لاہور دربار کی ڈیرے دار طوائفیں

مجیدشیخ

پنجاب میں پچاس سال (1799-1849 ء)تک سکھ حکومت قا ئم رہی ۔ جس کادارالحکومت لاہو ر تھا۔اس ریاست میں امرتسر کے سوابنیادی طور پر وہ تمام علاقے شامل تھے جوآجکل پاکستانی پنجاب کا حصہ ہیں۔سکھ ریا ست کے اقتدار کا مرکز’’لاہور دربار‘‘ کہلاتا تھا ۔اس عہد میں’ ڈیرے دار‘طوائفوں کے کردار کا تقابل نشاۃ ثانیہ کے فلورنس اور وینس سے توکیا جاسکتا ہے لیکن جہاں تک اس خطے کی تاریخ تعلق کا ہے اس میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ 

برسراقتدار مردوں کا خوبصورت عورتوں سے محبت کرنااسی طرح کی بین الاقوامی، قدرتی اور ابدی حقیقت ہے جس طرح حسین عورتوں کا مقتدر مردوں کو اپنی مطلب براری کے لئے استعمال کرنا۔ انگلستان کی ملکہ الزبتھ اول کے ارد گرد حسین و جمیل مرد وں نے حصار بنا رکھا تھا اور حسن و عشق کی یہی فضا تھی جس سے شیکسپیر کو اپنے عظیم فن پاروں کے لیے خام مواد میسر آیا۔میرا ایک بنکار دوست درست کہتا ہے کہ خوبصورت عورتوں اور مقتدر مردوں کے تعلقات ’’باہمی فائدے‘‘ پر مبنی ہوتے ہیں۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ خوبصورت عورتوں کا رسیا تو ہمیشہ سے تھا۔ 1799ء میں لاہور پر قبضہ کرنے کے بعد اس کا یہ شوق دوچند ہوگیا اور اس نے اپنا بہت سا وقت حسین عورتوں کی صحبت میں گذارنا شروع کردیالیکن تمام ترعیش و عشرت کے باوجود مہاراجہ اپنے کندھوں پر عقل مند سر بھی رکھتا تھا۔ اس کی فہم و فراست کا اندازہ اس کی اس گفتگو سے لگایا جاسکتاہے جو اس نے اپنے ایک برطانوی ملاقاتی سے کی۔ ’’یاد رکھوہر مرد کو سب سے پہلے اپنے کا م کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔پھر اپنے گھوڑوں اورپھر عورتوں پر ۔یہ ترتیب سختی سے برقرار رہنی چاہیے ‘‘۔

رنجیت سنگھ نے چالیس سال تک پنجاب پر حکومت کی لیکن اس سارے عرصے میں کوئی موقع ایسا نہیں آیا کہ اقتدار پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑی ہو۔کسی کی جرات نہیں تھی کہ اس کے خلاف سازش کرے کیونکہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ سازش کرنے والا خواہ کتنا بھی موثر کیوں نہ ہو بچ نہیں سکے گا۔

یہ بات عام طور پر لوگوں کو معلوم ہے کہ مہاراجہ کو اپنے گھوڑوں سے بہت پیار تھا اور اس کے وسیع اصطبل میں ہزارکے قریب بہترین نسلوں کے گھوڑے موجود تھے ۔ایک دفعہ ایک گھوڑا حاصل کرنے کے لئے اس نے افغانستان سے جنگ کرلی تھی اور اس جنگ میں اس کے 5000بہترین سپاہی مارے گئے تھے۔ اپنی پسندیدہ اور خوبصورت عورتوں کے بارے میں بھی جن کی اکثریت کا تعلق لاہور کے بالاخانوں سے تھا اس کے جذبات اتنے ہی شدید تھے ۔

اس کی پہلی محبت موراں نام کی طوائف تھی ۔موراں اس قدر حسین تھی کہ جو بھی اس کو دیکھتا اس کے حسن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا ۔ایک دفعہ مہاراجہ کا وزیر خزانہ جو بازار حکیماں اندرون بھاٹی گیٹ کے معروف مذہبی فقیر گھرانے کا فرد تھا موراں کے حسن وجمال کو دیکھ کر اس قدر بے قابو ہوگیا کہ اس نے’’ ٹھنڈا‘‘ ہونے کے لئے قلعے کے اندر فوارے کے نیچے بنے تالاب میں چھلانگ لگادی۔حس مزاح سے مالامال مہاراجہ نے اس کی اس حرکت کو اس تبصرے کے ساتھ ہنسی میں اڑادیاکہ اس کو میرا انتخاب پسند آیا ہے ۔

یہ خوبصورت طوائف اندرون شاہ عالمی پاپڑمنڈی میں اس کے اپنے نام پر بنی مسجدسے متصل ایک خوبصورت حویلی میں رہا کرتی تھی ۔ مہاراجہ موڈ کے مطابق ہاتھی یا گھوڑے پر سوار ہوکر موراں کے ہاں پہنچ جاتا اور گھنٹوں اس کی صحبت میں گذارتا۔ ریاست کی اشرافیہ ،امراء اور وہ لوگ جو مہاراجہ سے اپنا کوئی کام نکلوانے کے خواہاں ہوتے مہاراجہ کی بجائے موراں سے رابطہ کرتے تھے اور اس حقیقت کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ ان دنوں لاہور میں متحرک برطانوی ایجنٹ بھی موراں ہی کے ذریعے اپنا کام کرتے تھے۔

موراں کے بالا خانے پر کشمیر اور شمالی ریاستوں سے لائی گئی خوبصورت دوشیزائیں موجودہوتی تھیں جو وہ اکثرلاہور دربار کی اہم شخصیات کوپیش کیا کرتی تھی ۔ایسی داشتاؤں کے نان ونفقہ کی ذمہ داری ان امرا کی تھی جو انھیں مستقل طور پر رکھتے تھے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ مہاراجہ اپنی داشتہ موراں کے ذریعے اپنے مخالفین کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھتا ہو ۔

نہ تو مہاراجہ بے وقوف تھا اور نہ ہی موراں ۔برطانوی ایجنٹ یا دیگر مخالف مہاراجہ کے خلاف اگر کوئی سازش کرتے تو موراں فوراً اس کی اطلاع مہاراجہ کو دیتی تاکہ اس کا بروقت تدارک کیا جا سکے ۔یہ با ت برطانوی حکا م کے لئے الجھن کا باعث تھی کہ بقیہ ہندوستان کی نسبت پنجاب میں ان کا جاسوسی نیٹ ورک اتنا موثر نہیں تھا ۔ موراں پر مہاراجہ کو اس قدر اعتماد تھا کہ اس نے بعض اہم فیصلے اس کی مشاورت سے کئے ۔

مہاراجہ نے موراں کے نام کا سکہ جاری کیا جس کے نمونے آج بھی لاہور کے عجائب گھر میں اور سکے جمع کرنے کے شوقین افراد کے پاس دیکھے جاسکتے ہیں۔جب موراں انتقال کرگئی تو مہاراجہ کو ایک اور طوائف جگنو بیگم پسندآگئی ۔ جگنو انتہائی خوبصورت عورت تھی لیکن جہاں تک فہم وفراست کا تعلق تھا وہ موراں کے ہم پلہ نہ تھی۔یہی وجہ تھی کہ مہاراجہ بہت جلد اس ’’ناقابل برادشت‘‘ عورت کو بوجھ خیال کرتے ہوئے اس سے علیحدہ ہوگیا۔

مہاراجہ نے جو ہر وقت ذہین افراد کی تلاش میں رہتا تھا جلد ہی امرتسر کی رہنے والی ایک خوبصورت عورت کو تلاش کرلیا۔ اس عورت کے بارے میں موراں نے کہاتھا کہ ایک نہ ایک دن وہ ضرور مہاراجہ کا دل جیت لے گی ۔اس کا نام گل بیگم تھا ۔ مزنگ سے متصل باغ گل بیگم اسی کے نام پر ہے ۔مغرور گل نے مہارا جہ سے مطالبہ کیا کہ جب تک وہ لاہور سے امرتسر ننگے پاؤں چل کر اسے بیاہ کر نہیں لے جاتا اس وقت تک وہ اس کو چھو نہیں سکتا۔

مہاراجہ کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ گل نہیں جھکے گی ۔ چنانچہ مہاراجہ اس کا مطالبہ مان کر ننگے پاؤں لاہور سے امرتسر اسے بیاہنے کے لئے گیا۔یہ گل ہی تھی جس نے مہاراجہ کی بیمار ی کے دوران اس کی تیمارداری کی۔اور پھر جب مہاراجہ فوت ہوا تو گل بیگم ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے آگے بڑھی اور ستی ہونے کے لئے اپنے خاوند کے پہلو میں لیٹ گئی ۔

ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ لاہور کے اس عہد کی ان’ ڈیرے دار‘ طوائفوں کے بارے میں جنسی تلذذ کے پس منظرمیں سوچیں لیکن اس عہد کے سماجی اور اخلاقی زندگی کے جو معیار تھے ان کے حوالے سے یہ سوچنا قرین انصاف نہ ہوگا ۔’’لاہور دربار‘‘کی اشرافیہ کے جاہ وجلال اور وقار کا اندازہ ان کے حرم کی وسعت اور معیار سے کیا جاتا تھا ۔سکھ عہد کے لاہور میں ڈیرے دار طوائفوں کی جو تعداد تھی اس کا کبھی بھی کو ئی تقابل نہیں تھا۔یہ طوائفیں فنون لطیفہ اور زندگی کے نفیس پہلووں کی دلدادہ تھیں۔ حتی کہ وہ ا پنے مالکان کے بچوں تک کوپڑھاتی تھیں۔انھوں نے اس عہد کے سماجی تال میل جس کی وجہ سے لاہور کا شمار دنیا کے عظیم شہروں ہونے لگا تھا میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

جب لاہورپر انگریز وں کا قبضہ ہوگیا تو انھوں نے عورتوں کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کردی اور وہ تمام عورتیں جو شادی کے بندھن کے بغیر داشتاؤں کے طور پر زندگی گذار رہی تھیں کولاہور چھوڑنے کا حکم دیا اس صورت حال میں ان عورتوں میں سے زیادہ تر نے اپنے آقاؤں سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح ایک نئی طرح کا جاگیردارنہ انتظام وجود میں آیاجس کی باقیات آج تک موجود ہیں ۔

لاہور میں لکھنو کی طرح ڈیرے دار طوائفوں کے کلچر کو وکٹورین عہد کے سخت اخلاقی معیاروں نے ختم کردیا جو انگریز اپنے ساتھ لیکر آئے تھے۔یہ بات دل چسپ ہے کہ جب سلطنتیں اور کلچر ارتقا کی منازل طے کرتے ہیں تو ان کے جلو میں خوبصورت عورتوں کا رول ضرور ہوتاہے ۔وہ عورتیں جو صرف اپنے حسن کے زور پر نہیں بلکہ اپنی فہم و فراست کے بل پر زندہ رہتی ہیں ۔

ترجمہ : لیاقت علی ایڈووکیٹ

10 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    مناسب ہوتا اگررومانوی روایات کے ساتھ مصنف یا مترجم نے مستند تاریخی حوالہ جات بھی درج کر دئے ہوتے۔کیونکہ بہت سے لوگ
    ’’؎ بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کے لئے‘‘۔
    اب تو ’’ نیا زمانہ‘‘ ہے ،کم از کم اس میں توایسا نہیں ہونا چاہئے ۔
    اب یہ جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد اس کے ستھ ستی ہونے والی ’’ گل بیگم’’ کا ذکر کیا گیا ہے تو قاری کو یہی تاثر ملتا ہے کہ مہاراجہ کے ساتھ ستی ہونے والی صرف یہی خاتون تھی جبکہ ایک روایت کے مطابق مہاراجہ کی چار مہارانیاں اور سات کنیزیں اس کے ساتھ ستی ہو کر جل مری تھیں۔ٹریبون انڈیا اخبار کے مطابق
    Maharaja Ranjit Singh died of paralysis at Lahore on June 27, 1839, and was cremated on June 28, 1839. Four of the Maharaja’s Ranis and seven of his slave girls followed the practice of sati and burnt themselves on his funeral pyre. This happened despite the fact that the Sikh Gurus had condemned and denounced the man-made notion of the inferiority of women and protested against their long subjugation. (http://www.tribuneindia.com/news/sunday-special/kaleidoscope/-sati-choice-before-maharaja-ranjit-s-ranis)

    جبکہ ڈان اخبار میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کے مطابق ستی ہوتے وقت آنجہانی مہاراجہ کا سر دو مہارانیوں نے اپنی گود میں رکھا ہوا تھا:
    Prince Kharag Singh lit the fire. Both the Ranis (His last two Rajput wives, Maharani Rajdai and Maharani Hardai, daughters of Raja Sansar Chand)sat in the fire, holding the head of Maharaja Ranjit Singh and 11 Kaneez (maids) sat on both side of the dead body, to be
    burnt with the Maharaja۔
    https://www.dawn.com/news/762767

    اور آخر پہ سب سے بڑا چونکا دینے والا حوالہ قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس کے مطابق گل بیگم مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ساتھ ستی ہوئی ہی نہیں تھیں۔بلکہ زندہ رہیں،پینشن پائی اور ان کی وفات اٹھارہ سو پینسٹھ میں ہوئی !
    Gul Begam survived Ranjit Singh and was awarded an annual pension of Rs 12,380 by the British after the fall of the Sikh Government. Gul Begam died at Lahore in 1865 and was interred in a tomb that she had built for herself in her garden. Having no issue of her own, she had adopted one Sardar Khan as her son in her life time, whose descendants still live in the area.
    https://sites.ualberta.ca/~rnoor/tomb_gul_begam.html

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    معلوم ہوتا ہے کہ گل بیگم مسلمان تھی اور غالباً اسی لئے ستی نہیں ہوئی۔اس کی شادی مہاراجہ نے سکھ مذہب کے علاوہ اسلامی نکاح کے طریقے سے بھی کی تھی۔دوسری بات یہ ہے کہ گل بیگم کو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ایک وکٹورین عہد کے انگریز( Lord William Bentinck ) کے ’’ ڈیرے ‘‘ میں منعقد ہونے والی محفلِ رقص و سرود میں اس کا رقص دیکھتے ہوئے اسے پسند کیا تھا۔
    https://sites.ualberta.ca/~rnoor/tomb_gul_begam.html

  3. najam Yusuf says:

    liaquat ali advocate cotact pl

  4. Janab kia bat he he aap ke. Najam sb aap kamal he kar dete hain

    • نجم الثاقب کاشغری says:

      کمنٹس کی پسندیدگی کا شکریہ۔اسمیں کوئی کمال کی بات نہیں۔( اس کی وجہ پھر کبھی بیان کرونگا) ۔زیر تبصرہ آرٹیکل میں اور بھی کئی باتیں ایسی درج ہیں جو تاریخی اسناد وحوالہ جات کی متقاضی ہیں۔ ان سب پر کمنٹس لکھنے بیٹھ جاوں تو ایک کتاب بن جائے گی ۔سرِدست گل بہاربیگم کی سوانح کے حوالے سے معلومات شیئر کرنے پہ اکتفا کیا تھا۔ دی سکھ انسائیکلو پیڈیا نے گل بیگم کا سال وفات اٹھارہ سو تریسٹھ بتایا ہے۔گل بیگم نے ایک مسجد بھی تعمیرکروائی تھی اور ایک مسلمان بچے کو اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا۔
      مہاراجہ کے ننگے پاوں لاہور تا امرتسر پیدل چلنے کا کس مستند تاریخی کتاب میں ذکرہے۔؟،آرٹیکل سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ موراں مرتے دم تک مہاراجہ کی ایک ’’داشتہ ‘‘ رہی، حالا نکہ وہ مہاراجہ کی تیسری شادی شدہ مہارانی تھی۔اس کا تعلق بھی مسلمان گھرانے سےتھا۔یہ ضروردرست ہے کہ مہاراجہ سے شادی سے قبل وہ ایک پیشہ ور رقاصہ تھی۔
      یہ جو وزیر خزانہ کے ’’بے قابو‘‘ ہوجانے کا قصہ بیان کیا گیا ہے اس کا تاریخی حوالہ بھی درکار ہے۔ یہ وزیر خزانہ صرف وزیر خزانہ ہی نہیں،مہاراجہ کا سب سے وفادارقابل ترین مشیر خاص اور ایک طرح سے وزیر خارجہ،وزیردفاع وغیرہ سب کچھ تھا۔ ان کا پورا نام سید فقیرعزیزالدین بخاری تھا۔ ان کی اولاد میں سے مکرم سیدفقیر وحید الدین صاحب کی تصنیف ’’ دی رئیل رنجیت سنگھ‘‘مشہورعام کتاب ہے۔ شاید’’ریسورس فُل فقیرز‘‘کتاب کے فاضل مصنف فقیر سید اعجاز الدین صاحب کی کتاب ان کے اس خاندانی بزرگ کے تالاب میں ’’ٹھنڈہ ‘‘ ہونے کی غرض سے چھلانگ لگانے کے مبینہ واقعہ کی تائید یا تردید کرتی ہو، میں نے نہیں پڑھی۔

  5. oh but where is in this “nia zamana”, this is “purna zamana”.

    • نجم الثاقب کاشغری says:

      ساجد ! بہت ہی بروقت اور بنیادی سوال آپ نے کیا ہے۔(مجھے کچھ اور معلومات شیئر کرنے کا موقع مل گیا !)جو پرانا زمانہ تھا کبھی وہ نیا زمانہ تھا،آج کا نیا زمانہ کل کو پرانا زمانہ ہو جائے گا۔پرانے زمانے کی تاریخ، سوشل سسٹم،معاشرتی اقدار وغیرہ کو سمجھ کر نیا زمانہ کی اقدار،سماجی رجحانات اور معاشرتی رویوں میں بہتری لائی جاسکتی ہیں۔چند دن پہلے جونئیرعلی بھٹو کے ایک “اعتراف” پر کتنی لے دے ہوئی تھی۔کیونکہ کسی نہ کسی حد تک ہم سب پرانے زمانے کو ساتھ لیکر چل رہے ہوتے ہیں۔(جو ضروری نہیں کہ بس برا ہی ہو) اسی طرح لفظ”طوائف” کے حوالے سے بھی بحث ہوئی تھی۔
      اس تمہید کے بعد زیر بحث آرٹیکل کی ایک ضمنی بحث کے حوالہ سے آپ کو میں یہ مثال بطور ثبوت بتاتا چلوں کہ جس موراں کا ذکر بحیثیت ایک دائمی”داشتہ” کا کرنے پر میں نے جو دبا دبا احتجاج کیا وہ نئے زمانے کی وجہ سے ہی تو کیا۔شاید آپ کو معلوم نہیں کہ موراں سرکار کی یادگار سکھوں کی حکومت سے اب تک ” پُلِ کنجری” کے نام سے موسوم چلی آرہی تھی۔یعنی مہاراجہ سے شادی کر کے مہارانی کا درجہ پانے کے باوجود ہمارا نیا زمانہ اسے ” کنجری ” ہی کہتا اور سمجھتا رہا۔یہ تو اب کچھ ہی عرصہ قبل نئے زمانے کی نئی بھارتی حکومت نے اس کا نام بدل کر ” پل موراں سرکار ” رکھ دیا ہے۔ اسی طرح پاکستانی حکومت نے اس نئے زمانہ میں اسی موراں کی فرمائش پر تعمیر کروائی ہوئی مسجد جو ” مسجد طوائفاں” کہلاتی تھی، اس کا نام بدل کر ” مسجد مائی موراں ” رکھ دیا ہے۔
      https://en.wikipedia.org/wiki/Moran_Sarkar
      تو یہ اقدامات پرانا زمانہ کے رویوں کے اس نیا زمانہ میں ارتقا پذیر سماجی اور معاشرتی رجحانات اور رویوں کے آئینہ دار اور ثبوت ہیں۔
      میرے اولین کمنٹس گو کسی اور حوالے اور مقصد سے تھے مگر یہ ثانوی بحثیں بھی کوئی کم اہم نہیں۔آپ کے سوال کا بیحد شکریہ !(ثاقب کاشغری)۔

  6. Liaqat Ali did excellent Urdu translation of Majid Sheikh’s piece. Ranjit Singh’s finance minister who couldn’t stand the heat of Moran’s beauty and jumped into the pool was Faqir Nur-ul-din, younger brother of Faqir Aziz-ul-din. Maharaja Ranjit Singh was about 22 years old when he fell in love with Moran. She was the true love of his life.
    Another favorite wife of Maharaja committed suicide because she could no longer stand Maharaja’s fixation on Moran. Moran was his only wife who was allowed to keep her face uncovered in public. Lahoris would line up on both sides of The road just to see a glimpse of Moran riding on elephant. Gul Begum actually lived for many years after the death of Maharaja Ranjit Singh.
    The name of the horse for which Maharaha fought a war was Leili. Maharaja was unhappy that Afghans who at that time were ruling over Peshawar valley and tribal area refused to give him Leili and ultimately the war was not just for Leili but a part of his campaign to push Afghans permanently beyond Khyber pass in which he eventually succeeded. No one was allowed to ride on Leili. Once Maharaja learned that his son Sher Singh took out Leili for a ride.
    He was furious and told Faqir Aziz-ul-din he is going to disinherit Sher Ali. Faqir replied: yes, that will be the proper punishment since Sher Ali acted as if Leili oss de payyo da maal e. Maharaji laughed and forgave Sher Singh. Maharaja was a great horse rider and would routinely spend the whole day on horse back during military campaigns. In Lahore, he would go for a horse ride every morning. Even during his final sickness he continued with that routine.

    • نجم الثاقب کاشغری says:

      Thanks for the correction/contribution.(I have no objection to the quality of the translation at all;) And:

      1.I Still need an authentic reference about Syed Faqir Nuruddin’s jumping into the pool incident.
      I think the author Mr.Majid Sheikh Sahib is the same Majid Sheikh who wrote a review about the book “The Resourceful Faqeers” some time ago in the Dawn News Paper.(https://www.dawn.com/news/1099391).Did he get this “jumping into the pool” information from that book??
      If yes then pls let us know to end this discussion !

      2.Mr. S.F. Nurruddin Sahib was not “THE finance minister” rather he was the “Almoner” and was given one of the three keys of the Maharja’s treasury.Misra B.Ram and Diwan Hukman Singh also kept one key each.
      (Ref: Chiefs and Families of note in the Punjab by Lepel Griffin & C.F.Massy .Reprint 3 Volume 2012 edition of 1909 edition.Page 303.)

      3.Raja Dina Nath Madan (Razdan) (1795 – 1857) aka Diwan Dina Nath was made head of the Finance Office after the death of Bhawani Das.(Ditto :page 262).
      Also see https://en.wikipedia.org/wiki/Raja_Dina_Nath.
      ( This corrects my own previous statement)

      What basically I request all contributors( including myself) is that in this new era kindly always look for and provide authentic references with your contributions.People like my humble self who have received some training in peer reviewed , evidence based research methodology expect this least basic standard from any contributor.
      Thank you kindly.(N.S.Kashghary)

  7. نجم الثاقب کاشغری says:

    N.B:The correct & full name of the book is “The Resourceful Fakirs.Three Muslim Brothers at the Sikh Court of Lahore”.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *