کتاب زندگی

ڈاکٹر پرویز پروازی


مولوی نذیر احمد دہلوی کی نواسی محترمہ قیصری بیگم کی ’’ دلفریب رنگارنگ خود نوشت سوانح‘‘ کتابِ زندگی کے عنوان سے فضلی سنز کراچی نے ۲۰۰۳میں شائع کی ہے۔ یہ سرگزشت ترقی اردو بورڈ کے جریدہ ’’ اردو نامہ‘‘ میں قسط وار چھپتی رہی اور اب ۶۶۱صفحات کی کتاب کی شکل میں ان کی عزیزہ زہرا مسرور احمد نے اسے مرتب کیا ہے ۔اس کتاب کادیباچہ ’’چاند صاحب‘‘ یعنی جناب ڈاکٹر شان الحق حقی صاحب نے لکھا ہے ۔ساڑھے چھ سو صفحے کی یہ کتاب دلی اور حیدرآباد کے زنانہ کلچر کی منہ بولتی تصویر ہے ۔ زبان مولانا نذیر احمد کے گھر کی زبان ہے اور ان کی زبان سے زیادہ محاورہ کا رچاؤ اور بھلا کس کی زبان میں ہوگا؟ کس کے منہ میں اتنے دانت ہیں کہ ان کی زبان کو نام رکھے؟کون ہے جو ان کی زبان پر حرف گیری کرے ؟ حقی صاحب کا کہنا ہے اس کتاب میں ’’محاورہ منہ سے بول رہا ہے کہ کتنا کھرا اور سچا ہے‘‘۔(جوش صاحب نے نذیر احمد کی زبان پر منہ کھولا تھا تو منہ کی کھائی تھی )۔ 

محترمہ قیصری بیگم مولانا نذیر احمد کی اس بیٹی کی اولاد ہیں جس کی تعلیم کے لئے مراۃ العروس لکھی گئی تھی۔ اس لئے مراۃالعروس کی اصغری بیگم جیسا سگھڑاپا ان میں نہ ہوگا تو کس میں ہوگا ۔ قیصری بیگم دلی کی ماں کی کوکھ سے پیدا ہوئیں اوردلی کی زبان ماں کے دودھ کے ساتھ پی۔ بچپن کچھ دلی میں کچھ حیدرآباد میں گذرا ۔ ان کے ابا حیدر آباد میں ملازم تھے اس لئے ان کی عمر کا بیشتر حصہ حیدرآباد میں گذرا۔ شادی اپنے ددھیال یعنی حقی خاندان میں ہوئی مگر ان کے شوہر ان کے ساتھ حیدرآباد چلے گئے اور وہیں کسی خدمت پر فائز رہے۔ اس لئے قیصری بیگم کے ہاں دونوں جگہ کی ثقافت بولتی ہے ۔ رسم و رواج کا ذکر کرتی ہیں تو ساتھ کے ساتھ دلی اور حیدرآباد کے کلچر کا موازنہ بھی کرتی جاتی ہیں ۔

سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ ان کی زبان دکنی بولی کی چغلی نہیں کھاتی حالانکہ مرزا فرحت اللہ بیگ جیسے دلی کے روڑے کی زبان دکن میں رہ کر’’ دکھنا‘‘ گئی تھی اور ان کی خود نوشت ’’ میری داستان‘‘پران کی دکھنی بولی کی چھاپ نمایاں ہے ۔ اس ساری خود نوشت میں بھولے سے بھی ان کے نانا کے شاگردمرزا فرحت اللہ بیگ کا ذکر درمیان میں نہیں آیا حالانکہ ان کے یارِ غار میاں دانی یعنی ڈاکٹر غلام یزدانی صاحب ڈائیریکٹر محکمہ آثار قدیمہ کا ذکر جہاں تہاں موجود ہے ۔ شاید قیصری بیگم بھی فرحت اللہ بیگ کی ’’ نذیر احمد کی کہانی کچھ میری کچھ ان کی زبانی‘‘ سے خوش نہیں رہیں۔ 

’’ کتابِ زندگی‘‘ عورتوں کی دلچسپی کی کتاب ہے ۔ لباس و آرائش‘ رسم و رواج‘ زیورات‘ پکوان ‘ تلن‘ لین دین‘ کوئی چھوٹی سی تفصیل بھی ان کے قلم سے نظر انداز نہیں ہوئی۔جب زیورات اورکپڑوں کی جزئیات بیان کرنے پر آتی ہیں تو میر باقر علی داستان گو بن جاتی ہیں۔لباس کا ذکر ہے تورنگا رنگ کپڑوں کا طومار باندھ کے رکھ دیتی ہیں۔’’ زنانہ لباس‘ بڑے پائنچوں کے پاجامے‘ جن میں گوٹ‘ پٹھے‘ بیلیں‘ جھالر‘ موزونیت سے لگے ہوئے ‘ گلبدن‘ پھلام‘ قناویز‘ ٹسر‘ کمخواب‘ زربفت‘ ایکرنگا‘بھاگل پوری‘ اطلس زری‘ دریائی کے پاجامے‘ پائنچہ کبھی اتنا لمبا ہوتا کہ پہننے والی صحن میں کھڑی ہیں تو پائنچے فرش پر ہیں‘‘۔ رنگوں کے بیان پر آتی ہیں تو لگتا ہے رنگریز کی دکان پر کھڑے ہیں ’’ سردی کے رنگ الگ گرمی کے الگ۔ گہرے گہرے رنگ سردی کے ہلکے نفیس گرمی کے گلِ انار گلِ شفتالو‘ گلِ شبو‘ کسمبی‘ کشمشی‘ عنابی‘ جوگیا‘ صندلی‘ سرمئی‘ بینجنی‘ سنہری‘ زعفرانی‘سردئی ‘ کاکریزی‘ نافرمانی‘ ملاگیری‘ سرخ‘ سبز‘ گلابی‘ کاہی‘ فالسائی‘ اودا‘ قوسِ قزح کے رنگکا‘ نارنجی‘ انگوری‘ پستئی‘ آبی‘ آسمانی‘ دودھیا‘ کاسنی‘ بادامی‘ شربتی‘ پیازی‘ دھانی‘ ‘‘۔مٹھائیوں کا ذکر کرتی ہیں تو حلوائی کی دکان سجا کر بیٹھ جاتی ہیں’’قلاقند‘ پیڑے‘ گلاب جامن ‘ خرمے‘ خرمیاں ‘ موتی پاک‘ میسو پاک‘ ملائی کے لڈو‘ موتی چور کے لڈو‘ امرتیاں‘ جلیبیاں‘ اندرسے‘ کی گولیاں‘ میٹھی اور پھیکی پھینیاں‘ کھجلے‘ بالو شاہی‘ نکتیاں‘کھجوریں‘ سستی مٹھائیاں سہال‘ بہادر شاہی سیو‘ اولے بتاشے ریوڑیاں‘ میٹھی کھیلیں نان خطائیاں ‘ دال سیو نمک پارے‘ مٹھریاں‘ تلی ہوئی مونگ کی دال وغیرہ‘‘ ( صفحہ ۸) سب کچھ سامنے آموجود ہوتا ہے ۔ گھر میں آئی ہوئی بیویوں کی خاطر تواضع پر آتی ہیں تو پان زردے سے تواضع کے علاوہ رنگا رنگ چیزیں مہمان کے سامنے چن دیتی ہیں ’’علی گڑھ کے بسکٹ‘ گزک اور آگرے کی دال بیجی‘ دہی بڑے‘ قلمی بڑے‘ تلے ہوئے پالک کے پتے‘ نان خطائیاں‘ چھوٹی چھوٹی خرمیاں‘ گری کا پپڑی کا حلوہ سوہن‘ جوزی حلوہ سوہن‘ یا حبشی حلوہ سوہن‘ مٹھڑیاں‘ نمک پارے‘ تلی ہوئی مونگ کی دال‘ تئی کے کباب‘ گولے کے کباب‘ مچھلی کے کباب ‘‘ غرض پڑھنے والے کی رال ٹپکنے لگتی ہے ۔

شادی بیاہ کی تیاریوں کا ذکر ہے تو سارے جہیز اور زیورات کی تفصیل ایک ایک کر کے گنواتی ہیں ۔’’ سوزنیاں ‘ چاندنیاں‘ دسترخوان‘ غلاف تکیہ‘ پینچ ‘ جانماز‘ جزدان ‘ مسند تکیہ‘ رضائیاں دولائیاں‘ چادرے‘ تورے پوش‘ خوان پوش‘ پٹاری کی گردی‘ پاندان کا غلاف‘ پانوں کی صافیاں‘ تلے دانیاں‘ تاگوں کی پیچکیں‘ ڈولی کا پردہ‘ ڈولی کی سوزنیاں‘ ‘ کوئی چیز ان کی جزبیں نظر سے اوجھل نہیں رہتی۔ زیورات پر آتی ہیں تو علی جان والوں کی دکان سجا دیتی ہیں ۔ ’’ کانوں میں طلائی پتے بالیاں‘ بجلیاں ‘سہارے اور مرصع قابلِ دید جھلنیاں‘ گلے ( کا ) جڑاؤ زیور الگ‘ طلائی الگ‘ مالا‘ گلوبند‘ چمپا کلی‘ جوشن‘ نونگے‘ انگشتریاں‘ کڑے‘ کنگن‘ چوہے دتیاں‘ مرصع پہنچیاں‘ پاؤں میں چوڑیاں وہ بھی طلائی اور انگوٹھیوں کے چھلے‘‘۔ کسیرا آیا ہے تو سارے ’’ وزنی برتن خرید لیتی ہیں کہ لوگ نام نہ رکھیں‘‘۔’’لگن سینیاں دیگ دیگچہ بجھیرا سیلابچی آفتابے‘ موٹے پٹاری‘ مقابلہ ء حسن دانی‘ سینیوں کے اوپر کے سرپوش‘ صراحی گلاس کٹورے‘ غوریاں‘ قلفیاں‘ بادئے‘ پانی پینے کے کٹورے‘ تھالی جوڑ‘ بگونے‘ گلاس تانبا کیٹ‘ پھولوں کا چنگیر دان‘ ناگردان‘ دیگچیاں‘ ڈونگا‘ کفگیر‘ چمچے‘ ڈورا‘نگیریاں‘ اناج کے ڈبے‘ چھولہے پھنکنیاں‘ دست پناہ‘ طباق‘‘! در اصل قیصری بیگم گھر سے خوشحال تھیں اور اپنے گھر میں یہی کچھ انہوں نے دیکھا تھا۔اس لئے بے تکلف بیان کرتی چلی جاتی ہیں انہیں خیال تک نہیں ہوتا کہ ہر کہہ و مہہ ایسی خوش حالی سے دوچار نہیں تھا۔ ان کے اپنے گھر کا تمدن تو یہ تھا کہ ’’ حویلی میں دادی اماں کے قدم کی برکت تھی۔دالانوں میں سب جگہ صاف دریوں چاندنیوں کا فرش کیا ہؤا۔ اپنی اولاد در اولاد اس میں آبادان کے نوکر چاکر‘ ماما بوبو سب میں دینداری کا چرچا صوم و صلوٰۃکی پابندی۔ دادی اماں نماز و وظائف سے فارغ ہوئیں اور چاروں طرف سے بہوئیں خراماں خراماں سلام کے واسطے حاضر ہوئیں‘ جب تک دادی اماں نہ دیکھیں وہ اپنی جگہوں پر ادب سے کھڑی رہتیں۔

جب سلام کر چکتیں تو ان کے پاس بیٹھ جاتیں‘ ماما آئی اور بولی ’’ بیگم صاحب لائیے پیسے دیجئے ناشتہ لے آؤں‘‘ دادی اماں نے کہا ہاں بوا لو۔پورے گھر کے واسطے خستہ کچوریاں‘ بیوڑیاں‘ پوری حلوہ‘ اچار ترکاری آگئی ۔ بڑوں کو چار چار کچوریاں بچوں کو دو دو تقسیم کر دیں سب ناشتے سے فارغ ہوئے ۔ کھانے کا سوال آیا تو دادی اماں نے ماما کو گھر کے کھانے کا بتا دیا اور خود چولھے کے پاس منڈھیا پر جابیٹھیں‘ گھی کا کنستر اپنے پاس رکھ لیا اور پانی کی طرح گھی بہنے لگا‘‘ ۔ دلی کے سب گھروں میںیوں گھی پانی کی طرح تو نہیں بہتا ہوگا مگر تہذیب کا رکھ رکھاؤ یہی تھا۔ ناشتہ باہر ہی سے آتا تھا ۔ اشرف صبوحی اور شاہد احمد دہلوی نے کہ اسی خانوادے سے تھے دلی والوں کی فاقہ مستی کا خوب نقشہ کھینچا ہے ۔ قیصری بیگم کے ہاں فاقہ مستی نہیں ۔’’ دلی کی دل والی منہ چکنا پیٹ خالی ‘‘کا نقشہ ان کے ہاں نہیں ہے ۔ 

قیصری بیگم ساتھ کے ساتھ اپنی داستانِ حیات قلم بند کرتی رہیں ۔ جس کسی نے پوچھا کیا کر رہی ہیں یہی جواب ملا اپنی زندگی کے حالات لکھ رہی ہوں۔اس کا فائدہ یہ ہؤا کہ خوشی غمی ہر موقع کی تفصیلات حیطہ ء تحریر میں آگئیں ۔ کچھ ان کا ذہن ایسا ہے کہ رشتے خوب پہچانتی ہیں ۔ اس داستان میں در آنے والے ہر فرد کا پورا شجرہ انہیں یاد ہے ۔ کون کون ہے کس کا بیٹا ہے کس کی بیٹی ہے کس سے بیاہ ہؤا اولاد کون کون ہوئی کون کہاں جا بسا؟ نانا ابا کے ورثہ میں جائیداد بنانے کا انہیں بھی چسکا ہے ۔ ایک بار بیوہ ہوئیں تو دور پار کے ایک عزیز سے عقد ثانی کر لیا اور گھر باہر والوں کی تلخ ترش باتیں بھی سننا پڑیں مگر آخر ’’ ایامیٰ‘‘ والے کی نواسی تھیں ۔ کسی کی پروا نہیں کی ۔

وہ چیز جسے احوال الرجال کہتے ہیں ان کے ہاں نہیں ہے البتہ افراد بہت ہیں ۔ افراد کا حال احوال بھی لکھتی ہیں مگر ایک حد تک جا کر رک جاتی ہیں ۔ نانا ‘نانی اور کسی حد تک اپنے والد محترم کی شخْصیت پر روشنی ڈالتی ہیں مگر کسی اور فرد کی شخصیت کا پورا پرتو کہیں نہیں ابھرتا ۔ ابا کے دوستوں کا ذکر ہے تو ان کے ناموں کی ایک فہرست گنوا دیتی ہیں ۔ اپنی والدہ کا ذکر کرتی ہیں تو یہ لکھنا نہیں بھولتیں کہ ’’ یہ ہیں مراۃ العروس اور بنات النعش کی ہیروئن اصغری بیگم‘‘ اور اس کے ساتھ اصغری بیگم کی ساری خصوصیات بیان کر تی ہیں ’’ بچپن ہی سے وہ با اقبال رہیں ۔ سلیقہ مندی‘ صفائی پسندی‘ اوقات کی پابندی‘ ملنساری ‘ہمدردی‘ صاف گوئی‘ صاف باطنی‘ خوش خلقی‘ صادق القول‘ پابندِ صوم و صلوٰۃ‘ مخیر‘ فہمیدہ‘ سنجیدہ‘ پاکیزہ خیالات‘ اعلیٰ جذبات‘ خانہ داری میں ماہر‘ سینے پرونے میں مشاق‘ پاکیزہ خط‘ علم دوست‘ پکی مؤحد‘ والدین اور بزرگوں کی اطاعت گذار‘ غیرت و حمیت کا مجسمہ‘ مادری زبان اردو مگر فارسی میں دستگاہ رکھنے والی‘ خدا ترس رحمدل‘ پابندِ وضع انسان تھیں ‘‘ ( صفحہ۷۸) غرض کوئی ایسی خصوصیت باقی نہیں رہی جو انہوں نے بیان نہ کر دی ہو ۔ ان کی نانی اماں اور اپنی دادی اماں کا سنا سنایاحال شاہد احمد دہلوی نے اپنے خاص انداز میں لکھا ہے ۔ 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب مولوی نذیر احمد مسجد کے مُلا کے پاس پڑھتے تھے ۔ ’’ اس زمانہ کے طالب علموں کی طرح انہیں بھی محلے کے گھروں سے روٹی مانگ کر لانا پڑتی تھی ۔ دن اور گھر بندھے ہوئے تھے انہیں گھروں میں سے ایک گھر مولوی عبد القادر صاحب کا بھی تھا ۔ روٹی کے سلسلے میں جب ان کے ہاں آنا جانا ہو گیا تو نذیر احمد سے اوپر کے کام بھی لئے جانے لگے۔ مثلاً بازار سے سودا سلف لانا ‘ مسالہ پیسنا‘ لڑکی کو بہلانا‘ لڑکی بڑی ضدن تھی ان کا کولہا توڑتی اور انہیں مارتی پیٹتی رہتی۔ ایک دفعہ مسالہ پیستے میں مرچوں کا بھرا ہؤا ڈبہ چھین کر ان کے ہاتھ کچل ڈالے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ یہی لڑکی آگے چل کر مولانا کی بیوی بنی‘‘ ( گنجینہ ء گوہر صفحہ ۱۴)۔ اب ان کا آنکھوں دیکھا حال قیصری بیگم سے سنئے اور شنیدہ کے بود مانند دیدہ کی داد دیجئے۔’’ نانی اماں صفیہ بیگم نیک والدین کی اولاد ہونے کے علاوہ خود بھی بڑی نیک بیوی تھیں ۔ طبیعت کی خاموش ‘ غصے کا نام نہیں ‘ منکسر المزاج‘ صابر‘ غریبوں کی ہر طرح مدد کرنے والی‘ اگرچہ وہ اتنے بڑے آدمی کی اہلیہ تھیں لیکن نہایت سادہ زندگی گذارتی تھیں ۔ نہ اچھا کھانا نہ اچھا پہننا۔ رنگین لباس تک ہم نے ان کا نہیں دیکھا ۔ بالکل سفید لباس نہ گوٹا نہ کناری۔۔ ۔ وہ نانا ابا کے واسطے خود سالن پکاتی تھیں اسی میں سے تھوڑا سا بچا کر خود نوش کرتیں۔ شب کو ہمیشہ چوبی تخت پر بغیر بستر لیٹ جاتیں۔ عشا کی نماز پڑھی اور وہیں لیٹ رہیں ۔ میں نے کبھی نانا ابا اور نانی اماں کو آپس میں بات چیت کرتے نہیں دیکھا۔ ۔۔۔ سب میں بی صاحب مشہور تھیں ۔ نانا ابا بھی بی صاحب ہی کہتے تھے ۔ ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم نانا ابا ان کو اخراجات کے واسطے کیا ماہوار دیا کرتے تھے لیکن وہ بہت فارغ البال آدمی تھے اور ان کے پورے خاندان میں جو مختصر ساتھا جمع کرنے کی عادت تھی۔ کروفرنہ ٹھاٹ۔ سلامت روی کی چال ۔ خیر خیرات اور جمع‘‘ (صفحہ۷۴۔۷۵) ۔

’’ کتابِ زندگی‘‘ کی یہ خصوصیت منفرد ہے کہ دہلی اور حیدرآباد دونوں جگہوں کے میلوں ٹھیلوں ‘ عرسوں‘ درگاہوں مندروں سب کا بیان یکساں اپنا ئیت سے کرتی ہیں ۔شیعہ نہیں مگر محرم کا حترام اور مجلسوں کا ذکر پورے احترام سے روا رکھتی ہیں ۔ سیر سپاٹے کا انہیں شوق رہا ہے اس لئے جہاں جہاں گئی ہیں وہاں کا پورا سفر نامہ لکھ دیا ہے ۔ منظر کشی کرنا بھی انہیں خوب آتا ہے ۔ میلوں ٹھیلوں کی شوقین تھیں اس لئے جہاں جاتی ہیں ان کا تلن کا اور جھولوں کا سامان ساتھ میں رہتا ہے ۔ حج پر بھی گئی ہیں تو حج کا سفر نامہ بڑی خوبی سے قلمبند کر دیا ہے ۔نام و نمود کی خواہش نہیں تھی نہ کوئی کام نمود کے لئے کرتی ہیں البتہ دینے دلانے اور لین دین میں انہیں اس بات کا خیال رہتا ہے کہ ایسی چیز دی جائے کہ کوئی نام نہ رکھے۔جادو ٹونے اور جنات کی بہت قائل ہیں اور عملیات میں خاصہ شغف رکھتی ہیں ۔ بلک کسی حد تک توہم پرست ہیں شگون لینے میں ان کی طبیعت بہت بڑھی ہوئی ہے ۔ 

غرض کتاب زندگی اپنی نوعیت کی انوکھی سرگزشت ہے ۔ ثقافتی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بہت مفید کتاب ہے ۔ دلی کے محاورے اور روزمرے سے بھری ہوئی اس کتاب میں دلی کی ضرب الامثال اور عورتوں کی بولی ٹھولی پر‘ سودا سلف بیچنے والوں کی آوازوں پر ‘ کئی صفحات موجود ہیں ۔ شادی بیاہ اور تہواروں پر گائے جانے والے گیت بھی قیصری بیگم نے خاص توجہ سے محفوظ کر دئے ہیں اب ان کے بعد کون ایسی باتوں کو آئندہ آنے والوں کے لئے مرتب کرے گا؟ یہ باب تو ان کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے۔ 

One Comment

  1. Tahir M Qazi says:

    Wah Wah … Dr. Parwazi Sb is very dear to me and as always, I learn from his writings. He is the one among the last living legends who have the real appreciatition for the finesse of the Urdu language … He is the one that one could call the “Praganda Tabah Log” who try to connect the “Present” with the esthetics of the past. Thank you Dr. Sb.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *