کیا آپ بیتی لکھنا ممکن ہے؟.5

انفرادی ارادے اور جاری بیانیے کے درمیان تعلق کا مطالعہ 

قسط پنجم۔کہانی کے عناصر

وسیع تر بیانیے میں معانی پیدا کرنے کے لیے لا تعداد کہانیوں سے مدد لی جاتی ہے۔ یہ کہانیاں دراصل تسلیم شدہ سچّائیوں کے فروغ کا ذریعہ ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر جب انسانوں نے کاشت کاری شروع کردی تو انسانی زندگیوں میں نہایت بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں آئیں۔ انسانی معاشرے کی تنظیم مستقل بنیادوں پر کرنا ضروری تھاتاکہ زرعی وسائل کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے ۔ اس تنظیم میں ایسی عورتوں کو معاشرے میں اہمیت دی جاتی تھی جو وسائلِ پیداوار بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ بچے بالخصوص لڑکے پیدا کرے۔

اس طرح جنسی تنظیم اور پیداواری مہارتوں سے متعلق معلومات بزرگوں کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے تھے۔ اس ترسیل کا ذریعہ کہانیاں تھیں۔ ان کو آزمودہ حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور معاشرتی بیانیے کی ترجیحات اور خواہشات ان میں چھپی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر مہاتما بدھ سے منسوب اس کہانی کو لیں۔ ایک عورت کا بچّہ مر جاتا ہے۔ اپنی ممتا کی ماری وہ بچے کی موت کو تسلیم کرنے سے عاجز تھی۔ وہ در بدر پھرتی آخر مہاتما بدھ کے پاس چلی آتی ہے۔ اس سے التجا کرتی ہے کہ وہ اس کا بچہ زندہ کردے۔

مہاتما بدھ اس سے کہتا ہے،’’ تم سرسوں کے بیج لے آؤ، تمھارا بچہ زندہ ہو جائے گا۔ ۔۔ ہاں سنو، سرسوں کے بیج کسی ایسے گھر سے لانا جہاں کبھی کسی کی موت نہ ہوئی ہو۔ ۔۔۔!‘‘ عورت گھر گھر پھرتی ہے اور صاف ظاہر ہے کہ اسے ایسا کوئی گھر نہیں ملتا جہاں کسی کی موت نہ ہوئی ہو۔ اس کہانی میں دکھ کی نفسیات کی بنیادی بات چھپی ہوئی ہے۔ جب کسی کو دکھ کا سامنا ہو تووہ سب سے پہلے یہی سوچتا ہے کہ یہ سب صرف اسی کے ساتھ کیوں ہوا۔ وہ اپنے آپ کو دکھ کی ناانصافی کا شکارمانتا ہے۔ اس کہانی میں یہی بات چھپائی گئی ہے کہ وہ عورت شکار بننے کی نفسیاتی کیفیت سے نکلے اور جب وہ اس سے نکل جائے گی تو خود بخود اپنے بچّے کی موت کو تسلیم کر لے گی۔ 
ہر کہانی کے اندر کوئی کردار یا کہانی میں پیش کردہ ماحول کسی نظریے ، احساس یا تعصب کی تشہیر کر رہا ہوتا ہے۔ اس بات کی وضاحت اس کہانی سے ہوتی ہے:

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، ایک شیر اور ایک آدمی اکٹھے سفر کر رہے تھے۔ سفر کے دوران وہ ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر ڈینگیں مارنے لگے۔ سڑک کے کنارے پر ایک پتھر پر ایک تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس تصویر میں ایک آدمی شیر کو اپنی ٹانگ کے نیچے دبائے کھڑا تھا۔ آدمی نے تصویر کی طرف اشارہ کیا اور کہنے لگا:
’’
وہ دیکھو، تصویر میں آدمی نے کیسے ایک شیر کو پچھاڑ رکھا ہے۔۔۔اب تمہیں پتہ چلا آدمی کس قدر طاقتور ہوتا ہے۔۔۔‘‘
شیر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ کہنے لگا: ’’معاملہ یہ نہیں، اگر شیروں کو تصویریں بنانا آتی تو اکثر جگہوں پر تم یہ منظر الٹا ہوتا دیکھتے۔۔۔ شیر اوپر ہوتا اور آدمی نیچے۔۔۔!‘‘

اسی طرح الف لیلہ کی کہانیوں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذریعے بڑی خا موشی کے ساتھ عورتوں سے متعلق ایک ماحول بنا دیا گیا ہے۔ ان میں یہی تأثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عورتیں بے وفا ہوتی ہیں۔ ان پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ ان کہانیوں میں مخصوص اخلاقیات کی پاسداری کی تلقین کی گئی ہے۔الف لیلہ میں جس اخلاقیات کا پرچار کیا گیا ہے وہ دراصل تاجروں کی نفسیات کو ظاہر کرتی ہے ۔ کوئی تاجر خود خواہ کتنا بے ایمان اور بد دیانت ہو،وہ اپنے ملازم کے لیے سب سے اہم رویہ ایمانداری اور نمک حلالی سمجھتا ہے۔

جس زمانے میں الف لیلہ لکھی گئی اس دور میں تاجروں کو تجارت کے سلسلے میں کئی کئی سال تک گھر سے دوررہنا پڑتا تھا۔ اس وقت انھیں سب سے بڑا اندیشہ اپنی بیویوں کی بے وفائی کا رہتا تھا۔ اسی لیے الف لیلہ کی کہانیوں میں ایسی بیویوں کی سزا ان کو انسان سے جانور بنانے کی صورت میں دی جاتی تھی۔ اس زمانے میں انسانوں کوجانوروں کے مقابل اپنے آپ کو اعلیٰ ثابت کرنے کا گمان کچھ زیادہ ہی تھا۔ حالانکہ ہر مخلوق اپنی اپنی ساخت کے اعتبار سے اپنی زندگی گزارتی ہے۔ اس ساخت کا مطلب کسی کے مقابل اپنی بڑائی ثابت کرنا ہے اور نہ ہی کمتری۔

کسی بھی مخلوق کی ساخت بس ہوتی ہے اور اس کا فطرت میں ایک ناقابلِ تردید کردار ہوتا ہے۔ انسان شہد نہیں بنا سکتا اور شہد کی مکھی خلائی جہاز نہیں بنا سکتی۔ اس دورمیں کایا کلپ کا ایک مخصوص تصور تھا ۔ اس تصور کے تحت یہ سمجھا جاتا تھا کہ اعلیٰ اخلاقی پاسداری کے صلے میں انسان کی کایا کلپ ایسے انسانوں کی شکل میں ہو گی جو ماضی، حال اور مستقبل کا علم رکھتے ہوں گے۔ اس کے بر عکس جو اخلاقیات کی پاسداری نہیں کرے گا، اس سے اس کی انسانی صورت چھین کر اسے حیوان بنا دیا جائے گا۔ 

بادشاہوں کے دور میں جس بیانیے کو فروغ دیا جاتا تھا، اس میں مرکزی کردار خود بادشاہ کا ہوتا تھا۔ بادشاہ کا کردار اس طرح سنوارا جاتا تھا کہ وہ سخی، سمجھدار اور رعایا کا محافظ نظرآئے۔ حالانکہ کسی بھی بادشاہ یا حکمران کا ایجنڈا سلطنت قائم کرنا، اسے برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہنااور سب سے بڑھ کر طاقت کو اپنے پاس مرتکز رکھناہی ہوتا تھا؍ہے۔ اگر کوئی بادشاہ واقعی سخی ، سمجھدار اور رعایا کا محافظ ہوتا تو اسے ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت نہ تھی، لوگ خود بخود اپنے تجربات سے ان باتوں کی تصدیق کرسکتے تھے۔ یوں سمجھ لیں کہ کہانیاں وہی کردار ادا کرتی رہیں جو آج کے دور میں میڈیا ادا کر رہا ہے۔

آج کل کا میڈیا کسی ایسی بات کو نہایت سنگین مسئلہ بنا دیتا ہے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ بادشاہوں کے دور میں زندگی کے ہر پہلو پر بادشاہ کی چھاپ ہوتی تھی اور لوگ اسے ہی اپنا نجات دہندہ اور آئیڈیل مانتے تھے۔ یہ اسی طرح کا معاملہ تھا جیسے کے آج کل میڈیا میں فرد کی ذات کا ایک تصورپیش کیا جاتا ہے اور لوگ اس کو پانے کے لیے دیوانے پن کو چھونے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر شیمپو کے اشتہاروں کو دیکھ کریہی لگتا ہے کہ جیسے کائنات کا سب سے بڑا مسئلہ اب بالوں سے خشکی دور کرنا ہی رہ گیا ہے۔

کہانیوں میں عام طور پر مرکزی کردار ایک ہیرو کا ہوتا ہے۔ یہ ایک عام آدمی یا روزمرہ کی زندگی کی نمائندگی کرنے کی بجائے اعلیٰ اخلاقی اور سماجی معیارات کی نمائندگی کرتا ہے۔انسانی بساط ، اس کی فطرت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے جو سماجی گنجائش دی جاتی ہے اس میں رہتے ہوئے اعلیٰ اخلاقی اور سماجی معیارات پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ان باتوں کو بار بار ہیرو کی وساطت سے دہرایا جاتا ہے تاکہ لوگ انکی موجودگی سے نا آشنا نہ ہو جائیں کیونکہ جو بات انسانی بس سے باہر ہوتی ہے انسان اسے بھول جاتا ہے ۔

جب لوگ اپنی زندگی کی حدود میں رہتے ہوئے ایسی اخلاقیات کو پورا نہیں کرسکتے تو سماجی بیانیہ انھیں احساسِ خلش میں مبتلا کر دیتا ہے۔خلش اور احساسِ شرم کسی بھی بیانیے کے مدافعتی نظام(ڈیفنس میکانزم ) کی اساس ہوتا ہے۔خلش اور احساسِ شرم بیانیے کا مؤثر عنصر ہو تا ہے اور اس کے زیرِاثر لو گ داخلی شکستگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں کوئی بھی انسان موجود بیانیے سے چپکا رہے گا۔ ایسی صورتحال میں انفرادیت کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ کو ئی بھی شخص شرم اور خلش کو داخلی طور پر محسوس کرتا ہے مگر اس کے محرکات خارجی ہوتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد لوگ شرم اور خلش کے نظام کو جار ی و ساری رکھتے ہیں۔اس طرح آہستہ آہستہ یہ نظام ضمیر کی صور ت میں متشدد سماجی رویے پیدا کرتا ہے۔ اس طرح لوگوں نے اپنے آپ کو خارجی عوامل کے بہاؤ کے سپرد کر دیا۔ 

کہانی سننے ، پڑھنے یافلم کی صورت میں دیکھنے والے کسی بھی شخص کو ،کہانی کے کردار ، اپنے ساتھ شناخت بنانے کا موقع فراہم کر تے ہے۔ جب آپ کسی کردار کے دکھ یا سکھ کو اپنا دکھ یا سکھ محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں تو آپ دل ہی دل میں اسے مشورے دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں آپ دراصل اس کردار کو جینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح کہانی کا مجازی تجربہ حقیقی تأثر پیدا کرنا شروع کردیتاہے۔

مثال کے طور پر جنگی فلموں کو دیکھتے ہوئے آپ ہیرو کے ساتھ اپنی شناخت بنا تے ہیں اوراپنے اندر جیتنے کا ولولہ اور جوش محسوس کرنے لگتے ہیں۔فلم کے خاتمے پر سب لوگ اپنے آپ کو ہیرو سمجھتے ہیں اورسینہ تان کر سنیما گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ابرار علوی کی فلم ’صاحب، بی بی اور غلام ‘ کو لیں۔ اس فلم میں مرکزی کردار ایک عورت کا ہے جو اپنے شوہر کا دل جیتنے کی لگن میں کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہے۔ شوہر جاگیردارانہ سماج میں پلا بڑھا ہے۔ اس سماج میں کسی طوائف سے تعلق رکھنا اور اس تعلق کے دیگر لوازمات پورے کرنا، اعلیٰ سماجی رکھ رکھاؤ کا حصّہ ہے۔

دوسری طرف اسی سماج نے بیوی کو یہ بات سمجھائی ہے کہ اسے ہر حال میں اپنے شوہر کا دل جیتنا ہے۔ یہ عورت اپنے شوہر کا دل جیتنے کے لیے شراب پیتی ہے اس کا دل بہلانے کے لیے گیت سناتی ہے۔ ایسا کرنا طوائفوں سے منسوب ہے، مگر وہ اپنے شوہر کو پانے کے لیے یہ سب کر گزرتی ہے۔ چند دنوں میں شوہر کا دل اُوب جاتا ہے اور وہ پھر اپنی پرانی ڈگر پر آجاتا ہے۔ بیوی ناکامی کے بعد ٹونے ٹوٹکے آزمانا شروع کر دیتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ حویلی کے ایک نوکر کے کسی ملنے والے سے مدد لیتی ہے۔ اس پر شک کیا جاتا ہے اور آخر اسے مروا دیا جاتا ہے۔ 

کہانی میں مرکزی کردار بی بی یا چھوٹی بہو کا ہے۔ کہانی کہنے والا دراصل اسی کردار کی وساطت سے اپنی بات کہنا چاہتا ہے۔ دیکھنے والے اسی کردار کو اپنا لیتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو اس کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے ، لوگوں کی ہمدردیاں بھی چھوٹی بہو سے بڑھتی جاتی ہیں۔ دل ہی دل میں لوگ اسے مشورے بھی دے رہے ہوتے ہیں۔ جو عورتیں چھوٹی بہو جیسے تجربے سے گزر چکی ہیں وہ اپنے دل میں اپنی اور چھوٹی بہو کی اس صورتحال سے رہائی کا ایک متبادل بیانیہ بُن رہی ہوتی ہیں۔ اس طرح کہانی کی صورتحال ایک مسئلے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کہانی ایک ذاتی تجربے میں تبدیل ہو جاتی ہے اورکردار اس فرد کے اندر بسنے لگتا ہے۔ اس طرح یہ تجربہ اپنی اصلیت میں ایک تخلیقی تجربہ بن جاتا ہے۔ یہیں سے آپ بیتی کی گنجائش پیدا ہوتی ہے کیونکہ کہانی کا کردار اپنے طورپر جو بھی ہو، وہ آپ کے نجّی تجربے کا محرک تو ضرور بنتا ہے مگر آپ کے نجّی تجربے کی اصلیت سے عاری ہوتا ہے۔ 

کوئی بھی تجربہ الفاظ میں ڈھلنے سے پہلے ایک خالص تجربہ ہوتا ہے۔ الفاظ میں ڈھلنے کے بعد جب ایک کہانی بنتی ہے تو اس میں کہانی بنانے والے کی مرضی اور نیّت شامل ہو جاتی ہے۔ اسی مناسبت سے کہانی کو ایک مخصوص لہجہ اور آہنگ ملتا ہے۔ اس طرح کہانی کے معانی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر قدیم ہندوستانی ادب سے لی گئی اس کہانی کو ملاحظہ کریں ۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شہزادہ ، ایک شہزادی اور ایک لکڑہارا ایک جنگل سے گزر رہے تھے۔ راستے میں ڈاکو حملہ کر دیتے ہیں۔ مزاحمت میں شہزادہ اور لکڑہارا مارے جاتے ہیں۔ شہزادی سخت پریشان ہو جاتی ہے۔ وہ گھبراہٹ میں ادھر اُدھر بھاگتی ہے۔ اسے ایک مندر نظر آتا ہے۔ وہ مندر کی دیوی سے التجا کرتی ہے کہ مرنے والے زندہ ہو جائیں۔ دیوی اس کی التجا قبول کرتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ وہ مرنے والوں کے دھڑوں کو ان کے سروں سے جوڑ دے۔ شہزادی خوشی اور گھبراہٹ میں شہزادے کا سر لکڑ ہارے کے دھڑ کے ساتھ جوڑ دیتی ہے اور لکڑ ہارے کا سر شہزادے کے بدن کیساتھ جوڑ دیتی ہے۔

کہانی سنانے والا اب راجا سے پوچھتا ہے کہ شہزادی کا شوہر کون ہو گا۔ راجا ہمیشہ کی طرح سمجھ دار ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ شہزادی کا شوہر وہی ہو گا جس بدن پر شہزادے کا سر ہو گا کیونکہ جسم میں اعلیٰ مقام دماغ کا ہوتا ہے۔ بیسویں صدی میں ایک جرمن مصنف ٹامس مان اس کہانی میں بڑی بے ساختگی سے انسانی ارادے کو شامل کرکے اس کے معانی تبدیل کردیے۔ اس نے کہانی میں یہ بات شامل کردی کہ شہزادی ، شہزادے کے آرام طلب نازک بدن کے مقابلے میں لکڑہارے کا مضبوط جسم پسند کرتی تھی۔ جب وہ دیوی کے حکم پر سروں کو دھڑوں کے ساتھ جوڑ رہی تھی تو اس کی اسی دبی خواہش کے باعث اس سے یہ غلطی ہوئی یا اس نے اس حادثاتی موقعے کا فائدہ اٹھایا اور لکڑہارے کا جسم شہزادے کے سر کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ لکڑہارے کا یہ توانا جسم چند دنوں میں ہی شہزادے کے طور اطوار کی وجہ سے پھر سے نازک ہو جائے گا۔ 

اسی طرح ایک فلم ’ رنگ دے بسنتی‘ میں بھی انسانی ارادے کو کہانی میں شامل کرکے نئے معانی تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس فلم کے پہلے حصے میں بھگت سنگھ شہید کو انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں لوگ اس علامت کو رسمیت کی سطح پر گیت گا کر یا ڈرامے کھیل کر پیش کرتے ہیں۔ یہ محض اشرافیہ کی ایک سماجی سرگرمی سے زیادہ کچھ نہیں معلوم ہوتی۔ فلم کے دوسرے حصے میں انھی کرداروں میں سے ایک کے ساتھ حا دثہ ہو تا ہے اور وہ مر جاتا ہے ۔ انھیں احساس ہوتا ہے کہ موت کی مبیّنہ وجہ کو روکا جا سکتا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ان آرام طلب لوگوں کی زندگی میں بھونچال آتا ہے اور وہ بھگت سنگھ شہید کی احتجاج کی روایت کو محض رسمیت سے ہٹ کر دیکھنے کی سعی کرتے ہیں۔ اس طرح احتجاج کی روایت حقیقی زندگیوں میں اپنے حق کے لیے لڑنے کی آمادگی پیدا کرتی ہے۔ واضح رہے کہ جب کوئی رویہ محض رسمیت بن کر رہ جائے تو وہ اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ فلم کا یہ پہلو دراصل آپ بیتی لکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایک طرف ایک بیانیہ زندگی تخلیق کرتا ہے تو دوسری طرف زندگی بھی ایک بیانیہ تخلیق کر سکتی ہے۔ 

کچھ کہانیاں جاری بیانیے کے اعادے اور تکرار کے ساتھ ساتھ اسے نجات کے واحد راستے کے طور پرپیش کرتی ہیں۔ ان کہانیوں میں متشدد اخلاقی ضابطوں اور جنگی مزاج کی اشاعت مقصود ہوتی ہے۔ ایسا شعور زوال زدہ اشرافیہ کو نفسیاتی آسودگی عطا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ کہانیاں بیانیے میں طے شدہ اخلاقی اہداف کو ایک آئیڈیل کے طور پر تشہیر کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر فلم ’ مدر انڈیا ‘ کو لیں۔

اس فلم میں ایک عورت معاشرے کے طے شدہ اخلاقی ضابطوں پر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ عمل پیرا رہتی ہے مگر وہ احتجاج نہیں کرتی۔ کلاسیک فلم ’دیوداس ‘ میں بھی دو پیار کرنے والے روایت کی بھینٹ چڑ جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ شادی کر لیتے تو کون سی قیامت آجاتی۔ دونوں بغاوت سے کتراتے ہیں اور شرم و حیا کے سماجی رویوں کی پاسداری میں اپنے ارادے سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ شرم و حیا دراصل ایک مدافعتی نظام ہے جس کی بدولت سماج اپنی روایات کی حفاظت کر لیتاہے۔ ایسی روایات کی پاسداری کا مطلب اسیری ہے۔

ایسی کہانیاں ،دیکھنے والوں کو یہی سبق دیتی ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے سماجی دیواروں کو پھلانگنا نہیں چاہیے۔ اس فلم میں جاری جبر کے بیانیے میں عورتوں کے لیے جس صلاحیت کو سب سے زیادہ پسندیدہ قرار جاتا ہے ، اس کی زوردار تشہیر کی گئی ہے۔ یہ صلاحیت برداشت کرنا ہے۔ جو عورت جس قدر زیادہ برداشت کرے گی ، اسے اُتنا ہی پسندیدہ او ر عزیز سمجھا جاتا ہے۔

♥ 

قسط اول

کیا آپ بیتی لکھنا ممکن ہے؟-1

قسط دوم

کیا آپ بیتی لکھنا ممکن ہے؟-2

قسط سوم

کیا آپ بیتی لکھنا ممکن ہے؟۔3

قسط چہارم

One Comment

  1. Syed Kamal says:

    Sahib, such such hay, es nacheese ki samaj mein tu khak bhi nahin aya. Khuda karay auroon ko kamyabi ho.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *