سماج پر مسلط چڑیلیں

عطاالرحمن

کسی ہارر فلم کے دلخراش مناظر کی طرح ہمارا معاشرتی ماحول سہما سہما دکھائی دے رہا ہے۔ 

جس میں کوئی چڑیل جو کہیں بھی کسی بھی شکل میں نمودار ہوسکتی ہے۔ اور کسی بھی انسان کے جسم میں گھس کر یا تو اسے ہلاک کر دیتی ہے یا اسی کے ذریعے دوسرے لوگوں کو ہلاک کرتی ہے۔

پھر اپنا کام مکمل کرنے کے بعد جب وہ چڑیل اس شخص کو اپنی گرفت سے آزاد کرواتی ہے تو وہ شخص جو چڑیل کی گرفت میں تھا اسے کچھ بھی یاد نہیں رہتا کہ کیا واقعہ پیش آیا ہے۔

ٹھیک اسی طرح ہمارے بے سمت سماج میں عقائد کے بہروپیے ، مذہبیت کے علمبردار، سرمایہ داریت کے منشی، فرقہ واریت اور مذہبی تقدس کے رکھوالے ایک خونخوار چڑیلوں کا روپ دھار چکے ہیں۔ جو بیگانگی میں مبتلا عوام پر مکمل طور پر حاوی ہو چکی ہیں، اور عوام کو اپنی گرفت میں لے چکی ہیں۔

اور جب بھی یہ چڑیلیں ریاستی و سرمایہ دار آقاؤں کا حکم پاتی ہیں تو کسی مشال کو ان لوگوں کے ذریعے رجم کروا دیتی ہیں جن کو ان چڑیلوں نے قابو میں رکھا ہوتا ہے۔

جب بھی اس مذہبی جنونیت کی چڑیل کو سرمایہ داریت کے بنائے ہوئے منحوس مفادات کے اشارے ملتے ہیں تو یہ حالات کے ستائے ہوئے پشتونوں پر حاوی ہوجاتی ہے اور انہیں جہاد فی سبیل اللہ کے عذاب میں مبتلا کر دیتی ہے۔

کیا اب  ہمیں اس تباہی، بےبسی اور بیگانگی کی حالت میں صرف ان لوگوں کو مورد الزام ٹھہرانا چاہئے جو اس آگ اور عدم برداشت کا ایندھن بنتے ہیں؟ 

یا ان نظریاتی چڑیلوں کو مجرم گرداننا چاہئے جنہوں نے مودودی ، سمیع الحق ، لدھیانوی، حافظ سعید کی شکلوں میں معصوم عوام پر مسلط ہوکر انہیں قتل کیا یا ان کے ذریعے دوسروں کو قتل کروایا  اور ایک مسلسل عمل کے ذریعے یہ چڑیلیں عوام کی زندگیاں نگل ر ہی ہیں۔

اسی طرح ان چڑیلوں کی رکھوالی کا جادوگر یعنی ریاست اور اس کی سرمایہ دارانہ پالیسیاں ہیں۔ 

جو ایک خاص طبقے کے مفادات کے لئے ایسی فیکٹریاں (مدارس، تبلیغی جماعت و دیگر مذہبی جماعتیں) چلانے کی اجازت دیتی ہیں۔ جس میں چڑیل خصلت نظریات مینوفیکچر ہوتے ہیں۔ اور اس خاص سرمایہ دار طبقے کی خدمت میں مصروف عمل رہتے ہیں۔

جس کے نتیجے میں نہ جانے کب تک یہ چڑیلیں ( مذہبی جماعتیں) منڈلاتی رہیں گی۔ نہ جانے کب تک ماؤں کو مشال کی طرح ٹوٹی ہوئی انگلیاں ملتی رہیں گی۔

نہ جانے کب تک ہم مذہبی انتہا پسندی کے بے رحم جہنم میں سلگتے رہیں گے؟ شاید اس وقت تک جب تک سرمایہ داریت کا وجود باقی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *