کیا ریاست دہشت گردوں کو ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی

کالعدم لشکر طیبہ و جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پاکستان میں طلباکو جہاد کا درس دیتے ہوئے


بی بی سی کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے چندہ مہم دوبارہ شروع کر دی گئی ہے اور اس مہم میں کہا جا رہا ہے کہ مجاہدین افغانستان اور دیگر علاقوں میں جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھیں مدد کی ضرورت ہے۔

کیا آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد جو دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے صرف پاکستان کی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے تھے؟یاد رہے کہ آپریشن ضرب عضب پر قومی خزانے سے 190 بلین روپے خرچ کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ جب دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج نے نہایت دھوم دھام سے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا تو اسی وقت غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے اس آپریشن پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جسے پاکستانی ریاست کے محب الوطن دانشوروں اور میڈیا نے رد کر دیا تھا۔

بی بی سی کے مطابق خیبر پختونخوا میں کالعدم تنظیموں کے ایسے ویڈیو کلپس اور ایسے پمفلٹ یا خطوط سامنے آئے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ مجاہدین کی مدد کی جائِے۔ بظاہر ایک ویڈیو کلپ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ خیبر پختونخوا کے کسی دور افتادہ علاقے کی ایک مسجد میں لیا گیا ہے جس میں جہاد کی دعوت دی جا رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ مجاہدین کی مدد کی جائے ۔

اسی طرح سوشل میڈیا پر ایک خط بھی سامنے آیا ہے جس میں افغانستان میں طالبان کی مدد کی اپیل گئی ہے۔یہ خط بلوچستان کے ضلع ژوب کی ایک مسجد کے لیے ہے جس میں جمعہ کو مجاہدین کے لیے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک عرصے کے بعد اس طرح کی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

یادرہے کہ چند دن پہلے طالبان نے افغانستان کے درالحکومت میں ایک شدید حملہ کیا جس میں نوے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ افغانستان کی حکومت نے اس حملے کا ذمہ دار حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کو ٹھہرایا تھا۔

شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے کالعدم تنظیموں کی جانب سے یہ مہم شروع کی گئی ہے۔

پروفیسر خادم حسین نے بتایا کہ اس مہم کے ذریعے چندہ جمع کرنے اور لوگوں کو اپنی تنظیموں کی جانب راغب کرنے کے لیے کام کیا جاتا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ کالعدم تنظیمیں خطے میں واقع مختلف ممالک میں متحد ہونے کی کوششیں کر رہی ہیں اور اگر یہ کامیاب ہوتے ہیں تو پھر اس کے اثرات پورے خطے پر ہوں گے۔

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس مہم میں وہ اپنی مالی مشکلات کا ذکر کر رہے ہیں تو کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں کالعدم تنظیموں کے وسائل میں کمی واقع ہوئی ہے؟

پروفیسر خادم حسین کا کہنا تھا ان آپریشنز کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سول اداروں کی کمی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ فوج نے تو اپنے اہداف حاصل کیے گئے ہیں لیکن ان تنظیموں سے وابستہ افراد عام شہری آبادیوں میں گھل مل جاتے ہیں۔

جبکہ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ طالبان کے ان نمائندوں کا پاکستان کی سیکیورٹی ایسٹیبشلمنٹ کی مدد کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا ناممکن ہے ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ریاست ان دہشت گردوں کو بدستور اپنا اثاثہ قرار دیتی ہے ۔ بین الاقوامی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ان کے خلاف آپریشن کیا جاتا ہے لیکن آپریشن کے بعد حالات کو ساز گار دیکھتے ہی دوبارہ منظر عام پر آجاتے ہیں۔

BBC/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *