کابل کے بعد؟

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

اکیس سال پہلے طالبان نے کابل پر ٹینک دوڑائے، گولے برسائے، اور بالاخر ایک تباہ حال شہر پر اپنا جھنڈا لہراہی لیا ، اسی دن بقول ایک شریک کار کے ہزاروں کی تعداد میں ایسی بیگانی مخلوق بھی انکی صفوں میں موجود تھی جن کو کم ازکم یہاں کی بولیاں (پشتو اور دری) بولنا نہیں آتی تھی۔ اس سے پہلے تخت کابل کے حصول کیلئے اور اس شہر کی بپھری اور حواس باختہ عوام پر اپنی حق حکمرانی جتانے کیلئے حکمت یار (بے حکمت) اور ربانی کے درمیان خوب بازی جمی تھی، جس سے ستر ہزار معصوم انسانوں کو لقمہ اجل بننا پڑا اور لاکھوں آسودہ حال شہریوں کو ہجرت کرناپڑی تھی۔

بندوق بردار مجاہدین نے ملک کے ہر کوچہ و بازار میں اپنی بادشاہت کا اعلان کیا تھا ۔ تشدد، کرپشن اورلاقانونیت کا بول اتنا بالا ہوچکا تھا کہ سوائے ملک چھوڑنے کے یا اپنا عسکری جتھہ بنانے کے کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔ اس مخصوص صورت حال کو کس نے پیدا کیا یہ کہانی پھر صحیح۔ البتہ طالبان کا اس صورت حال میں وارد ہونا یقینا معجزے سے کم نہ تھا۔ لوگوں نے انھیں خدا کی نصرت جانی، اپنے صبر اور استقامت کا پھل سمجھا، انکا ساتھ دیا، جو متحارب بندوق سالار سوویت روس کی فوجوں کی راہ میں سنگ گراں تھے ان کے سامنے ایک ریت کی دیوار ثابت ہونا شروع ہوئے۔

اس تحریک کی ابتدا کے بارے میں کئی موقف وجود رکھتے ہیں، لیکن یہ امر مصدقہ ہے کہ منتشر، بپھری ہوئی اور جنگ و ناانصافی سے تھکی ہوئی عوام کو انصاف بہم پہنچانے میں انکا نام ایسا گونجا کہ ملک کے قرب و جوار میں ہر کوچہ و بام تک پہنچا۔ جو لوگ برسہا برس اپنے حقوق کیلئے عدالتوں اور وکیلوں کے چکر کاٹتے رہے تھے، انکے آتے ہی ایک پیشی سے سارا قضیہ حل ہوجاتا تھا۔نہ فیس نہ وکیل، نہ چائے پانی۔ قاضی صاحب سبز چائے پیتے پیتے فریقین کو سن لیتے اور پھر انتہائی سادگی سے فیصلہ صادر کرلیتے، فیصلہ پھر حتمی ہوتا، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔

انکی تحریک کو پہلے پہل جو سماجی جواز اور قبولیت حاصل ہوئی تھی اسکی بڑی وجہ بھی یہی بتائی جاتی ہے کہ لوگوں نے انصاف قائم کرنے کے جو سچی جھوٹی کہانیاں سن رکھی تھی وہ اُنکے سامنے ہونا شروع ہوئے۔ ڈیورنڈ لائن سے اس جب ایمانداری، امن اور انصاف کی کہانیاں پہنچتیں تو لوگ اپنی حسرتوں پر رونا شروع کردیتے۔

کابل پر پرچم لہرانے کے بعد، انہوں نے بڑے بڑے جلسے کئے، خصوصا جنوبی پشتونخوا (شمالی بلوچستان) کے زیادہ تر لڑکوں کے مدارس بند کرادئے گئے ، تاکہ کابل سے آگے افغانستان کے قوی شمالی اتحاد کو زیر کرنے کیلئے غیر تربیت یافتہ ہی صحیح انسانی وسائل کو بروئے کار لایا جاسکے۔ کوئٹہ اور دیگر پشتون اکثریتی علاقوں میں ہر جمعہ کو جلسے اور جلوس نکلنا شروع ہوئے۔ ان جلسوں میں دیگر کہیں جذباتی نعروں کے ساتھ جو ایک نعرہ مشہور ہوا تھا ، مجھے وہ آج بھی انکی منظم اور منتشر صفوں میں گونجتا ہوا سنائی دیتا ہے۔ تقریر کے دوران ایک دیوہیکل طالب کھڑے ہوکر گر جتا تھا۔

‘‘کابل کے بعد’’۔۔۔ باقی یک آواز ہوکر جواب دیتے

‘‘ اسلام آباد’’

کابل کی حالیہ تباہ کاری اور قتل عام کے تناظر میں جب ہم دہشت گردی کے اس پیوستہ عمل کا تجزیہ کرتے ہیں، تو سردست یہی گمان ہوتا ہے کہ کابل اور اسلام آباد ایک ہی طرز فکر کے دھانے پر ہیں۔اگرچہ ماضی میں پاکستانی سول اور فوجی شخصیات اس پر اتراتے رہے ہیں کہ طالبان انکے ہونہار شاگرد ہیں ۔

لیکن یہ ہونہار اور نونہال سے اب تشدد، خوف اور قتل عام کے دیو ہیکل آسیب زدہ شجر بن چکے ہیں ۔پروکسیز کا مسئلہ بھی تو یہی ہوتا ہے کہ انکا پتہ نہیں چلتا، کس وقت پارٹی تبدیل کی اور کس وجہ سے حریف کے دست و بازو بنے ، ابھی تک کوئی سائنسی فارمولا اسکی وجوہات معلوم نہیں کرسکا ہے۔ ہاں البتہ یہ امر واضح ہے کہ مزاج میں یہ بچوں سے ملتے ہیں۔ بچے سے پوچھا گیا کہ تیرا ماموں کون؟ جواب دیا ‘‘جو گُڑ دیتا ہو’’۔تو جہاں گُڑ کی معیار اور مقدار وفاداری کا نسب نما ٹھہرتا ہو وہاں دھوکہ کھانے کا انتظار ہی کیا جاسکتا ہے ، کیونکہ! دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھُلا

جس طرح روس کے بکھر جانے کے بعد مجاہدین بُری طرح سے تقسیم ہوئے، باہم گُتھم گتھا ہوئے اور عام انسانوں کیلئے وبال جان بنے، انکے بٹنے سے بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ دہشت گردی کا واقعہ کہیں بھی ہو،شاخسانہ یہیں سے مل جاتا ہے۔

اگر ریاستی اسٹیبلشمنٹ کا یہی گمان ہے کہ بوتل سے نکلا ہوا جن آسانی سے بوتل میں ڈالا جائے گا، یا رضاکارانہ طور پرخود آجائے گا تو ایسا کوئی معجزہ نہیں ہونے والا۔ کیونکہ خدا کی زمین پر خدا کے نظام کو رائج کرنے کا نعرہ بلند کرنے والے سرحدوں سے باہر سوچتے ہیں۔ انہیں اگر شہر کابل میں خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت پر تشویش ہے تو اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے شاپنگ مالوں اور دفتروں میں کام کرنے والی خواتین کے بارے میں بھی ان کا واضح موقف موجود ہے۔ سنیما، سکول، کالج، یونیورسٹی، میوزیم، لائبریریوں، اور تحقیقی مراکز کے بارے میں انکا وہی وتیرہ ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے افغانستان میں اپنی حکومت کے دوران کیا۔

ہر سال ہمارے مدارس سے لاکھوں کے حساب سے طلبا و طالبات فارغ التحصیل ہوتے ہیں، وہ اس خونی کھیل میں کہاں کھڑے ہیں اس پر بجز چند ایک تحقیقی مقالہ جات کے ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں، اگر ایک میڈیکل پڑھنے والی آسودہ حال شہری لڑکی انکے صف میں شامل ہوسکتی ہے تو پھر ہزاروں اور لاکھوں کا مجمع (جن کو ہر حوالے سے محروم ، نظر انداز اور بیگانہ رکھا گیا ہے اور نظریاتی طور پر ان سے قریب ہیں) کس سمت جائے گا اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔

کابل میں دہشت گردی کے ہتھے چڑھنے والوں کیلئے کوئی سینہ کوبی کرے یا نہ کرے، انکا غائبانہ نماز جنازہ تو کجا رمضان کے پہلے جمعے کے خطبوں میں انکا تذکرہ تک نہ ہونا بھی ٹھیک، لیکن یہ سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ ریاستوں کے درمیان اس جنگ میں دونوں اطراف سے ایک ہی طرز فکر کو فتح حاصل ہوتی رہے گی ۔ طاقت اور اختیار کی چادر جہاں سے بھی کھینچی جائے گی، آزادی اور امید کی جگہ خوف اور یاس لے گی ، تشدد، جبر اور ناانصافی سماجی قبولیت اختیار کرتے چلے جائیں گے۔

فی الوقت افغانستان میں حکومتی رٹ کو کمزور کرنے کیلئے خوف اور دہشت کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے،وہاں پر ریاست کا شیرازہ تشکیل نو کے عمل سے گزر رہا ہے ، اگر یہ پائلٹ پروجیکٹ کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے، تو انکا اگلا ہدف یقینا پاکستان ہو گا۔ اس بار صرف پشتون انکے نشانے پر نہ ہوں گے، اور نہ سماج انکا ہدف ہو گا، بلکہ اب کے بار ریاست انکے نشانے پر ہوگی۔

کیونکہ جس منطق سے شہر کابل کو ڈھانے ، قندھار، مزارشریف اور قندوز کو مسمار کرنے اور بامیان میں ہزاروں سالوں کے بےضرر مجسمے صفحہ ہستی سے مٹائے جا سکتے ہیں ، اسی منطق کا اطلاق اسلام آباد، لاہور، کراچی کی شہری زندگی کو معطل کرنے اور نیشنل کالج آف آرٹس کو ایک اصطبل بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سماجی انصاف ، معاشی برابری، امن، بین الثقافتی ہم آہنگی اور میرٹ سے متعلق تمام اشارے پہلے سے منفی سمت میں چلتے رہے ہیں، غیرفعال نظام کہئے یا سیاسی اور جمہوری اداروں کی پستی لوگ ہر وقت ایک معجزے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ جمہوری حکومتوں کے غیر قانونی خاتمےپر منوں مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں اور عوام رقص کناں ہوتی ہے، کوئی بعید نہیں کہ سول سیاستدانوں اور فوجی آمروں کے پے درپے ناکامیوں سے تنگ آکر لوگ انکو طبع آزمائی کا موقع دیں گے۔

One Comment

  1. Ahmed Tokhai says:

    A great piece of article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *