پاکستان سول سوسائٹی فورم نے نواز شریف کی حمایت کر دی

لیاقت علی

وزیر اعظم نواز شریف کی حمایت میں ایک اورتواناٗ آواز سامنے آئی ہے اور یہ ہے پاکستان سول سوسائٹی فورم جس نے ایک بیان میں عدالتوں کے ذریعے وزیر اعظم کی جوابدہی پر اظہار ناراضی کیا ہے اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو مفید مشورے دیئے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کرپشن کے مسئلے کی چھان پھٹک کریں اورپارلیمنٹ کے فورم کے استعمال کرتے ہوئے کرپٹ سیاسی عناصر سے گلو خلاصی کریں۔

پی سی ایس ایف یعنی پاکستان سول سوسائٹی فورم کب بنا اور اجزائے ترکیبی کیا ہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ بیان پر محمد تحسین کے دستخط ہیں جو ساوتھ ایشیا پارٹنر شپ کے مدارالمہام ہیں۔ سول سوسائٹی تنظیموں کا عمومی بیانیہ یہ ہے کہ وہ غیر جماعتی ہیں اور وہ کسی مخصوص سیاسی جماعت اور اس کے ایجنڈے کو لے کر نہیں چلتیں لیکن مذکورہ بیان ان کے بیانیہ سے متصادم ہےاور اس میں ن لیگ کی حمایت ڈھل ڈھل پیندی ائے۔

بیان میں پاکستان کی سیاست کے حوالے سے جونکات اٹھائے گئے ہیں وہ عمومی طور پر درست ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ نکات اس مخصوص مرحلے پر کیوں اٹھائے گئے ہیں اور یہ صرف ن لیگ کے لئے ہی کیوں؟ ن لیگ نے 2013-2008 کے درمیانی سالوں میں یک چشم جسٹس اور جنرل کیا نی اور جنرل شجاع اعانت و تعاون سے پیپلز پاڑٹی کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی پیہم کوششیں کی تھیں اس وقت ہمیں یہ سول سوسائٹی فورم کی موجودگی کا پتہ نہیں چلا تھا۔ ان دنوں انھوں نے ن لیگ کبھی یہ نہیں سمجھایا تھا کہ تمام مسائل کا حل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہے۔ میمو گیٹ فراڈ ہے اور اس کا مقصد منتخب حکومت کو چیلنج کرنا ہے۔پھر اب یہ عقلمندانہ مشورے کیوں؟

این جی اوز سے تعلق رکھنے والے بہت سے لبرل حضرات بھی نواز بچاؤ مہم میں پیش پیش ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں یا تو انہیں سانپ سونگھ گیا تھا اور یا پھر آزاد عدلیہکے نام پر کرپٹ زرداریکے خلاف ان کے قلم کا سارا زور صرف ہوتا رہا۔

دراصل نوازشریف حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے اس نے انٹرنیشنل ڈونرز ایجنسیوں پر رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے اور کئی ایک بڑی بڑی این جی اوز کی سرگرمیوں کو محدود کیا ہے اور ان کی فنڈنگ پر نگرانی شروع کی دی ہے۔ کئی ایک نے حکومت کے ان اقدامات کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور وہاں سے ریلیف لینے کی کوشش کی تھی۔ حکومت نے سب این جی اوز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خود کو وزارت خارجہ سے رجسٹر کروائیں اور اپنی فنڈنگ کے ذرائع وزارت سے شئیر کریں۔

نواز حکومت کے ان اقدامات کے بدولت این۔جی۔اوز سرگرمیاں بہت حد تک محدود ہوگئی ہیں اور ان کی بیرونی فنڈنگ بنداگر نہیں ہوئی تو بہت حد تک کم ضرور ہوچکی ہے۔ یہ بیان دراصل نواز شریف حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ اس بیان کے ذریعے نواز حکومت کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں بس آپ ہم پر ہتھ ہولا رکھیں۔

2 Comments

  1. Yes asma Jahangir is one of them. Actually these are the educated class (in every field of life ) who don’t want to see the poor class upgraded. Because they are too stakeholders of power and money in Pakistan.

  2. Idris babur says:

    Aptly put indeed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *