غیر مسلم کو سلام کہنا

مسعود قمر

پاکستان میں جب بھی غیر مسلموں کوبموں سے گولیوں سے یا ان کو آگ میں جلایا جاتا ہے ان کے سر تن سے جدا کیے جاتے ہیں ان کی بستیوں کو جلایا جاتا ہے ان بستیوں کے گھروں کو باہر سے تالے لگا کر اندر بیٹھی حاملہ خواتیں کو ان کی کوکھ میں پلنے والے بچوں سمیت جلایاجاتا ہے۔ توکچھ عرصہ کے لیے ان قاتلوں کو قتل پہ اکسانے والے اپنے فتویٰ زدہ حجروں میں چھپ جاتے ہیں ، ایک دو کو باہر رہنے دیتے ہیں جو ان واقعات کے خلاف پھولوں میں لپٹے مذمتی بیان دے دیتے ہیں۔

سول سو سائٹی کے لوگ کی چیخوں سے جب سوشل میڈیا بھرنے لگتا ہے تو پھر ہلکے ہلکے  ان واقعات میں را کی شمولیت کے ثبوت آنے شروع ہو جاتے ہیں ، یہ بتانا شروع کیا جاتا ہے کہ اس دہشت گرد واقعہ میں جو اسلحہ استعمال ہوا ہے وہ صرف راہی استعمال کرتی ہے۔

جب ایک دو سابق فوجی تجزیہ نگار اس واقعہ میں را کے شامل ہونے کے ثبوت کی تسبیح ہاتھ میں پکڑے ٹی وی کی سکرینوں پہ بیٹھ جاتے ہیں تو ساتھ ہی فتوی کے حجروں میں چھپے فتوی باز بھی باہر نکل آتے ہیں اور آتے ہی یہودی ، امریکیرااور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف ریلیاں نکالنا شروع ہو جاتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد مدرسوں اور مذہبی اجتماع میں اپنے من پسند فرقہ کو کافر ہونے کے فتوی دینا شروع ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کے قتل پہ اکساتے رہتے ہیں۔

کل میں ایک مولانا کا فیس بک پہ بیان پڑھ کر حیران رہ گیا  انھوں نے کہاہمارا اسماعیلی شیعوں سے کو ئی جھگڑا نہیں ہے کیوں کہ یہ بند کمرے میں اپنی عبادت ( یعنی کافرانہ عبادت ) کرتے ہیں” (بند کمرے میں بیٹھے کافر اس ملک میں کیا کیا نہیں ہوتا یہاں گڈ طالبان اور بیڈطالبان کی ٹرم استعمال ہوئی اور اببند کمرے کے کافر اور کھلے عام والے کافر کی اصطلاح سامنے آئی ہے۔

 کچھ عرصہ سے پاکستان کے لوگوں میں طالبان کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا تھا خاص طور مشال خان کے ظالمانہ قتل کے بعد کہ یہ طالبان سوچ کا ہی نتیجہ ہے اس ظلم کے خلاف اتنا بھر پور احتجاج پوا کہ اس وحشیانہ بربریت پہ ان لوگوں نے بھی کهل کر احتجاج کیا جو کل تک کھلے عام ان وحشی مذہبی درندوں کی حمایت کرتے تھے ۔

مگر جیسے ہی عسکری اور سول  سٹیبلیشمنٹ میں بیٹھے طالبان نے محسوس کیا کہ عوام ان مذہبی درندوں کے خلاف متحد ہو رہے ہیں تو انہوں نے فوری طور پہ عوام کے غصے کا رخ انڈیا اور اسرائیل کی طرف موڑ دیا کہ یہ سب طالبان نہیں ہندو اور یہودی کر رہے ہیں۔

اس ہفتہ میں بلوچستان میں ان درندوں نے جو قتل عام کیا فوری طور پہ  طالبان کا راتب کھانے والے فوجی تجزیہ نگار پیٹ میں رکھی داڑھیوں پہ کنگھی کر کے ٹی وی شو میں طالبان کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ساراالزام انڈیا اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کی کاروائی کی تسبیح کرنا شروع ہو گئے۔۔۔ جیو ٹی وی پہ خاص طور پہ ایک درندہ صفت طالبان کے ترجمان احسان اللہ خان کا انٹرویو اسی دن چلایا گیا جو بتا رہا تھا کہ ہم انڈیا سے پیسے لے لوگو ں کا قتل عام کر تے تھے۔

 اگلے دن جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں ایک خود ساختہ کردار سے ایک کہانی بیان کر کے ثابت کیا کہ یہ سب انڈیا کرا رہا ہے ۔ کچھ دن پہلے میں نے فیس بک پہ اپنے چند دوستوں کا نام لکھ کر کہا ان سمیت تمام غیر مسلموں کو میرا صبح کا سلام ۔۔۔ کچھ لوگوں نے مجھے ان بکس میں پوچھا کہ میں نے یہ کیوں لکھا ۔

اصل میں  میں نے ایک فتوی پڑھا کہ غیر مسلموں کو سلام علیکم کہنا غیر شرعی ہے اور کہنے والا مرتد ہے اور واجب القتل ہے ۔ میں نے یہ اس لیے لگایا تھا کہ لوگ اس بارے کیا رائے رکھتے ہیں میرے ایک دوست نے لکھا اس حالت میں صرف مصافحہ کر لیں میں نے کہا جی ہاں اس طرح صرف ہاتھ ہی واجب القتل ہو گا۔

♥ 

2 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    یعنی آ بیل مجھے مار !۔ بصد معذرت، جب آپ نے ایک فتویٰٰ پڑھ لیا ہے کہ غیر مسلم کو سلام کرنے والا مرتد اور واجب القتل ہے تو کیوں لوگوں سے ان کی رائے پوچھ کران کے ہاتھ پاؤں یا زبانیں کٹوانے پہ تلے ہوئے ہیں؟
    پہلے یہ تو طے کرلیں کہ “کافر”،”مسلمان” اور “غیرمسلم” کی کیا تعریف ہے؟۔ کیا ” حضرت” قائداعظم محمد علی جناح
    ” رحمۃاللہ علیہ” کو سلام کرنا جائز تھا جن کے بارہ میں یہ فتویٰ جاری کیا گیا تھا کہ ؎ اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا ۔ یہ قائداعظم ہے کہ ہے کافرِ اعظم”۔
    اسی طرح فتوے موجود ہیں کہ وہابیوں،دیوبندیوں کو سلام کرنا ناجائز ہے،بریلویوں کو سلام کرنا ناجائز ہے،شیعہ کو سلام کرنا ناجائز ہے،مولانا مودودی صاحب یا علامہ المشرقی کے پیروکاروں کو سلام کرنا ناجائز ہے کیونکہ ایک دوسرے کے نزدیک یہ سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔اگر ان فتاویٰ پر عمل پیرا ہوجائیں توپتہ نہیں سلام کس کے لئے رہ جائے گا۔

  2. Mohammad Arshad says:

    Nice article, put some flash light on Burmese, Kashmiris in Indian side, Muslims in India, central Africa and Palestine.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *