عسکری اسٹیبلشمنٹ کا ہیومن تھرمامیٹر، احسان اللہّ احسان

پاک فوج فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں تحریک طالبان پاکستان کے منحرف ہونے والے ترجمان احسان اللہ احسان نے مختلف انکشافات کئے ہیں۔ احسان اللہّ احسان نےاپنا ا صلی نام لیاقت علی بتایا ہے اورکہا کہ ان کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔

احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ انھوں نے زمانہ طالب علمی ہی میں تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور شروع میں وہ تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے ترجمان تھے، بعد میں وہ ٹی ٹی پی کے مرکزی ترجمان بن گئے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی میں ایک مخصوص ٹولا بے گناہ مسلمانوں سے بھتہ وصول کرتا ہے، ان کا قتل عام کرتا ہے، عوامی مقامات پر دھماکے کرتا ہے، سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں پر حملہ کرتا ہے۔

احسان اللہّ احسان نے مزید کہا کہ فوجی آپریشن شروع ہوتے ہی ٹی ٹی پی میں قیادت کی رسہ کشی اور بھی تیز ہو گئی اور ہر کوئی چاہتا تھا کہ تنظیم کا لیڈر بنے۔حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کے احوال بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نئے امیر کو نامزد کرنے کا مرحلہ آیا تو تنظیم میں انتخابی مہم کی طرز پر تگ و دو شروع ہو گئی۔ احسان اللہ احسان کے بقول اس دوڑ میں عمر خالد خراسانی، خان سید سجنا، مولوی فضل اللہ شامل تھے۔ اس موقع پر تنظیم کی شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے تنظیم کا قائد نامزد کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ قرعہ مولوی فضل اللہ کے نام نکلا اور ایسی تنظیموں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے جس میں قرعہ اندازی کے ذریعے اہم فیصلے کیے جاتے ہوں۔انھوں نے کہا کہ ’امیر بھی ایک ایسے شخص کو بنایا گیا جس کا کردار ایسا تھا کہ اُس نے اپنے استاد کی بیٹی کے ساتھ زبردستی شادی کی۔ انھوں نے کہا کہ تنظیم کے جنگجوؤں کو پاکستان کی فوج سے لڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور خود پوری قیادت محفوظ ٹھکانوں میں چھپ جاتی ہے۔

شمالی وزیرستان کے آپریشن کی وجہ سے تنظیم کے افغانستان منتقل ہونے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ افغانستان منتقل ہونے کے بعد تنظیم کے این ڈی ایس اور را کے ساتھ تعلقات بڑھے اور تنظیم کو افغانستان اور انڈیا کی طرف سے حمایت اور مالی معاونت ملنے لگی۔

عمر خالد خراسانی سے این ڈی ایس اور را سے مدد لینے کے معاملے پر اپنے ایک مکالمے کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب اس بارے میں انھوں نے اعتراض کیا تو اور کہا کہ اس طرح تو وہ اپنے ملک میں کارروائیاں کر کے کفار کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اس اعتراض پر عمر خالد خراسانی کا جواب تھا کہ ’پاکستان میں تخریب کاری کرنے کے لیے اگر انھیں اسرائیل سے بھی مدد لینی پڑی تو وہ لیں گے۔

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان نے مزید بتایا کہ را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی طالبان کے لیے پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے اہداف مقرر کرتی تھیں اور ان اہداف کو حاصل کرنے میں قیمت بھی ادا کی جاتی تھی۔ لیکن احسان اللہّ احسان نے یہ نہیں بتایا کہ خود پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں افغانستان میں کیا کرتی ہیں؟ اور تحریکِ طالبان پاکستان سے اسکے کس قسم کے روابط ہیں؟

جاری شدہ ویڈیو میں احسان اللہّ احسان خوش و خرّم حالت میں بہت اطمینان سے اپنی پوری کہانی بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جس سے محسوس ہوتا ہے کہ پوری ویڈیو بہت ہی دوستانہ ماحول پورے اسکرپٹ کے ساتھ نہایت سوچ سمجھ کر بنائی گئی ہے۔

ویڈیو پاکستانی میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا اور غیر ملکی میڈیا پر تواتر کے ساتھ چل رہی ہے۔ ویڈیو بیان جاری ہونے کے بعد چاروں طرف سے سوشل میڈیا پر اور مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود گروپوں کی گفتگو میں احسان اللہّ احسان کی اعترافی ویڈیو پر تبصروں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

پاکستان کے کٹھ پتلی میڈیا پر بھی لفافہ صحافیوں اور پے رول دانشوروں کی طرف سے بھی احسان اللہّ احسان کے بیان کا خیر مقدم اور ایک میڈیا ٹرائل کے ذریعے احسان اللہّ احسان کی ڈارئی کلیننگ کرکے ان کو شیلٹر اور سپیس دینے کے مشن پر کام شروع ہوگیا ہے۔ فی الحال دو اہم تبصرے سامنے آئے ہیں۔

پہلا تبصرہ سابق جہادی اور پشتون قوم پرست صحافی سلیم صافی کا ہے۔ موصوف فرمارہے ہیں کہ احسان اللہّ احسان تعلیم یافتہ نوجوان ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور ادیب بھی ہیںاس موقعہ پر لال ٹوپی دانشور جناب زید حامد نے بھی احسان اللہّ احسان کی مدح سرائی میں آگے بڑھ کر فرما یا ہے کہ ہمیں احسان اللہّ احسان کے پاس سے حب الوطنی کی خوشبو آتی ہے ۔

ہمیں ڈر ہے کہ اگر ان گُل خانوںنے ایسے ہی مسلسل ہزروں انسانوں کے قاتلوں، بم دھماکوں میں معصوم انسانوں کو قتل کرنے والے درندوں کو خوفناک منطقی انجام سے بچا کر میڈیا ٹرائل کے ذریعے ڈرائی کلیننگ کرنے کے بعد شیلٹر اور سپیس فراہم کرکےمعاشرے کا مفید اور کارآمد شہری بنانے کا ڈھونگ رچایا ،تو کل پاکستان میں ہتھیار ڈالنے اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے ڈرائی کلیننگ کے بعد شیلٹر اور سپیس حاصل کرکے عمر خالد خراسانی سوات سے ، خان سید سجنا خیبر ایجنسی سے ، مولوی فضل اللہ مالاکنڈ ایجنسی سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہونگے، اور محمّد احمد لدھیانوی، حافظ سعید، احسان اللہّ احسان جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ٹکٹ پر ممبر سینیٹ منتخب ہورہے ہونگے۔

احسان اللہّ احسان، عسکری سٹیبلشمنٹ کی طرف سے طالبان کو قومی دھارے میں لانے کے منصوبے کے ہراول دستے کا پہلا رکن ہے، جس کو میدان میں اس لئے اتارا گیا ہے کہ دہشت گردی میں مارے گئے بے گناہوں کے پسماندگان کا ردِّ عمل چیک کیا جاسکے ، احسان اللہّ احسان صرف منحرف دہشت گرد ہی نہیں ہے، بلکہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کا ہیومن تھرمامیٹر بھی ہے، جس کا کام پاکستانی عوام کے جذباتی ردِّ عمل کےٹمپریچر کی ریڈنگ ظاہر کرنا ہے۔ احسان اللہّ احسان کا منطقی انجام ہی ہماری عسکری سٹیبلشمنٹ کے عزائم کو ظاہر کرسکے گا۔ ہم ہوں نہ ہوں، باقی رہے گا اللہّ کا نام۔

 

5 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    بہت اعلیٰ اور مبنی بر حقیقت تجزیہ ہے۔ نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی۔اس سے قبل تومنتخب رکن پیجاب اسمبلی مسرور نوازجھنگوی صاحب کو وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف صاحب نے اپنے دست مبارک سے “امن ایوارڈ” سے نواز کرسول سوسائیٹی کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔یہ درست ہے کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہا جاتا لیکن پہلے اسے خصوصی عدالت میں پیش ہو کر اپنے بھولپن کی صفائی پیش کرنی چاہیئے۔اور جن ہزارہا معصوم جانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کی ذمہ داری علی اعلان قبول کرتے رہے ان کے لواحقین کو بھی اس شخص کو معاف کرنے یا نہ کرنے کا مؤقف اس شخص اور خصوصی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا موقعہ دیا جانا چاہیئے۔کیا نام نہاد “تعلیم یافتہ شاعر اور ادیب” ایسے بے حس ہوتے ہیں کہ معصوم جانوں کے خون کی ہولی کھیل کراعترافی بیان جاری کر کے اس پرمقتولوں کے لواحقین سے دادو تحسین کی توقع رکھیں؟؟

  2. ضیاءالدین says:

    طالبان کبھی بھی قومی دھارے کا حصہ نہی بن سکیں گیں ۔۔۔ اگر ایسا ھے تو پھر مستقبل میں پلاننگ کچھ اور ھے ۔۔۔

  3. ملک کو ،قاتلوں کے خون آلود کپڑوں کی سر عام دھلائی کے وحشی موسم نے لپیٹ لیا ہے۔عوام دشمن قاتلوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر خونریزی کے بعد،ان کی نیت پر شک نہ کرنا اور ان قاتلوں کو پھر سے نارمل زندگی بسر کرنے دینا مقتولوں اور شہیدوں کے لواحقین کے ساتھ انتہائی گھناؤنا مذاق ہے۔اگر ان قاتلوں کے نظریاتی اور مالی سہولت کاروں اور ان کے لئے معذرت خواہ ہمدردی رکھنے والوں میں کوئی فرق نہیں ہے تو انہیں زمامِ اقتدار سونپ کر گھر چلے جائیں۔اردو صحافت میں،اس قبیح فعل کی طرح ،غالباً ارشاد احمد حقانی نے ڈالی تھی۔وہ جنرل ضیاء
    الحق کے اقدامات کی دلائل سے نفی بھی کر دیتے تھے اور آخر میں لکھ دیتے تھے میں ان کی نیت پر شک نہیں کرتا۔

  4. اس سے پہلے پنجابی طالبان یا معاویہ گروپ بھی ہوا میں تحلیل ہو چکا ہے۔ اس گروپ نے ننگا پربت بیس کیمپ میں غیر ملکی سیاحوں کے قتل سمیت کئی ایک وارداتوں کا اعتراف کیا تھا جس کا اعادہ ایک دفعہ پھر احسان اللہ احسان نے فرمایا ہے۔

  5. Janab ye army ke paale hoe apne terrorist hain. Ye trained terrorist kise ur jaga use hon je kionky in pe bohat mehnat ke jae he ur awam ka kia he ur wo bhe pakistani. Ye awam to mar kar khush hote he ur ye bat sahab logon ko pata he is leay dnt worry.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *