ہماری سیاست کو کس کی نظر لگ گئی؟

آصف جیلانی 

رہ رہ کر 1954کا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب گورنر جنرل غلام محمد نے اپنے اختیارات میں تخفیف کے خطرہ کے پیش نظر جمہوریت پر کاری وار کیا تھا اورآناً فاناً دستور ساز اسمبلی برخاست کر دی تھی۔ دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے غلام محمد کے اس اقدام کو جو کرپشن سے بھی زیادہ سنگین اور عوام کے بنیادی حقوق غضب کرنے کا اقدام تھا ، للکارہ تھا۔ وہ زمانہ بڑی مہذب سیاست کا تھا۔ مولوی تمیز الدین خان نے کنٹینر پر چڑھ کر گورنر جنرل کو صلواتیں نہیں سنائیں اورنہ تو تڑاق اور گالم گلوچ سے آسمان سر پر اٹھایا۔

انہوں نے دستور ساز اسمبلی کی بر طرفی کے خلاف سندھ چیف کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا۔ غلام محمد ، استبدادی اور ظالم گورنر جنرل تھے ، مولوی تمیز الدین خان کو خطرہ تھا کہ انہیں سندھ چیف کورٹ کے سامنے درخوات پیش کرنے سے روکنے کے لئے گرفتار کر لیا جائے گا۔ اپنی شناخت اور گرفتاری سے بچنے کے لئے مولوی تمیز الدین خان برقع پہن کر سندھ چیف کورٹ میں داخل ہوئے اور چیف جسٹس کانسٹنٹاین کی عدالت میں پیش ہوئے ۔

آزاد پاکستان پارٹی کے سربراہ میاں افتخار الدین نے مقدمہ کی وکالت کے لئے برطانیہ کے ممتاز وکیل ڈی این پرٹ کی خدمات حاصل کیں۔ سندھ چیف کورٹ نے مولوی تمیز الدین خان کے حق میں فیصلہ دیا اور گورنر جنرل غلام محمد کے اقدام کو غیر قانونی قراردیا۔ اس فیصلہ کے خلاف غلام محمد نے وفاقی عدالت میں اپیل کی جہاں چیف جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت کے تحت ، گورنر جنرل غلام محمد کے اقدام کے حق میں فیصلہ دیا۔جسٹس کارنیلیس نے جسٹس منیر کے فیصلہ سے اختلاف کیا۔ 

یوں عدلیہ نے عوام کے جمہوری حق پر ڈاکے کو حق بجانب قرار دے کر ملک کی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لئے موڑ دیا اور فوجی طالع آزماؤں کے لئے ملک کے اقتدار پر قبضہ کا راستہ کھول دیا۔ لیکن اس نفرت انگیز اور سنگین موڑ پر بھی سیاست میں کسی نے تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ 

مجھے یاد ہے کہ ملک کی سیاست میں پہلی بار غیر مہذب زبان، جنرل ایوب خان کے خلاف ملک گیر ایجی ٹیشن کے دوران استعمال کی گئی تھی جب ایوب خان کو ’’کتا ‘‘کہا گیا۔

اب گذشتہ چند برسوں سے ہماری سیاست ایسی پستی میں جا گری ہے کہ اپنے مخالفین کے خلاف گالم گلوچ، تو تڑاق ، اور جو منہ میں آئے الزامات کی سنگ باری کا وتیرہ عام ہو گیا ہے۔ اس دلدل میں اب سابق صدر آصف علی زرداری بھی کود پڑے ہیں۔ انہوں نے میاں نواز شریف کے خلاف اچانک جو جارحانہ انداز اختیار کیا ہے اس کی وجوہات جاننے کے لئے راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ سیاست میں یہ عجیب و غریب ریت چل نکلی ہے کہ سیاست دان جس صوبہ میں جلسے کرنے جاتے ہیں وہ وہاں اس علاقہ کی ٹوپی ، یا کلاہ یا پگڑی پہن لیتے ہیں ۔ اس کو دیکھ کر یہ سیاست دان صاف بہروپیے نظر آتے ہیں۔ ان کو اس بات کا احساس نہیں کہ الٹی سیدھی پگڑی باندھنے یا سر پر اوٹنگے انداز سے سندھی ٹوپی پہننے سے عوام میں یہ ہرگز مقبول نہیں ہوتے بلکہ مسخرے نظر آتے ہیں۔

بونگیوں سے بہتر اور کوئی لفظ نہیں جو سابق صدر کی حال میں خیبر پختون خواہ کے دورے میں تقریروں پر صادق آتا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے طالب علم مشال کے بہیمانہ قتل کا ذمہ دار نواز شریف کو قرار دیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے فلسفہ کی وجہ سے ہوا۔ پھر ابھی سپریم کورٹ نے مشترکہ انٹیلی جنس ٹیم کی تشکیل کا اعلان نہیں کیا لیکن زرداری نے یہ فیصلہ صادر کر دیا کہ سپریم کورٹ کی بینچ میں سے کسی جج نے میاں نواز شریف کو کلین چٹ نہیں دی ۔ انہوں نے سپریم کورٹ کا مذاق اڑایا کہ اس نے ایسا فیصلہ دیا ہے جس کو مسلم لیگ ن اور اس کے حریف ، تحریک انصاف ، دونوں نے اپنی جیت قرار دیا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں گو نواز گو کا نعرہ لگایا ہے۔ اور اب نواز شریف کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔ اور زرداری خود نواز گو نواز گو کے نعرے لگانے لگے۔

بلاشبہ ان کے جلسہ میں شرکت کرنے والے لوگ یہ سننے آئے تھے کہ صوبہ کے غریب عوام کی ترقی ، فلاح وبہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لئے وہ کیا اقدامات کریں گے اور اس کی وضاحت کریں گے کہ ان کے پانچ سالہ دور میں عوام کی ترقی اور بہبود کے لئے کام کیوں نہیں ہوئے لیکن اس کے بجائے آصف علی زرداری یہ اعلان کر رہے تھے کہ ’’ہم نواز شریف کو بھی اسی طرح نکال باہر پھینکیں گے جس طرح ہم نے مشرف کو رخصت کیا ہے۔‘‘ 

پھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر پھبتی کسی کہ ان کی پارٹی خیبر پختون خواہ میں حکمران ہے لیکن عمران خان ایک لفظ پشتو کا نہیں بول سکتے ۔ وہ جعلی پٹھان ہیں ۔ اور نعرہ لگایا ، عمران گو عمران گو۔ زرداری نے اس پر تعجب کو اظہار کیا کہ عمران خان ، نوجوانون کا رہنما ہونے کا دعوی کرتے ہیں جب کہ وہ مجھ سے چار سال بڑے ہیں ۔ایک شخص جو پانچ سال تک صدر مملکت کے عہدہ پر رہ چکا ہو اس کو یہ انداز گفتگو ہر گز زیب نہیں دیتا۔ دور کیوں جائے ، سرحد پار ہندوستان میں سابق صدر کس مہذب انداز سے اپنے عہدہ سے سبک دوش ہوتے ہیں اور سیاست کی دلدل میں دھنسنے کی کوشش نہیں کرتے۔

اب عمران خان نے ایک نیا سنسی خیز انکشاف کر کے تہلکہ مچا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کے بھائی شہباز شریف کے ایک رشتہ دار نے جو عمران خان کے بھی دوست ہیں ان کو پاناما کیس میں خاموش رہنے کے لئے دس ارب روپے ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔جب عمران خان سے اس دوست کا نام پوچھا گیا تو وہ یہ کہہ کر صاف مکر گئے کہ وہ بے چارہ پھنس جائے گا۔ پھر خود عمران خان نے یہ اعتراف کیا کہ یہ پیشکش دو ہفتے پہلے کی گئی تھی۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ دو ہفتہ قبل جب سپریم کورٹ کے جج ، پناناما کیس کا فیصلہ تحریر کر رہے تھے ، اس پیش کش کا کیا مقصد تھا۔ پھر یہ بھی پر اسرار بات ہے کہ فیصلہ کا اعلان ہونے کے بعد اب انہوں نے اس پیشکش کا کیوں انکشاف کیا ہے۔ عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ یہ عمران خان کی عادت ہے کہ وہ ہر ایک شخص اور ادارہ پر سنگین الزام لگا دیتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ثبوت پیش کریں تو یہ کہہ کر پچھواڑے کی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ وہ شخص ثابت کرے کہ یہ الزام غلط ہے۔یہ دلیل وہ شخص پیش کر رہا ہے جو برطانیہ میں زیر تعلیم رہا ہے اسے علم ہے کہ ہتک عزت کس قدر سنگین الزام ہے اور غلط بیانی ناقابل معافی جرم ہے۔ عمران خان کا یہ رویہ بھی ملک کی سیاست پر عجیب و غریب اثر مرتب کر رہا ہے۔

کیا بھونڈا انداز ہماری سیاست کا ہوتا جا رہا ہے۔ اپنے نظریات اور عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی کے لئے اپنے پروگرام پیش کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملہ کرنے کا افسوس ناک سلسلہ شروع ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں سیاست دان ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور توقیر کے ساتھ بات کرتے ہیں ، ہم نے نہ جانے کیوں ایک الگ راہ اختیار کی ہے ؟ ویسے بھی ہماری تہذیب سکھاتی ہے کہ ہم ہر ایک کے ساتھ روا داری برتیں اور مہذب انداز سے سیاسی دلایل پیش کریں ، موجودہ صورت حال میں خطرہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل پر سیاست دانوں کے اس غیر مہذب انداز گفتگو ، تقاریر اور بیانات کا کیا اثر مرتب ہوگا؟کیا اپنی اگلی نسل کا ہمیں کوئی خیال نہیں؟ 

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    سیدھی سی بات ہے کہ جیسی روح ہوتی ہے وہسے ہی فرشتے بھی۔ جس طرح کے ووٹر اپنے ووٹ کوضائع کرکے جس قسم کے لیڈریا نمانئدے منتخب کرتے ہیں انہوں نے اسی اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے جو ان کے ووٹروں کا خاصہ ہوتے ہیں۔۔
    دوسری بات یہ ہے کہ سیاستدانوں کے اطوار تو بدل گئے ہیں لیکن مولویوں کے نہیں،جنہوں نے برقع پہننے کی رسم کو برقرار رکھا ہے۔پہلے مولوی تمیزالدین خان صاحب نے برقع پہنا،اور جدید دور میں مولوی عبدالعزیزصاحب آف لال مسجد نے!۔
    سیاستدان کم از کم مردانہ ٹوپی اور پگڑی تو پہنتے ہیں خواہ الٹی ہی کیوں نہ ہو۔
    اورجہاں تک نئی نسل کا تعلق ہے تو وہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں “اعلیٰ تعلیم” حاصل کر رہی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *