کردار، حیثیت و فرائض 

اسلم بلوچ

تقابلی مطالعے و تجزیے کا مثبت اور حقیقی پہلو دوسروں کے تجربات اور کارکردگی کو اپنے اندر جانچنا ہوتا ہے تاکہ انکے کامیابیوں سے استفادہ اور ناکامیوں سے سبق حاصل کیا جائے، ایسے تجزیوں سے خامیوں،کمزوریوں،خرابیوں کی نشاندہی کرکے ان سے کیسے نمٹا جائے یہ دیکھنا ہوتا ہے، ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ ایسے تجزیاتی مواد کو کسی کے بھی نفی کیلئے تراش خراش کر جواز بنایاجاتا ہو، پوری دنیا میں علم سیاسیات اس بنیادی نقطے کے گرد گھومتا ہے کہ طاقت کو کیسے حاصل کیا جائے اسکو کیسے برقرار رکھا جائے اور کیسے استعمال کیا جائے، آج بنیادی سوال جس کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے کیسے طاقت حاصل کی یا کررہے ہیں پچھلے تمام عرصے میں ہم نے اسکو کیسے استعمال کی یا کررہے ہیں اور کیا ہم حاصل کی گئی یا رہی سہی طاقت کو برقرار رکھ رہے ہیں یا رکھ سکتے ہیں؟؟؟؟؟

ان سوالات کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہماری طاقت ہے کیا؟سماج انسانی تعلقات انکی نوعیت و ضرورتوں کا نام ہے ،یہ انسانی آبادی کا مجموعہ ہوتا ضرور ہے لیکن یہ مشترکہ مقصد کیلئے وجود میں آتا ہے سماج کو بے آہنگم و بے ربط اور متضاد رویوں و اقدار و روایات و رسم و رواج کا نام ہرگز نہیں دیا جاسکتا اور سیاست سماج میں رہنے والوں کو منظم رکھنے کا علم ہے یہ دونوں ایک ہی مقصد کی تکمیل کرتے ہیں جو انسانوں کی بہتر زندگی کیلئے ہوتی ہے ،کیونکہ سماجی مفکرین سماج میں بسنے والوں کے تعلق کو پیچیدہ رشتوں سے تعبیر کرتے ہیں میکیور کے مطابق سماج بدلتے پیچیدہ رشتوں کا ایک جال ہے جو عادات اور طریقہ کار وباہمی مدد کا ایک نظام رکھتا ہے صرف اور صرف مقصد کی ہم آہنگی ہی سماج کا امتیازی وصف ہے ورنہ سماج علیحدہ ذہن ،فکر و نظریات رکھنے والے افراد کا مجموعہ ہے۔

لاسکی کے الفاظ میں سماج کوئی سادہ تنظیم نہیں یہ انسانوں کا ایک پیچیدہ مرکب ہے اور یہ انسانوں کے متضاد فطرت کی نمائندگی کرتا ہے دستیاب تاریخ میں انسانوں میں مشترکہ مقصد سے ہم آہنگی ہی سیاست اور ریاست کی بنیاد بنتی آرہی ہے تو بلوچ سماج اور سیاست میں بھی مشترکہ مقصد(قومی آزادی کا حصول) ہی ہم آہنگی اورطاقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اگر بلوچ مزاحمتی تاریخ پر نظر دوڑائیں توماضی کے مقابلے حالیہ لہر مشترکہ مقصد(قومی آزادی) کی بلوچ سماج میں ضرورت و مقبولیت کا اندازہ لگانامشکل نہیں ہوگا، کیونکہ مشترکہ مقصد کیلئے بلوچ سماج سے طاقت کا حصول توقعات سے زیادہ رہا ہے اور ہر طرح کے مشکل حالات میں بھی جاری و ساری ہے ،لیکن جب دوسرے نمبر پر بات اسکو منظم رکھنے اور صحیح استعمال کرنے کی آتی ہے تو بات سیاست اور اسکے معیار پر رکتی ہے وہ اس لئے کہ منظم رکھنے کا ذمہ سیاست کے سر ہوتا ہے تو یہاں بنیادی سوال جو سر اٹھاتا ہے کہ کیا پچھلے تمام عرصے میں حاصل ہونے والی طاقت بی ایل اے، بی ایل ایف، بی آر اے،ایل بی، سیاسی پارٹیاں بی ایس او و دیگر انجمنیں و افراد یا علاقائی شخصیات کو ہماری سیاست منظم رکھنے اور بہتر طور کام میں لانے میں کامیاب ہوچکی ہے؟؟؟

شاہد کہنے لکھنے سے زیادہ موجودہ صورتحال ہی سمجھنے کے لئے کافی ہے۔کیا ہمیں کچھ سمجھ آرہا ہے یا ہم سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں؟؟؟

کیا ہم صحیح طور پراپنی جدوجہد کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ،وہ تلخ تجربات کو پوری طرح ٹٹول چکے ہیں جو ہمارے طاقت کو منظم کرنے میں ہمیشہ رکاوٹ بنتے آرہے ہیں، مثلا ماضی کے ناکامیوں کو اگر چند افراد کے سر ڈال کرایسی سوچ کے تحت ایک ذہنی کیفیت کی پرورش کی جائے کہ ماضی کے جہدکار سب بیکار و فضول تھے توایسی ذہنی کیفیت کی بنیاد ہی نفی کے قانون پر استوار ہوگا۔

بات سیدھی طرح سے یہ ہے کہ ہم کچھ بنیادی عوامل کو بھول کر جست لگانے کی چکر میں ایسے الجھ چکے ہیں کہ اب ہمارے پاس الزام تراشیوں اور زبانی کلامی تعریفات کے علاوہ کچھ رہا نہیں ،کسی کو نفی کرکے اپنے وجود کا احساس دلانا ہماری مجبوری بنتی جارہی ہے، یہ سب کچھ دن رات ہوتاآرہا ہے ،ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم سب مل بیٹھ کر باہمی احترام کے ساتھ صحیح خطوط پر اپنے کام اور تحریک کو استوار کرتے مگر بدقسمتی ان حالات میں بھی ہم اپنے حقیقی جمع پونجی کے نفی میں لگے ہیں، دیکھنا ہے کہ ہمارے عملی جدوجہد سے کیا قومی تحریک کی ضروریات پوری ہورہے ہیں اورہم تحریک کی حقیقی شکل کے تشکیلی مراحل کو آگے بڑھاتے ہوئے اسکو اقوام عالم میں ایک قومی تحریک کے طور پر متعارف کرانے میں کامیاب ہورہے ہیں ،کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور دنیا میں جاری جنگوں نے انسانی مسائل کو عالمی مسائل بنادیا ہے ایسے حالات میں دیکھنے والوں کو ہمارا تحریک مسائل و پیچیدگیوں کا ڈھیر تو نظر نہیں آرہا ہے؟؟

تسلسل سے گر دش کرتے کچھ سوالات اور مخصوص غیر متوقع رویوں نے مجھے کتابیں ٹٹولنے پر مجبور کردیا جس کے تحت اس تحریر سے جوڑنا پڑا اگر ہمارے دانشور اور سیاسی سنگت اس بحث میں مزید دوستوں کی رہنمائی کریں تو یہ وقت و حالات کے تحت ایک موثر عمل ہوگا کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے جن سوالات اور عمل کو میرا ذہن قبول نہیں کرپارہا ہے ،میں انکے پیچھے کے سوچ کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں، اختلاف، تنقید،تقابلی جائزے،شکوک و شکایت کا تعلق ہوتا ہی عمل سے ہے اور یہ سب کچھ تعمیری عمل کا حصہ کہلاتے ہیں تصورات، نظریے،خیالات اور ان پر تنقیدی بحث مباحثے بھی علمی جانداری کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن انکے مثبت اور منفی پہلو کا تعلق انکے پیچھے کے مقاصد سے جوڑا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں ا یسے تمام عمل میں زور نفی کے قانون پر رہتا ہے ،عمل میں حد بندی کرداروں میں درجہ بندی اور اختیارات کی نشاندہی و تقسیم کی وضاحت مسائل کی نشاندہی ان کی نوعیت کو سمجھنے اور انکے حل سے زیادہ شکوک شہبات کا اظہار لازمی سمجھا جاتا ہے آخر کیوں؟؟؟

کمزوری،خامی، خرابیوں کی نوعیت سے زیادہ واقعات جواز بنائے جاتے ہیں اور انکے بنیاد پر تحریک کے بہت سے کرداروں پر ناروا طریقے سے ایسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں جن میں انکے کردار کومشکوک بناکر انکی حیثیت کی مکمل نفی کی کوشش کی جاتی ہے ۔

اگر دیکھا جائے توہر کردار کے ساتھ ایک حیثیت ضرور ہوتی ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ کردار اور حیثیت لازم و ملزم ہوتے ہیں دراصل حیثیت وہ سماجی پوزیشن ہے جسکا دارومدار مکمل کردار پر ہوتا ہے اور جب کردار کسی حیثیت (پوزیشن) کاحامل ہوجاتا ہے تو معاشرہ، سماج میں اعتبار کے حوالے سے اس سے ویسے ہی توقعات وابستہ کئے جاتے ہیں ۔ 

اسی طرح جب کوئی شخص اپنی حیثیت سے وابستہ تمام ذمہ داریوں کو سمجھ کر فرائض کی انجام دہی سے جوڑ جاتا ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنا کردار(رول) ادا کررہا ہے حیثیت اور کردار کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے ان میں صرف علمی تعریف کے حوالے سے فرق پایا جاتا ہے۔

وہ چاہئے کسی سماجی تنظیم میں ہو یا سیاسی و عسکری یا کسی تحریک میں یا مختلف مخصوص حالات میں ویسے تو حیثیت کے دو واضح نوعیت سامنے آتے ہیں مگر اسکے بہت سے اشکال انہی دو کے گرد گھومتی ہیں۔علمی تعریف کے حوالے سے ایک کو انتسابی یعنی وراثتی حیثیت کہتے ہیں جو وراثت میں ملتی ہے۔

دوئم اکتسابی یعنی محنت، صلاحیت،مقابلے و کوششوں کے بل بوتے پرحاصل کی جانے والی حیثیت ہوتی ہے، غرض ہر حیثیت کے ساتھ لازمی طور پر ذمہ داریاں اور فرائض ہی وابستہ ہوتے ہیں، یہ فرائض اور ذمہ داریوں سے خالی کوئی مراعاتی عنایت نہیں ہوتا جس کو حاصل کرنے یا عنایت کرنے کا طریقہ کار ذاتی تعلقات و خواہشات یا مفادات پر یا پھر بعض، حسد، خوف جیسے منفی سوچ پر مبنی ہو، کسی بھی مثالی نظام،انقلابی تحریک، سیاسی تنظیم یا پارٹی میں بہترین صلاحیتیں زیادہ محنت اورخلوص کے بل بوتے پر جب ہرمتعلقہ حیثیت کو اپنے کردار(رول)کا صحیح اندازہ یا علم ہوجاتا ہے تب ہی تمام توجہ ذمہ داریوں اور فرائض پر مرکوز ہوجاتے ہیں۔بصورت دیگر کسی بھی تحریک، تنظیم،پارٹی یا نظام سے وابستہ افراد میں اس وقت تک ہم آہنگی اور یکسوئی پیدا ہونا مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے جب تک وہ اپنے اپنے حیثیت کے مطابق اپنے کردار پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔

انتسابی یعنی وراثتی حیثیت میں بادشاہت میں جیسے، بادشاہ کے مرنے پر شہزادہ بادشاہ بنتاہے ولی عہد کو طرز حکمرانی کی تربیت دیکر مسند پر بیٹھایا جاتا ہے ہمارے ہاں قبائلی نظام میں سردار کا بیٹا سردار یا کسی سیاستدان کا بیٹا سیاست دان بنتا ہے یہ حیثیت موروثی ہونے کی وجہ سے پیدائشی نوعیت کی ہوتی ہے اسمیں ذاتی صلاحیتوں کا عمل دخل اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اس حیثیت کے مطابق کردار(رول)ادا نہیں کیا جاتا۔یعنی پیدائشی حیثیت جو بنے بنائے وراثت میں ملتی ہے تو اس حیثیت کی اہلیت کو ثابت کرنے کیلئے اسکے مطابق توقعات پر پورا اُتر نہیں جاتا، یہاں اوپر سے نیچے اور اس سے اوپر کی حیثیت کو ثابت کرنا ہوتا ہے اور اسکی بنیاد کردار پر منحصر ہوتا ہے جتنا بڑا حیثیت ہوگا اتنا ہی زیادہ ذمہ داری اور فرائض کو نبھانے کا تقاضا کرئیگا، ہمارے ہاں اسکی مثال سنگت حیربیارمری، براہمدغ بگٹی،جاوید مینگل،زامران مری ہیں ۔

اور اکتسابی حیثیت جو کہ صلاحیت، محنت، ذہنیت اور خلوص اور مقابلے کی بنیاد پر بنتی ہے وہ صفر سے شروع ہوتا ہے وہ نیچے سے اوپر کا سفر طے کرتا ہے اسکو کسی ستون(پلر) کا سہارا نہیں ہوتا ہمارے ہاں اگر دیکھا جائے تو چیرمین غلام محمد ،میر عبدالنبی بنگلزئی، استاد واحد قمبر، ڈاکٹر اللہ نذر، کامریڈ بشیرزیب، گلزار امام ماسڑ سیلم وغیرہ اس حیثیت کے مثال ہیں کسی بھی تنظیم یا پارٹی سے تعلق و عہدے یا تنظیمی حیثیت سے قطع نظر بلوچ سماج میں ان حضرات کا اکتسابی حیثیت انکے کردار سے متعلق ہے لہذا ان حضرات پر توقعات اور انکی ذمہ داریاں اور فرائض بھی اسی نسبت سے ہونگے۔کیونکہ ہم قومی جدوجہد کے دعویدار ہیں تو قومی نظریہ کے حوالے سے ہم میں یہ دونوں حیثیتں بشمول علاقائی، علمی و ادبی حیثیتوں کے موجودگی قابل تسلیم و قابل قدر ہیں بشرطیکہ کہ وہ قومی مفادات و قومی نظریے کے مطابق ہوں۔

کسی بھی تحریک میں ہم افراد کے کردارکا سرسری جائزہ لیں تو اس تحریک سے وابستہ تنظیمیں یا پارٹیاں بالکل ایسے ہوتے ہیں جیسے تدریسی ادارے یعنی سکول کے بچوں کی طرح اگر وہ افراد کو منظم اور نظم و ضبط میں رکھنا چاہتے ہیں تو انکے پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرکے بروئے کار لانا بھی انکا فرض بنتا ہے کیونکہ تمام انسان ذہانت، ایمانداری، طاقت، محنت کے حوالے سے برابر نہیں ہوتے کچھ زیادہ محنتی ذہن اور باصلاحیت ہوتے ہیں اور کچھ کم کچھ جسمانی اور ذہنی مضبوط ہوتے ہیں اور کچھ اتنے مضبوط نہیں ہوتے وہ ماحول اور حالات جہاں سے تحریک کو بہتر افرادی قوت میسر ہو پارٹیوں اور تنظیموں کے ذمہ آتی ہے۔

ہمارے ہاں ہو کیا رہا ہے شعوری یا لاشعوری طور پر کچھ بے بنیاد اور گمراہ کن خیالات کی تشہیر دبے دبے الفاظ میں یا غیر ذمہ دارانہ انداز میں کروائے جارہے ہیں کہ لیڈر ایک ہوتا ہے باقی سب پیروکار ہوتے ہیں 

اس حقیقت سے قطع نظر کہ تحریکیں ایسے لاتعداد کیڈر و لیڈر جنم دیتے ہیں جو تحریک سے وابستہ ہزاروں افراد کی قیادت کرکے انکو منظم رکھتے ہیں اور انہی میں سے وہ تحریک کے لیڈرکی شکل میں سامنے آتا ہے جو اسی حلقے میں سب سے زیادہ قابل احترام و قابل اعتبار ہوتا ہے مگرہمارے ہاں کسی بھی سیاسی یا عسکری حیثیت کے نفی کیلئے نئے اصطلاح سیلفی سرمچاری یا شوق لیڈری متعارف کرائے جارہے ہیں اس حقیقت سے قطع نظر کہ جو تحریک قیادت پیدا نہ کرسکے وہ تحریک ہی نہیں کہلاتا اور کبھی کبھی سماجی مسائل،روایات،انقلاب، جدوجہد آزادی اور قومی سیاست اور قومی ریاست کو پولیٹیکل سائنس کے کسی ایک باب(چیپٹر) سے مو ازنہ کرکے گراونڈ پر جاری ایک پوری عمل کی نفی کی جاتی ہے۔لیکن بلوچ سماج،بلوچی روایات، جدوجہدکے تاریخی تسلسل موجود وقت و حالات کے تحت درپیش حقیقی مسائل کا سیاسیات میں حل اور انکے طویل سفر کا نہ تو کوئی ذکر پایا جاتا ہے اور نہ ہی بنیادی تجزیہ، زور ایک ہی بات پر رہتاہے جس میں چند واقعات کو بنیاد بناکر چند کرداروں کو تسلیم کرتے ہوئے انکے حیثیت کی نفی یاانکو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ سیدھی طرح سے تحریک سے وابسطہ پارٹیوں اور تنظیموں کی اس پیداواری صلاحیت اور پیداوار پرضرب لگانے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے جو تحریک کو قیادت فراہم کرسکتی ہے یا کررہی ہے کبھی ڈسپلن تو کبھی اصول پرستی کے نام پرتو کبھی جنگی حالات میں پیش آنے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کو جواز بناکر ایک مرحلہ وار عملی پیداواری سلسلے کی نفی کی جارہی ہے اسکے پیچھے کے مقاصد کو سمجھنا اسلئے بھی ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ ڈھونڈنے پر تاریخی حوالے سے یہ عمل ہمیں دنیا کے کسی بھی تحریک میں نظر نہیں آتا تو یہ بلوچ قومی تحریک کیلئے کیوں اور کیسے ضروری ہوچکا اس کیلئے آج تک کوئی دلیل، وضاحت،حوالہ و ثبوت بھی سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ویسے پوری دنیا میں مفکرین میں ابھی تک یہ بات زیر بحث ہے کہ سیاست فن ہے یا سائنس یا دونوں کا مجموعہ۔

میٹلینڈ نے کہا تھا کہ جب میں امتحانی سوالات کے ایک اچھے مجموعے کو دیکھتا ہوں جن پر علم سیاسیات(پولیٹیکل سائنس)کی سرخی لگی ہوتو مجھے سوالات پر نہیں بلکہ اس عنوان(ٹائیٹل)پر افسوس ہوتا ہے۔

فرانسیسی سیاسی مفکر جین بودن نے 1596 میں پہلی بار اس علم کو علم سیاسیات کہا تھا دراصل علم سیاسیات پولیٹیکل سائنس مجموعی طور پر ریاست و حکومت سے انسانی تعلق کا مطالعہ ہے ۔

فرانسیسی اسکالر پال جانیٹ کے الفاظ میں علم سیاسیات سماجی علوم کا وہ حصہ ہے جو مملکت کی ابتداء اور حکومت کے اصولوں سے بحث کرتی ہے۔

سوئیز اسکالر بلونشکلی کے الفاظ میں سیاست علم سے زیادہ ایک فن ہے جس کا تعلق عملی معاملات یا مملکت کی رہنمائی ہے جبکہ علم سیاسیات کا تعلق مملکت کی بنیادوں اسکی لازمی نوعیت اسکی شکلوں یا مظاہر اور تبدیلیوں و ارتقاء سے ہے ۔

گارنرکے مطابق علم سیاسیات مملکت سے شروع ہوتا ہے اور مملکت پر ختم ہوتا ہے۔

یہاں ان مفکرین کے حوالے سے اس بات کی نشاندہی مقصود ہے کہ ہمارا درد سر موجودہ حالات میں طرز حکمرانی کا درس نہیں میرے نزدیک سب سے اہمیت کا حامل فرانسیسی اسکالر پال جانیٹ کے الفاظ ہیں جس میں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کہ علم سیاسیات(پولیٹیکل سائنس)سماجی علوم کا وہ حصہ ہے جو مملکت کی ابتداء اور حکومت کے اصولوں سے بحث کرتی ہے تو میرابنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم مملکت کے تشکیل اور حکومت سازی کے مراحلے سے گذر رہے ہیں؟؟؟؟؟

اس وقت بلوچ قوم جو ایک وسیع و عریض جغرافیہ پر پھیلا ہوا ہے اور ایران و پاکستان کے مقبوضہ کہلاتے ہوئے مختلف قبائلی و علاقائی رشتوں اور سیاسی اور مذہبی نظریات و عقائد کے بنیاد پر تقسیم ہیں ان کے بیچ آزادوطن کو لیکر حب الوطنی اور مشترکہ مفادات معاشی، اخلاقی روایات رسم و رواج زبان کی بنیاد پر ہم آہنگی پیدا کرکے متحدہ قومی قوت کی تشکیل اور اسکے بنیاد پر قومی آزادی کے حصول کو ممکن بناکر آخری مرحلے میں قومی ریاست یا قومی اقتدار اعلی کی تشکیل تک پہنچنا ہے کہتے ہیں کہ سماجی نظم و ضبط سماجی مسائل کا حل سماجی قوانین سے ہی علم سیاسیات کو خام مواد اور رہنمائی حاصل ہوتا ہے۔

لہذا سماجیات کے بنیادی و ابتدائی اصولوں کو نہ جاننے والوں کو نظریہ مملکت پڑھانا ایسا ہی ہے جیسے نیوٹن کے قوانین حرکت کو نہ جاننے والوں کو فلکیات یا حرکیات پڑھانا قوانین ہمیشہ سماجی ضرورتوں کے تحت بنائے جاتے ہیں، نقالی نہیں ہوتے چاہے جتنے بھی مثالی ہوں بلوچ سماج سے رجوع اور جوڑت کے سواء کوئی چارہ نہیں اس حقیقت کا اسوقت تک بہتر مظہر بلوچ جہدکار ہیں جو دشمن سے برسرپیکا ہونے کے ساتھ ہی ساتھ سماجی مسائل سے نمٹنے کے عمل سے بھی دوچار ہیں ہاں روایات و رسم و رواج میں تبدیلی کا عمل رائے عامہ کے بغیر نقصاندہ ہوتا ہے اسکو سمجھنے کی اہلیت شاہد سب میں نہ ہو مگر اکثریت اس حقیقت کو مان کر چل رہے ہیں اور یہ حقیقت بھی قابل تسلیم ہے کہ انہی جہدکاروں کی شعوری اور فکری کاوشیں ہی فرسودہ روایات اور غیرمنصفانہ رسم و رواج میں شعوری حوالے سے تبدیلی کا باعث بنیں گے۔ 

میرے خیال سے اگر ساتھی اس مقام اور حالات کے نوعیت کے مطابق نظم و ضبط(ڈسپلن)کوسمجھنے کے لئے بھی علمی خزانوں کو ٹٹولیں تو بہتر ہوگا۔

حقیقتاََ کوئی بھی تنظیم اور پارٹی بغیر نظم و ضبط کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ نظم و ضبط ہی ایک تنظیم کی جان ہوتی ہے یا یوں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مقصد، پالیسی، نظم و ضبط اور افراد کے کردار کا مجموعہ تنظیم کہلاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ نظم و ضبط ہوتا کیا ہے یا اسکی حقیقت اور ضروریات کی وضاحت کیسے کی جائے۔ 

دراصل تمام ضابطے، اصول، نظم تنظیم سے منسلک افراد کے خارجی افعال کو آپس میں مربوط کرتے ہوئے تنظیم سے منسلک افراد کے درمیان اور تنظیم اور تنظیمی مقاصد کے بیچ اختیارات فرائض اور حقوق کا تعین کرتے ہیں اس عمل کے مکمل ہونے کے و نظم و ضبط(ڈسپلن) کہتے ہیں ایک طرح سے یہ سیاسی اقتدار کو بنیادی ابتدائی شکل فراہم کرتے ہیں نظم و ضبط کو ابتدائی قانون قرار دینا غلط نہیں ہوگا .جو طاقت و مقاصد کے حصول کے ساتھ مستقبل میں قومی اقتدار اعلیٰ یا قومی ریاست کے وسیع قانون کی شکل اختیار کرسکتا ہے یا یوں کہیں کہ کرلیتا ہے۔

سماجی زندگی میں قبائلی اور خاندانی تنظیم روایات کے بنیاد پر لوگوں کو منظم رکھتا ہے لیکن ذرا وسیع پیمانے پر اگر سیاسی تنظیم کے تناظر میں اسکا جائزہ لیا جائے تواصول، نظم و ضبط ،تنظیمی مقاصد، تنظیمی پالیسیوں اور تنظیمسے تعلق رکھنے والے افراد کے فرائض،اختیارات،حقوق کے ساتھ ہی ساتھ انکے سماجی تعلقات میں توازن کا نام ہیں۔

یہ انہی تعلقات میں توازن رکھنے کے لئے بنائے گئے ہیں اور بنائے جاتے ہیں ہمارے ہاں شاہد انکو جرائم اور قانونی پابندیوں کے تناظر میں دیکھا یا لیاجاتا ہے۔ نظم و ضبط کی ضرورت و حقیقی تعریف کی وضاحت وتشریح اسلئے بھی ان حالات میں ضروری ہوچکا ہے کیونکہ نظم و ضبط کے نام پر بہت سے غلط فہمیاں پیدا ہوچکے ہیں یا پھرکی جارہی ہیں اور بہت سے غیر مناسب غیر موزوں پابندیوں کو بھی جواز فراہم کیا جارہا ہے لوگوں کو منظم رکھنے والی ٹیم یا گروہ کا اس بات سے باخبر ہونا ضروری ہے کہ عوامی حمایت و محنت کے حصول اور اسکو بروئے کا ر لانے کا انکے پاس متفقہ فارمولا کیا ہے؟؟؟

ایسا ہو نہیں سکتا کہ ایک ہی طرح کے عمل پر آپ دو طرح کے الگ الگ اصول لاگو کریں اور شک یا سوال کا حق بھی ڈسپلن کے نام پرجرم قرار دیں آپ کے پاس متفقہ طور پر ذمہ داریاں اختیارات تقسیم کرنے کا فارمولا بھی نہ ہو اور آپ اختیارات کے تقسیم و سلب کرنے میں بھی بااختیار ہوں ثبوت،وجہ،جواز،شک کا فائدہ کچھ بھی پیش کرنے سے قاصر یابری الذمہ بھی ہوں جب اتنے تضادات کے ساتھ آپ لوگوں کا بھروسہ و اعتماد حاصل کرنا چائیں گے تو آپ کیلئے بہت مشکل ہوگا۔

جہاں تک بات قانون، اصول اور نظم و ضبط کو یکجا کرکے دیکھنے کا ہے تو ان تمام کا مقصد انسانی تعلقات میں توازن قائم کرنے سے ہے جسکی بنیاد عدل و انصاف پر قائم ہوتی ہے فطری قوانین کے بعد اخلاقی قوانین ہی بہتر و اعلیٰ کہلائے جاتے ہیں، کیونکہ اخلاق کا تعلق خارجی نہیں داخلی طور ضمیر سے ہوتا ہے اور اس کا انحصار مکمل رائے عامہ پر ہوتا ہے کسی کمزور پر ظلم دھوکہ دہی، چوری، قتل، جھوٹ، کسی کی حق تلفی سازش وغیرہ کسی بھی سماج میں ناپسندیدہ عمل جانے جاتے ہیں،اسی مناسبت سے اگر دیکھا جائے تو بعد کے جتنے بھی قوانین آتے ہیں انکا اخلاقیات سے گہرا تعلق ہے کسی بھی قانون کو جہاں بھی لاگو کیا جاتا ہے اسکو وہاں کی اکثریت کی اخلاقی حمایت حاصل ہو تب وہ آسانی سے نافذ اور قابل عمل ہوسکتا ہے اور اسکے کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اسلئے تمام انسانی تعلقات میں سب سے اہم اور لازمی بات اخلاقی برتری شمار کی جاتی ہے جو تعلقات کو بہت ہی مضبوط اور دیرپاء بناتی ہے لیکن بدقسمتی سے کسی بھی قسم کے تعلقات کسی بھی وجہ سے اپنے اخلاقی برتری کے جواز کو کھو دیتے ہیں تو پھروہاں ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے ان تعلقات کو قائم رکھنے کے لئے وقت و حالات اور تعلقات کی نوعیت کے مطابق متفقہ اصولوں اور قانون کا سہارا جس میں نظم و ضبط کو قائم رکھا جاسکے۔ورنہ انسانی تعلقات میں اگر خاندان کاسربراہ قبائلی نظام میں قبائل کے بیچ کوئی طاقتوار قبیلہ یا ایک قبیلے کا سردار روایات کے خلاف من مانی کریں یا کسی پارٹی یا تنظیم کا سربراہ سیاسی تعلقات میں کسی بھی وجہ سے من مانی شروع کردیں تو اسکے نتائج سیدھی طرح سے بے چینی، بداعتمادی اور بغاوت کا سبب بن جاتے ہیں۔

تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسئلے کو سمجھنے کے لئے اسکے وجوہات و اسباب کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے اور اسکے بعد اسکے حل کیلئے کوششیں کئے جاتے ہیں اگر کسی بھی نوعیت کے مسئلے سے جوڑے کسی بھی کردار کی نفی کی جائے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ایک اور مسئلہ سر اٹھائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *