پاکستان بطورعسکری ریاست اوراس کے مسائل

ارشد محمود

 کون نہیں جانتا، پاکستان کی غالب مضبوط، با اثر قوت، پاکستان کی فوج ہے۔ اس کے حجم، قوت اوراثرمیں پچھلے 50 سال سے مسلسل دن دگنی رات چگنی ترقی ہوتی چلی گئی ہے۔ یہ بھی نہیں کہ آرمی محض ایک دفاعی ادارہ ہے۔ بلکہ ریاست کے تمام سیاسی،داخلی و خارجہ سیکورٹی، بین الاقوامی تعلقات کے امور میں اس کا مرکزی کرداررہا ہے۔

پاکستان کی تمام جنگیں آرمی اقتدارکے دوران ہوئیں ۔ایک انچ زمین کبھی فتح کرکے پاکستان کونہ دی، بلکہ جنرلوں کے اقتدارمیں ہوتے ہوئے میدان جنگ میں ملک آدھا ہوگیا۔ کئی سیاسی پارٹیاں جرنیلوں کی تخلیق ہیں۔ کئی سیاسی راہنماؤں کے بنانے میں جرنیلوں کا ہاتھ ہے۔ آرمی کے ماتحت سب سے بڑی ایجنسی کا بلاسفیمی سے لے کردہشت گردی، سیاست، میڈیا تک اس کا حکم چلتا ہے۔

ریاست، معاشرت، سیاست، حتی کہ کیبل آپریٹراس کے حکم کے تابع ہوچکے ہیں۔ ہر تنظیم اور ہرادارے کی نگاہ اس کی طرف ہوتی ہے۔ کئی دفعہ یہ بات ثابت ہوچکی ہےکہ ہمارے جرنیل جو چاہیں، حالات کوکوئی بھی رخ دینا چاہیں، وہ اپنی مرضی کے حالات پیدا کرسکتے ہیں۔ وہ کسی بھی ایشو پریو ٹرن کرسکتے ہیں۔ اوریوٹرن کوصراط مستقیم قراردے سکتے ہیں۔ ہماری آرمی کے سامنے کوئی کچھ نہیں بول سکتا۔

یہ ایک طرح سے بات اچھی بھی ہے، اوربری بھی۔۔۔اچھی ان معنی میں کہ آرمی بہرحال ریاست کومتحد رکھنے کی قوت ہے، عام طورپراسے قوم کا اعتماد حاصل ہوجاتا ہے۔بطورادارہ ایک عزت اورتکریم بھی ہے۔ بری اس لحاظ سے ہے کہ آرمی کے غلبے کے باعث ریاست کے دیگرادارے، پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا آزادانہ فروغ نہیں پاسکے، وہ جرنیلوں کے بھاری بوٹوں تلے دب کے رہ گئے ہیں۔ ریاست کے اداروں کے درمیان طاقت کا توازن نہیں رہا۔

عسکری قیادت کی طرف سے اپنے لیے ہمدردیاں پیدا کرنے کے لیے قوم کوباربارشہدا کا احسان جتایاجاتا ہے۔ مجھے ایک پاکستانی سویلین شہری کی حیثیت سے کسی فوجی جوان یا افسرکے شہید ہونے پر رنج ہی نہیں سخت تکلیف ہوتی ہے۔ وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں۔ کسی کے بیٹے، بھائی، خاوند، باپ ہیں۔ ان کی بھی زندگی کی امنگیں ہیں۔ وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ وطن اورمذہب کے نام پرکسی سے اس کی زندگی کا حق نہیں چھینا جانا چاہئے۔

وطن کے دفاع میں یا اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں ان کا زندگی واردیناجہاں ایک طرف قابل احترام عمل ہے۔ وہاں یہ سوال بھی پیدا ہونا چاہئےکہ کیوں ایسے حالات ملک میں پیدا کئے گئے، کیوں ملک بھرمیں دہشت گردی کے اڈے بنوائے گئے، کیوں خود اتنے دشمن پالے گئے وہ کون جرنیل تھے۔جنہوں نے سوات اوروزیرستان میں طالبان کے قبضے کروائے تھے، وہ کون جرنیل تھے، جنہوں نے دنیا بھر کے دہشت گرد پاکستان میں لاکرٹھہرائے تھے۔ وہ کون ہیں، جو آج بھی انہی انتہا پسندوں گروہوں کو کسی نہ کسی حجت کی وجہ سے سپورٹ کرتے ہیں۔

حسین حقانی سے توسی آئی اے ملازموں کو ویزے دینے کا سوال اٹھایا جاتا ہے۔ اسامہ بن لادن اینڈ کمپنی کو ویزہ کس نے دیا تھا؟ دہشت گردی کی ٹریننگ کے اسکول کس کی نگرانی میں ملک بھرکھولے گئے تھے۔ کن کی آشیرباد سے ملک بھر کی دکانوں اورمارکیٹوں میں جہادی چندے کے ڈبے رکھوائے گے تھے۔ وہ کون لوگ تھے، جنہوں نے کبھی نہ سوچاکہ اس کے پاکستان پرکتنے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔آج انہی کے پالے کتوں کے ہاتھوں 30 ہزارسے زائد افواج پاکستان کے سپوت اورایک لاکھ سے زائد سویلین اپنی زندگیاں دے چکے ہیں۔ 

 ہم نہیں چاہتے، کہ پاکستان جنگوں اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دشمنیوں میں مبتلا رہے۔ جب بھی ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بہترتعلقات کی شروعات ہوتی ہیں۔ انڈیا دشمنی کوکیوں ابدی حقیقت بنا کرپیش کیا جاتا ہے۔ کیوں مسئلہ کشمیر کا قابل عمل حل نہیں ہونے دیا جاتا۔۔ کیوں بلا اشتعالفائرنگ کا ڈرامہ رچائے رکھا جاتا ہے۔ دشمنی ہوگی، تو مداخلت بھی ہوگی۔ ایک دوسرے کے ساتھ پنگے بازیاں بھی ہونگی۔ ہمارے جوانوں کوشہید بھی ہونا پڑے گا۔ شہیدوں کا قوم پراحسان جتلانے کی بجائے ہمیں مزید شہید بنانے کے عمل کوقطعاً بند کرنا ہوگا۔ورنہ ہم شہیدوں کے خون سے مذاق ہی کررہے ہونگے۔ شہیدوں کے خون کا تقاضا ہے کہ اندرونی اوربیرونی امن کے حالات پیدا کئے جائیں، جہاں کسی کو بھی خوامخواہ شہید ہونے کی ضرورت نہ پڑے۔

جنرل سفید کوسیاہ کہہ دیں۔ساری قوم اورسارے ادارے سفید کوسیاہ کہنا شروع کردیتے ہیں۔ اسی عدم توازن کی وجہ سے کبھی جرنیلوں کی نااہلیوں، ناکامیوں، بدعنوانیوں کا احتساب نہیں ہوسکا۔۔۔ ادارے کا عزت وقارداؤ میں پڑجاتا ہے۔ ریاستی بیانیہ پربھی ان کی اجارہ داری ہے۔ مسئلہ کشمیر، ہندوستان دشمنی، اسلام پسندیکومضبوطی سے تھاما ہوا ہے۔ ریاست کا بیانیہ غیرلچک دارہوچکا ہے۔

قومیں اپنے مفادات میں اپنے ریاستی بیانیوں کوبدل دیتی ہیں۔کمیونزم سوویت یونین کا ریاستی مذہب تھا۔ چھوڑدیا۔ چین نے قومی مفاد اورترقی کے لئے سوشلزم کوخیرباد کہہ دیا۔ جو نہیں بدلتے ٹوٹ جاتے ہیں، مشرق وسطیٰ کا حال دیکھ لیں۔ کتنے ممالک اپنے حکمرانوں کے غیرلچک دارہونے کی وجہ سے ہماری آنکھوں کے سامنے تباہ وبرباد ہوگے۔ اس کی سزا کروڑوں عوام کوبے پناہ مصائب کی شکل میں ملی۔

پاکستان نظریاتی لحاظ سے بندگلی میں ہے۔ مسئلہ کشمیرقیامت تک ہماری خواہش کے مطابق حل نہیں ہونے والا۔ انڈیا دشمنی رکھ کراس خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔ اوردشمنی سےکچھ فائدہ حاصل نہیں ہونے والا۔ انڈیا کے مسلمان، کشمیرکے عوام اور پاکستان کے عوام اس دشمنی سے نقصان اٹھا کررہے ہیں۔ امن اورترقی کی راہ انڈیا دوستی کے بغیرممکن نہیں۔

اسلام کی مقدارقوم کواتنی کھلائی جاچکی ہے کہ پوری قوم کا ہاضمہ اوردماغ دونوں خراب ہوچکے ہیں۔ اسلام کی ہراگلی ڈوز قوم کی مزید تباہی ہی کرسکتی ہے، اس سے کوئی مثبت فائدہ مند نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ پاکستانی فوج چاہتی ہے۔ پاکستان ترقی کرے، پاکستان کے عوام چاہتے ہیں، پاکستان ترقی کرے۔ ان روڈ بلاکس کوہٹائے بغیرحقیقی ترقی کا راستہ کبھی نہیں کھلے گا۔

سی پیک ٹائپ کی چیزیں، یا سعودی میں بریگیڈ فوج متعین کرکے آپ چاردیہاڑیاںتولگا سکتے ہیں۔ پاکستان کوحقیقی ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکتے۔

One Comment

  1. Muhammad Yusuf Awan says:

    زبردست
    حقیقت پر مبنی مضمون ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *