کتاب یا قرآن: انتخابی علامت کی سیاسی معیشت

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

مذہب اور سیاست کے درمیان کس نوعیت کا نظریاتی اوراخلاقی رشتہ پایا جاتا ہے یہ انتہائی دلچسپ علمی بحث ہے۔ لیکن مذہب کے سیاسی استعمال سے کس طرح کے سماجی اور سیاسی رو یے جنم لیتے ہیں اور اس سے سماج میں مخصوص غیر جمہوری اور غیر انسانی عمل کو کس طرح دوام ملتا ہے۔اس بابت کئی دلچسپ کہانیاں ہر اُس حلقے میں طواف کرتی رہی ہیں جہاں مذہبی عقائد یا علامتوں کو سیاسی اہداف کیلئے استعمال کیا جارہا ہو۔ شاید ایسا کرنے سے اور متواتر کرنے سے مذہبی لحاف میں لپٹے ہوئے سیاسی پروپیگنڈے حقیقی اور فطری شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

جب میں اپنے ارد گردکے گذشتہ تیس سالوں کے سیاسی عمل کو دیکھتا ہوں تو مجھے کتاب ایک ایسے انتخابی نشان کےطور پر دیکھنے کو ملتا ہے جس نے مخصوص مذہبی اور عقیدے کی علامت کے طور پرسادہ لوح اور سیاسی طور پر ناخواندہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں مرکزی کرادر ادا کیا ہے۔انسانوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کیا ہے اور شرعی نظام کے نفاظ کو ہدف بتا کر کروڑوں انسانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے۔

سیاسی اسلام کی سیڑھی کو پارلیمان کے ایوانوں تک درازکرتے ہوئے مذہبی ٹولے نے اکثر ، ممبر کے تقدس کو گروی رکھوایا ہے ۔ جب سے مذہبی اداروں نے سماج سے ناطہ تھوڑ کر بیرونی امداد، سیاسی اور عسکری جتھوں کے ساتھ روابط قائم کئے ہیں سیاسی مذہبیت مقامی ثقافت کے اجتماعی عمل سے کٹ گئی اور پھر سماج کو ایک نئے کلچر پر آمادہ کرنے کیلئے انہوں نے گذشتہ تین دہائیوں میں ایڑھی چوٹی کا زور لگایا ہے۔

بیس سال پہلے ہونے والے الیکشن کا ایک واقعہ اس امر کی مزید وضاحت کرسکے گا۔ شدید سردی میں جہاں لوگ گھروں تک محصور ہو چکے تھے اور زیارت کے میدان، پہاڑ اور درخت برفباری روپوش ہوچکے تھے، زیارت سے قریب ایک چھوٹے قصبے زرندہ میں بیسیوں بزرگ پولنگ بوتھ کے سامنے کھڑے ٹھٹھر رہے تھے، ہاتھوں میں شناختی کارڈز اور سیریل نمبر لئے وہ پہلے سے ہی فیصلہ کرچکے تھے کہ مُہر کہاں ثبت کرنی ہے۔ جو لوگ ووٹ ڈال کر نکلتے تو گویا ایسا ہی تاثر دیتے جیسے شیطان کو کنکریاں مار کر یا حجراسود کو بوسہ دیکر نکلے ہوں ۔

دلچسپ واقعہ اس وقت ہوا جب ایک ادھیڑ عمر شخص جس کی ایک آنکھ پر سرخ ململ کا کپڑا لپٹا تھا اور اس سے ذرہ اوپر آنکھ کے برابر سوئی لٹک رہی تھی، بوتھ سے نکلتے ہی زاروقطار رونے لگا۔ احباب نے پوچھا کہ بزرگو کیا مسئلہ درپیش ہوا ہے، تو پتہ چلا کہ انہوں نے کتاب پر مہر زور سے لگوائی تھی، اور انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ کتاب دراصل قرآن ہے اور یہ لڑائی قرآن کے حامیوں اور منکرین کے درمیان ہے۔

جب الیکشن کو کفر و اسلام کا جنگ قرار دیا جائے اور پھر ممبر، مسجد اور لاوڈسپیکر بھی ایک ہی فریق کو میسر ہو پھر ان سے جیتنا نہ جیتنا برابر ہے۔

کل کوئٹہ کم چاغی کے قومی اسمبلی کیلئے ہونے والےضمنی انتخابات میں مخصوص مذہبی جماعت اور انتخابی نشان کے حامل مذہبی سیاسی پارٹی نے ایک بار پھر اسی رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ کوئٹہ کے معتبر اردو اخبار میں خبر چھپوائی ہے کہ سیکولر سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دینا شرعا جائز نہیں۔

یہی تاثر جب ضلع قلعہ سیف اللہ، لورالائی، ژوب، پشین، قلعہ عبداللہ ، ہرنائی، دکی، سنجاوی، سبی اور کوئٹہ کے مضافات تک پہنچتا ہے تو اس کے ساتھ انتخابی پروپیگنڈے کے طور پر اور بھی ملمع کاری ہوجاتی ہے۔ مساجد میں مُلا باقاعدہ اعلان کرتے ہیں کہ جو انکے انتخابی نشان سے بغض رکھے یا انکو ووٹ نہ دے انکا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ راقم نے دسیوں لوگوں کو اس خوف سے ووٹ کاسٹ نہ کرنے یا اپنی مرضی کے خلاف استعمال کرنے والوں کو سنا ہے۔

اب جبکہ کوئٹہ چاغی کے ضمنی انتخابات میں ایک بار پھر اسی ہتھکنڈے کو استعمال کیا گیا ہے، اخبارات نے کھل کر اس مشن کی تکمیل میں انکا ساتھ دیا ہے۔ لیکن گذشتہ چار سالوں سے ایک نسبتًا بہتر حکومت چلانے والی پشتون ۔بلوچ سیکولر سیاسی پارٹیاں یہاں آکر الگ ہو گئیں، مقتدر بلوچ پارٹی نےمذہبی جماعت جے یو آئی کے حق میں غیر مشروط دستبرداری کا اعلان کیا ہے، وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ جمعیت کی طرف اس بار بلوچ اس حلقے سے میدان میں اترا ہے۔

لگتا ہے چار سال کی رفاقت نے نظر کی اس تنگی کو فراخ کرنے میں کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔ کم ازکم اپنے آئین میں سیکولر سیاست کے تذکرے کا بھرم رکھ لیتے، لیکن لگتا ہے پشتون۔بلوچ تقسیم سیکولر جمہوری روایات سے زیادہ قوی ہے،اور یہی تقسیم محکوم اور نادار اقوام کے بیچ پیدا کئے گئے خلیج کو مزید بڑھا وا دے گا، جوکہ دونوں کے سیاسی پارٹیوں کی ساکھ اور مستقبل کیلئے نقصان دہ ہے۔

2 Comments

  1. لیاقت علی ایڈووکیٹ says:

    مذہبی علامتوں کو انتخابی نشان کے طور پر استعمال کرنے کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ مسلم لیگ مطالبہ پاکستان کے حق میں کئی مذہبی علامتوں کو استعمال کیا تھا اور ایسے انتخابی اور سیاسی نعرے بنائے تھے جن سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا تھا کہ جو مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دے گا وہ مسلمان نہیں رہے گا۔1970کے الیکشن میں جماعت اسلامی نے ترازو کاانتخابی نشان لیا تھا جس کا مطلب میزان تھا۔آج بھی مذہبی سیاسی جماعتیں مذہبی علامتوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے بھرپور انداز میں استعمال کررہی ہیں لیاقت علی ایڈووکیٹ

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے بھی جو ریفرنڈم کروایا تھا اس میں سوال تھا کہ کیا آپ ملک میں نظام مصطفے ﷺ اور نفاذ اسلام چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں پانچ سال کے لئے صدر بن جاؤں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *