بنُیاد پرستوں کا رُومانس

یوسف صدیقی 

مدرسہ جامعہ دَارلعلوم دیوبند میں ایک قدیم پس منظر رکھے والے ’’انا ر‘‘ کے درخت کے سائے سے اُبھرنے والی ’’جدید بنیاد پرستی‘‘ کی قیادت اَب ماضی والاکمزور ’’ملاں‘‘ کے ہاتھ میں نہیں ہے ،بلکہ اَب مولویوں کی قیادت ٹیکنالوجی اُور دیگر وسائل پر قابض’ ملاں‘ کے ہاتھ میں ہے ۔جس کا مقابلہ دلیل اور وکیل سے کرنا ناممکن ہو رہا ہے ۔رشید گنگوہی ،مولوی قاسم نانوتوی اور مولوی حسین مدنی کی قدامت پرستی کے وارث اپنے روحانی مرشدوں سے زیادہ ’’متحرک‘‘ نظر آ رہے ہیں۔

دیوبندی مولویوں نے قیام پاکستان کی مخالفت تو کر دی تھی ۔اور اس کے بعد آج تک اس ریاست کو ’تسلیم ‘ نہیں کیا ۔لیکن پھر بھی دیوبندی(ملاں) ریاست سے فوائد لینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔دیوبندیوں کی ایک جماعت ’’مجلس احرارِ اسلام‘‘ کے ایک مولوی مظہر علی اظہر نے قائد اعظمؒ کو ’’کافر‘‘ قرار دے دیا تھا ۔افسوس کا مقام ہے کہ رجعت پسندوں کے اِتنے بڑے ’’جرم‘‘ کو پاکستانی ریاست نے معاف کر دیا ہے؟؟ ۔اُور ہمارے نصاب کی کتابوں میں اس کا ذکرہی نہیں کیا جا رہاکہ مولویوں نے قیامِ پاکستان کے وقت کیا کیا ’’بدزبانیاں‘‘ کی تھیں ۔

بنیاد پرست مولوی نے اپنے ’’رومانس ‘‘کی ابتدا سرسید احمد خا ن ؒ کے خلاف’’زبان درازی‘‘ سے شروع کر دی تھی ۔تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔اشرف علی تھانوی نے جس انداز میں ’’بہشتی زیور ‘‘ نامی کتاب لکھ کر لوگوں کے گھر کو مخصوص ’’اسلامیانے‘‘ کے عمل سے گزارنے کی کوشش کی، اِس طرح کے’’ تحرک‘‘ کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔ دارلعلوم دیوبند کی تجلیاں ابھی بکھررہی تھیں کہ مولانا مودودی بھی میدان عمل میں آ گئے ۔اور الجہاد فی الاسلام نامی کتاب لکھ کر ’’نطشے‘‘ بننے کی کوشش شروع کر دی ۔مودودی کے زمانے میں مغرب کے ساتھ ساتھ سوویت یونین بھی ملاؤں کے حریفوں میں شامل تھا ۔

مولانامودودی نے خلافت و ملوکیت،تنقیحات،تفہیمات،احیائے دین اُور ’’پردہ‘‘ نامی کتابیں لکھ کر مغربی تہذب اُور سوویت یو نین کے خلاف اپنے قلمی جہاد کا آغاز کر دیا۔مودودی کا جہاد اس وقت تک جاری رہا جب تک پاکستان میں ’’جدیدیت ‘‘ اور تہذیب مغرب کو گناہ نہیں سمجھا جانے لگا ۔تبلیغی جماعت کے مولوی الیاس اُور مولوی ذکریا نے عوام کے اندر ’’چھ نمبروں‘‘ کا رُومانس پختہ کرنے کا ٹھیکہ لیا تھا۔اُور یہ دونوں حضرات برصغیر کے طول و عرض میں لوگوں کو ’’رہبانیت‘‘کی مشقیں کروانے لگے ۔قیام پاکستان کے بعد تبلیغی جماعت نے لوگوں میں مخصوص اسلام کی چھاپ لگانے کے لیے دن رات ایک کر دیا ۔تبلیغی جماعت والوں کا یہ ’’کارِ خیر ‘‘اب بھی جاری ہے ۔

اسی طرح پاکستان کادوسرا بڑا عسکری مذہبی طبقہ ’’سلفی‘‘ طبقہ ہے۔جس کو وہابی بھی کہتے ہیں۔اس طبقے کی جڑیں بھی مولوی ثنا اللہ اور مولوی وحید الزمان کے ساتھ نتھی ہیں۔نواب صدیق حسن خان اور وحید الزمان کی کتابوں میں ’’سلفی اسلام‘‘ کی شان ملتی ہے ۔’’سلف صالحین‘‘ کے رومانس میں مبتلا غیر مقلد لوگ جہاد کو غیر معمولی اہمیت دینے لگے ۔اور ان کے شوق کی آبیاری کے لیے کئی میدان بھی مہیا کیے گئے ۔انہی میدانوں میں ’’ختم نبوت ‘‘ کے لیے مناظرے کا بھی ایک میدان تھا ۔مولوی ثنا اللہ امرتسری نے کئی لوگوں کو کافر قرار دیا ۔انہی نے شیعہ کو بھی کا فر قرار دیا ۔

علاوہ ازیں جدید بنیاد پرستوں کے سرخیل پروفیسر عبد اللہ بہاولپوری اور ابو بکر غزنوی نے بھی اپنے زمانہ عروج میں خوب فتوے دیے ۔پاکستان ایک فرقہ بریلوی ہے ۔جس کا سرخیل احمد رضا خان بریلوی تھا ۔احمد رضا کا تعلق انڈیا کے شہر بریلی سے تھا ۔دیوبندیوں اور اہلحدیثوں کے مقابلے میں بننے والا یہ فرقہ قدامت پرست نظریات کے ساتھ ساتھ تصوف کا بھی پُرچارک ہے ۔احمد رضا بریلوی کا ایک جماعتی ساتھی عبد العلیم صدیقی تھا ۔اس کا بیٹا احمد نورانی صدیقی پاکستانی ریاست کے بریلوی طبقے کا پسندیدہ ’’لیڈر‘‘ رہا ہے ۔احمد نوارانی 2002 میں لندن میں انتقال کر گیا ۔اس وقت وہ ایک رجعتی ملا ملٹری اتحاد ایم ایم اے کا صدر تھا ۔اس کی موت کے بعد ہی قاضی حسین احمد صدر بنا ۔احمد نورانی کافی دفعہ سینٹ اور قومی اسمبلی کا ممبر رہا ۔اس نے ایک سیاسی جماعت کی بھی بنیاد رکھی ۔پاکستان کے بریلوی فرقے کا سیاسی اظہار یہ ہی جماعت رہی ہے ۔

بریلویوں کا پس منظر بھی دیوبندی طبقے کی طرح ’’ فتوے بازی ‘‘ کے ارد گرد گھومتا ہے ۔اور ایک بات ان دونوں میں مشترک نہیں ہے ۔اور وہ یہ ہے کہ ’’بریلوی ’’جہاد‘‘ کا شوقین نہیں ہے ۔کشمیر ،افغانستان،بوسنیا اور عراق کے اندر بریلوی نے کبھی جامِ شہادت نوش نہیں کیا ۔ اور اب پاکستان میں بریلوی طبقے پر کچھ عرصہ سے ’’تشدد‘‘ کے الزام بھی لگ رہے ہیں ۔پاکستانی دیوبندی ملاں حق نواز جھنگوی کی ’’سپاہ صحابہ‘‘ کے مقابلے میں بریلویوں کے ایک عسکری اتحاد ’’سنی تحریک ‘‘ نے کراچی میں اپنے مخالفین پر تشدد کرنے کا الزام ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایران کی شیعہ حکومت اس جماعت کو ’’خرچہ پانی ‘‘ دیتی ہے ۔تاہم ثروت اعجاز قادری کے روحانی پیشوا،اور سنی تحریک کے بانی مولوی سلیم قادری کے 90ء کے خطبات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے کہ ’’سپاہ صحابہ‘‘ کے خلاف بننے والی یہ جماعت سیکولر حلقوں کے بھی خلاف ہے ۔

سنی تحریک بھی بنیاد پرستی سے اپنارومانس نہیں چھوڑ رہی ۔ممتاز قادری نے ایک سیکولر بزنس مین گورنرکو شہید کر کے بنیاد پرستی سے اپنے رومانس کی تجدید کی تو بریلوی طبقے نے اسے غازی علم دین کا رتبہ دینے کی کوشش کی ۔بنیاد پرست ’’ملاں‘‘ خواہ کسی بھی مسلک کا ہوں وہ اپنے رومانس کی تجدید کرتا رہتا ہے ۔اوروہ کبھی بھی سیکولرازم سے مصلحت نہیں کرتا ۔بنیاد پرستی کے علمبر دار جب سے میدان عمل میں آئے ہیں،ان کوکسی نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے کسی نے کبھی دلچسپی نہیں لی جس کی وجہ سے بنیاد پرستی کے علمبردار اب باہم ایک دوسرے فرقے سے دست و گریباں ہوچکے ہیں ۔

پاکستان میں اِس وقت مسلکوں کی لڑائی بہت شدت اختیار کرتی جار ہی ہے ۔’’مسلمان‘‘ کو ڈُھونڈنا مشکل ہو رہا ہے ۔کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو یہ بات کہے کہ میں ’’مسلم ‘‘ ہوں ،بلکہ ہر شخص اپنی نسبت کسی نہ کسی ’فرقے ‘ کے ساتھ جوڑ رہا ہے ۔وہابی ،دیوبندی ،بریلوی اورمماتی فرقے سر فہرست ہیں ۔اس کے علاوہ کئی قسم کے فرقے اپنی اپنی دعوت بڑی شدت سے پھیلا رہے ہیں۔پاکستان میں دیوبندی اور وہابی فرقے کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔دیوبندی اُور وہابی فرقوں کو جنرل ضیا الحق کے زمانے میں رِیاستی سرپرستی میں عروج بخشا گیا تھا ۔ڈالر جہاد میں شمولیت اختیار کرنے والے ملاؤں نے پاکستانی ریاست سے خوب پیسہ وصول کیا ۔

اسی دور میں دینی مدرسوں کی ریاست کی طرف سے مالی امداد کی جاتی ۔ پاکستان میں 60ء کے عشرے میں کمیونزم کا اِحیا شروع ہوا ۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان کے بائیں بازو کے کارکنوں کو بہت حوصلہ ملا۔ اُور وہ اپنی دعوت کوپھیلانے لگے ۔کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو ’’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ زبانی یاد ہوا کر تا تھا ۔لوگ کارل مارکس اور ولادیمر لینن کی تصنیفات کا مطالعہ کرکے سیاسی اکھاڑے میں اُترا کر تے تھے ۔پرولتاریہ بین ا لاقومیت کا نظریہ ’’خلافت ‘‘ کے نظریے کو پیچھے چھوڑنے لگا تھا ۔ان حالات میں مذہبی جماعتوں کے ’’ملاں‘‘ سیخ پا ہو گئے ، یوم شوکت اسلام اُور ’’نظام مصطفی ‘‘ جیسی تحریک چلانے لگے ۔اِن کی اِس حرکت کے پیچھے ریاست کی ’’اِقلیتی غیرت بریگیڈ‘‘ تھی ۔

جب ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دے دی تو بائیں بازو کے کارکن لوگوں کوضیائی آمریت کے خلاف بھڑکا رہے تھے ۔اِس چیز کو دیکھتے ہوئے جنرل ضیا الحق نے مذہبی فرقوں اُور لسانی قوتوں کی سرپرستی شروع کر دی تھی ۔اسی دور میں سرمایہ داروں نے بھی جنرل ضیا الحق کی ’’بیت‘‘ کرنا فرض عین سمجھا ۔میاں نواز شریف ’اِینٹی بھٹو گروپ‘‘ کے سربراہ بن کر ابھرے ۔بائیں بازو کے مزدوروں ،کارکنوں ،دِہکانوں اُور نوجوانوں کو اِنقلابی جدو جہد سے رُوکنے کے لیے ضیا الحق نے کئی’’ پینترے‘‘ بدلے ۔ افغانستان کے ڈالرجہاد میں سب سے زیادہ فائد ہ جماعت اسلامی اُور دیوبندی تحریکوں کو ہوا ۔مولوی سمیع الحق جہادیوں کا ’روحانی باپ‘‘ کہلاتا ہے ۔یہ آدمی سینٹ کا مسلسل ممبر بھی بنتا رہا ہے ۔یہ چیز اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان جہاد کے قائدین ملاؤں پر آج بھی ریاست کی ایک’’ اِقلیتی لابی‘‘ قدر کر رہی ہے ۔

اسی طرح حکمت یار جس کو کابل کا قصاب بھی کہا جاتاہے،اس وحشی درندے کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے ہے ۔کیونکہ جب حزب اسلامی افغانستان کا قیام عمل میں آیا تو اس کے دستور کی بنت کاری میں کئی شقیں جماعت اسلامی پاکستان کے دستور سے لی گئی تھیں۔دیوبندی فرقے کو دوام بخشنے والے ہم عناصر میں سے ایک اہم عنصر ’’مدارس‘‘ ہیں۔اسلامی ریاست میں مدارس کی تعداد کودوگنا ضیا الحق کے دور میں کیا گیا ۔ان مدارس میں پاکستان کے غریب اور خستہ حال لوگ اپنی اولادوں کو داخل کرادیتے ہیں۔انہی مدرسوں میں پھر دہشت گرد تیار ہوتے ہیں جو وزیر ستان اور افغانستان میں تباہی کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔

دینی مدارس میں اسلام کی غلط تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو متشدد بنے کے لیے ان کی ذِہن سازی کی جاتی ہے ۔دیوبندی مدرسوں میں طلبہ کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ ’’طاغوت‘‘ اِس وقت ساری دنیا میں اقتدار پر قابض ہے۔اُورطاغوتی طاقتوں کی موجودگی میں مشرقی اور اسلامی تہذیب کو نافذ نہیں کیا جا سکتا ۔طاغوتی طاقتوں کو جہاد کے ذریعے ہی اقتدار و اختیار کے مناصب سے بے دخل کیا جا سکتا ہے ۔دیوبندی بنیاد پرستوں کے روحانی مرشد جہادی جدبے کے فروغ کے لیے بڑے بڑے جلسوں اور کانفرنسوں سے خطاب کر تے ہیں۔

بنیاد پرستوں کے جہاد کا ایک اہم محور پاکستان کے کچھ مذہبی فرقے ہیں۔احمدی اور شیعہ اس سلسلے میں دیوبندی بنیاد پرستوں کے ’’ہٹ لسٹ ‘‘ پر ہیں۔دیوبندی علماء اور مدرسوں کے مدیر باقاعدگی سے ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ اور ’’ردِ روافض‘‘ کے جلسوں کا اہتمام کر تے ہیں۔بنیاد پرستوں کا اس وقت اپنے مقاصد سے رومانس جاری ہے ۔ریاست بنیاد پرستوں کا ساتھ دے رہی ہے ۔چشتیاں میں جامعہ مظاہر العلوم نام کا ایک مدرسہ ہے ۔جو کہ انڈیا کے شہر سہارنپور میں ایک دیوبندی مولوی زکریا کے مدرسے کی نسبت سے اپنا نام ’’ مظاہر العلوم ‘‘ رکھتا ہے ۔اس مدرسے کے مدیر کا تعلق ایک سیاسی اور سرمایہ دارفیملی سے ہے ۔

قاری ضیا اللہ نے قبرستان کی جگہ پر قبضہ کر کے اپنے مدرسے اور رہائش گاہ کو تعمیر کر لیا ہے ۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بنیاد پرستوں کے مذہبی رومانس میں ممد و معاون ثابت ہو رہی ہے۔یہ ایک معمولی سی مثال ہے ورنہ پاکستان میں بنیاد پرستوں کے رومانس کو ’’بڑھاوا‘‘ دِینے کے لیے ریاست ہمہ تن خدمت کے لیے تیار رہتی ہے۔قربانی کی کھالوں پر کتوں کی طرح لڑنے کا رواج بہت پرانا ہے ۔تاہم دینی مدرسے آج اکیسویں صدی میں بھی قربانی کی کھالوں پر اپنی ملکیت اور حق ثابت کر نے کے لیے طرح طرح کے ’’حیلے‘‘ اختیار کر تے ہیں۔

بنیاد پرستی،مذہبی ا نتہاپسندی ،دہشت گردی ،عسکریت پسندی اور شدت پسندی میں ایندھن فراہم کرنے والے ہمارے ’’ ملاں ‘‘ نہ صرف امن کے دشمن ہیں بلکہ انسانیت اور پاکستان کے دشمن ہیں ان سے جان چھڑانے لیے ہم سب کو متحد ہوکرجد و جہد کرنا ہو گی ۔بنیاد پرستوں کے رومانس سے بہت تباہی پھیل چکی ہے ۔اب ہمیں ا ن کو مزید آگ بھڑکانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے !!۔

11 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    بہت اچھے! ۔ لیکن پتہ نہیں مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ اس تحریر کے عنوان کے ساتھ “حصہ اول” سہواً یا مصلحتاً نہیں لکھا گیا۔ بہرحال آپ سے مؤدبانہ التماس ہے کہ اب جلد ہی اس کا “حصہ دوم” تحریر فرما کر یہ بھی بتائیں کہ ملاں سے جان چھڑانے کے لئے “ہم سب” متحد کیسے ہوں؟ اور ملاں مخالف “جدوجہد ” کے خدوخال ، قواعد و ضوابط ، عملی طریقہ کار اور اس کا ٹائم فریم کیا ہوگا ۔؟۔کیوں کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے ہمارے قومی شاعر علامہ شیخ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی بلکہ میری پیدائش سے بھی کہیں پہلےاس قسم کے ملاں سے ہوشیار کرتے ہوئے فرمادیا تھا کہ
    دینِ ملا فی سبیل اللہ فساد ، اوریہ کہ
    فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں۔۔۔کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟ اور یہ کہ
    آہ اس راز سے واقف ہے نہ ملا نہ فقیہہ۔۔۔۔۔وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام
    قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے۔۔۔اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

    جس قوم نے حضرت علامہ اقبال کا یہ پیغام سنی ان سنی کردیا ۔اب آپ مہربانی کر کے اس قوم کو اس ملاں کے خلاف متحد کروا کر اس سے جان چھڑانے کا کوئی زیادہ مؤثرعملی طریقہ بتا دیں ۔۔۔ سیکولرزم تواب پڑوسی ملک میں بھی زوال پذیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ترقی پسند نظر آنے والے ٹھیلا اٹھا کر گلی گلی “سیکولرزم لے لو جی سیکولرزم لے لو جی” کی آوازیں لگائے پھرتے ہیں لیکن ان کے ٹھیلوں پر سے سلوگن ازم کی مکھیوں کا کمبل ہٹا کر دیکھیں تو خریدنے کو کوئی مال نہیں ملے گا۔اس کی وجہ بھی اقبال نے ان الفاظ میں بتا دی تھی کہ
    اہل دانش عام ہیں ، کم یاب ہیں اہلِ نظر
    کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ

  2. Very good analysis again.

  3. یوسف صدیقی says:

    مُلا سے جان چھڑانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے مذہب اور ریاست علیحدہ علیحدہ ہوجائیں۔
    دنیا میں کبھی بھی مذہب کے نام پر اکٹھا نہیں ہوا جاسکتا۔ ہر کسی کی اپنی تشریح ہے اور ہر کوئی اپنے آپ کو سیدھے رستے پر سمجھتا ہے اور دوسرے کو غلط۔
    دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے ذہن سے یہ کیڑا نکالنا ہوگا کہ ایک دن اسلام دنیا پر غالب آئے گا۔(معذرت کے ساتھ علامہ اقبال کے ذہن میں بھی یہی کیڑا تھا)۔ جب تک مسلمان تمام مذاہب کو
    برابر نہیں سمجھیں گےدنیا میں یہ فساد جاری رہے گا۔

    • نجم الثاقب کاشغری says:

      محترم صدیقی صاحب ،میرا سوال پھر بھی وہی ہے کہ پاکستان میں ملا سےجان چھڑانے (بشمول مذہب سے ریاست کو علیحدہ کرنے) کا عملی (یعنی قابل عمل) طریقہ کار،لائحہ عمل، اور ٹائم فریم کیا ہوگا؟۔

      میرا بچپن کامریڈوں کی صحبتوں میں گزرا ہے، اب بوڑھا ہو رہا ہوں انہوں نے بھی میرے اس سوال کا معین جواب کبھی نہیں دیا۔ہیگل ،کارل ماکس وغیرہ کے اقوال اور فلسفے تو پیش کرتے رہے لیکن پاکستان میں اس فلسفے کو نافذ کرنے کا پچھلے ستر برسوں میں کوئی لائحہ عمل اور ٹائم فریم بتانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ کمیونسٹ پارتٰیاں پاکستان کے کسی بھی قومی اسمبلی کے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ کبھی حاصل نہیں کر پائیں۔ اے این پی وغیرہ بھی صوبائی حکومتیں بناتی تو رہیں لیکن یہی کہہ کر کہ پہلےہم مسلمان (یعنی مذہبی ہیں اور تحفظ ختم نبوت کی خاطراپنی جان دے دینگے)، پھر پختون اور پھر سوشلسٹ یا کمیونسٹ وغیرہ۔ بھٹو نے بھی سوشلزم نہیں بلکہ ’’اسلامک سوشلزم‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ میرے دادا جان نےسوویت کمیونسٹ انقلاب برپا ہوتے دیکھا اور میں نے اس انقلاب کو ناکام ہوتے۔ اب سابقہ کمیونسٹ کارکن ولادیمیرپوٹن روس میں پرانے چرچ مرمت اور نئےتعمیر کروا رہا ہے۔ حالانکہ اس نے پاکستانی کامریڈوں سے ہزار درجہ زیادہ بہتر طورپر کارل مارکس کا فلسفہ پڑھا ، سمجھا اورنافذ کیا اور کروایا تھا۔
      بہرحال میرا سوال پاکستان کے حوالے سے تھا اور بدستورہے۔
      میرے بچپن کے کامریڈ دوست مجھے کہا کرتے تھے کہ فکر مت کرو،۔۔۔۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی !۔۔۔۔۔۔اب خود بجھ کر نام نہاد جہادی ملا کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ فکر مت کرو،۔۔۔۔۔۔یہی فساد بجھیں گے تو روشنی ہو گی !۔
      مگر کسی میں اتنی پھونک ہی نہیں کہ بڑھ کر ان فسادی چراغوں کو بجھا سکیں۔

  4. یوسف صدیقی says:

    جناب کاشغری صاحب میں آپ کو لائحہ عمل اور ٹائم فریم بتا دوں گا لیکن اس سے پہلے آپ مجھے بتائیں کہ آپ کا اسلام کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا آپ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک دن تمام دنیا پر غلبہ حاصل کر لے گا؟ کیا آپ کے خیال میں ایسا کوئی اسلامی فرقہ یا گروہ ہے جو صحیح اسلام کا پرچار کررہا ہے؟ یا ایسا سوچنا یا یقین رکھنا سراسر حماقت ہے۔

    • نجم الثاقب کاشغری says:

      محترم قابل صداحترام صدیقی صاحب۔

      اول تو میں نےآپ کو ذاتی طور پر کوئی لائحہ عمل وغیرہ بتانے کا مکلف یا پابند کیا ہی نہیں۔ میں نے تو صرف یہ ’’بتایا‘‘ تھا کہ میرا سوال بدستور وہی ہے۔

      دوم یہ کہ میں بھلے دہریہ ہوں یا بُڈھسٹ یا مالکی یا داودی بوہرہ مسلمان ، میرا اس قسم کا سٹیٹس یا یہ کہ میں اسلام کے بارہ میں کیا خیال رکھتا ہوں،کسی دوسرے کو اپنا نکتہ نظریا لائحہ عمل کھول کر بیان کرنے کی اولین شرط یا رکاوٹ کیسے بن سکتا ہے۔ خودفاضل مصنف بھی خاص قسم کےقارئین سے ہی تو مخاطب نہیں ۔
      میں جب کسی ڈاکٹر کے پاس جاتا ہوں تو وہ مجھ سے یہ کبھی نہیں کہتا کہ پہلے تم یہ بتاو کہ ہومیوپیتھی یا آیورویدک کے بارہ میں تمہارا کیا نظریہ ہے، پھر میں اپنی ایلوپیتھک دوا یا آپریشن تجویز کرونگا۔

      سوم یہ کہ میں ذاتی طور پر اسلامی ’’غلبہ‘‘ سے کیا مراد لیتا ہوں ؟۔ (یا کسی بھی مذہبی غلبہ کے)، یہ بھی ایک جداموضوع ہے۔ اگر اس پریہاں میں ایک طویل تحریر لکھ دوں تواصل موضوع سے ہٹ کر بحث در بحث شروع ہو جائے گی۔ مذہبی علم الکلام اور جدید سیکولر ، سائنٹیفک ڈسکشن فورمز سے استفادہ کرنے والے قارئین بحث اور تحقیق کرنے کے بنیادی اصول و ضوابط سے تو واقف ہی ہونگے۔

      چہارم یہ کہ کیا کوئی اسلامی فرقہ یا گروہ ہے جو صحیح اسلام کا پرچار کر رہا ہے تو وہ بھی مستقل نوعیت کا ایک الگ موضوع ہے اور یہاں زیر بحث ہی نہیں۔
      تہتراسلامی فرقے جوعموماً بیان کئے جاتے ہیں،ہر ایک کی نظریاتی اور عملی سرگرمیوں کا تنقیدی جائزہ لیکر اس کی رپورٹ پیش کرنا فی الوقت میرے بس کی بات نہیں۔ بنیاد پرستی سے مراد کیا انتہا پسندی،دہشت گردی یا شدت پسندی لینا درست ہے؟ یہ بھی ایک الگ ثانوی بحث ہے۔

      پنجم یہ کہ کیا کسی سوچ کو ’’سراسرحماقت‘‘ کہنا درست ہے؟ میرے خیال میں نہیں ۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ میری رائے میں فلاں کی رائے یا طریقہ کار فلاں فلاں وجہ سے وقت کے تقاضوں کے ہم آہنگ یا فی زمانہ قابل عمل نہیں۔ باقی اس قسم کے اشعار وغیرہ کہ ’’ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘ وغیرہ دوسروں کوواقعتاً مجنوں یا احمق قرار دینے کیلئے نہیں بلکہ تہذیب کے دائرہ میں رہتےہوئے محض محاورتاً استعمال کئے جاتے ہیں۔

      خیر اندیش ۔ نجم الثاقب

  5. Ahmad Raza Qureshi says:

    nice likha ha janb

  6. یوسف صدیقی says:

    یہ سوال انتہائی بچگانہ ہے کہ مُلا سے جان چھڑانے کا ٹائم فریم کیا ہے؟
    میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جب تک سیاست کو مذہب سے علیحدہ نہیں کیا جاتا ملائیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا؟ سیاست کو مذہب سے علیحدہ کرنے کی اولین شرط یہ ہے کہ جمہوری عمل تسلسل سے چلے ۔ جمہوری عمل کے مسلسل چلنے سے تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں تو ترقی معکوس کا عمل جاری ہے۔
    معاشرے میں تبدیلی بتدریج آتی ہے نہ کہ بٹن دبانے سے۔یورپ میں ملائیت نہایت مضبوط تھی لیکن جب مذہب کو ریاست سے علیحدہ کر دیا تو اس کی حیثیت نمائشی رہ گئی ہے۔اور یہ عمل کئی سالوں پر محیط تھا ۔ ہر سوسائٹی کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں کہیں یہ عمل تیز ہوتا ہے اور کہیں سست۔
    دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلمان تمام مذاہب کو برابر سمجھیں ۔ جب تک وہ اپنے مذہب کو اعلیٰ ترین اور دوسروں کو کم تر سمجھے گا تبدیلی کا عمل شروع نہیں ہو سکتا۔ ابھی تو صورتحال یہ ہے کہ “تہتر فرقوں والے” تو اپنے علاوہ باقی” بہتر” کوکافر سمجھتے ہیں ۔ جب تک” تہتر فرقوں والا” کیڑا ذہن میں رہے گا مُلا سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔
    اگر اس کے باوجود آپ ٹائم فریم پر بضد ہیں تو مجھے معاف کردیں۔

  7. Anwer Rahim khan says:

    شاہ احمد نورانی کا انتقال 11دسمبر 2003 کوـاسلام آباد میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا انہیں عبداللہ انہیں کراچی مین عبداللہ شاہ کے مزار کے احاطہ مین دفن کیا گیاـ

  8. Saleem Ullah Shaikh says:

    محترم یوسف صدیقی صاحب
    لبرلز اور روشن خیالوں کا المیہ ہے کہ یہ چونکہ خود مذہب پر عمل کرنے کو دشوار سمجھتےہیں، اس لیے پھر اس کو ایک ناکام اور غیر ضروری چیز ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔چاہے اس کے لیے انہیں بد زبانی کرنی پڑے ، جھوٹ بولنا پڑے یا تاریخ کو مسخ کرنا پڑے۔
    بہر حال تاریخ نے تو یہ بتایا کہ مسملمانوں نے جب تک ریاست اور مذہب کو ساتھ رکھا اس وقت تک ترقی کی، اس وقت تک فتوحات حاصل کیں۔،
    علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی وہ دور تھا جب مسلمانوں نے سائنس اور طب کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ اس لیے یہ ریست کو مذہب سے الگ کرنے کا خیال ہی بالکل احمقانہ ہے۔
    دوسری بات یہ کہ ہمارے سارے لبلرلز انتاہئی احمق ہیں۔ کیوں کہ وہ مغربی تجربات کو اسلام کے اوپر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مذہب اور ریاست یا مذہب اور سائس کا ٹکرائو کبھی بھی اسلام میں نہیں ہوا بلکہ یہ عیسائیوں مذہبی رہنمائوں کی کوتاہ اندیشی اور تنگ نظری کے باعث ہوا۔ اسلام نے کبھی بھی سائنسی ترقی کی مخالفت نہیں کی۔ نہ ہی اسلام اور ریاست کبھی باہم متصادم ہوئے ہیں، یہ سارے کام یورپ میں ہوئے اور یہ کام عیسائی مذہبی رہنمائوں نے کیے یا پھر پڑوس میں بھارت میں برہمن طبقے نے حکمرانوں کو اپنے شکنجے میں جکڑے رکھا۔
    اب ہوتا یہ ہے کہ یہ سارے لبرلز اٹھتے ہیں اور سارے مغربی مسائل کو مشرق پر اور سارے عیسائی و ہندو مذہبی رہنمائوں کے کام اسلام کے کھاتے میں ڈال کر ڈھول پیٹنا شروع کردیتے ہیں۔

  9. ىوسف صدىقى says:

    سلىم صاحب!
    آپ کس فرقے کى بالادستى چاہتے ہىں؟.اسلام کى بازىافت کا عمل کہاں تک مکمل کىا ہے آپ نے؟.اسلام تو مولوى کى گرفت مىں ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *