پارا چنار کا سانحہ:کیا مجرموں کو بچایا جارہا ہے؟

سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ’’جسٹس فار پاڑا چنار‘‘ پاکستان میں ٹرینڈ کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین پاکستانی حکومت، فوج اور ملکی میڈیا پر اس حوالے سے تنقید کر رہے ہیں کہ پارا چنار واقعے کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق چونکہ اس حملے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے جو کہ پاک فوج کی اتحادی ہے اس لیے میڈیا اور دوسرے ادارے خاموشی میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔

یاد رہے کہ لشکر جھنگوی نے پہلے بھی کوئٹہ پارا چنار اور گلگت میں شیعوں کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن حکمرانوں کی طرف سے روایتی بیان بازی کے سوا ریاستی ادارے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر سکے۔

بعض سوشل میڈیا صارفین حکومت، فوج اور میڈیا کے اس رویے کو ’سازش‘ بھی قرار دے رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان فوج کے ترجمان نے حسب معمول گھسا پٹا بیان جاری کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے دشمن کی خفیہ ایجنسیاں اور ملک دشمن عناصر حالیہ واقعات کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ اور نسلی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق فوج اس سب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دشمن پہلے شدت پسندی کے ذریعے ہمیں تقسیم کرنے میں ناکام ہوا اور اب ہمیں فرقہ وارنہ اور نسلی بنیادوں پر الگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ دشمن دہشت گردی کے ذریعے پاکستانی فوج کو تقسیم کرنے میں ناکام ہوں گے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے مطابق آرمی چیف نے مختلف مکاتب فکر کے علماء سے ملاقات کی ہے۔

اس موقع پر جنرل باجوہ نے کہا کہ ملک دشمن عناصر فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں، حالیہ واقعات کو دہشت گردی اور نسلی منافرت کا رنگ دینے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارا چنار میں پچھلے چھ ماہ کے درمیان شیعوں کا منظم انداز سے قتل عام کیا جارہا ہے جبکہ پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے اس نے وہاں گہری نظر رکھی ہوئی ہے ۔

فرقہ وارنہ تنظیم لشکر جھنگوی، جو باقاعدہ فرقہ وارانہ قتل و غارت میں مصروف ہے، اس قتل عام کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن فوج کے سربراہ اسے دشمن کی سازش قرار دے رہے ہیں جس کا مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ پاک فوج مجرموں کو بچانا چاہتی ہے۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *