مسلمان گائے کا گوشت ترک کر دیں

انڈیا میں گائے کے ذبیحے پر جاری تنازعے کے درمیان اجمیر کی معروف درگاہ کے روحانی سربراہ نے ملک کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گائے کا گوشت کھانا ترک کر دیں۔

خواجہ معین الدين چشتی درگاہ کے روحانی سربراہ دیوان سید زین عابدین علی خان نے ایک بیان میں کہا: ‘بیف کے متعلق ملک میں دو فرقوں کے درمیان پنپنے والی دشمنی پر قابو پانے کے لیے حکومت کو ملک گیر سطح پر گائے کی قبیل کی تمام اقسام کے ذبیحے پر اور اس کے گوشت کے فروخت پر پابندی لگا دینی چاہیے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر گائے کے گوشت پر اکثریتی برادری کی جانب سے مخالفت ہو رہی ہے ایسے میں مسلمانوں کو گوشت خوری کو ترک کے اپنی جانب سے پہل کرنی چاہیے۔

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد غیر قانونی مذبح کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ اس کے بعد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان جیسی ریاستوں میں بھی غیر قانونی مذبح کو بند کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔

ریاست گجرات میں گاؤ کشی اور گائے کا گوشت رکھنے پر قانون میں سختی لائی گئی ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

انڈیا کی اکثریتی ہندو آبادی گائے کو مقدس تصور کرتی ہے اور گائے کو ماںکا درجہ دیتے ہوئے اس کی پوجا بھی کرتی ہے۔جبکہ مسلمان سمیت کئی دوسری برادریوں میں گائے، بیل اور بھینس کے گوشت کھانے کی قدیم روایت رہی ہے۔

لیکن اب انڈیا میں پیدا ہونے والے کشیدہماحول کے پیش نظر بعض ترقی پسند مسلمان دانشوروں کا کہنا ہے کہ جس چیز سے مخصوص برادری کے مذہبی احساسات مجروح ہوتے ہیں اس سے پرہیز کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔

بہر حال انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ اور شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں بیف کے گوشت کھانے کی قدیم روایت رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انڈیا کی غریب آبادی کا ایک بڑا طبقہ غذائیت کے لیے بیف (گائے اور بھینس کے گوشت) کھاتا رہا ہے کیونکہ یہ مرغ اور مٹن کے مقابلے میں سستے داموں دستیاب ہیں۔


خواجہ معین الدین چشتی کے 805 ویں سالانہ عرس کے اختتام کے موقعے پر ملک کی مختلف درگاہوں کے سجادہ نشینوں، صوفیوں اور علما سے خطاب کرتے ہوئے سید زین العابدین علی خان نے کہا: ‘ملک میں سینکڑوں سال سے گنگا جمنی تہذیب کے نتیحے میں ہندو اور مسلمان کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا جو ماحول رہا ہے اسے گائے کے گوشت کے سبب ٹھیس پہنچی ہے۔

اس خیر سگالی اور ہم آہنگی کی روایت کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان تنازعے کی جڑ کو ہی ختم کرنے کی پہل کریں اور گائے کا گوشت کھانا ترک کر دیں۔

اس موقعے پر انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود اور ان کا خاندان اب سے گائے کا گوشت نہیں کھائیں گے۔

BBC

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    اس سے قبل دارالعلوم دیوبند کے علماء نے بھی ہنوستانی مسلمانوں کو گائے کا ذبیحہ نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی کیونکہ فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔
    میری ناقص رائے میں مسئلہ بیف کھانے یا نہ کھانے کا یا ایمانیات کا نہیں ، بیف کے کاروبار سے براہ راست یا بلواسطہ منسلک ہزارہا کاروباری افراد کے روزگار کا ہے۔اس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور ہندو، سکھ ،عیسائی بھی۔ کسی بھی کاروبار پر پابندی لگانے سے پہلے متاثرین کومتبادل روزگار کے ذرائع فراہم کرنا،عبوری مالی امداد وغیرہ کا انتظام کرنا ریاست کا ذمہ ہوتا ہے۔
    گائے کے ذبیحہ پر تو مبینہ طور پر بہادر شاہ ظفر نے بھی پابندی لگائی ہوئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں گائے اور سؤر کے گوشت کا کاروبار انگریز نے آکر شروع کیا کیونکہ یہ دونوں اس کی مرغوب غذائیں تھیں ۔انگریز نے ہندو اور مسلمان دونوں کے مذہبی جذبات کا اس معاملہ میں کوئی خیال نہ کیا۔
    ۔”بڑا” گوشت تو طبی نقطہ نگاہ سے بھی صحت کے لئے اچھا نہیں۔ اس میں موجود ہائی کولیسٹرول اور کثیف چربی دل کے دورہ، سٹروک ، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ کا باعث بنتی ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ” گائے کے دودھ میں صحت اور گوشت میں بیماری ہے”۔
    پاکستان میں مریض عموماً اپنے ڈاکٹر سے جب بھی پرہیز کا پوچھتے ہیں تو جواب یہی ملتا ہے کہ بڑا گوشت نہ کھائیں۔غالباً انہیں بھی لوگ چھپے ہندو قرار دیتے ہونگے۔
    گائے کا گوشت کھانا دین اسلام کے بنیادی فرض ارکان میں بھی شامل نہیں۔ وغیرہ وغیرہ اور بات آخر پہ وہیں آجاتی ہے کہ اصل میں مسئلہ معاش اور اکنامکس کا ہے ورنہ بنیادی مذہبی ، معاشرتی تاریخ اور حقائق سے تو سبھی واقف ہیں۔ کچھ فسادی لوگ ہیں جو فساد برپا کرنے کے لئے اپنا لُچ تناؤ والی اس صورتحال کی کڑاہی میں تلنا چاہ رہے ہیں جس کا موقعہ غیر قانونی کاروبار چلانے والوں اور حکومت دونوں نے فراہم کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *