس دوران واشنگٹن کا اصرار تھا کہ ریمنڈ ڈیوس ایک سفارتکار تھا، جس کو سفارتی استثنٰی حاصل تھا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان اور امریکا کے مابین ایک طرح کا سفارتی بحران پیدا ہو گیا تھا جبکہ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے مابین روابط بھی متاثر ہوئے تھے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر ضیاء الدین  نے ایک سوال کے جواب میں  کہا، ’’فوج نے ہی اس کی گرفتاری کے مسئلے کو بڑھا چڑھا پر پیش کیا کیونکہ وہ امریکا کو بدنام کرنا چاہتے تھے لیکن بعد میں جب امریکی دباؤ آیا تو فوج اس کو برداشت نہیں کر سکی۔ یہاں تک کے دیت کے پیسے بھی ہم نے ہی دیے۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا یہ پیسے فوج کی طرف سے دیے گئے یا سویلین حکومت کی طرف سے‘‘۔

 سولہ مارچ کو ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈیوس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے  فیضان حیدر اور فہیم کے اہل خانہ کو دیت کے طور پر بیس کروڑ روپے ادا کیے تھے۔ تاہم اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ واشنگٹن نے کسی کو کوئی رقم ادا نہیں کی ہے۔

 ضیاء الدین  کے بقول، ’’ ہمارے میڈیا میں اتنی جرات نہیں کہ وہ کہیں کہ فوج نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرایا تھا۔ اگر کوئی مجھ کو بلا کر پوچھے کہ اسے کس نے رہا کرایا تھا، تو میں بلا جھجک کہوں گا کہ فوج نے لیکن ہمارے اینکرز حضرات میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ایسا کہہ سکیں۔ سابق فوجی سربراہ جنرل جہانگیر کرامت نے امریکا میں نوکری کی۔ جنرل پاشا دبئی چلے گئے اور نوکر ہو گئے۔ جنرل راحیل نے سعودی عرب میں ملازمت اختیار کر لی۔ کیانی نے آسٹریلیا میں زمینیں خریدیں اور جنرل مشرف دبئی میں چھپے ہیں۔ کیا ہمارے میڈیا میں ہمت ہے کہ وہ ان جرنیلوں کے متعلق سوالات کرے۔ جنرل راحیل کی زمین اور سعودیہ میں ملازمت کے حوالے سے ذرا سی تنقید ہوئی تھی اور فورا سخت وارننگ دی گئی۔ ہمارا میڈیا اس وقت سیلف سینسر شپ کا شکار ہے‘‘۔

معروف دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم بھی ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا ذمہ دار فوجی قیادت کو سمجھتے ہیں۔ اس مسئلے پر ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’امریکی سفیرکیمرون منٹر خود اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ جنرل پاشا انہیں پیغامات کے ذریعے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے حوالے سے اطلاعات دے رہے تھے۔ پورا معاملہ فوج کے ہی ہاتھ میں تھا۔ وہ امریکا کو خوش کرنا چاہتے تھے اور اسی لیے انہوں نے اس کو رہا کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس امریکی جاسوس کے پاس سے حساس مقامات کے نقشے برآمد ہوئے تھے۔ اس پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مقدمہ بنتا ہے، تو کیوں نہیں بنایا فوج نے یہ مقدمہ۔ دراصل فوج نے اس کو رہا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ کیانی اور پاشا نے اس حوالے سے امریکا کو یقین دہانیاں بھی کرا دیں تھیں‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اس وقت فوج اور سویلین حکومت کے درمیان کشیدگی کی چل رہی ہے۔ پانامہ کا مسئلہ عروج پر ہے۔ ایسے وقت میں اگر میڈیا کہہ گا کہ آرمی نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرایا تھا تو فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ تو ہمارا میڈیا وہ کر رہا ہے ، جو اسے کرنے کا کہا جارہا ہے‘‘۔

ریمنڈ ڈیوس کے انکشافات بلا شبہ بہت اہم ہیں اور ہماری حکمران اشرافیہ خواہ سیاسی ہو یا فوجی اس کے چہرے سے منافقت اور جھوٹ کا نقاب سرکاتے ہیں لیکن جھوٹ کا یہ کھیل تو گذشتہ ستر برسوں سے جاری ہے اور اس حمام میں ہر کوئی ننگا ہے۔

پاکستان کا ہر ریٹائرڈجنرل اور اقتدار سے محروم سیاست دان ہمیں امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے کے قصے سناتا ہے لیکن جب اصل کہانی سامنے آتی ہے تو وہ گنگ ہو جاتے اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس نے اپنی رہائی میں ملوث جن کرداروں کا ذکر کیا ہے وہ تمام کے تمام ابھی حیات اور متحرک ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اس کی تردید نہیں کرے گا۔ وہ خاموشی ہی کو بہتر خیال کریں گے اور اگر کبھی بولے بھی تو اس کو جھوٹ کا پلندہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لیں گے۔

DW/News Desk

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    “سابق ٹھیکیدار”ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب (دی کانٹریکٹر)میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسٹر محمد علی جناح ریشمی ٹائی باندھا کرتے (حالانکہ اسلام میں مردوں کو ریشم کا استعمال ممنوع ہے۔ ناقل)،کبھی داڑھی نہیں رکھی، وہسکی پیتے تھے اور ایک غیر مسلم خاتون کے ساتھ شادی کی ۔ان کے نزدیک اسلام ان کی قوم کے افراد کی ایک قدر مشترک اور کلچرو فلاسفی کا ماخذ تھا نہ کہ طرزِ حکومت کی اساس۔ ایک موقع پر جب ان سے میجرجنرل اسکندر مرزا نے سوال کیا کہ کیا وہ پاکستان کو ایک اسلامی مملکت بنانا چاہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا “نان سینس !۔ میں پاکستان کو ایک ماڈرن سٹیٹ بنانا چاہتا ہوں”۔
    پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے بارہ میں لکھا ہے کہ امریکہ کے دورہ پہ واشنگٹن پہنچ کر اتنی زیادہ شراب چڑھالی کہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ حیران رہ گئے کہ کوئی شخص اتنی زیادہ بھی پی سکتا ہے۔ وہ ان کی کثرت مے نوشی سے اتنا متاثر ہوئے کہ اس کا ذکر اوروں سے کئے بغیر نہ رہ سکے۔
    ریمنڈ ڈیوس نے جنرل ضیاء کے بارہ میں لکھا ہے کہ اس کی اسلامائزیشن محض سیاسی ڈھونگ تھی ۔ چنانچہ جب پشاور ہایئکورٹ کے شریعت بینچ نے اس کی حکومت کو قتل کی سزا سے متعلق ملک میں رائج سیکولر قوانین کی جگہ اسلامی قوانین نافذ کرنے کا حکم دیا تو جنرل ضیاء نے اس کے خلاف اپیل کردی۔جب سپریم کورٹ کے شریعت بینچ نے بھی یہی فرمان جاری کیا تو جنرل ضیاء نے اسے کی بھی تعمیل نہیں کی اور اسے ٹھکرا دیا۔حتیٰ کے ضیاء کے مرنے کے دو سال بعد ایک آرڈیننس کے ذریعہ قصاص اور دیت کا قانون متعارف کروایا گیا۔ لیکن چونکہ یہ آرڈیننس قانون کا بروقت حصہ تب بھی نہ بن سکا لہٰذہ بیس سے زائد مرتبہ ازسر نو جاری کیا گیا اور بالآخر 1997 میں جاکر ایکٹ آف پارلیمنٹ کی حیثیت پا سکا۔

    ریمنڈ نے اعتراف کیا ہے کہ “واقعہ لاہور” کے بعد سے اسے اب تک مناسب روزگار نہیں مل سکا۔اس واقعہ کا لیبل اس کی زندگی پر آسیب بن کر چمٹ چکا ہے ۔اس نے احتجاج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وکی پیڈیا نے بھی اس کے نام سے نہیں بلکہ اس سے وابستہ واقعہ لاہور کے نام سے انٹری ڈالی ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *