مرے ہوئے لوگوں کا ٹیلا اور ہم

بیرسٹر حمید باشانی

نواز شریف نے سچ کہا ہے۔تاریخ کا پہیہ پیچھے کی طرف نہیں گھمایا جا سکتا۔اور ایسا ہونابھی نہیں چاہیے کہ تاریخ آگے کی طرف سفر کا نام ہے۔ اور عام خیال کے بر عکس تاریخ اپنے آپ کو دہراتی بھی نہیں۔پوری دنیا میں یہ دونوں باتیں درست ہیں۔اور لوگ انہیں سچ مانتے ہیں۔مگر پاکستان میں ان دونوں باتوں پر ابہام ہے۔

پاکستان کی ستر سالہ سیاسی اور سماجی تاریخ کے گہرے تجزئیے سے لگتا ہے کہ یہاں تاریخ کو پیچھے کی طرف گھمانے کی کوشش ہر دور میں ہوتی رہی ۔اور آج بھی جاری ہے۔۔ او رشاید یہ واحد خطہ ہے جہاں تاریخ نے اپنے اپ کو دہرانے کا انہونا کام بھی کیا ہے۔ اسی لیے اک شاعر نے اسے ایک آسیب زدہ ملک کہا تھا جہاں حرکت تیز تر ہے اور سفرآہستہ آہستہ۔اور یہ عجیب بات بھی صرف اسی خطے میں ایک سنہری مقولہ بن سکتا ہے کہ دوسری اقوم کی ترقی یہ ہے کہ وہ آگے کی طرف سفر کریں اور ہماری ترقی پیچھے کی طرف چلنے میں مضمر ہے۔

یہ پیچھے کی طرف کا سفر ہماری سیاسی اور سماجی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے عیاں ہو جاتا ہے۔اگر ہم اپنے اس سفر کاآ غاز چودہ اگست 1947 سے ہی شروع کریں اور ہم آج کے سیاسی سماجی اور ثقافتی حالات کا اس وقت سے موازنہ کریں تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہمارا سفر یا تو زوال کا سفر ہے یا پھر ہم مسلسل ایک ہی دائرے میں گھومتے رہے ہیں۔اس وقت اپ کا مقبول ترین لیڈر ایک آزاد خیال سیکولرشخص تھا جس نے گیارہ اگست 1947 والی تقریر کی تھی۔یہ ایک روادار اور مہذب سماج کے قیام کا پیغام تھا۔

آنے والے وقتوں میں اس مد میں آپ نے اتنی ترقی کی کہ آ ج لفظ سیکولر اس دھرتی پر ایک گالی یا طعنہ ہے۔آپ کا کوئی حکمران یہ لفظ زبان پر لانے کی جرات نہیں کر تا۔ستر سال پہلے اپ کے شہروں میں زندگی ثقافتی اور سماجی اعتبار سے زیادہ آزاد اور ترقی پسندانہ تھی۔ستر سال پہلے رات کولاہور کی مال روڑ پر ایک اکیلی لڑکی سائیکل چلا سکتی تھی۔ستر سال پہلے کراچی میں ایک سیاح شام ڈھلے کسی میخانے سے نکل کر سیٹی بجاتا ہوا اپنے ہوٹل جا سکتا تھا۔ایک ملاں اپنے فرقے اور خیالات کا بلا خوف اظہار کر سکتا تھا۔ایک یونیورسٹی پروفیسر کلاس میں اپنے اصلی اور سچے خیالات کا اظہار کر سکتا تھا۔ایک طالب علم کھلے عام اپنے دل میں اٹھنے ولا ہر سوال اپنے لبوں پے لا سکتا تھا۔

آج آپ کے شہروں میں کوئی ان سب باتوں کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی کانپے گا۔یہ تو صرف ستر سال کا قصہ ہے۔اور ظاہر ہے ہماری تاریخ کوئی ستر سال سے نہیں شروع ہوتی۔ہماری تاریخ تو ہزاروں سال پرانی ہے۔زیادہ پیچھے نہ سہی ، ہڑپہ اورموہنجودڑو یعنی مرے ہوئے لوگوں کے ٹیلے تک ہی جائیں، وہاںیہ جو شہر ہم نے بنائے اور بسائے تھے ، صاف ستھرے تھے۔ وہاں کا رہن سہن منظم تھا۔ ہڑپہ اور موہنجودڑو میں ہر گھر پانی کی فراہمی اور نکاسی کے ایک نظام سے منسلک تھا۔ پختہ گلیاں تھیں جن میں کھلے گٹر نہیں بہتے تھے۔ عام لوگوں کا طرز زندگی اور میعار زندگی آج کے پاکستان کے کئی شہروں اور دیہاتوں سے بہتر تھا،جہاں آج بھی آبادی کی ایک بڑی اکثریت کو صاف پانی کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی اور ٹائلٹ کی سہولت تک میسر نہیں۔

اس قدیم تہذیب کے بارے میں کئی سولات ہیں جن کے جواب ابھی باقی ہیں۔ مگر کچھ سوالات کے جواب جان کر یہ ماننا پڑتا ہے کہ اڑھائی ہزار سال قبل مسیح بھی ہم زندگی کہ کچھ بہت ہی اہم معاملات میں آج سے بہتر اور آگے تھے۔ مثال کے طور پر کچھ تحقیقاتی روپورٹوں سے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ اگرچہ اڑھائی ہزار سالہ پرانی اس تہذیب میں تعمیرات اور منصوبہ بندی کے لیے اختیارات کو مرکزیت حاصل تھی لیکن بیشتر انتظامی اختیارات مقامی آبادی اور مقامی شہروں کے پاس تھے۔

یہ سیلف گورننس او ر اپنے آپ پر حق حکمرانی کا وہ جدید تصور ہے جو پاکستان میں ابھی اپنے انتہائی ابتدائی مراحلے میں ہے اور جس کی ایک بہت ہی ابتدائی شکل کا اظہار آئین میں اٹھارویں ترمیم کی شکل میں ہوا ہے۔ 

ایک تحقیق سے یہ اہم بات بھی سامنے آتی ہے کہ اڑھائی ہزار سال پہلے کی اس تہذیب میں زندگی کے اہم معاملات بادشاہوں، فوجی امروں یا مطلق العنان حکمرانوں کے ذریعے نہیں بلکہ کمیٹیوں کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔ ان کمیٹیوں کے ممبران مختلف طریقوں سے منتخب ہوتے تھے۔گویا اس وقت کے حالات کے مطابق ایک طرح کا جمہوری نظام مروج تھا جس کو پوری طرح اپنانے میں آج بھی پاکستان میں دشواریوں کا سامنا ہے۔کہیں جاگیرداری اس کی راہ کی رکاوٹ ہے۔ کہیں سرداری اور قبائلی نظام۔اور کئی مذہب اور شریعت کے نام پر اس کو قبول کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔

اڑھائی ہزار سال پرانی اس تہذیب پر تحقیق سے یہ اہم بات بھی سامنے آئی ہے کہ اتنے خوبصورت اور صاف ستھرے شہروں اور اس میں بسنے والے شہریوں کے پاس کوئی جنگی ساز و سامان یا فوج نہیں تھی۔گویا وہ اپنے ہمسایوں یا دوسری تہذیبوں کے ساتھ امن سے رہتے تھے۔اگر ان آثار قدیمہ کی کھوج اور ان کے نتائج کا صرف دس فیصد بھی سچ مان لیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہم زوال کے سفر میں بہت پیچھے جا چکے ہیں، شائد کئی چار ہزار سال قبل مسیح سے بھی پہلے ۔اور یہ سفر رکنے یا اس کا رخ مڑنے کے کوئی اثار دور تک دکھائی نہیں دیتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *