حلال وحرام ٹیکنالوجی

شہزادعرفان 

زیرِ نظر اقتباس فرنودعالم کے ایک  مضمون سے ماخوذ خلافتِ عثمانیہ کی تاریخ کے اہم باب سے ہے جسے پڑھ کر ہم بخوبی یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جب دنیا میں سائنسی تحقیقی علوم و ہنر کا زمانہ عروج پر تھا اسوقت اسلامی خلافت کے ان ادوار میں یہ  معاشرے ہر لحاظ سے مسلسل تنزلی کا شکار تھے۔  تب سے آج تک مسلم دنیا کو ہرعہد میں بنیاد پرست مُلائیت کا سامنا ہے جس کے نتیجہ میں اسلامی معاشرے علم ہنر و ترقی سے دور رہے اور اسلامی ممالک کی یہ ریاستیں ملوکیت، بادشاہت اورآمرانہ طرزِ حکومت کا آج تک شکار ہیں۔

مذہبی بنیاد پرستی کا سب سے بڑا فائدہ ہمیشہ ملوکیت اور آمریت کو ملتا ہے جس میں عوام کو عقائد کی تکمیل کے پیچیدہ مراحل میں الجھا کر شریعت اور طریقت کے جال میں بری طرح پھنسا دیا جاتا ہے۔ ایسے معاشروں میں آمریت کے ذریعے اقتدار پر براجمان حاکم وقت،اس صورتحال کا ہمیشہ فائدہ  اٹھاتے ہیں، اپنے اقتدار کو دوام بخشتے ہیں بلکہ مذہب کو اپنے اقتدار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

اس رجعت پرستی نے مسلم معاشرے کے زرخیز قیمتی اذہان کو کارآمد ہونے سے پہلے ہی اپنے فتووں کے ذریعے خودعوام سے ہی قتل کرادیا۔ ایسی سینکڑوں مثالیں تاریخ میں رقم ہیں جہاں مسلم معاشروں میں ملاؤں کے فتووں کے ذریعے سائنس، طب فلسفہ ادب، ریاضی، کیمسٹری فزکس اور دیگر فنون لطیفہ سے جُڑے افراد کو سُولیوں پر چڑھا دیا ۔

سلطنت عثمانیہ میں پہلا پرنٹنگ پریس پندرھویں صدی کے پہلے نصف میں ابراہیم رعدنے لگایاتھا۔ اس پرنٹنگ پریس کے خلاف پہلے جمعے کے خطبات میں اشتعا ل انگیز تقاریر ہوئیں بعد ازاں معاملہ شیخ الاسلام کے پاس پہنچا۔ معاملے کا بغور جائزہ لینے کے بعد شیخ الاسلام نے تفصیلی فتوی جاری کیا۔فرمایا،” پرنٹنگ پریس کی مشینوں پر قرآن مجید کی کوئی آیت یا حدیث مبارکہ کا کوئی ٹکڑا شائع کرنا براہ راست اسلام کی توہین ہے۔اور ایسے الفاظ جو قرآن وحدیث کا حصہ تو نہیں ہیں مگر مقدس تصور کیے جاتے ہیں ان کی اشاعت باالواسطہ اسلام کی توہین ہے۔ پریس کی مشینوں پر کتابوں کی اشاعت یہود ونصاری کی مشابہت ہے اور ازروئے حدیث جو کفار کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہوگا۔ جو لوگ اشاعت کا یہ جرم کررہے ہیں وہ توبہ کریں۔ جو اشاعت کا سلسلہ جاری رکھیں وہ ازروئے شرع توہینِ اسلام کی سزا کے مستحق ہیں”۔

اس فتوے کے بین السطور میں چھپے منشاکو غیرت مند مسلمانوں نے سمجھ لیا۔ منشا کے عین مطابق وہ اشتعال میں آگئے اور تکبیر کی صداؤں میں ابراہیم رعد کے چھاپے خانے کونذر آتش کردیا۔ابراہیم رعد جان بچا کر دائیں بائیں ہوگیا۔ رات کی تاریکی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ استنبول چھوڑ کر اسکندریہ کے ایک دور افتادہ گاوں میں روپوش ہوگیا۔(فرنود عالم کے مضمون سے)”{بشکریہ جاوید عنایت}۔

 سائنسی ترقی میں عوامی شعوروآگہی کی بنیاد پرنٹنگ پریس، لاؤڈ اسپیکر، فلم اور انٹرنیٹ نے ہی ڈالی ہیں ۔  یہ سائنسی ایجادات ہمارے سمعی، بصری اور صوتی حواس سے متعلق ہیں جنکی بدولت آج انسان نے اپنے ارتقاء کا سفر تیزی سے طے کرتے ہوئے اشرف المخلوق کا درجہ حاصل کیا ہے۔ معاشرہ میں ان نئی ایجادات کے آزادانہ استعمال سے تمام قسم کے علوم کو سمجھنے میں مدد ملی  جس سے کسی فرد واحد، ادارہ یا کسی مخصوص گروہ کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوا۔

پرنٹنگ پریس کی وجہ سے دنیا بھر کے دینی و دنیاوی سائنسی علوم اور ان کے تراجم کی کتب سے پوری دنیا میں پبلک لائبریریاں وجود میں آگئیں جن سے عوام کے اجتماعی شعور میں اضافہ ہوتا چلا گیالاؤڈ سپیکر نے عوام کے اجتماع کوصوتی بنیادوں پر شعور بخشا، فلم کی بصری  حرکاتی دلیل نے انسانی ذہن کے ابہام اور تواہمات کو سمجھنے میں مزید آسانی پیدا کردی مگر کمپیوٹراورانٹرنیٹ کی ایجاد اور اسکے ذریعے دریافتوںاور سہولتوں نے انسانی شعور کو اچانک غاروں کے زمانےسے تبدیل کرکے دنیا کو جدید سانسی طرز فکر مہیا کردی۔ جہاں سے آگے جانا تو ممکن ہے مگر واپسی ناممکن۔

 سوال یہ ہے کہ آخر ہر دور کی مُلائیت، دین و مذہب کی آڑ میں ان ایجادات پر ہی کیوں  کفر کے فتوے صادر فرما کراعلانِ جہاد کرتے رہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان ایجادات کی بدولت انسانی ذہن نے سوچنا شروع کردیا۔ دیوار کے اُس پار جھانکنے کی انسانی فطرت نے سوال پوچھنا شروع کردئے، تنقیدی سوچ نے کیا کیوں کیسے کب اور کہاں جیسے انگنت سوال پوچھ لئے تھے جنکا جواب مُلائیت کے پاس نہ تھا سوائے کفر کا فتویٰ دینے کے۔

دوسری طرف دیگر سائنسی ایجادات نے انسان کے ذہن سے قدرت اور قدرتی آفات کا ڈر کم کردیا تھا۔ علم اب مذہبی اور شاہانہ اشرافیہ سے نکل کرعوام کی دسترس میں آنے لگا تھا ۔اور جب سائنسی ترقی کو روکنے کی تمام ممکنہ کوششیں ناکام ہوگئیں تو پھر اپنے ہی جاری کردہ فتوے اور ان کے حق میں تمام دلیلیں یکسر اُلٹ دیں۔ ان تمام سائنسی ایجادات کااستعمال خود کرنے لگے جن کے خلاف کبھی فتوے صادر فرما کر عوام کو بیوقوف بنایا کرتے تھے۔

پرنٹنگ پریس جسے حرام قراردیا گیا تھا وہ حلال ہوگئی اسی طرح لاؤڈ سپیکر، فلم یا تصویر اور کمپیوٹر انٹرنیٹ بھی حرام کےبعد حلال ہوئے اور تب سے اس سابقہ حرام ٹیکنالوجیز کا فائدہ آج تک اُٹھایا جارہا ہے ـ آج پرنٹنگ پریس نہ ہوتا تو قرآن اور حدیث کی فہم و ترویج اس طرح سے ممکن نہ تھی جس طرح اب ممکن ہوئی اور یہ کام اکیلے حفاظ کرام کے ذریعےممکن نہ تھا اس لئے شاید خدا نے ان سائنسدانوں کو ہی اس کام کے لئے منتخب کیا۔ اسی طرح لاؤڈ سپیکر، فلم اور انٹرنیٹ کے استعمال پر دئے گئے فتوے بھی ریکارڈ پر موجود ہیں کہ جن کے استعمال سے ایمان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے کیوں کہ ازروئے حدیث جو کفار کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہوگا۔

One Comment

  1. بہت اعلی تحریر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *