قائد اعظم کے ابتدائی تیس سال

لیاقت علی ایڈووکیٹ

بانی پاکستان محمد علی جناح کی ذاتی اور سیاسی زندگی کے بارے میں ویسے تو اب تک متعدد کتب لکھی جاچکی ہیں لیکن ان سب کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ ’ غیرمصدقہ اور یک طرفہ‘ ہیں۔ جناح کو پاکستان کے ریاستی بیانیہ میں جو نیم الوہی درجہ دے دیا گیا ہے اس کی موجودگی میں ان کی سیاست ہو یا ذاتی زندگی اس بارے معروضی سیاق و سباق میں لکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو چکاہے۔

جناح کے حوالے سے ریاستی بیانیہ میں جناح تقدس کے جس اعلیٰ مقام پر فائز ہیں اس سے ہٹ کر ان کی شخصیت اور سیاست کے بارے میں کسی بات کا بیان ’بلاسفیمی ‘ کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جناح کے بارے میں لکھی گئی کتب ہوں یا مضامین سب تعریف و توصیف پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کی سیاست کے کسی پہلو کا تنقیدی جائزہ لینے والے کو عام طور پر ’غیر محب وطن‘ کہہ کر مطعون کرنا ہمارا قومی فریضہ بن چکا ہے۔

رضوان احمد کی کتاب ’قائد اعظم۔ابتدائی تیس سال‘ کا شمار بھی ایسی ہی کتابوں میں ہوتا ہے جس میں جناح کی سیاست اور ذاتی زندگی کو معذرت خواہانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے لیکن اس روایتی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ رضوان احمد نے جناح کی زندگی کے ابتدائی تیس سالوں (1876-1906) کے بارے ایسی معلومات بھی فراہم کی ہیں جو اس موضوع پر لکھی گئی دیگر کتب میں میسر نہیں ہیں۔

رضوان احمد معروف معنوں میں مورخ نہیں ہیں ۔ الہ آ باد( یو۔پی بھارت) میں پیدا ہونے والے رضوان احمد نے اپنے کیئر یر کا آ غاز ڈھاکہ سے بطور وکیل کیا تھالیکن جلد ہی وہ کراچی منتقل ہوگئے اور یہاں وکالت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ وکالت اور سیاست میں سرگرم رضوان احمد نے جناح اور تحریک قیام پاکستان کا مطا لعہ شروع کیا جس میں ان کی دلچسپی روز بروز بڑھتی چلی گئی اور انہوں نے اس بارے مضامین لکھنا شروع کئے ۔

رضوان احمد نے1976 میں 1940-1942 میں پیش آنے والے واقعات میں جناح کے رول کے حوالے سے دو جلدوں پر مشتمل’ جناح پیپر ز ‘ مرتب کئے جنھیں علمی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی تھی۔ ’قائد اعظم کے ابتدائی تیس سال ‘ میں رضوان احمد نے جناح کے والد اور والدہ کے خاندان ، والد کے کاروبار اور ان کی نجی اور کاروباری زندگی سے جڑے واقعات کی تفصیلات ،جناح کی پیدائش، بچپن، ابتدائی تعلیم، ان کی اپنی تجارتی فرم کے قیام اور بعد ازاں ’اعلی تعلیم‘ کے لئے لندن روانگی کا احوال درج کیا ہے۔

رضوان احمد لکھتے ہیں کہ’ قیام پاکستان کے چون سال قبل کی بات ہے کہ کراچی کے ایک معزز تاجر گھرانے کا نوخیز لڑکا محمد علی جناح بھائی 1893میں سات سمندر پار تجارتی سفر پر روانہ ہوا چھٹی جماعت کے اس طالب علم کا یہ سفر اچانک نہیں تھا بلکہ ایک سال کی تاخیر سے شروع ہوا تھاصفحہ(21)۔

محمد علی ابھی پانچویں جماعت میں تھے کہ ان کے والد نے ان کو لندن بھیجنے کا فیٖصلہ کیا تھا لندن بھیجنے کا تذکرہ آ تے ہی خیال ہوگا کہ اعلی تعلیم دلوانا مقصود تھا لیکن یہاں اس کا اولین مقصد تجارتی نظر آتا ہے ۔اعلیٰ تعلیم کی شرائط ابھی کہاں پورے ہوئے تھے وہ پانچویں جماعت میں تھے اور وہ صرف طالب علم ہی نہیں ( والد کے ) کاروبار میں بھی حصہ لے رہے تھے( صفحہ 71 )۔

ہماری درسی کتب میں بیان کیا جاتا ہے کہ جناح اعلی تعلیم کے حصول کے لئے لندن گئے تھے لیکن رضوان احمد اس بات کو تسلیم نہیں کرتے ان کا موقف ہے کہ جناح اعلی تعلیم کے حصول کے لئے نہیں بلکہ کاروبار کی توسیع کے لئے لند ن گئے تھے جہاں ان کے والد نے اپنی کاروباری فرم کا دفتر قائم کی تھا اور جناح کو اس فرم کے امور کی نگرانی کرنا تھی۔

قائد اعظم کی سرکاری سوانح میں وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے (لندن) گئے تھے اور ان کے والد جناح پونجا کو ایک انگریز تاجر فریڈرک کرافٹ نے محمد علی جناح کی ذہانت و فطانت دیکھ کر یہ مشورہ دیا تھا کہ اسے لندن بھیجو۔مگر حالات و واقعات کی دستاویزات یہ شہادت دیتی ہیں کہ وہ کاروبار کے سلسلے میں لندن گئے تھے نہ کہ اعلی تعلیم کے لئے۔ اس لئے کسی فریڈرک کے اس مشورے کی کوئی بنیاد سرے سے قائم نہیں ہوتی کہ ’قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے بیٹے کو لندن بھیجو‘( صفحہ 88 )۔

رضوان احمد لکھتے ہیں کہ ’ کتابوں میں یہ بھی درج ہے کہ نوخیز محمد علی جناح اپنی تعلیم میٹریکولیشن تک مکمل کرنے کے بعد لندن گئے تھے ۔ہیکڑ بولیتھو( جناح نگار کے پہلے انگریز سوانح نگار) کے یہاں بھی یہ بیان موجود ہے اور اروو زبان میں اسے دسویں لکھا ور سمجھا جاتا ہے حالانکہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ وہ چھٹی جماعت میں تھے اور اس کا امتحان دینے سے پہلے ہی اسکول چھوڑ کر لند ن چلے گئے تھے۔اُس زمانے میں دسویں جماعت کا کوئی تصور نہیں تھا۔ساتویں جماعت میٹرک کے برابر ہوتی تھی جسے انٹرنس ایگزامنیشن بھی کہتے تھے (صفحہ 90 )۔

جناح کی عائلی زندگی کے بارے میں بھی بہت کم معلومات عام قاری کو میسر ہیں۔ ان کی دوسری بیوی رتی جناح کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن ان کی پہلی بیوی امر بائی کا ذکر بالکل نہیں کیا جاتا۔ رضوان احمد نے جناح کی پہلی شادی کا احوال بھی لکھا ہے ۔نوخیز محمد علی کی پہلی شادی لیراکھیم جی کی بیٹی امر بائی سے ہوئی تھی۔ لیراکھیم جی بمبئی کے دولت مند تاجروں میں تھے۔ (صفحہ73)۔

قائد اعظم بیرسٹری کرنے کے بعد جب واپس ہندوستان آئے تو انھوں نے اپنے والد کے ساتھ بمبئی کے خوجہ محلہ میں رہائش اختیار کرنے کی بجائے اپالو ہوٹل کے کمرہ نمبر 110میں ٹھہرنے کو ترجیح دی جو’ ان کے مغربی طرز رہائش کے مطابق تھا‘(صفحہ112)۔

قائد اعظم خود تو اپالو ہوٹل میں قیام پذیر ہوئے جب کہ ان کی بیوی اپنے خسر کے یہاں اپنی نندوں کے ساتھ رہتی تھیں۔ان کا انتقال اسی زمانے میں ( بوجہ طاعون) ہوا تھا۔(صفحہ 115 )۔ طاعون پھیلنے کی بنا پر قائد کے والد اپنے خاندان کے ہمراہ بمبئی کے نواحی علاقے رتنا گیری منتقل ہوگئے لیکن قائد ان کے ساتھ نہ گئے اور اپالو ہوٹل ہی میں مقیم رہے تھے۔

قائد اعظم کے لبرل حمایتی انھیں دادا بھائی نوروجی کا سیکرٹری بتاتے ہیں لیکن رضوان احمد اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ دادا بھائی نورو جی کی شخصیت بہت بڑی تھی وہ بر عظیم میں بھی محترم تھے اور انگلستان میں بھی ان کی عز ت تھی۔انگریزی زبان میں ان کے لئے’ گرینڈ اولڈ مین‘ کا لقب استعمال کیا جاتاہے۔ ان کا پرائیویٹ سیکرٹری ہونا بڑے فخر کی بات تھی۔

لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کا تذکر ہ( کہ جناح ان کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے)نہ تو دادا بھائی نورو جی کی خود نوشت میں نظر آتا ہے نہ دادا بھائی نورو جی کی سوانح عمری لکھنے والوں نے کہیں اشارہ کیا ہے ۔ کسی اجلاس میں جب دادا بھائی نورو جی اس کے صدر ہوں تو وہاں محمد علی جناح نے ان کی اعانت کی ہو، کچھ کاغذات فراہم کئے ہوں کچھ نوٹس لئے ہوں، کچھ سرگوشیاں کرتے رہے ہوں اور اسی سے دیکھنے والوں نے یہ تاثر لیا ہو کہ وہ سیکرٹری ہیں یا پرائیویٹ سیکرٹری ہیں(صفحہ 150 )۔

ان کا کہنا ہے کہ دادا بھائی نورو جی نے برطانوی پارلیمنٹ کا الیکشن 1892میں لڑا جب کہ جناح انگلستان 1893میں پہنچے لہذا یہ کہانی کہ جناح ان کے سیکرٹری تھے اور ان کی انتخابی مہم میں بھی انہوں حصہ لیا تھا محض افسانہ ہے۔ رضوان احمد قائد اعظم کی تاریخ پیدائش کے بارے میں موجود کنفیوژن کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک جن دنوں قائد اعظم مختلف تعلیمی اداروں میں بغرض تعلیم داخل ہوئے وہاں صرف سن لکھا جاتا، تاریخ اور مہینہ نہیں پوچھا جاتا تھا۔

ان کے نزدیک مختلف دستاویزات میں قائد اعظم تاریخ پیدائش کا سن مختلف ہے ۔ ان کی پہلی بائیو گرافی سر وجنی نائیڈو نے ’ محمد علی جناح ۔ سفیر اتحاد ‘ کے نام سے لکھی تھی اس میں بھی 25 دسمبر ہی قائد اعظم کی تاریخ پیدائش درج کی تھی لیکن سال کے بارے میں ان کو پورا یقین نہیں تھا ۔ رضوان احمد لکھتے ہیں کہ قائد اعظم کی تاریخ پیدائش کے بارے میں جو شواہد سامنے آ چکے ہیں ان کی روشنی میں 1870،1873،1875،1876قرار پاسکتا ہے۔

رضوان احمد کی یہ کتاب معذرت خواہانہ ہونے کے باوجود محمدعلی جناح کی زندگی کے بعض ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں جن کے بارے میں ہماری درسی کتابیں اور ریاستی بیانیہ خاموشی کو ترجیح دیتا ہے۔

کتاب: قائد اعظم کے ابتدائی تیس سال

مصنف: رضوان احمد

ناشر: جنرل نالج اکیڈیمی ،ناظم آباد کراچی

One Comment

  1. Hamid A Mian, MD says:

    انگور کٹھّے ہیں”۔”
    It does not matter how he got to England. Yes he went there for business to help his father and later on he changed his career. Every human evolves with the time. Off course he was a human but look what he did….
    We should not waste our time in these little issues whether he took his 5th grade exam or he flunked his 6th grade.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *