اسلامک کنڈرگارڈن یا ’انتہا پسندوں کی تربیت گاہیں‘؟

ایک تحقیقی جائزے کے مطابق  آسٹرین دارالحکومت ویانا میں مسلمان بچوں کے لیے قائم کنڈرگارڈن اسکول آسٹریا میں متوازیمعاشرے کی تشکیل اور ’مستقبل کے مقامی انتہا پسندوں‘ کی تربیت گاہ بن سکتے ہیں۔

اس تحقیقی جائزے کے مصنف ترک نژاد آسٹرین شہری عدنان اسلان ہیں جو ویانا یونیورسٹی میں بطور پروفیسر تعینات ہیں۔ اسلان نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ویانا میں اس وقت صرف مسلمان بچوں کے ڈیڑھ سو کنڈرگارٹن ہیں۔ ان اسکولوں میں دو سے چھ برس تک کی عمر کے قریب دس ہزار مسلمان بچے زیر تعلیم ہیں جنہیں قرآن کی تعلیم اسی طرح دی جاتی ہے جیسے مسیحی اداروں کے زیر انتظام اسکولوں میں بائبل کی تعلیم دی جاتی ہے۔

تاہم اسلان کے مطابق اسلامک پری اسکولوں میں سے کم از کم ایک چوتھائی اسکول ایسے ہیں جنہیں چلانے والے افراد یا ادارے یا تو سخت گیر سوچ رکھنے والے سلفی مسلمان ہیں یا پھر وہ مذہب کو ذاتی معاملہ نہیں گردانتے بلکہ اسے سیاست اور سماجیات کا لازمی جز سمجھتے ہیں۔

 پروفیسر اسلان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا،’’والدین اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں اس بات کو یقینی بنانےکے لیے بھیجتے ہیں کہ اُن کے بچے  اسلامی ماحول میں ہیں اور وہ قرآن کی سورتیں بھی یاد کر رہے ہیں۔ تاہم وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ وہ ایک کثیر الثقافتی معاشرے میں رہتے ہوئے یہاں اپنے بچوں کے انضمام کے راستے بند کر رہے ہیں۔‘‘

گزشتہ برس شائع ہونے والے اس مطالعے کو مہاجرین کے ناقدین کی جانب سے پیرس اور برسلز میں ہوئے حملوں کے تناظر میں سراہا گیا ہے۔ یہ حملے یورپ میں پلے بڑھے مسلمانوں نے کیے تھے۔ تاہم کئی ناقدین نے اس تحقیق کے لیے استعمال کیے گئے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے مسترد بھی کیا ہے۔

 آسٹریا میں اقلیتوں کے حوالے سے رپورٹنگ کرنے والے میگزین ’بیبر‘  نے ایک مسلمان خاتون رپورٹر کو ایسے چودہ اسلامی اسکولوں میں اپنے بیٹے کو داخل کرانے کے بہانے بھیجا۔ تاہم اس رپورٹر کو وہاں ایسا کچھ نظر نہیں آیا جو اسلان کے تحقیقی جائزے سے مطابقت رکھتا ہو۔ میگزین نے البتہ یہ ضرور کہا کہ اُن بچوں میں سے تقریباﹰ ایک تہائی الگ تھلگ، مسائل کا شکار اور مرکزی سماجی دھارے سے کٹے ہوئے نظر آئے۔

ویانا میں رجسٹرڈ کُل 842 کنڈرگارڈنز میں سے 100 کیتھولک اور 13 پروٹسٹینٹ مسالک کے زیر انتظام چلائے جا رہے ہیں۔ لیکن مسلم کنڈر گارڈنز کی حتمی تعداد معلوم نہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کے زیادہ تر اسکول نجی اداروں کے زیر انتظام چلائے جا رہے ہیں۔

 ویانا میں1.8 ملین افراد بستے ہیں جن میں سے قریب نصف ایسے ہیں جو یا تو خود بیرون ملک پیدا ہوئے یا پھر اُن کے والدین غیر ملکی کی حیثیت سے آسٹریا آئے۔ ویانا رہائش کے حوالے سے غیر ملکیوں کے لیے ہمیشہ سے کشش کا باعث رہا ہے تاہم یہ بات الگ ہے کہ اُن میں سے کم ہی کو یہاں خوش آمدید کہا گیا ہے۔

مغربی ممالک میں مسلمانوں کی مختلف تنظیموں نے مساجد کے ساتھ ساتھ سنڈے سکول بھی بنارکھے ہیں جہاں والدین اتوار کو اپنے بچوں کو اسلامی تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں ۔ ان سکولوں میں بچوں کو مغربی ثقافت سے نفرت سکھائی جاتی ہے ، اسلامی معاشرے کی خصوصیات کے ساتھ ساتھ انہیں مغربی معاشرے کوکم تر بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس سے بچوں کی ایک بڑی تعداد ذہنی طور پر کنفیوژن کا شکار ہوجاتی ہے۔جس کا نتیجہ اکثر و اقات مذہبی انتہا پسند ی اور دہشت گردی کی صورت میں نکلتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور یورپ سے تعلق رکھنے والے مسلمان نوجوانوں کی بڑی تعداد شام میں جہا د کے لیے داعش میں شامل ہوئی۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *