تخلیقی عمل اور عصر جدید کے تقاضے

پائند خان خروٹی

زندگی کاپہیہ تو انسانی عقل وبصیرت کی توسط سے بہت تیزی سے گردش کرنے لگا ہے مگر انسان کی پید اکردہ آسانیوں اور سہولتوں کے نتیجے میں انسانی زندگی بہت مشکل اور پیچیدہ بن چکی ہے ۔ سردست زندگی کی اس کشمکش میں تو ازن برقرار رکھنا نہایت مشکل ہوگیا ہے کیونکہ ماضی سے حال اورحال سے مستقبل کی جانب اپنے قدم گامزن رکھنا شعوری جدوجہد کامتقاضی ہے ۔

تخلیقی عمل اور عصر جدید تقاضوں کے روشنی ڈالنے سے قبل یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ادیب یاتخلیق کار کیوں لکھتا ہے؟کس کے لئے لکھتا ہے ؟ اور آیا اُسے کسی نظریہ کاپابند ہونا چاہیے یا نہیں؟

سردست تحریر وتخلیق کے وجہ جواز کے بارے میںیہ جاننا ضروری ہے کہ تحریر وتخلیق کاعمل بنیادی طورپر انفرادی نہیں بلکہ ایک اجتماعی عمل ہے اور ہرفرد سماج کالازمی جُز ہے ۔ لہذا فرد کے اپنے جذبات بھی اجتماع کے مشاہدہ کاحصہ ہوتے ہیں ۔یعنی تحریر وتخلیق یکطرفہ عمل نہیں ہے بلکہ یہ خارج اور داخل کے مابین جدلیاتی عمل کاٹھوس نتیجہ ہے تو اس ضمن میں خارجی عوامل کے کلیدی کردار کے باعث ہر لکھنے والے کیلئے معاشرتی ضروریات ، زمینی حقائق اور وقت کے تقاضوں کاپابند ہونا چاہیے ۔ اس بنیادی اصول کے پیروی کیے بغیرہم صرف مادر پدر آزادی کو فروغ دینے کے باعث بنیں گے جس کو سوشل انارکی بھی قرار دیاجاسکتا ہے ۔لہذا تمام صاحب رائے اورصاحب فکر کیلئے اشد ضروری ہے کہ وہ نہ صرف مروج مختلف ادبی وسیاسی نظریاتی سے آگہی حاصل کریں بلکہ کسی ایک نظریہ کی پاسداری بھی کریں ۔

واضح رہے کہ اپنے لئے کسی خاص موضوع اور مخصوص نظریے کے انتخاب کرتے وقت ذرہ بھر بے احتیاطی یامعمولی غلطی بھی انسان کو اپنی منزل سے بھٹکا سکتی ہے ۔ زندگی کے اس موڑ پر لوگ دو مختلف حصوں میں بٹ جاتے ہیں،ترجیحات متعین کرنے میں فرق آجاتا ہے اور سفر کے ساتھ ساتھ منزل بھی جدا ہوجاتی ہے ۔ ایک وہ لوگ ہیں جو نئی تبدیلی سے ڈرتے ہیں،ترقی پسند انہ تعلیمات اور سائنسی ایجادات کو اپنے انفرادی اور اجتماعی وجود کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں ، جدید تحقیق وتخلیق کے ثمرات سے فیض یاب ہونے کی بجائے اپنی کسمپرسی پرشکر وصبر ادا کرتے ہیں اس طرح فیوچر ویژن نہ رکھنے کی وجہ سے دھیرے دھیرے اُن پر زمین تنگ ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔

دوسرے وہ لوگ جو تعداد کے لحاظ سے بہت کم مگر بہت پُر اثر لوگ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ارتقا ء اور ترقی پریقین رکھتے ہوئے ہر قسم کے اندھیرے میں روشنی کے سفیر کاکردار ادا کرتے ہیں۔ مایوس کن حالت میں اُمید کادامن تھامے رکھتے ہیں، نامواقف حالات کو بھی اپنے خیالات کے زور سے اپنے ارادوں کے سانچوں میں ڈھال لیتے ہیں اور اقتدار و اختیار پر قابض رجعت ،قبائلیت اور جاگیرداری طرم خانوں کو خلقی رنگ میں بدلتے وقت انقلابی نظریہ ومبارزہ کو اپنا شعار بنالیتے ہیں ۔ 

بعض اہل فکر ودانش میں ایک واضح کمزوری یہ پائی جاتی ہے کہ وہ ماضی کے حالات وواقعات پر بہتر انداز میں لفاظی اور جملہ بازی تو کرتے ہیں مگر مستقبل قریب میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کومحسوس یابیان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ وہ ماضی کو اپنے حال سے اور حال کامستقبل سے رشتہ جوڑنے میں ناکام رہ جاتے ہیں۔ ویسے بھی ماضی کو سمجھنے کے لئے نقل جبکہ حال اور مستقبل کو سمجھنے کیلئے عقل وبصیرت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ ماضی کو پڑھنے کے لئے دوسروں کے علم وتجربے سے استفادہ کرنا پڑتا ہے جبکہ مستقبل بینی کے لئے اپنی عقل وبصیرت کو بروئے کار لانا پڑتا ہے ۔ لہذا اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ اپنے معروض کاادراک حاصل کرنا، مستقبل بینی اورمستقبل کی منصوبہ بندی کرنا کم نظر اور کج فہم لوگوں کاکام نہیں ہے ۔

ماضی سے مسلسل چمٹے رہنا اور موجود سائنسی افکار و ایجادات سے انکار کرنا ایک نفسیاتی مرض ہے۔ ماضی پرست موجودہ حالات وواقعات کاسامنا کرنے کی بجائے زندگی سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں جو شکست خورد ہ ذہن کی علامت ہے۔ ماضی پرست ، اندھی تقلید اور تکرار وہ ذہنی بوجھ ہیں جس کی وجہ سے انسان فکری نشو ونما اور جدیدیت کے ثمرات سے محروم رہ جاتا ہے ۔ ماضی پرست خود فریبی کاشکار رہتا ہے ۔لمحہ بہ لمحہ بدلتی زندگی میں رہنے کاہنر نہیں جانتا۔ روایتی فکر انداز کے شکار لوگ نہ صرف علمی جہان بینی سے ناآشنا رہتے ہیں بلکہ ان کی تحریر وتقریر ماضی سے شروع ہوکر ماضی پر ہی ختم ہوجاتی ہیں۔ 

اس دوران ان کارشتہ حال اور مستقبل سے کٹ جاتا ہے وہ جسمانی طورپر حال اورذہنی طور پر ماضی میں رہتے ہیں جن کی زندگی پر اکتاہٹ اور بوریت مسلسل طاری رہتی ہے ۔ایسے لوگوں کے خیالات ان کی زندگی میں ہی مسترد ہوجاتے ہیں ۔حتیٰ کہ وہ اپنے بچوں کے بھی آئیڈیل نہیں بن پاتے ۔اس فکری گرداب سے نکلنے کاواحد راستہ یہ ہے کہ وہ لمحہ بہ لمحہ بدلتی زندگی میں جینے کا گُر سیکھیں اورفرسودہ اور بوسیدہ رسم ورواج سے بغاوت اختیار کریں۔

بلاشک وشبہ ہمارے معاشرے پر بے جاماضی پرستی اور اندھی تقلید مسلط کرنے میں سب سے بڑا کردار اہل علم وسیاست کا ہے۔ وہ اپنے وقت وزمان کے سُلگتے مسائل کاحل ڈھونڈنے کے بجائے ماضی کی یادوں اور نگینوں میں گم رہتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ ماضی نہیں ہے بلکہ ہماراصل مسئلہ حال اور مستقبل کاہے ۔ماضی ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ہمارا ماضی ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا جبکہ حال اور مستقبل کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔ مستقبل کواپنی گرفت میں رکھنے کیلئے اپنے حال کو ہی شعور ی طو رپر وقف کرنا پڑے گا جو لوگ اپنے امروز سے غافل رہتے ہیں ان کامستقل بھی پُرخطر اور تاریک بن جاتا ہے ۔ یاد رکھنا !بروقت اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے حال اور مستقبل ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں ۔ 

بد قسمتی سے ہمارے ہاں عام لوگوں کی طرح اکثر صاحب فکر اور صاحب رائے لوگ یا تو ماضی بعید اور یا مستقبل بعید یعنی مابعد الموت کی زندگی میں رہتے ہیں۔ وہ اپنے معروض اور معروضی حالات کا ادراک حاصل کرنے کی زحمت نہیں کرتے ۔وہ سیاسی ومعاشی غلامی سے زیردست طبقے کے زیارکشوں اور بزگروں کو نجات دلانے کیلئے اپنا فعال اور موثر کردار ادا نہیں کرتے ۔ ان کا قیمتی وقت،پیسہ اورتوانائی علم وادب کی اُن اصناف پر ضائع ہوجاتے ہیں ،جن کی موجودہ وقت میں کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی۔ اس لئے ایسے اہل علم ودانش کی موجودگی اور غیر موجودگی ہمارے لئے ایک برابر ہے۔

نہ جانے کیوں وہ علم وادب سے متعلق چیزوں کو سمیٹتے وقت غیر ضروری مواد کودوبارہ کمپائل کرنے اور انسانی ضرورتوں کے حوالے سے ناقص چیزوں پر قلم اُٹھانے سے پہلے اُن کی موجودہ اور فیوچر ویلیو بھی نہیں دیکھتے۔ اس لئے وہ وقت ،پیسہ اور توانائی خرچ کرنے کے بعد بھی اپنے کئے گئے کام و کاج پر پشیمان اور پریشان رہتے ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی ضرورتوں اور موجودہ جدید رجحانات کو مد نظر رکھ کر اپنے قلم ا ورقدم کوحرکت میں لائیں، ڈرنے کے بجائے حالات وواقعات سے باخبر رہنے کاہنر سیکھیں۔ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ علمی وادبی آثار تخلیق کریں ۔ ہمارے اصل زندگی حال میں ہے ۔ حال کی زندگی کو بھرپورطریقے سے گزارنے سے ہی ہم روشن مستقبل کوتخلیق کرسکتے ہیں اور یہی تخلیق انسان کو نئی پہچان اور شناخت سے نوازتی ہے ۔

تخلیقی عمل اور عصر جدید کے تقاضوں کی شعوری آگاہی کیلئے ضروری ہے کہ علم ودانش اپنے معروضی حالات پر مکمل دسترس حاصل کریں ، اپنے مزل و منزل اور راستہ و نتیجہ کاواضح تعین کریں اور کسی مخصوص علم وعقل پرمبنی نظریہ کی روشنی میں اپنے مبارزہ کے مدد سے درپیش مسائل اور مشکلات کاپائیدار حل تلاش کریں ۔ دوسروں کو رنگ میں بدلنے سے بہتر ہے کہ اپنے سماج کی کوکھ سے جنم لینے والے جمالیات کی آبیاری کریں ۔یہی عصر جدید کے تقاضوں کے مطابق علم وفن تخلیق کرنے کا بہترین ہنر ہے ۔

One Comment

  1. یاسرکنډې says:

    ډیر په زړه پورې اودپند نه ډک لیک
    قلم موتوندهم تیره شه

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *