سیکولرازم کا نظریہ ازخود فلسفہِ قرآن ہے

آصف جاوید

سیکولرازم ایک عمرانی نظریہ ہے، ایک مہذّب طرزِ معاشرت و نظامِ ریاست ہے۔ جِس میں ریاست لادین اور غیر جانبدار ہوتی ہے۔ اور ریاست کے باشندوں کے اپنے اپنے مذاہب و عقائد ہوتے ہیں، جِن پر وہ اپنی پوری مذہبی آزادی کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔ سیکولرازم کوئی مذہب، عقیدہ یا فرقہ قطعی نہیں ہے۔متعّصب ، اور مذہبی تنگ نظر لوگ ، سیکولر کا ترجمہ لادین کرتے ہیں جو کہ قطعی غلط ہے، ریاست لادین ہوتی ہے، ریاست کے باشندے نہیں۔

ہمیں یہاں اس ہی بنیادی فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیکولر ازم کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہے ۔بلکہ ایک مہذّب و جدید نظامِ ریاست ہے، جس میں ریاست کا اپنا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہوتاہے۔ ریاست کے باشندوں کے مذاہب و عقائد ہوتے ہیں۔ جن سے ریاست کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ سیکولر ریاست ،مذہب کے معاملے میں مکمّل غیر جانبدار ہوتی ہے۔ سیکولر کا ترجمہ لادین کیا جاتا ہے۔ جو کہ ریاست کے معاملے میں تو صحیح ہے، مگر ریاست کے باشندوں کے معاملے میں غلط ہے۔ ایک سیکولر معاشرے میں ریاست لادین ہوتی ہے، مگر اس ریاست کے باشندے لادین نہیں ہوتے، اُنکا کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے ، جس کو سمجھنے اورسمجھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے حوالے سے متعّصب ، اور مذہبی تنگ نظر لوگ یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ سیکولرازم کے حامی پاکستان کے عوام کو لادین بناکر ان سے ان کا مذہب اسلام چھیننا چاہتے ہیں یا ان کو مذہب اسلام سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کم علمی اور جہالت پر مبنی ایک مکروہ پروپیگنڈا ہے، جس کا واضح مقصد معصوم عوام کو گمراہ کرکے ان کو مہذّب طرز معاشرت سے محروم کرکے معاشرے میں انتشار اور کنفیوژن پیدا کرنا اور اسلام کی غلط تشریحات و تاویلات کے ذریعے معاشرے پر ملّاؤں کی گرفت کو محفوظ رکھنا ، روشن خیالی، ترقّی پسندی اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ثمرات کو اپنی انا اور اجارہ داری کی خاطر اپنے فتووں کی بھینٹ چڑھا کر عوام النّاس کو ترقّی اور خوشحالی سے محروم رکھنا ہے۔ سیکولر اِزم کے مخالفین کا اوّلین مقصد معاشرے میں مذہب کے عمل و دخل کی آڑ میں معاشرے پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا ہے۔

اس موقع پر ایک اور غلط فہمی کے ازالے کی بھی ضرورت ہے کہ کچھ لوگ سیکولر اور ملحد( اتھیئسٹ) کو بھی آپس میں مدغم کرکے کنفیوژن پھیلاتے ہیں۔ اور ان دونوں اصطلاحات کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ لوگ دانستہ یا نادانستہ دو مختلف نظریات کو مدغم کرکے کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ملحد( اتھیئسٹ) اور سیکولر میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔

اتھیئسٹ، اللہّ تبارک و تعالیکے وجود کے انکاری کو کہتے ہیں۔ کچھ اتھئیسٹ اللہّ تبارک و تعالی کے وجود کو تو مانتے ہیں، مگر اس کے قادر المطلق ہونے پر شبہ کرتے ہیں، جب کہ اس کے برعکس سیکولر طرزمعاشرت کے حامی اپنی ذاتی زندگی میں مکمّل طور پر مذہبی ہوتے ہیں ، اور اپنے اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق قادرِ مطلق کی حاکمیت کا کوئی نہ کوئی وجود ضرور تسلیم کرتے ہیں۔ اور اپنے عقیدے کی تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں، مگر اجتماعی زندگی میں ریاست کے آئین اور قانون پر عمل کرتے ہیں جس کا کسی مذہب سے کوئی تعلّق نہیں ہوتا ہے اور جو سب کے لئے یکساں ہوتا ہے۔

سیکولر ریاست کے ہر باشندے کا اپنا ایک مذہب اور عقیدہ ہوتا ہے۔ اور اس سیکیولر ریاست میں رہنے والے تمام انسان اپنے اپنے مذاہب اور عقائد کی بنیاد پر زندگی گزارتے ہیں۔ سیکولر ریاست میں رہنے والا ہر شخص اپنے مذہب کو اپنا ذاتی فعل اور ذاتی عمل مانتا ہے۔ سیکولر طرزِ معاشرت کا حامی ہر سیکولر یہ تسلیم کرتا ہے کہ اسکا مذہب اسکا ذاتی ایمان، عقیدہ اور معاملہ ہے، اور جس ملک میں وہ رہتا ہے اس ملک کی اجتماعی زندگی میں اس کے ذاتی مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہے کیونکہ اس ملک میں دوسرے مذاہب اور عقائد کے لوگ بھی رہتے ہیں ، لہذا وہ ان سب کے مذاہب اور عقائد احترام کرتا ہے۔ اور اپنے ملک کے معاشرتی قوانین اور نظامِ عدل کے مطابق اپنی زندگی گزارتا ہے۔ اپنے عقیدے پر قائم رہتا ہے، دوسرے کے عقائد پر اعتراض اور نکتہ چینی نہیں کرتا ہے۔ اپنی زندگی کو پرسکون رکھتا ہے اور دوسروں کی زندگی کو اجیرن نہیں بناتا ہے۔ اس طرح ایک سیکولر معاشرہ انتشار اور بے چینی سے محفوظ رہتا ہے۔ اور معاشرے میں رواداری کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔

یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ سیکولر ریاست بلا امتیاز ہر مذہب، عقیدہ، فرقہ، زبان، رنگ و نسل تمام انسانوں کی جان و مال عزّت و آبرو، مذہب اور عقیدہ کے تحفّظ کی ضامن ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک سیکولر ریاست مذہب ، عقیدہ، فرقہ، زبان، رنگ و نسل کے معاملے میں بالکل غیر جانبدار ہوتی ہے۔ ریاست کا ہر باشندہ یکساں حقوق کا حامل ہوتا ہے۔ سیکولر ریاست میں اکثریتی گروہ کے مذہب اور عقائد کو پورے ملک کا مذہب و عقیدہ نہیں بنایا جاتا ہے، ریاست اپنی جغرافیائی حدود میں رہنے والے تمام باشندوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔

زیادہ عبادت گزار اور دوسروں کے عقائد اور نظریات کو شک وشبہ کی نیت سے دیکھنے والے لوگوں سے میری گزارش ہے کہ غور و فکر کرنے، سوچنے، سمجھنے، تجزیہ کرنے ،سوال اٹھانے ، تنقید کرنے یا کسی معاملے کا منطقی جواز تلاش کرنے کی بنیاد پر انسان کافر نہیں ہوجاتا۔ تنگ نظر مولویوں نے سوچنے سمجھنے، تجزیہ کرنے کی جبلّت کو مذہب کے منافی اور گناہ قرار دیا ہوا ہے۔ یہ لوگ معصوم انسانوں کو مذہب کی بند ٹوپی کو سر پر پہنا کر انسان کی عقل سلب کرکے اس کو عقیدہ کا پابند کردیتے ہیں۔

اللہّ نے انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، شعور کی دولت سے نوازا ہے۔ الہامی کتابوں میں بارہا انسانوں کو غور و فکر اور تدبّر کی دعوت دی گئی ہے۔ قرآنِ پاک میں تاکید کی گئی ہے کہ کہ اے انسانوں ،غور فکر کرنے، سوچنے، سمجھنے، تجزیہ کرنے ،سوال اٹھانے ، کسی معاملے کا منطقی جواز تلاش کرنے کی کوشش کیا کرو۔ یہ عمل اسلام کی تعلیمات کے منافی نہیں ہے۔ یہ شعور اس قادر مطلق کا ہی بخشا ہو ہے، جو اس کائنات کا ملک ہے۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس شعور کو استعمال میں لایا جائے، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے، جہاں سارے انسان برابر ہوں، سب کو بنیادی انسانی حقوق بلا تفریق حاصل ہوں،فکری اور اظہار، رائے کی آزادی میسّر ہو، سماجی انصاف معاشرہ کا نفسِ ناطقہ ہو۔ معاشرہ کے کمزور سے کمزور فرد کو انصاف میسّر ہو۔ قانون کا یکساں اطلاق ہو۔ وسائل اور اقتدار میں مساوی اور منصفانہ شراکت ہر شہری کا بنیادی حق ہو، بنیادی انسانی حقوق و بنیادی شہری سہولتیں ، ہر شہری کا حق ہوں۔ معاشرہ ہر قسم کے جبر، قدغن اور پابندیوں سے آزاد ہو۔ ملکی قوانین مذہبی منافرت، نسلی امتیاز، لسّانی و قومی منافرت سے بالا تر ہوکر اعلیترین انصاف کے اصولوں پر بنائے گئے ہوں۔

اکثر مذہبی تبگ نظر اور اور سیکولرازم کے معانی و مفہوم سے نا آشنا لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیااسلام اور سیکولرازم ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں، یا نہیں؟۔

ان تمام لوگوں کی خدمت میں دست بستہ گذارش ہے کہ اسلام اور سیکولرازم ہی تو ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ دو علیحدہ علیحدہ ڈومین ہیں، ان کا آپس میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ کیونکہ اسلام ایک مذہب ہے اور سیکولر ازم ایک طرزِ معاشرت۔ مذہب کا تعلّق عقیدے سے ہوتا ہے اور عقیدہ انسانوں سے جڑا ہوتا ہے۔ جب کہ ریاست کا تعلّق زمین ، جغرافیہ، آئین اور قانون سے ہوتا ہے۔ ایک آزاد اور روادار معاشرہ ہی کسی مذہب کو آزادی اور عزّت و احترام فراہم کر سکتا ہے۔ اور ایسی آزادی صرف سیکولر معاشرے میں ہی ممکن ہے۔

مذہبی معاشرے بہت تنگ نظر اور ظالم ہوتے ہیں اور کسی مخالف مذہب اور عقیدے کو عزّت و آزادی فراہم نہیں کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب کی مثال اس سلسلے میں پوری طرح صادق آتی ہے، جہاں حرمِ پاک اور دوسرے مقاماتِ مقدّسہ تک غیر مسلموں کی رسائی ایک شجرِ ممنوعہ ہے۔ جبکہ صرف سیکولر ریاست ہی مذہب ، عقیدہ، فرقہ، زبان، رنگ و نسل کے معاملے میں بالکل غیر جانبدار ہوتی ہے۔ سیکولر ریاست کا ہر باشندہ یکساں حقوق کا حامل ہوتا ہے۔ سیکولر ریاست میں اکثریتی گروہ کے مذہب اور عقائد کو پورے ملک کا مذہب و عقیدہ نہیں بنایا جاتا ہے، سیکولر ریاست اپنی جغرافیائی حدود میں رہنے والے تمام باشندوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔ جس کی اعلی ترین مثالیں کینیڈا ، امریکہ اور برطانیہ ہیں جہاں مسلمانوں اور ان کے مذہب اسلام کو دوسرے تمام اسلامی ممالک سے زیادہ مذہبی آزادی ، عزّت و احترام حاصل ہے۔

مذہب اسلام خود ایک سیکولر طرزِ معاشرت کی حمایت کرتا ہے۔ سیکولرازم کا فلسفہ خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآنِ پاک کی سورہ الکافرون میں ارشاد، باری تعالیٰ ہے ۔

۔کہہ دو اے کافروں ، نہ تومیں تمہارے معبودوں کی عبادت کرتا ہوں، اور نہ تم ہی میرے معبود کی عبادت کرتے ہو، اور نہ میں تمہارے معبودوں کی عبادت کروں گا، اور نہ تم میرے معبود کی عبادت کرو گے، تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔

قرآنِ پاک کی یہ آیت مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیکولر ازم اور اسلام نہ صرف ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ تو ہیں ہی ایک دوسرے کے لئے۔ وما علینا الالبلاغ۔

6 Comments

  1. Naila Mannan says:

    Very informative n important information must be shared more n more on different forums.

  2. Naseer Ahmad says:

    میری رائے میں سیکولر ازم کو قرآن سے ثابت کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف اتنا کافی ہے کہ مذہب ہر کسی کا ذاتی مسئلہ ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو۔
    اگر آپ مولویوں کی پچ پر کھلیں گے تو پھر قرآن سے اور بہت کچھ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت قرآن ہی کی وجہ سے ہی دنیا میں فساد پھیلا ہوا ہے کیونکہ ہر کسی کی اپنی تشریح ہے۔

    • نجم الثاقب کاشغری says:

      مولویوں کو ان کی پچ پہ ہرانا وقت کا ہم ترین تقاضا ہے ورنہ آپ قرآن وحدیث کو ہمیشہ کے لئے جاہل ملا کے پاس گروی رکھ دیں گے۔محترم آصف جاوید صاحب کی یہ کاوش اس حوالے سے قابلِ ستائش ہے،

  3. Hamid A Mian, MD says:

    انسانی نظامِ حیات یا قرآنی نظامِ حیات

    کان الناس امت واحدہ فختلفو۔
    ساری انسانیت ایک امت/قوم تھی اور بعد میں اختلافات میں بٹ گئی۔
    اس کی ابتدا اس وقت ہوئ جب کہ آدم کو تو یہ ھدایت تھی کہ شجر/تقسیم کی طرف مت جائے مگر اس نے اپنے اندر تقسیم/ مشاجرت کے عمل کو ترجیح دی اور انسانیت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اسی انسانیت کی تقسیم نے آدم کو جنتی معاشرہ سے نکال کر جہنم میں دھکیل دیا۔ مشاجرت کے اس عمل سے ہر انسان ایک دوسرے کا دشمن بن گیا۔ ہر انسان کے مفاد ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔
    جس کے نتیجے میں نظامِ سیاست کی ابتدا ہوئ اور حاکم و محکوم کے تصور نے جنم لیا۔ جس سے مختلف نظامِ حکومت وجود میں آئے۔ دوسروں سے حکم منوانے میں انسان نے بڑی لذت محسوس کی۔ اور یہی حکومت کا جذبہ انسان کو مختلف نظامِ حکومت بنانے پر مجبور کرتا رہا۔
    ابتدا میں قبائلی نظام وجود میں آیا۔ انسان آگے بڑھا تو مذہبی پشوائیت/تھیاکریسی کے ہاتھوں انسانیت ہزاروں سال دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھتی رہی۔
    اس سحر اور مذہب کے چنگل میں انسانیت آج بھی جکڑی ہوئ نظر آتی ہے۔ جیسے ہی محکوم نیند کی آغوش سے بصیرت کی آنکھ ملتا ہوا نظر آیا۔ حاکم نے اسےاور گہری نیند میں سلانے کا نغمہ آلاپ دیا۔
    اقبال نے بھی خوب کہا۔
    بدل کےبھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
    اگر چہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات
    انسانیت ان مذہبی پیشواؤں، بادشاہوں، ڈکٹیٹروں سے خون کی ھولی کھیلتی ہوئی اٹھارویں صدی میں پہنچی تو لاک اور روسو نے نظریہ میثاق کی بنیاد رکھی جسے آج ڈیموکریسی یا جمہوریت کہتے ہیں تاکہ حاکم و محکوم کا امتیاز باقی نہ رہے۔ ۱۔اس میں “عوام کی حکومت، عوام کیلئے، عوام کی وساطت سے” کا اصول کار فرما ہوتا ہے۔
    ۲-عوام کا منشاٌ ان کے نمائندگان کے ذریعے معلوم ہوتا ہے
    ۳-کسی بات کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار ان نمائندگان کی کثرتِ رائے ہوتا ہے
    ۴-اقلیت کو اکثریت کے فیصلے تسلیم کرنے ہوتے ہیں
    اسی دوران یورپ نے نیشنلزم کے نظریہ کے مطابق انسانیت کے اور ٹکڑے کر دیئے۔
    اقبال نے یہاں بھی خوب کہا
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرھن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
    مگر اسی دور میں مارکس کے نظریہ نے کہا کہ اقتدارِاعلی اس طبقہ کو حاصل ہوتا ہے جس کے پاس وسائلِ پیداوار ہوں، اشتراکی نظام میں مزدوروں کو اور نظامِ سرمایاداری میں سرمایادار طبقہ کو حاصل ہوتا ہے۔
    انسانیت آج ان نظریاتی جنگ و جدل کی آگ کی لپیٹ میں جلتی ہوئی نظر آتی ہے۔
    قرآن نے ٹھیک ہی کہا۔
    والعصر ان الانسان لفی خسر
    زمانہ اس بات کی گواہی ہے کہ انسان نے جو نظام حیات بھی اپنے لئے تجویز کیا وہ اس میں خسارے میں رہا۔
    جمہوریت کے علمبردار کے نزدیک اس سے بہتر نظام کا تصور نا ممکن ہے۔ اس کی تائید کرنے والوں کو نوع انسان کے ھمدرد اور مخالفت کرنے والوں کو انسانئیت کا مجرم خیال کیا جاتا ہے۔
    مگر اسی جمہوریت کا بھاری بھرکم جنازہ آج انسانئیت اپنے کندھوں پر اُٹھائے ایک عالمگیر نظام کی تلاش میں سر گرمِ عمل ہے۔ اور اس بات کی شہادت بھی مغربی مفکرین ہی دے رہے ہیں۔

    References:
    (Alfred Cobban(The Crises of Civilization
    A.C. Ewing(The Individual, The State and The World Government)
    Rene Guenn(The Crises of The Modern World)
    H.N. Menckem(Treatise on Right and Wrong)
    U.N.O. Research(Democracy in a world of Tension)………etc…….
    “اگر سیاست کو نظری حیثیت سے نہیں بلکہ عملی حیثیت سے دیکھا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ حاکم اور محکوم کو ایک ہی تصور کرنا عملی نا ممکنات میں سے ہے۔ یہ سمجھ لینا کہ دونوں ایک ہی ہیں مملکت میں بد ترین قسم کی آزادئ اختیارات پیدا کر دیتا ہے۔” کوبن

    سیکیولرزم جمہوریت کا ہی جزو لازم سمجھا جاتا ہے جس کا آج کل بہت چرچا ہے۔ اسے قرآن کے عین مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔اسے ایک مہذب طرزِ معاشرت سمجھا جاتا ہے۔ سیکیولرزم کا مطلب ہے کہ مذہب کا سیاست سے علیحدہ ہونا۔ سیکیولرزم میں ریاست کا کوئ مذہب نہیں ہوتا مگر ریاست کے باشندوں کے اپنے عقائد اور مذاہب ہوتے ہیں۔ اور سیکیولر ریاست، مذہب کے معاملے میں مکمل غیر جانبدار ہوتی ہے
    اقبال نے پھر خوب کہا
    جلالِ بادشاہی ہو یا جمہوری تماشا ہو
    جداہودین سیاست سےتو رہ جاتی ہےچنگیزی

    لاک کے نزدیک قانونِ فطرت خدا کا بنایا ہوا ہے۔ اور انسان اس کے ما تحت اس وقت رہا کرتے تھے جب وہ تہذیب و تمدن کے نام سے نا آشنا تھے۔ اور فطرت کے قوانین کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے۔ اس وقت لوگ عقل سے کام لیتے تھے جذبات سے نہیں۔ لیکن بعد میں جب لوگ جذبات کے پیچھے لگ گئے تو ان کی زندگی قانونِ فطرت کے مطابق نہ رہی۔ اب اسی قانون کی بازیابی اور اس کے نفاذ کا فریضہ انسانی معاشرے پر ہے۔

    مشہور اطالوی مدبر، میزینی اس باب میں لکھتا ہے کہ:-
    “اس میں شبہ نہیں کہ عام رائےدہندگی کا اصول بہت اچھی چیز ہے۔ یہی وہ قانونی طریقِ کار ہے جس سے ایک قوم تباہی کے مسلسل خطرات سے محفوظ رہ کر اپنی حکومت قائم کر سکتی ہے۔ لیکن ایک ایسی قوم جس میں وحدتِ عقائد نہ ہو جمہوریت اس سے زیادہ اور کیا کر سکتی ہے کہ وہ اکثریت کے مفاد کی نمائندگی کرے اور اقلیت کو مغلوب رکھے۔ ہم یا تو خدا کے بندے بن سکتے ہیں یا انسان کے۔ وہ ایک انسان ہو یا زیادہ، بات ایک ہی ہے۔اگر انسانوں کے اوپر کوئی اقتدارِ اعلی نہ ہو تو پھر کون سی چیز ایسی رہ جاتی ہے جو ہمیں طاقتور افراد کے تغلب سے محفوظ رکھ سکے۔ اگر ہمارے پاس کوئی ایسا مقدس اور ناقابل تغیر قانون نہ ہو جو انسان کا وضع کردہ نہ ہو، تو ہمارے پاس وہ کون سی میزان رہ جاتی ہے جس سے ہم پرکھ سکیں کہ فلاں کام یا فیصلہ عدل پر مبنی ہے یا نہیں۔ یاد رکھئے جب تک کوئ حکومت خدا کے قوانین کے مطابق نہیں چلتی اس کا کوئ حق مسلم نہیں۔ حکومت تو قوانینِ خداوندی کو نافذ کرنے کے لئے ہے۔ اگر وہ اپنے اس فریضہ کی سر انجام دہی میں قاصر ہے تو تمہارا یہ حق ہی نہیں بلکہ فریضہ ہے کہ تم ایسی حکومت کو بدل ڈالو۔”
    پرنسپل آف پولیٹیکل سائنس میں ہے کہ کسی انسان کو اس کا حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے انسان کو اپنا محکوم بنائے۔ انسان کو قوانین کا محکوم ہونا چاہئے۔
    مگر ابھی تک انسانوں کا ہی ایک خاص طبقہ قوانین بنا رہا ہے تو حقیقتاً قوانین نہیں انسان ہی انسانوں پر حکومت کر رہا ہے۔

    قرآن کا اصول:-
    ان الحکم الا للّٰہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت کا اختیار صرف اللہ کی ذات کو ہے۔

    ما کان لِبَشَرٍ اَنْ یوتیہُ اللہ۔۔۔۔۔۳/۷۹۔۔۔۔۔۔کسی انسان کو اس کا حق حاصل نہیں کہ خدا بے شک اسے ضابطہ قوانین، فیصلہ کرنے کی قوت اور نبوت ہی کیوں نہ دے اور وہ لوگوں سے کہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر میرے محکوم بن جاو۔

    قرآن/اسلام سب مذاہب کے لئے ایک چیلنج ہے۔

    غور سے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اسلام/قرآن ایک مذہب نہیں ہے۔ یہ ایک دین یا سسٹم ہے۔ اسلام میں مذہبی پیشوائیت یا تھیاکریسی کا کوئ وجود نہیں ۔ قرآن/ اسلام تین بڑی لعنتوں سے انسانئیت کو چھڑانے آیا ہے اور وہ مندرجہ بالا ہیں:-
    ۱-ملوکیت/فرعونیت۔۔۔۔۔۔۔انسان کا انسان پر حکومت کرنا
    ۲-سرمایا داری/قارونیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۳-مذہبی پیشوائیت/ ھامانیت

    یہ انسانئیت کے لئے ایک ضابطہِ حیات ہے جسے کونسٹیچیوشن کہتے ہیں۔ اور کونسٹیچیوشن کو نافذ کرنے کے لئے ایک خطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس خطے کے حصول کے لئے علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ کا تصور اور خطے کی نشاندھی ۱۹۳۰ میں کی۔ جس کی عملی تکمیل قائداعظم نے پاکستان کی شکل میں کی۔
    انسانیت کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی ہجرت ایک عظیم مقصد کے حصول کے لئے کی گئ۔ پاکستان مقصد نہیں بلکہ ایک بڑے مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ تاکہ قرآن ایک کونسٹیچیوشن کے طرح دنیا میں نافذ ہو سکے۔ یہی وہ خواب ہے جس کی اب تکمیل پاکستان کے ۲۰ کروڑ عوام کے ذمے ہے۔ یہی وہ نظام ہے جس کا خدا نے انسانیت سے وعدہ کیا ہے کہ وہ آخرالامر سب باطل ادیان/نظام ہائے انسانیت پر غالب آکر رہے گا۔
    طریقہ: اس صداقت پرایمان۔۔۔۔۔۔یقینِ محکم۔۔۔۔۔۔عملِ پیہم
    یہ وہی واقعہ دہرایا گیا ہے جس طرح حضراتِ موسی اور ھارون بنی اسرائیل کو مصر سے سینا کی وادیوں میں ایک عظیم مقصد کیلئے لائے تھے۔

    حامد

  4. Naseer Ahmad says:

    کاشغیری صاحب اور حامد میاں صاحب
    آپ جو تشریح کرتےہیں وہ دوسرے ماننے کو تیار نہیں۔ اور آپ لوگ بھی ایک طرح سے مُلا ہیں کیونکہ آپ یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ قران کی تشریح پر کبھی اتفاق ہو سکتا ہے۔ اس دنیا میں ہر کسی کی اپنی رائے ہے۔
    یورپ نے اسی لیے مذہب اور سیاست کو الگ الگ کر دیا ہے۔ اگر وہ مولویوں کی پچ پر کھیلتے تو ان ریاستوں کا حال اسلامی ریاستوں جیسا ہی ہوتا جو ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے۔
    کاشغیری صاحب جنہیں آپ جاہل ملا قرار دیتے ہیں وہ آپ کو جاہل قرار دیتے ہیں۔کون جاہل ہے اور کون درست مذہب کی بنیاد پر اس کا فیصلہ کبھی نہیں ہو سکتا۔
    ۔ نام نہاد اسلامی نظام حضرت محمد کی وفات کے بعد ختم ہو گیا تھا اور پوری اسلامی تاریخ قتل و غارت سے بھری ہوئی ہے۔ حامد میاں جیسے مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ آپ امریکہ یا مغرب میں رہ کر سیکولرازم کے فوائد کے مزے لیتے ہیں اور ایسے نظام کی بات کرتے ہیں جو آج تک قائم نہیں ہوسکا۔ آپ لوگ ذرا جائیں پاکستان میں اور اپنا قرآنی نظام نافذ کریں کیوں کافروں کے غلط نظام میں رہتے ہیں

  5. نجم الثاقب کاشغری says:

    پہلے مرحلے پر ہم نے یہ روشنی پھیلانی ہے کہ ہر ایک اپنا نکتہ نظر بیشک بیان کرے لیکن زبردستی دوسرے پہ ٹھونسے نہیں۔اگر مولوی اتنا سمجھ جائے تو بھی بڑی کامیابی ہے۔ورنہ جاہلوں کے حوالہ سے قرآن مجید ہی کا ارشاد ہے کہ جاہلوں سے بحث مت کر اور سلام کر کے ان سے دور ہو جا۔جیسا کہ محترم نصیر صاحب نے فرمایا ایک لحاظ سےان جاہلوں میں میں بھی شامل ہوں اور مولوی بھی۔اگرلوگ اس ایک قول پر ہی عمل پیرا ہو جائیں تب بھی امن قائم ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *