کیا سعودی عرب میں نوازشریف کو نظر انداز کیا گیا ہے

ریاض کانفرنس کو لے کر ایک بار پھر پاکستان کی سویلین قیادت خاص کر نواز شریف کے خلاف پراپیگنڈہ مہم شروع کر دی گئی ہے اور انتہا ئی منظم انداز اور با وثوق ذرائع سے بتایا جارہا ہے کہ وزیر اعظم کئی گھنٹے تک تقریر کی تیاری کرتے رہے لیکن انہیں موقع نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے پاکستان کی عالمی سطح پر سبکی ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا میں بھی اس ایشو پر بات ہورہی ہے۔ بلاگر احمد وقاص گورایہ لکھتے ہیں کہ دنیا میں جب بھی کوئی چھوٹی موٹی کانفرنس ہوتی ہے تو اسکی پلاننگ ہوتی ہے، ایجنڈا بنتا ہے۔ اس میں شامل وفود، میٹنگز ، تقریریں، ملاقاتیں طے کرتے ہیں اور شرکا کو ایجنڈا مہینوں پہلے مہیا کیا جاتا۔ یہ ہائی سکول کا کلب تھوڑی ہے کہ بچے اکٹھے ہوئے جس جس کا دل چاہا تقریر کر لی۔ جس جس کا دل چاہا گپ شپ کا سیشن رکھ لیا۔

کیا نواز شریف کو صرف شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا تھا یا اس میں تقریر کا بھی تو جواب ملتا شرکت کا۔ اس کے بعد یہ سب بے بنیاد بکواس پراپیگنڈا کہ وزیر اعظم کو نظر انداز کر دیا گیا۔ نواز شریف کی وجہ سے پاکستان کی سبکی ہوئی۔

اس پراپیگنڈے کا مقصد پاکستان کے وزیر اعظم کے عہدے اور نواز شریف کی توہین ہے ۔ منظم طریقے سے ایسے جھوٹ پھیلائے جا رہے کہ لوگ نواز شریف کو ایک مذاق سمجھیں اور تاثر قائم ہو کہ اسکی وجہ سے پاکستان کی سبکی ہورہی ہے۔ 

جبکہ وزیر اعظم  کانفرنس میں صدور اور اعلیٰ ترین عہدے داروں سے ملے۔ امریکی صدر سمیت سب کے ساتھ غیر رسمی ملاقات ہوئی۔ مطلب اس شمولیت کو سبکی یا نظر انداز کہنا صرف پاکستان جیسے ملک میں ممکن جہاں ہمارا ایک ملازم ادارہ ہماری منتخب حکومت کے بارے میں یہ منظم پراپیگنڈا کرتا۔

دوسری طرف کچھ عرصہ پہلے پاکستان آرمی چیف برطانیہ  گئے تھے۔ کوئی ستاروں والا جرنیل یا وزیر نہیں ملا۔ لیکن میڈیا نے اس دورے کو ایسے پیش کی جیسے آرمی چیف نے برطانیہ کو فتح کر لیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورے کے دوران اپنے خطاب میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو نظر انداز کیا۔ یہ  پاکستانی وزیر اعظم کی ناکامی ہے۔ جس پر سوشل میڈیا میں نسیم خان نےلکھا کہ چونکہ پاکستان خود دہشت گردوں کا سپورٹر ہے، ان کی امداد کرتا ہے انہیں پناہ دیتا ہے تو باقی دنیا پھر اسے نظرانداز نہ کرے تو کیا کرے۔ جس دن پاکستانی ریاست نے یہ طے کر لیا کہ وہ اپنے سٹریٹجک اثاثوں یعنی  دہشت گردوں کو پناہ نہیں دے گی اس دن  نہ صرف پاکستان کی عالمی سطح پربات بھی سنی جائے گی بلکہ ہمسایوں سے تعلقات بھی ٹھیک ہو جائیں گے۔

لیاقت علی لکھتے ہیں کہ سعودی عرب میں منعقد ہونے والی امریکہ، عرب،اسلامی سربراہ کانفرنس میں پاکستان کو پذیرائی نہ ملنےسے وزیر اعظم نواز شریف کی توہین و تذلیل سے زیادہ یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں کو دنیا کوئی اہمیت نہیں دیتی۔

توہین کو کسی شخصیت سے منسوب کرکے حظ اٹھانے کی بجائےپاکستان کو اپنی خارجہ اور داخلی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔ گزشتہ ستر سالوں سے ہماری خارجہ پالیسی کا محور بھارت دشمنی ہے یہی وہ نکتہ ہے جس پر ہماری خارجہ پالیسی مرکوز ہے۔

اس کانفرنس نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ پاکستان کی بھارت فوکس خارجہ پالیسی کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ نواز شریف کے  مخالفین جو سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب میں انھیں تقریر کا موقع نہ دے کر ان کی توہین و تذلیل ہوئی اور اس پر تالیاں بجا رہے ہیں یہ بات پلے باندھ لیں کہ اگر انھوں نے بھی اپنی خارجہ پالیسی کا محور بھارت دشمنی رکھنا ہے تو ان کے حصے میں بھی یہی توہین و تذلیل ہی آئے گی۔ 

 پاکستان کو بھارت دشمنی پرمبنی خارجہ پالیسی کے حصار سے باہر نکل کر اپنے سبھی ہمسایوں سے برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنا چاہئیں۔ بھارت ۔ افغانستان، ایران اور چین سبھی سے دوستی اور اچھے ہمسائیگی پر مبنی تعلقات کی ابتدا کرنا چاہیے۔ صرف چین کو ان داتا سمجھتے ہوئے باقی ہمسایوں سے مخاصمانہ تعلقات کا نقصان ہے اور پاکستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے زہر قاتل ہے۔

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    میں تو اس مبینہ “واقعہ” یا بحث کو ایک اور ہی پہلو سے دیکھتا ہوں۔وزیر اعظم صاحب پاکستان نے اس کانفرنس میں یہی کہنا تھا کہ پاکستان نے لگ بھگ پونے دو لاکھ شہریوں اور سینکڑوں فوجیوں اور پولیس والوں کی جانیں دہشت گردی کے ہاتھوں گنوا دی۔تو یہ تو ہماری ریاستی بد انتظامی، نالائقی،غفلت اور وزارت داخلہ کی مجرمانہ نااہلی اورناکامی کا ریکارڈ ہے اور قابل شرم و ندامت بات ہے ۔ غالباً اسی لئے امریکی صدر نے پاکستان کا ذکر نہیں کہ “منظور تھا پردہ ترا”!۔اس معاملہ میں پاک چین دوستی یا بھارت مخاصمت کو ہی ذمہ دار ٹھہرانا دانشمندی نہیں۔

    خون کے دھبے دھلیں گے کتنی “تقریروں” کے بعد؟؟؟

    پہلے جو تقریریں انٹرنیشنل پلیٹ فارموں پہ ہو چکی ہیں ان سے کونسا ہمیں سرخاب کے نئے پر لگ گئے تھے؟ کتنے ” دانشوروں” نے ان تقاریر پر فخرو مسرت کا اظہار کیا تھا جو آج مبینہ بے عزتی کا واویلہ کر کے اپنا اور قوم کا مزید وقت ضائع کر رہے ہیں.پتہ نہیں ہماری قوم کب جاگے گی؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *