کیا امریکہ پاکستان پر سختی کرنے والا ہے

امريکی کانگريس ميں ايک ایسے بل کے مسودے پر بحث جاری ہے جس ميں پاکستان کے حوالے سے نسبتاً سخت رويہ اختيار کرنے کا عنديہ ديا گيا ہے۔

امريکی کانگريس کا ايک پينل اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی سول اور عسکری مالی امداد کو اسلام آباد کے افغان طالبان کے خلاف جنگ ميں مزید تعاون کے ساتھ مشروط کر دیا جائے۔ پاکستان ميں مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع کردہ رپورٹوں کے مطابق پينل کے ارکان نے اس موضوع پر بحث جمعرات کے روز شروع کی۔ 2018ء کے ليے ’اسٹيٹ اينڈ فارن آپريشنز ايپروپری ايشنز بل‘ کا مسودہ بدھ کو پيش کيا گيا تھا۔ يہ بل دراصل پاک افغان سرحدی علاقوں ميں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائيوں ميں پاکستان کے کردار کے حوالے سے واشنگٹن کے تحفظات کی عکاسی کرتا ہے۔

اسٹيٹ اينڈ فارن آپريشنز ايپروپری ايشنز بل‘ کے مسودے ميں يہ تجويز دی گئی ہے کہ اسلام آباد کے ليے تينتيس ملين امريکی ڈالر کی مالی امداد ڈاکٹر شکيل آفريدی کی رہائی اور انہيں تمام الزامات سے بری کر ديے جانے تک روک دی جائے۔ ڈاکٹر آفريدی نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان ميں موجودگی کے بارے ميں امريکی حکام کو اطلاع دی تھی۔

کانگريس کے پينل ميں ان دنوں زير بحث اس بل ميں يہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ امريکی سيکرٹری آف اسٹيٹ اس بات کی يقين دہانی کرائيں کہ پاکستان حقانی نيٹ ورک، لشکر طيبہ، جيش محمد اور القاعدہ سميت ملک ميں سرگرم ديگر دہشت گرد تنظيموں کے انسداد سے متعلق کارروائيوں ميں امريکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ بل کے مسودے ميں يہ بھی شامل ہے کہ امريکی وزير خارجہ اس بات کی يقين دہانی کرائيں کہ پاکستانی فوج اور انٹيليجنس ایجنسیاں امريکا اور افغانستان ميں تعينات اتحادی افواج کے خلاف دہشت گردانہ کارروائيوں ميں معاونت فراہم نہيں کر رہيں۔

امريکی سینٹ کے ارکان پر مشتمل ايک وفد نے ری پبلکن سينيٹر جان مککين کی سربراہی ميں اسی ماہ کے آغاز ميں پاکستان کا دورہ کيا تھا۔ وفد کے ارکان نے وزير اعظم نواز شريف سے ملاقات بھی کی تھی۔ ان کے اس دورے کا مقصد علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لينا تھا۔ علاوہ ازيں افغانستان ميں نيٹو اور امريکا کے مزيد دستوں کی تعيناتی بھی ہونے والی ہے اور اس سلسلے ميں پاکستان سے اضافی تعاون کا مطالبہ کيا جا سکتا ہے۔

يہاں سوال يہ اٹھتا ہے کہ آيا ايسی صورتحال ميں پاکستان کے خلاف سختياں متعارف کرائی جا سکتی ہيں۔ يہ جاننے کے ليے ڈی ڈبليو نے مائيکل کوگلمين سے حال ہی ميں بات چيت کی تھی، جو امريکی ووڈرو ولسن سينٹر ميں جنوبی ايشيائی امور کے ايک ماہر ہيں اور بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے بارے ميں کافی معلومات رکھتے ہيں۔ کوگلمين کے بقول پاکستان کے حوالے سے امريکی پاليسی ميں سختی متعارف کرائے جانے کے قوی امکانات ہيں ليکن فی الحال اور مستقبل قريب ميں بھی يہ ممکن نہيں۔

مائيکل کوگلمين نے مزيد کہا، ’’واشنگٹن کی طرف سے پاليسی کی تبديلی کی صورت ميں پاکستان، چين اور روس کے ساتھ قريبی تعلقات کا خواہاں ہو گا ليکن اس خطرے کو طول نہيں دینا چاہيے۔ پاکستان ويسے ہی اس جانب بڑھ رہا ہے ليکن يہاں يہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہيے کہ بيجنگ اور ماسکو کے افغانستان ميں اہداف امريکی حکومت کے اہداف کے قريب تر ہيں، نہ کہ پاکستان کے۔ روس اور چين افغانستان ميں استحکام کے خواہاں ہيں۔ پاکستان کے طالبان کے ساتھ مبينہ روابط ہيں اور امکاناً افغانستان ميں عدم استحکام ممکنہ طور پر پاکستان کے مفاد ميں ہے کيونکہ اس سے وہاں بھارتی اثر و رسوخ متاثر ہوتا ہے‘‘۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے نائن الیون کے بعد مسلسل دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے ایک طرف وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکہ سے امداد لیتا ہےتو دوسری طرف دہشت گردوں کے مختلف گروہوں کی سرپرستی بھی کرتا ہے تاکہ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو کم کیا جائے۔

لیکن پچھلے سترہ سالوں سے یہ پالیسی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہےکیونکہ تمام تر دہشت گردی کے باوجود افغانستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک پارٹنر شپ کا معاہدہ طے پاچکا ہے جس کے مطابق بھارت اافغان فورسز کو ہتھیاروں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کرے گا۔

لیکن پاکستان کی فوجی اشرافیہ اس سے کچھ سبق حاصل کرنے کی بجائے مسلسل مخاصمت کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں جس کا نقصان پاکستانی ریاست اور اس کے عوام اٹھارہے ہیں۔

DW/News Desk

One Comment

  1. Balach khayal says:

    i want to be join u

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *