اپنے گمشدہ دوست، شبیر کے نام ایک خط


سلام لکی
امید ہے کہ زندہ ہوگے۔
اِس امید کے ساتھ کچھ لکھ رہا ہوں کہ زندان میں ڈاکٹر حنیف شریف کو ’’ باران وریگے‘‘ کا اطلاع دینے والا کوئی مہربان ظالم آپ کے چیمبر میں بھی ہوگا۔ جو اگرچہ سخی، آہو جان اور ماں کی باتیں آپ تک نہیں پہنچا سکے گا لیکن میری یہ تحریر شاید زبانی آپ کو سُنا سکے۔ اور ہاں! اگر اس تحریر میں فارمل الفاظ کے استعمال سے آپ کنفیوز ہوگئے کہ دوستی میں یہ احترام کہاں سے آ گیا، توابھی سے وضاحت کردوں کہ یہ کھلا خط ہے۔ کھلے خط میں مخاطب کے لئے انفارمل الفاظ کا استعمال کچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑتا۔

بہر کیف، لکی
زندگی لاکھوں کروڑوں لوگوں کے لئے اپنی روانی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انسان میکانکی انداز اپنا کر چلتا پھرتا مشین بن چکے ہیں ۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں ایسے مگن کہ پوری دنیا کا حلیہ بگڑ رہا ہے۔ شاید جان ایلیا نے کہا تھا کہ میں اس لئے پریشان ہوں کہ باقی لوگوں نے پریشان ہونا چھوڑ دیا۔ اب کوئی ایلیا جیسا حساس بندہ بھی نظروں میں نہیں آتا جو دوسروں کے لئے رو سکے ، دوسروں کے لئے نہ سہی اپنے لئے ہی روکر اپنا غم غلط کرسکے۔

انسان کی تخلیق کے حوالے سے ڈارون کا مانیں یا ملّاکا، لیکن جس طرح کروڑوں سال پہلے سورج نے اپنے لئے ایک راستہ متعین کیا تھا، چاند اور ہوا نے جو کردار چُنے تھے وہ انہی پر کاربند ہیں۔ لیکن انسان اپنے ارتقائی مرحلوں سے گزرتے گزرتے مشین بن گئے ہیں۔ اگر آپ 9مہینوں کی بندش کے بعد یہ سوچ رہے ہیں کہ زندان کے باہر زندگی جامد و ساکن ہوچکی ہے، لوگوں کی روز مرہ کی سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں۔ سب لوگ پٹی بندھی آنکھوں سے ایسے سوالوں کی تفتیش کا منتظر ہیں جن کو وہ شاید پہلی دفعہ سُن رہے ہیں۔ تو یہاں ایسا کچھ بھی نہیں۔

یہاں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ لوگ اب بھی ہنستے ہیں، روتے ہیں، کھیلتے ہیں۔ جذباتی ہوتے ہیں۔ کھڑکی سے باہر میں نے تھوڑی دیر پہلے جھانکا ، ایک نوجوان جوڑے کو دیکھا وہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بے تکلفی سے جارہے تھے۔ مجھے اُن کے اس عمل میں حسن نظر آیا، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ زندگی جیسے 9مہینے پہلے رواں دواں تھی اب بھی ویسے ہی چل رہی ہے۔ میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ لوگ کیوں اتنے آرام سے بیٹھے ہیں جبکہ بلوچستان سے ہزاروں لوگ غائب ہیں۔ کتنوں کی لاشیں ملی ہیں۔ گھر کیسے جلتے ہیں لیکن زندگی کی روانی میں تعطل تو کجا کچھ فرق بھی نہیں پڑتا۔

بلوچستان میں لوگ ایسا ہی سوچتے ہیں ۔ کراچی کے چند خاندان یا سندھ کے چند لوگ بھی شاید ایسا ہی سوچتے ہوں، اجتماعی حوالے سے تو لوگوں کی پریشانی یہ ہے کہ پاناما کا فیصلہ کیا آئے گا۔ میچ کون جیتے گا۔ آپ کو یاد ہے کہ اسکول میں ماسٹر نے ایک محاورہ پڑھایا تھا’’ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا‘‘ اُس وقت تو اسی محاورے پر روز ڈانٹ پڑتی لیکن محاورے پر مہارت کبھی حاصل نہ کرسکے۔ اب کہیں جاکر یہ بھید کھلا ہے کہ ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کا مطلب کیا ہے۔

ایک دیہاڑی دار مزدور جب اس بات کا منتظر رہے کہ کھرب پتی عمران خان اتنے ہی دولت کا پتی نواز شریف کو کرپٹ ثابت کرکے ایک عام مزدور کی زندگی بدل دے گا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ دیہاڑی دار ٹرک کی بتی سے چپک چکا ہے۔ منٹو کا وہ افسانہ جو آپ پڑھ رہے تھے آپ کو یاد ہے نا، نیا قانون۔ پاکستان میں ہر الیکشن یا عدالتی پیشی بالکل نیا قانون جیسا ہے۔ یہاں کچھ بھی نہیں بدلتا، منگھو کوچوان شروع سے ہی جس طرح صاحب کی بوٹوں کے نیچے تھا، اب بھی وہیں پڑا ہے۔یہاں بدلے ہیں تو احتجاج کے طریقے۔ خود سوزی جیسا انسانیت سوز احتجاج بھی اب تخلیق پا گیا ہے۔ اس حیرت انگیز تخلیق کا خالق کون ہے مجھے نہیں پتہ، البتہ یہ تخلیق گھٹن زدہ معاشروں میں عام ہوتی جارہی ہے۔

لکی
نو ماہ سے کوئی سلام دعا نہیں ہوئی ہے۔ باتیں بے شمار ہیں لیکن یقین جانو کہ کہنے کا ہنر مفقود ہوچکا ہے۔ بلوچی میں ایک شعر ہے، شاعر کا نام مجھے یاد نہیں اگر آپ کو یاد ہو تو بتا دینا۔یہ شعر آپ کا بھی پسندیدہ ہے کہ

امنچو گوں ترا گپ است
نزاناں چے گُشگ لوٹاں

ان نو مہینوں کے دوران دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ تبدیلیاں تو ہر وقت آتی رہتی ہیں لیکن بیان کرنے کا مقصد آپ کو مطلع کرنا ہے۔ وئیر آر یو، یو این او ، شاید سب سے زیادہ دہرایا جانے والا نعرہ بن چکا ہے بلوچستان میں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جگہ ایک اور انتھونیو گوٹیرس نامی شخص نے لے لی ہے ۔ ظاہر ہے ہم کسی عالمی ادارے کی چندہ کے نام پر فنڈنگ نہیں کرسکتے، اس لئے کوئی ہمارے حق میں بولے بھی تو کیوں۔

اس کے علاوہ ایک بہت بڑی تبدیلی، جس نے میرے اور آپکے تجزیوں کو غلط ثابت کردیا وہ ہے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت۔ بحیثیت ریاست امریکہ کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، البتہ ٹرمپ کی جیت ہمارے لئے عجیب ہے۔ ویسے ہمارے لئے ٹرمپ جیتے یا کلنٹن، امریکہ کے حکمران تو ہمیشہ رائیتھون، وال مارٹ اور اموکو کے مالک ہوں گے۔ اس لئے دنیا کو مزید جنگ کے لئے تیار رہنا چاہیے کیوں کہ جنگ ہوگی تو طاقت ہوگی۔

ساحر نے کہا’ تھا کہ برتری کے ثبوت کے لئے، جنگ لڑنا ہی کیوں ضروری ہے‘۔ ساحر دنیا کو ایک لطیف انسان کی نظر سے دیکھتا تھا۔ میں بھی اپنے دل میں ’’پا ‘‘ فلم کے ایک کردار کی طرح زمین کو بارڈر لیس دیکھنا چاہتا ہوں۔ چاند پر روٹی کشیدنے والی مخلوق کو دو وقت کی روٹی کی فکر سے آزاد دیکھنے کا خواہش مند ہوں۔ لیکن اپنے ہی محلے کے تمام لوگوں کو بے گھر دیکھنے پر مجبور ہوں، کئی لوگ اپنی عزت نفس کو داؤ پر لگا کر دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، شاید آئندہ نسلوں تک ایسا ہی چلے۔ ایک اور اہم واقعہ جو میں بولنے والا تھا، وہ یہ کہ برطانویوں نے یورپ سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب مجھ سے یہ نا پوچھیں کہ کیوںیہ فیصلہ انہوں نے لیا ہے، میں صاف بتائے دوں کہ مجھے کچھ نہیں معلوم!۔

ایران میں بھی الیکشن ہوئے ہیں۔ فرانس اور جرمنی میں بھی۔ برطانیہ میں ابھی چند روز قبل الیکشن ہوئے تھے۔ اگر مبالغہ نہ ہو تو دنیا میں الیکشنز اور خارجہ پالیسیاں صرف دکھاوے کے لئے ہیں۔کیوں کہ دنیا کے سارے سیاست دان صرف پوسٹر بوائے ہیں۔ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا اس کا فیصلہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور امریکہ بہادر کرتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ٹرمپ ہمارے قبلہ میں آیا تھا۔ کیا عالیشان استقبال کیا آلِ سعود نے واللہ، اسلام کی حقانیت پر ٹرمپ کی روح پرور تقریرپر مجھے ’رقت آمیز ہنسی‘ آئی۔ ٹرمپ نے مسلم دنیا کو اپنے دورے کے دوران کفار کے خلاف یکجا کیا۔

سعودی عرب کے شاہ سے زیادہ شاہ سلمان سے110 بلین ڈالرز کے اسلحہ کا سودا بھی لگایا۔ ٹرمپ کے جانے کے فوراََ بعد سعودی مسلمان جوش میں آگئے اور اپنے ہی مسلمان ہمسایہ قطر پر پابندی لگادی۔ ٹرمپ کو مسلمان قطر پر رحم آگیا اور فوراََہی 12 بلین ڈالرز کی اسلحہ فراہمی کا معاہد ہ کیا گیا۔ اسلحہ دینے سے پہلے ٹرمپ نے بہ زبانِ خود، بہ بانگ دہل یہ فرمایا تھا کہ قطر دہشت گردوں کی معاونت کررہی ہے۔ غالباََ اسلحہ بیچتے ہوئے ٹرمپ نے قطر کے شاہ سے یہ کہا ہوگا کہ آئی واز جسٹ کڈنگ یار!۔

لکی
دنیا کو کسی کی نہیں پڑی ہے۔ نہ افریقی بھوکوں کے لئے، نہ شام کے بے گھروں کے لئے اور نا بلوچستان کے گمشدگان کی اُن کو پروا ہے۔ میں اور آپ تو پہلے سے ہی متفق تھے، اب بھی ہیں کہ ہماری جنگ کا مددگار کوئی دوسرا ملک نہیں بلکہ ہم خود ہی ہیں۔ وہ نوجوان جنہیں دوسروں کی بھوک ستاتی ہے وہ ہی اس جنگ کا مستبقل اور آنیوالی ریاست کا مالک ہیں۔ اسی لئے ریاست ایسے نوجوانوں کی صفائی کررہی ہے تاکہ اس جنگ کا تعلق عام لوگوں سے ختم کرے۔ 

لکی، اب بھی کولواہ میں گھر جلتے ہیں، اب بھی دشت میں لوگ محفوظ نہیں۔ مشکے اب بھی خوفزدہ ہے۔ گوادر کی پیاس روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے پہاڑ سیاہ پڑھ گئے ہیں۔ قلات و بولان کے چرواہے اب امن کا گیت گاتے ہوئے بھی خوف زدہ ہوجاتے ہیں کہ کہیں قریبی چوٹی پر قائم چوکی کے سپاہیوں کو امن کا ترانہ ناگوار نہ گزرے۔ مختصر یہ کہ یہاں کا قصہ وہی ہے، کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ 

لکی
جو بات میں کہنا چاہ رہا تھا وہ نہیں کہہ پایا۔ آپ خود سمجھیں میں کہنا کیا چاہ رہا تھا۔
سلامت رہیں، امید ہے جلد وہاں سے آئیں گے۔
اور ہاں! باران وریگے کا اطلاع دینے والے کو سلام کہنا۔

آپ کا اپنا ۔

دوستین، کولواہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *