شب کی چند ساعتیں جوزف سٹالن کی صحبت میں

سلمیٰ اعوان

میں اُس وقت را ت کے دو بجے پیٹرز برگ کے اِس ہوٹل میں’’ سٹالن رشیا ‘‘ پڑھ رہی تھی۔ رُوس کی پرانی تاریخ بُہت شکستہ پاہے۔ یہ بیچاری کبھی منگول خانوں ، کبھی ترکوں، سویڈش فیوڈلسٹوں، پولش لتھونئین جنٹری، فرانسیسی سرمایہ داروں اور جاپانی نوابوں سے مار کھاتی رہی۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ کمزور اور پس ماندہ تھی۔ ہم ترقی یافتہ ممالک سے سو سال پیچھے ہیں اور ہمیں یہ فاصلہ صرف دس سال میں طے کرنا ہے ۔ صرف دس سال میں۔

’’کیا بات ہے؟‘‘ میں خود سے کہے بغیر نہ رہ سکی تھی۔ اگلے دو ورق اُلٹ دئیے تھے۔ کلکوز (اجتماعی فارمنگ) ۔ کارل مارکس انقلاب برپا ہونے کے بعد زمین پر قبضے کا کہتا ہے۔ لینن نے ایسا چاہا پر رُک گیا۔ مُلک جنگ عظیم اول سے نڈھال تھا۔1918ء سے 1922ء تک سِول وارمیں اُلجھا رہا ۔ امن وامان کی بحالی جیسا بڑا چیلنج سامنے تھا، اُوپر سے موت نے آن لیا۔پر سٹالن تو جیسے اُدھار کھائے بیٹھا تھا۔ پہلی فرصت میں توے چڑھا دئیے۔

اگلے چند صفحات اجتماعی فارمنگ پر دلچسپ رپوٹوں سے بھرے ہوئے تھے۔ سال 1929ء تھا۔ ایک رُوسی امریکہ سے سالوں بعد کرکوف شہر کے قریب واقع اپنے گاؤں یکم میں آیا۔ بیچارے نے ابھی بوٹ بھی نہیں اُتارے تھے کہ گاؤں کا گاؤں اُمنڈ اپڑا۔ غریب کلکوز کے بارے میں بات کرنے کے لئے جیسے بھرے بیٹھے تھے۔گاؤں کا لوہارلُکیان بولا۔

’’ ہم پہلے ایک دوسرے کے پڑوسی تھے اور انسان تھے۔ اب ہم کولاک (بُہت ا میر کسان)، سریر دنکی (درمیانہ زمیندار)، بیدنکی (تھوڑی سی زمین والا) اور بتراک (اُن کے پاس زمین نہیں ہوتی) بن گئے ہیں۔ کلاس وار میں اُلجھا دیا ہے ہمیں۔‘‘ لُکیان پل بھر کے لئے رُکا۔ جب گروم باچا وسکی نے بولنا شروع کر دیا۔

’’چلو اِسے بھی چھوڑو۔ اب یہ کہا جانا کہ اپنی زمین، اپنا ڈھور ڈنگر، اپنے اوزار، اپنے ڈیرے، سب اُنہیں دے دو۔ اکٹھے کام کرو۔ ہر چیز ایک دوسرے کے ساتھ تقسیم کرو۔ ارے ایک اپنا خاندان بھی کبھی نہ کبھی کِسی نہ کِسی بات پر اُلجھ پڑتا ہے۔ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اور یہاں ہمیں دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک فیملی کے طور پر کام کرنے اور مل بانٹنے کو کہا جار ہا ہے۔‘‘ بورس نے لقمہ دیا۔ 
’’
ہم کتنے ہی غریب کیوں نہ ہوں پھر بھی ہمارے پاس اپنے آلو ہیں،اپنا دودھ ہے، پنیر ہے، اپنے کھیر ے ہیں اورہم اتنا جانتے ہیں کہ ہم بھُوکے نہیں مریں گے‘‘۔ 
لینا کِسی سے کیوں پیچھے رہتی۔

’’اب دیکھو ایک عورت کے دس بچے ہیں۔ ایک کے پانچ اور ایک کا ایک ۔ دس بچوں والی کو دس کے حساب سے دودھ ملے گا۔ پانچ والی کو پانچ کے اور ایک والی کو ایک کے مطابق۔ کام تینوں نے ایک جیسا کرنا ہے۔بتاؤیہ کیسا انصاف ہے؟ ‘‘ اِسی دوران کلکوز کا نمائندہ بھی آگیا اور اِس بحث مباحثے میں شامل ہوگیا۔

’’ مجھے بتاؤ سالوں سے تم زمین کے اِن چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو لئے بیٹھے ہو جوتم میں اور تمہارے بچوں میں تقسیم ہو ہوکر گھٹتی چلی جا رہی ہے۔ کاشت کاری کے جدید آلات تم لوگ استعمال نہیں کر سکتے کہ بنّے اور منڈیروں سے تیری میری حدبندیاں کر رکھی ہیں۔ نئے رحجان ،نئے انداز اپنانے سے تم خوف زدہ ہو۔تمہارے بچوں کے لئے سکول بنایا۔ اب ہم کہتے ہیں کہ فائراسٹیشن اور بہترین پُل بننے چاہئیں۔ کیا ہم غلط کہتے ہیں؟ہم تمہیں فرٹیلائزر استعمال کرنے کا کہتے ہیں۔ کیا ہم غلط ہیں؟ دیکھو یہ وقت اپنی ذات کے لئے سوچنے کا نہیں۔ ‘‘ لوگوں کے ہجوم نے چِلاّ کر کہا تھا۔ ’’یہی طریقہ ر ہ گیاہے اصلاحات کا ؟ سکول، پُل ، فائر اسٹیشن بنانا حکومت کا کام ہے‘‘۔

اور کلکوز کے منتظم نے بھی جواباً چِلاّ کر کہا تھا۔ ’’ہمیں بھی طریقے آتے ہیں تم سے نپٹنے کے ۔ ہم تو تمہیں زمین کے چہرے سے یوں پونچھ ڈالیں گے جیسے ماتھے سے پسینہ پونچھا جاتا ہے۔‘‘ میں نے کتاب اپنے سینے پر رکھ لی تھی۔ ایک ٹھنڈی سانس بھری تھی۔ 

اگلے صفحات پر سٹالن کی صنعتی پالیسی سے متعلق پانچ سالہ منصوبوں کی تفصیلات تھیں۔پندرہ سال کا ٹارگٹ تھا۔ رُوس کی عورت قابلِ رشک تھی۔ ہرجگہ مستعد اور چوکس ۔ ڈانگری پہنے تھریشر کی ٹرالی پر چڑھی ڈنڈے سے غالباً پرالی کی دُھنائی کر رہی تھی۔

اگلے صفحات نے مجھے دُکھی کر دیا تھا۔
The Great Purge
(
تطہیری عمل۔ معاشرے کو پاک کرنے کا نام دے لیجیے)۔

سنہ1936ء سے 1939ء تک کا زمانہ سیاست دانوں،جرنیلوں کرنیلوں، موسیقاروں، لکھاریوں، کسانوں، ڈاکٹروں اور صنعتی کارکنوں ، جرنلسٹوں ، سبھوں کو کُولہو کے بیل میں پیس دینے کا زمانہ تھا۔ خوف ودہشت کی فضا پروان چڑھا دی گئی تھی۔ٹراٹسکی کی موت والی تصویر نے آنکھیں گیلی کر دیں۔ میکسیکو میں اُس کی خواب گاہ میں برف توڑنے والا لمبا سوا ہسپانوی نوجوان رمن مرکیڈر نے اُس کی کھوپڑی میں گھُسیڑ دیا گیا اور عجیب سی بات کہ اُس کا لہو اُن کاغذات پر گرا جو وہ اُس وقت لکھ رہا تھااور یہ سٹالن پر اُس کی کتاب کا ایک باب تھا۔کتاب میں بنے کارٹونوں نے بُہت ہنسا یا تھا۔

Visit the USSR’s Pyramids

سٹالن ا نسانی کھوپڑیوں کے اہراموں کے پاس کھڑا تھا۔ اُن کی کھوپڑیاں جو معاشرے کی صفائی ستھرائی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ لیبر کیمپوں کی تفصیلات رونگٹے کھڑے کرنے والی تھیں۔ چند ایک کو پڑھ کر میں آگے بڑھ رہی تھی۔ جب رُکی ۔ کولی ما کے قیدیوں کی ایک نظم نے میرے دُکھی دل کوچھُو لیا تھا۔ کولی ما قطب شمالی کے قریب دنیا کی سرد ترین جگہ ہے جہاں لبیر کیمپ کے قیدی گایا کرتے۔
Kolyma, Wonderful Planet
Twelve Months Winter, The Rest Summer

یہا ں دو تحریریں تھیں اُ س کی بیٹی سوتلانہ کے خطوط جو اُس نے اپنی دوست کو لکھے۔ یہ کتابی صورت میں اُس وقت چھپے جب وہ رُوس سے چلی گئی۔ سادہ سی اِس تحریر میں کچھ خاص پہلو آشکارہ ہوتے تھے۔
’’
لوگ جانتے ہیں کہ میں ایک اچھی بیٹی نہیں تھی اور میرا باپ بھی کوئی اچھا نہ تھا۔ لیکن وہ جیسا بھی تھا مجھے پیار کرتا تھا اُسی طرح جیسے میں اُس سے کرتی تھی۔ اِس گھر میں جہاں ہم رہتے تھے۔ کوئی اُسے ایک دیوتا یا سُپر مین، ایک غیرمعمولی فطین یاشیطان یا کوئی بدرُوح نہیں سمجھتا۔

وہ سب اُسے پیار کرتے تھے ، اُس کی عزت کرتے تھے۔ اُس کی اُن عام انسانی خوبیوں کی بنا پر جنہیں ملازموں سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

اپنی اگلی کتاب”اونلی ون ائیر”  میں وہ لکھتی ہے۔ 

اُس کی ڈکٹیٹرشپ کو خون ریزی کا نام دیا گیا اور یہ صحیح بھی ہے۔ وہ جانتا تھا وہ کیا کر رہا ہے؟ وہ پاگل نہیں تھا۔ دیوانہ بھی نہیں تھا اور کوئی اُسے گمراہ بھی نہیں کرتا تھا۔ وہ ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ اپنی طاقت کو مضبوط رکھتا اور اِس ڈر میں رہتا تھاکہ یہ اُس سے چھن نہ جائے۔ دُنیا میں اُسے سب سے زیاد ہ ڈراور خوف اِسی بات کا رہا۔ ہمیشہ اُس کی پہلی ترجیح اپنے دشمنوں اور حاسدوں سے نجات کی ہوتی۔ 

سٹالن کا اپنی بیٹی کے نام خط بُہت دلچسپ اور اُس کی شخصیت کی کچھ مزید پرتیں کھولتا تھا۔ کہیں 1930ء اور 1932ء کے درمیان کا وقت تھا۔ ’’تم نے اپنے لٹل پاپا کو کتنے دنوں سے کچھ لکھا ہی نہیں۔ شاید تم نے اُسے بھُلا دیا ہے۔ تم کیسی ہو؟ بیمار تو نہیں؟ تمہاری گڑیاں کیسی ہیں؟ میرا تو خیال تھا کہ مجھے تمہاری طرف سے جلد ہی فرمائش وصول ہوگی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ کتنی بُری بات ہے۔ تم اپنے لٹل پاپا کو تکلیف پہنچا رہی ہو نا۔ چلو خیر کوئی بات نہیں ۔ میں تمہیں کِس کرتا ہو اور اُمید کرتا ہوں کہ جلد مجھے لکھو گی۔ ’’تمہارا لٹل پاپا۔‘‘ تاہم سٹالن کے ساتھی اور جانشین خروشیف کی یہ تحریر بُہت کچھ کہتی اور بتاتی تھی۔ 

’’کم آن سوتلانہ ، ایک راؤنڈ اور۔ تم میزبان ہو۔ ڈانس کرو۔‘‘
سوتلانہ جو اُس وقت بال روم میں قدرے دور کُرسی پر بیٹھی تھی، بولی۔
’’
پاپا میں تھک گئی ہوں۔ میں نے بُہت ڈانس کیا ہے۔ اب میرا دل نہیں چاہتا۔‘‘ 

بات تو بس اتنی سی تھی۔ سٹالن تیزی سے اُس کی طرف بڑھا۔ بڑی بے رحمی سے اُس کے ماتھے پر جھُولتے بالوں کو اپنے مُٹھی میں پکڑا اور کھینچا۔ خروشیف لکھتا ہے۔

’’میں اُس کا چہرہ سُرخ ہوتے دیکھ رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو منڈلا رہے تھے اور وہ اِسی طرح کھینچتا اور گھسیٹتا اُسے ڈانسنگ فلور پر لے آیا۔ وہ اپنی بیٹی سے بُہت پیار کرتاتھامگر اس طرح کے کجرو اور گاؤ دی روّیے اُس کی شخصیت کا ایک حصّہ تھے۔

سوتلانہ کی یہ تحریر بڑی معنی خیز تھی۔

’’موت کی اذیت بڑی کربناک تھی ۔ جیسا کہ ہم اُس کے پاس کھڑے دیکھتے تھے۔ اُس کا دم گھٹتا محسوس ہوتا تھا۔ ایسے ہی لمحوں میں اُس نے اچانک اپنی آنکھیں کھول دیں اور کمرے میں موجود ہر ایک پر ڈالیں۔ یہ کیسی نظریں تھیں؟ اُف میں بھول نہیں سکتی اور میں تو اُن کا تجزیہ بھی نہیں کر پاتی۔ اُن میں دہشت تھی۔ پاگل پن کے عکس تھے۔ ناراضگی تھی اورموت کا خوف بھی تھا۔ابھی ہم لوگ اِس نظر کے خوفناک طلسم سے نکلے بھی نہیں تھے کہ ایک خوفناک بات اور ہوئی۔ اُس نے اچانک اپنا بایاں ہاتھ اُوپر اُٹھایا جیسے کہ وہ اُوپر کسی کو کچھ اشارہ دیتا ہو اور پھر وہ اُسے نیچے لایا اِس انداز میں جیسے ہم سبھوں پر لعنت بھیج رہا ہو۔ اُس کے جسم نے ناقابل فہم اور خطرے سے بھرپور کِسی عجیب سے احساس کی غمازی کی اور کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ کِس لئے اور کِس بات کا اشارہ ہے؟ میں آج تک نہ اُس منظر کو بھول سکی ہوں اور نہ سمجھ سکی ہوں۔اگلے لمحے اُس کی رُوح اُس کے جسم سے نکل گئی تھی ‘‘۔

کِس قدر سنسنی خیز تحریر تھی۔ شاید وہ طبعی موت نہیں مر اتھا اُسے قتل کیا گیا۔ اُس کی موت کے بار ے میں ایک رائے یہ بھی ہے۔ میں نے خود سے پوچھا تھا۔ 

’’تو کیا یہ کِسی ایسی سمت کی طرف نشان دہی تو نہ تھی؟‘‘
اب میں کٹہرے میں کھڑی تھی۔ مجھے اپنا فیصلہ سُنانا تھا۔ کیونکہ کتاب کے اختتام پر کتا ب کے مصنفین مارٹن ڈکنسن اور جان جونز نے پڑھنے والے سے کہا تھا کہ وہ بھی اپنی رائے کا اظہار کریں۔ 

میں تاریخ کی طالبہ رہی ہوں اور ہوں۔ اقتدار کا خون سفید، بے رحم اور رشتوں سے بلند ہوتا ہے۔ اگر کہیں کوئی تعلق چلتا ہے تو صرف وفاداری کا ۔ میری اگر آنکھیں بھیگی تھیں تو عام لوگوں پر۔ خاص طور پر فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والوں پر۔

بہر حال میں نے اُس کا ہر خون معاف کر دیا تھا۔ ایک بھوُکے ، غربت میں دھنسے، پس ماندہ ، نیم خواندہ ، صنعتی و زراعتی میدانوں میں کمتر، جنگوں میں برباد، شازشوں اور بغاوتوں میں اُلجھے وسیع وعریض ملک کو اُٹھا کر پچیس سالوں میں دُنیا کی دوسری بڑی طاقت بنا دینا معجزہ نہیں تھا اور یہ معجزہ اُس نے سر انجام دیا تھا۔

اب بھلا مجھے اپنا ملک اور وہ تینوں جرنیل کیوں نہ یا د آتے؟تیس اکتیس سال کی مطلق العنان بادشاہت ، خون ریزیوں کے بھی ڈھیر اورملک پاتال میں۔ 

One Comment

  1. یاد آتا ہیں مسلمانوں…کی بےحسی سازش کاروں…کی منافقانہ کردار….. خود کردہ را علاج نیست.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *