مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت

آصف جاوید

دنیا میں دو زبانیں ایسی ہیں جو ہر شخص بغیر کسی قسم کا علم حاصل کئے بول یا سمجھ سکتا ہے۔ ایک مادری زبان اور دوسری اشاروں کی زبان۔ اشاروں کی زبان کو یونیورسل لینگویج کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی وہ واحد زبان ہے، جس کو سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ مادری زبان وہ زبان ہوتی ہے جو انسان رحمِ مادر سے لے کر ماں کی گود تک سیکھتا ہے، یا وہ ماحول جس میں انسان پرورش پاتا ہے، اس ماحول سے سیکھتا ہے۔

مادری زبان صرف زبان یا لسّانیت نہیں ہوتی ، بلکہ پوری ایک شناخت ہوتی ہے۔ ایک پوری تہذیب، تمدّن، ثقافت، جذبات و احساسات کا حسین امتزاج ہوتی ہے۔ مادری زبان میں خیالات ومعلومات کی ترسیل اور ابلاغ ایک قدرتی اور آسان طریقہ ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کا عمل جو کہ سراسر انسانی ذہن میں تشکیل پاتا ہے، وہ بھی لاشعوری طور پر مادری زبان میں ہی پراسیس ہو رہا ہوتا ہے۔ انسان خواب بھی مادری زبان میں ہی دیکھتا ہے۔

انسانی ذہن اور تخلیقی عمل میں رابطے کا کام بھی غیر ارادی اور لاشعوری طور پر مادری زبان میں ہی انجام پا رہا ہوتا ہے۔ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا سب سے بہترین اظہار بھی مادری زبان میں ہی ممکن ہے۔ فی البدیہہ اظہار کے لئے بھی مادری زبان کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔ انسان جب رحمِ مادر میں ہوتا ہے، تو اّس کا نظامِ سماعت کام کرنا شروع کردیتا ہے۔ جن آوازوں کو انسان سنتا ہے، اُن آوازوں میں انسانی ذہن کے اندر ماحول کا شعور اور گرائمر کے قواعد ترتیب پانا شروع ہوجاتے ہیں۔ فہم انسانی کا براہِ راست تعلّق بھی ذہن انسانی اور مادری زبان کے رابطے سے ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ فہمِ انسانی میں فراست، وسعت اور گہرائی صرف مادری زبان میں ہی ممکن ہے۔

القصّہ مختصر سیکھنے اور سکھانے کے لئے آسان ترین زبان، مادری زبان ہی ہے، اِس کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں ہے۔ تخلیق اور ایجاد کا براہِ راست تعلّق بھی مادری زبان سے ہے۔ سائنسی اور فنّی علوم میں نفسِ مضمون، سائنسی تصوّرات کی فہم اور ترسیل و ابلاغ کے لئے بہترین ذریعہ مادری زبان ہی مانا جاتا ہے۔ ہر مادری زبان میں قدرتی طور پر یہ وسعت اور گنجائش ہوتی ہے کہ وہ تمام تر جدید عصری علوم بشمول سائنسی علوم ، نفسِ مضمون اور تصوّرات کو ان کی اصل اصطلاحات کے ساتھ بغیر کسی ترجمے اپنا سکتی ہے اور ان کی ترسیل و ابلاغ کر سکتی ہے۔

مادری زبان انسانی ، شناخت ، تشخص اور کردار سازی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر وہ زبان جس میں لٹریچر تخلیق پا سکتا ہو، ترسیل علم کے لئے بہترین مانی جاتی ہے۔ جب کہ لٹریچر کا تعلّق بھی مادری زبان سے ہی ہوتا ہے۔ لہذا ماہرینِ تعلیم کی رائے میں ذریعہ تعلیم کے لئے مادری زبان سے بہتر کوئی زبان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقّی یافتہ دنیا میں زیادہ تر ممالک میں تعلیم مادری زبانوں میں دی جاتی ہے۔ چین میں چینی زبان، جاپان میں جاپانی زبان، جرمنی میں جرمن زبان، فرانس میں فرانسیسی زبان ، انگلینڈ، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا وغیرہ میں انگریزی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لیئے سب سے موثّر زبان، مادری زبان ہے۔ مادری زبان میں تعلیم سے بچّوں کی تحقیقی اور تخلیقی صلا حیتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔مادری زبان میں تعلیم دئے جانے میں ایک آسانی یہ ہوتی ہے کہ بچّے کے پاس اپنی زبان کے علم کا ایک ذخیرہ پہلے سے موجود ہوتا ہے اس لیےدورانِ تعلیم بوریت کی بجائے بچّہ خوشی محسوس کرتا ہے۔ مادری زبان میں تعلیم سے بچّوں کے ذہن پر کم بوجھ پڑتا ہے اور بچوں کے سکول چھوڑ نے کی شرح میں بھی حیرت انگیز کمی دیکھنے میں آتی ہے۔

مادر ی زبان میں تعلیم کے بارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ ’’برسوں کی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ جو بچے اپنی مادری زبان سے تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں شروع سے ہی انکی کار کردگی بہتر ہوتی ہے۔انکی یہ اچھی کار کردگی مسلسل قائم رہتی ہے بہ نسبت ان بچوں کے جو اپنی تعلیم ایک نئی زبان سے شروع کرتے ہیں۔اس نتیجہ پر ہر کہیں عمل ہورہا ہے اگر چہ ہم اب بھی ایسی حکومتوں کے بارے میں سنتے ہیں جو چھوٹے بچوں پر اجنبی زبان تھوپنے پر اسرار کرتے ہیں،وہ ایسا یا تو غلطی سے جدیدیت کی خاطر کر رہے ہوتے ہیں یا سماجی طورپر حاوی گروہ کی زبان کو فو قیت دینے کی خاطر ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔

یو نیسکو نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ ترقّی پذیر ممالک کی شرح خواندگی میں کمی کی ایک بڑی وجہ مادری زبان میں تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ ابتدائی تعلیم سے متعلّق یونیسکو کی جاری کردی پالیسی دستاویز میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ چھوٹے بچّوں کو ابتدائی 6سال تک مادری زبان میں تعلیم دی جانی چاہئے، تاکہ جو کچھ بچے نے سیکھا ہے وہ بھول نہ جائے۔

پاکستان ایک کثیر الثقافت اور کثیر الّسان ملک ہے۔ بچّوں کو ابتدائی تعلیم دئے جانے کے معاملے پر ذریعہ تعلیم کا معاملہ آج ستّر سال گذرنے کے باوجود ہنوز بحث طلب ہے۔ انگریزی بطور بین الاقوامی زبان، اردو بطور قومی زبان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں بولی جانے والی علاقائی زبانیں بطور مادری زبان کی اہمیت پر بات چیت، بحث و مباحثہ اور مادری زبانوں میں بچّوں کی ابتدائی تعلیم کے موضوع پر ہماری گفتگو اگلے مضمون میں بھی جاری رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *