کس سےبات کریں؟نواز شریف،آرمی چیف یا حافظ سعید سے

بالی وڈ اداکار سلمان خان نے کہا ہے کہ جو لوگ جنگ کا حکم دیتے ہیں انہیں سرحد پر بھیجا جانا چاہیے۔

سلمان خان آج کل اپنی نئی فلم ٹيوب لائٹکی تشہیر کر رہے ہیں جو عید کے روز ریلیز ہو رہی ہے۔ان کی نئی فلم ٹيوب لائٹ جنگ کے پس منظر پر مبنی ہے جس میں وہ ایک ایسے نوجوان کا کردار ادا کر رہے ہیں جس کا بھائی جنگ میں قیدی بنا لیا جاتا ہے۔

اس سے پہلے سلمان خان کی فلم بجرنگی بھائی جان بھی انڈیا پاکستان کے درمیان عوامی تعلقات کے موضوع پر بنائی گئی تھی۔

اس فلم کی پرموشن کے دوران انکا کہنا تھا مجھے لگتا ہے کہ جو لوگ جنگ کا حکم دیتے ہیں انہیں ہی سامنے کھڑا کر دینا چاہیے کہ یہ لو بھائی گن پکڑو، پہلے آپ لڑو۔ ایک دن کے اندر بند ہو جائے گی، انکے ہاتھ پیر کانپنے شروع ہو جائیں گے اور وہ براہ راست میز پر آکر بات چیت کرنے لگیں گے‘۔

سلمان نے یہ بھی کہا کہ جب بھی جنگ ہوتی ہے اس میں دونوں طرف کے لوگ مارے جاتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں جہاں سلمان کے اس بیان کو امن کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے وہیں کچھ لوگ سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

انڈیا کے نام سے ایک اکاؤنٹ سے لکھا گیا، سلمان کو یہ بھی مشورہ دینا چاہیے کہ بھارت کو پاکستان میں کس سے بات کرنی چاہیے نواز شریف سے، فوج کے سربراہ سے یا پھرحافظ سعید سے۔ کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو پھر بات بھی کیا کرنی چاہیے۔ بات چیت ہارے ہوئے لوگوں کی زبان ہے۔

گورو آر ڈی ایکس نے لکھا، بھارت پہلے کبھی جنگ نہیں کرتا. ہمارے فوجی شہید کرنے والا پاکستان ہے، اس وجہ سے پاکستان کے لیے محبت کا احساس رکھنے والا غدار ہے‘۔

وہیں ویكاريا بپن نے سلمان کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا، قومی سلامتی کے معاملات میں مداخلت نہ کرو ہم آپ سے ایک اداکار کی شکل میں محبت کرتے ہیں اس لیے آپ جو ہیں وہی رہیں، دہشت گردی کے بارے میں فیصلہ کرنا آپ کا کام نہیں ہے۔

انمیش دیو نے لکھا کہ ان کی نئی فلم آ رہی ہے اور یہ مفت پبلسٹی لینے کا وقت ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی پر جی ایچ کیو کا کنٹرول ہے۔ یہی وجہ ہے جو بھی سیاسی و جمہوری حکومت بھارت سے دوستی کی بات چیت شروع کرتی ہے اسےپاکستان کی سیکیورٹی ایسٹیبشلمنٹ اپنی پراکسی ، حافظ سعید ، مسعود اظہر یا صلاح الدین کے ذریعے سبو تارژ کردیتی ہے۔

BBC/News Desk

One Comment

  1. یاد رہے کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی پر جی ایچ کیو کا کنٹرول ہے۔ یہی وجہ ہے جو بھی سیاسی و جمہوری حکومت بھارت سے دوستی کی بات چیت شروع کرتی ہے اسےپاکستان کی سیکیورٹی ایسٹیبشلمنٹ اپنی پراکسی ، حافظ سعید ، مسعود اظہر یا صلاح الدین کے ذریعے سبو تارژ کردیتی ہے۔
    It is since long this practice is on when GHQ became effective during Ayub Khan was appointed as M.O.D is uniform, and civilian politicians were alleged with corruption, inefficiency and ineptness, and were ABDOED and above all Kashmir issue became insoluble by Indian effective diplomacy. One after another military rulers put the 1973 Constitution in abeyance or some of them abrogated it saying, it is peice of papers could be thrown into dustbin. Most of the time Terrorist outfits were looked after by GHQ for Kashmir cause.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *