ون بیلٹ ون روڈ اور پالیسی کا تضاد

بیرسٹر حمید باشانی

بیجنگ کانفرنس بلا شبہ بہت اہم ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ اینیشی ایٹوپر چین نے یہ کانفرنس منعقد کی ہے۔ایک بیلٹ ایک روڈ منصوبہ شائد علاقائی تعاون پر دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ خشکی اور سمندر کے ذریعے یورپ ایشیا اور افریکا کو جوڑنے کا یہ ایک عظیم چینی منصوبہ ہے۔ دنیا کی آبادی کا تقریباً ساٹھ فیصد کسی نہ کسی طریقے سے اس منصوبے سے جڑتا ہے۔اسے ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا جاتا ہے۔

کچھ اس کو دنیا میں گیم چینجر بھی کہتے ہیں جو چین کی وہ عظمت رفتہ اسے لوٹائے گاجو اسے اپنی قدیم سلک روڈ کی وجہ سے تاریخ نے عطا کی تھی۔پاکستان اس عظیم منصوبے کی پہلی کڑی ہے۔یہاں اس منصوبے کو ونڈ فال سمجھا جاتا ہے جو اس ملک کا مقدر بدل کر رکھ دے گا۔چنانچہ وزیر اعظم نواز شریف چاروں وزرائے اعلی، اور اپنی کابینہ کے اہم عہدے داروں سمیت اس کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں۔گویا پاکستان کی پوری لیڈر شپ وہاں موجود تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اس منصوبے کو بہت ہی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

لیکن اس سنجیدگی کے باجود اس منصوبے سے پوری طرح استفادہ کرنے کے لیے پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہو گا اور کئی انتہائی اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان میں پہلا قدم دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ بیجنگ کانفرنس کے دوران بلوچستان میں رونما ہونے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ محض دہشت گردوں کے خلاف طاقت کا استعمال ہی کافی نہیں ہے۔اس کے لیے ان حالات میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے جو دہشت اور تشدد کے لیے ساز گار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اس کے لیے ریاست کو سیاست اور مذہب کے بارے میں اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانی ہو گی۔

پاکستان میں آج تک جتنی دہشت گردی ہوئی مذہب کے نام پر ہوئی۔اس وقت پاکستان میں مذہبی فرقے سیاسی پارٹیوں کا روپ دھار کر مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔مذہب کے نام پر ایک دوسرے پر خود کش حملے کر رہے ہیں۔ اس طرح یہ تشدد،خوف اور دہشت کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس سلسلے کو روکنے کے لیے حکومت کو شاید اس بات پر غور کرنا پڑے گا کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے مذہب کے استعمال کو کیسے روکا جا سکتا ہے جس کا براہ راست تعلق دہشت گردی سے ہے۔

حکومت کا دوسرا بڑامسئلہ گلگت بلتستان ہے۔یہ علاقہ چائنا پاکستان معاشی راہداری اور اور ون بیلٹ اینیشی اٹیو میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ وہ دھرتی ہے جس سے دنیا کے اس بڑے منصوبے کا آغاز ہوتا ہوتا۔یہاں کی کافی زمین سڑکوں اور ڈیموں کے نیچے اتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا بجاہوگا کہ اس منصوبے کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر اور متاثرین گلگت بلتستان کے لوگ ہیں۔ لیکن بیلٹ اور روڈ پر ہونے والی بیجنگ کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو تو لے جایا گیا لیکن گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کو ساتھ لے جانا ضروری نہیں سمجھا گیا۔

اسی طرح ازاد کشمیر کے وزیر اعظم کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔اس حوالے سے اگر کوئی سوال اٹھائے گا تو حکومت کا جواب یہ ہو گا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پاکستان کے صوبے نہیں بلکہ ایسے متنازعہ علاقے ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ لہذا ان کو کسی ایسے کنسلٹنگ پراسس کا حصہ بنانا ضروری نہیں ہے۔ یہ بات ان علاقوں اور مسئلہ کشمیر پر حکومت کی فرسودہ اور تضادات پر مبنی پالیسی کا اظہار ہے۔یہ منطق سے خالی ایسی پر مزاح پالیسی ہے جس پر پرائمری سکول کا طالب علم بھی مسکرا ے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ایک بچے کے ذہن میں بھی یہ سنجید ہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ڈیم تعمیر کرنے سڑکیں بنانے اور یہاں کے قدرتی وسائل استعمال کرنے کی بات ہو تو ان علاقوں کو متنازعہ نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن جب ان لوگوں کو وسائل میں حصہ دینے کی بات ہو یا پانی اور بجلی پرر رائلٹی کی بات ہو یہ عذ رکیسے آڑے اآجاتا ہے کہ یہ علاقے چونکہ پاکستان کا صوبہ نہیں ہیں اس لیے ان کے ساتھ صوبوں کی طرح سلوک نہیں کیا جا سکتا۔

اس وقت آزاد کشمیر اور گلگت میں وزیر اعظم کی اپنی پارٹی کی حکومتیں قائم ہیں۔یہ لوگ دھیمے لہجے اور التجا کے انداز میں اپنے معاشی اور سیاسی حقوق کی بات کرتے ہیں۔یہ لوگ آئین میں ترامیم اور وفاق کے ساتھ اپنے انتظامی اور قانونی بندوبست میں تبدیلی کی بات بھی کررہے ہیں۔ مگر ان کی اواز اتنی نیچی ہے کہ کسی کو سنائی نہیں دے رہی ہے۔ان کے اور میاں نواز شریف کے درمیان کئی طاقت ور لابیاں کھڑی ہیں۔ایسے طاقت ور لابی وہ ہے جس کے مفادات حکومت کی تضادات پر مبنی پالیسی کے ساتھ جڑے ہیں۔یہ لوگ مسئلہ کشمیر کو جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں۔

دوسری وہ طاقت ور لابی ہے جو مسئلہ کشمیر کو بنیاد بنا کر پاکستان اور بھارت کو جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ ان طاقت ور گروہوں کی موجودگی میں گلگت یا آزاد کشمیر کے لوگوں کی آواز کوئی سننے کے لیے تیار نہیں۔ مگر ان علاقوں کے عوام کی آواز سنے بغیر اور ان کو ان منصوبوں میں شریک کیے بغیر ان منصوبوں سے پوری طرح استفادہ ایک مشکل بات ہو گی۔

حکومت کا ایک اور بڑا چیلنج پاکستان میں بزنس کلچر کا فروغ ہے۔بزنس کلچر کی عدم موجودگی میں سی پیک یا ون بیلٹ اینیشی ٹیو سے پور ی طرح استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔بزنس کلچر کے فروغ کے لیے ملک میں کھلے پن، شہر ی آزادیوں، اور رواداری کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *