بلوچستان کی جنگ زدہ صورت حال اور ترقی پسند تنظیموں کا نظریاتی دیوالیہ پن

دوستین بلوچ

یوں تو بلوچ و پاکستان کے درمیان تعلقات کبھی بھی دوستانہ یا گرمجوشی کے نہیں رہے ہیں۔ کیونکہ قابض و مقبوضہ اور حاکم و محکومیت کے تضادات کی موجودگی میں دوستانہ تعلقات یا باہمی احترام کے جذبے کا پروان چڑھنا ممکن نہیں ہے۔ 27مارچ1948کے بعد سے بلوچستان میں جاری مزاحمت و سیاسی تحریکیں، جبکہ ان تحریکوں کو کاؤنٹر کرنے کے لئے قابض کی فوجی طاقت ، میڈیا یا مقامی گماشتے سرداروں و نام نہاد سیاسی پارٹیوں کے ذریعے ان تحریکوں کو کاونٹر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

وقتی طور پر قابض کی کامیابی کے بعد قومی تضادات ، زبان ثقافت و رسم رواج میں موجود تضادات کی موجودگی تحریک کو دوبارہ متحرک کرنے کا محرک بنے۔اکیسویں صدی کے شروع میں جب بلوچ تحریک پہلے کی نسبت تیاری اور وقت و حالات کے عین مطابق پھر سے اُبھر گئی تو اس میں ایک نیا پن اور عام لوگوں میں قبولیت کے نعرے و کردار موجود تھے۔ بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک اس سے پہلے اگرچہ عوامی حمایت سے لڑی جارہی تھی لیکن باقاعدہ عوامی شمولیت اس سے پہلے وسیع پیمانے پر نہیں تھی۔ 

اس کے برعکس اس نئی تحریک میں عوامی شمولیت، خصوصاََ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی شرکت غیر معمولی طور پر تحریک کو بلوچستان بھر میں فعال کرنے کا سبب بنی۔ اگر مبالغہ آرائی نہ ہو تو شاید بلوچ تاریخ میں تسلسل کے ساتھ لڑی جانے والے یہ پہلی جنگ ہے جو کہ15سالوں سے بغیر کسی توقف کے جاری ہے۔ ہزاروں لیڈر و کارکنان کی شہادتوں، و اتنے ہی عام لوگوں کو شہید کرنے کے باوجود بھی یہ تحریک عوام کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے سبب اپنا وجود برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط و منظم ہو رہی ہے۔جس سے خوفزدہ پاکستان و اس کی اتحادی ممالک بلوچ تحریک کی کامیابی کی صورت میں اپنے اپنے مفادات کو بلوچستان میں نقصان میں دیکھ کر اس تحریک کے خلاف صف بندیوں میں مصروف ہیں۔ 

بلوچستان کے قیمتی معدنیات، فوجی حوالے سے انتہائی اہم خطہ اور سب سے بڑھ کر طویل ساحل کو پاکستان کے اتحادی ممالک ’خصوصاََ چین ‘ اپنی زیر تصرف لانے کی کوشش میں پاکستان کی مدد کررہے ہیں۔ ان ممالک و سرمایہ کار کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بلوچ آبادیوں کو اقلیت میں بدلنے کی پالیسوں کو بروقت بھانپ کر اور ان پالیسوں کی کامیابی کو بلوچ کے لئے ڈیتھ وارنٹ قرار دے کر بلوچ نوجوان مختلف محازوں میں اس کے خلاف برسرپیکار ہو گئے۔اس جدوجہد میں کئی اہم منصوبے ناکامی کا شکار ہو کر اپنی اہمیت کھو بیٹھے مگر بلوچستان بدستور اہم ر ہا۔ 

اس لئے قابضین نے نئے سرے سے اپنی پالیسوں میں تبدیلیاں لاکر، اور بلوچ عوام کو مختلف محاذوں میں الجھائے رکھنے کی کوششوں کے بعد عالمی سرمایہ کاروں کو ایک مرتبہ پھر بلوچستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیدی۔ مگر چونکہ بلوچ جدوجہد سیاسی اداروں و تعلیم یافتہ باشعور طبقہ کی سربراہی میں لڑی جارہی ہے اس لئے بلوچ مزاحمت نے نئے معاہدات کرنے والی کمپنیوں کے لئے بھی بلوچستان کو لقمہ تر بننے نہیں دیا اور اپنی وسائل و زمین کی حفاظت کے لئے مزاحمت کرتے رہے۔ جس سے کئی کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹ کر چلے گئیں جبکہ پاکستان سے دوستی کا دم بھرنے والے چائنا و بلوچ وسائل کو سستے داموں حاصل کرنے والے ٹیتھیان و دیگر کمپنیاں بدستور یہاں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار کی تحفظ کی خاطر پاکستان کی فوجی مدد بھی کررہے ہیں۔

دو سال پہلے تربت میں بی ایل ایف کی جانب سے ایف ڈبلیو او کے ایک کیمپ پر حملے اور اس حملے میں 20ہلاکتوں سے بلوچستان پاکستانی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا، اس کے بعد بھی جب کہیں پر چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کی تعمیراتی سرگرمیوں پر حملے ہوئے تو میڈیا ایف ڈبلیو او کا نام لیے بغیر ہلاک ہونیوالوں کو عام مزدور قرار دیتی رہی ہے، یہی راگ چند روز قبل گوادر میں سڑک کی تعمیر کرنے والے اہلکاروں پر حملے کے بعد سے الاپا جارہا ہے۔ حسبِ سابق پورا میڈیا اس بات پر زور دے رہا ہے کہ یہ تمام مزدور تھے جنہیں مارا گیا ، ایف ڈبلیو او ایک فوجی ادارہ ہے جسے بلوچستان میں تعمیراتی کاموں کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ کیوں کہ کوئی مقامی ٹھیکدار اس طرح کی منصوبوں کا حصہ نہیں بنتا جس سے فوجی مقاصد یا سرمایہ کار کمپنیوں کے مفادات وابستہ ہوں۔

بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سڑکیں تعمیر کرنے کا مقصد معاشی ترقی نہیں بلکہ فوجی نقل حمل کو آسان بنانا ہے۔ جس کے لئے سندھ و پنجاب و دوسرے علاقوں سے غیر بلوچ مزدور برآمد کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک سوچنے کی بات ہے کہ شدید ترین بے روزگاری اور معاشی تنگدستی کے باوجود مقامی بلوچ ان پروجیکٹوں پر مزدوری کے بجائے دوسرے کاموں کو ترجیح دیتے ہیں اس کے برعکس سندھ و پنجاب سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا ایک جنگ زدہ خطے میں مزدوری کے لئے جانا، اور ایسے منصوبوں میں مزدوری کرنا جن کی کامیابی کو بلوچ اپنے لئے ڈیتھ وارنٹ قرار دے چکے ہوں یقیناًحیرانگی کی بات ہے۔

بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک، اور بلوچ وسائل پر توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے ممالک و کمپنیاں اور مقامی سردار و ریاستی گماشتے اس تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لئے متحد ہو چکے ہیں۔ میڈیا وار اور سیاسی طریقوں سے تحریک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فوجی طاقت کا بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، مکران میں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کی گزرگاہوں اور ان گزرگاہوں سے ملحقہ علاقوں کے عوام کو زبردستی اُن کے علاقوں سے بیدخل کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال کی فروری کو آئی جی ایف سی کی جانب سے دھمکی آمیز بیان کے بعد مکران کے مختلف علاقوں سے کئی دیہات مکمل طور پر خالی کرا دئیے گئے ہیں۔ بیان میں آئی جی ایف سی نے کہا تھا کہ مزاحمت کاروں کی اطلاع نہ دینے پر علاقوں کے لوگوں کو بیدخل کردینگے۔اس طرح کی بیانات و کاروائیوں کا مقصد در اصل اُن معاہدات کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو بلوچ کی مرضی کے برعکس بلوچستان میں ہو رہے ہیں۔یک طرف ریاستی حکمران ان منصوبوں کو بلوچ کی مفاد میں ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے تو دوسری طرف بلوچ نوجوانوں، اسٹوڈنٹس، ٹیچرز و دیگر طبقوں کے لوگوں کو نشانہ بنا کر بلوچ قوم کو انسانی وسائل سے بے بہر ہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

اگر اس طرح کے پروجیکٹ واقعی ’’بلوچ ‘‘ کے مفاد میں ہوتے تو انہیں مکمل کرنے کے لئے فوجی طاقت کا استعمال کرنا نہیں پڑتا۔ اس با ت پر چائنا و پاکستان کے حکمرانوں سمیت بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے والی دوسری کمپنیاں بھی غور کررہی ہیں کہ بلوچ تحریک کی موجودگی میں ان کا سرمایہ یہاں پر محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ اسی لئے مکران میں آپریشن کا اعلانیہ آغاز کیا گیا تاکہ پاکستان چائنا و دوسرے سرمایہ کار کمپنیوں کا اعتماد بحال کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے، فوجی کاروائیوں میں عام لوگوں کو نشانہ بنانے، ہزاروں خاندانوں کو انکے آبائی علاقوں سے جبراََ بیدخل کرنے، راہ چلتے لوگوں کو اغواء کرنے، اور مغویوں کی لاشیں پھینکنے جیسی انتقامی کاروائیوں کا سامنا بلوچ تحریک کو ہونے کے باوجود بلوچوں سے یہ اُمید رکھنا کہ وہ اُن پروجیکٹوں پر کام کرنے والوں سے نرمی برتیں گے جو کہ اُن کی قومی زندگی و موت کے سودے پر لگے ہوئے ہیں، یقیناًخام خیالی ہے۔

بلوچستان میں فوجی منصوبوں پر حملہ اور اس کے ردعمل میں فوج کا عام لوگوں پر آپریشن اور عام لوگوں کی ہلاکتیں ناقابلِ تردید حقائق ہیں۔ لیکن ترقی پسندانہ نظریات رکھنے والی تنظیموں کی نظریاتی دیوالیہ پن ایسے واقعات سے ایک مرتبہ پھر واضح ہوتی ہے کہ وہ بھی عامیانہ ذہنیت رکھتے ہوئے کیفیات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور بڑی حد تک میڈیا کی جھوٹی باتوں کو ہی صحیح سمجھ کر بیانات داغ دینا شروع ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اندرونی و بیرونی طور پر طاقتور دشمنوں کی موجودگی اور تحریک کے خلاف سرگرم رہنے کے باوجود بلوچ تحریک انتہائی محتاط انداز میں سول اداروں و غیر مسلح دشمنوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے انہیں ہدایات دے کر بلوچستان میں کام کرنے سے روک رہے ہیں۔

جس کی مثال گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ایک ویڈیو ہے جس میں ایف ڈبلیو او کی زیر نگرانی کام کرنے والے مزدوروں کو جمع کرکے ایک مسلح تنظیم کا ممبر انہیں ہدایات دے رہا ہے کہ وہ سڑک کی تعمیر کے منصوبوں میں کسی کو بھی کام کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس ویڈیو میں اُس مسلح نوجوان کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ اُن کی دشمنی کسی قومیت سے نہیں بلکہ سامراجی ممالک و کمپنیوں سے ہے۔ اگر کوئی پنجابی ،سندھی و پشتو بن کر بلوچستان میں آئے اور کسی ریاستی سرگرمی کا حصہ نہ بنے تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

بلوچستان میں ان منصوبوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سندھی قوم پرست تنظیمیں بھی سطحی بیانات سے اصل صورت حال سے منہ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلوچ رہنماؤں نے تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والو ں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں اُن ترقیاتی منصوبوں کا حصہ نہ بنیں جن کی وجہ سے بلوچوں کو اقلیت میں بدلنے کا خدشہ موجود ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ محترم شفیع بُرفت اپنی قوم سے اپیل کرتے کہ وہ جنگ زدہ بلوچستان میں جانے سے گریز کریں، لیکن وہ دیدہ دلیری کے ساتھ واقعات کی حقائق کے برعکس تصویر کشی کررہے ہیں۔

پاکستان میں موجود نام نہاد ترقی پسند تنظیموں کا المیہ یہ ہے کہ وہ قوم پرستی اور قومی غلامی جیسی حقیقتوں کو ماننے سے بھی انکاری ہیں۔ ترقی پسندی کے نام پر قائم یہ موقع پرست تنظیمیں زمینی حقائق اور عام بلوچ کی زندگی کی تلخیوں کا تجزیہ کیے بغیر ہزاروں میل دور بیٹھ کر بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے فیصلہ دیتے ہیں ۔ گوادر میں رونما ہونے والا واقعہ بھی ان تنظیموں کی ذہنی عیاشی کے لئے چند روز کا سامان مہیا کر گئی۔ 

بلوچ آزادی پسند تنظیمیں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے واضح موقف رکھتی ہیں، بلوچستان کی حالات پر نظر رکھنے والے لوگ بخوبی واقف ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تنظیمیں اپنا موقف میڈیا میں بیان کرتی ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص مزدوری کے نام پر فوجی پروجیکٹوں میں حصہ لے گا تو بلوچ کے پاس سخت قدم اٹھانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی بربادی کا تماشہ دیکھے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *