سوشل میڈیا کے مخالفین غلط نہیں

علی احمد جان

کیوبا کے انقلاب کے دوران فیدرل کاسترو کے ساتھی چی گویرا کسی ایسی جگہ اپنے مخالفین کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے جو وہاں کے مقامی لوگوں کی چراہ گاہ بھی تھی۔ ایک گھمسان کی لڑائی کے بعد جب ہر طرف خاموشی چھا گئی تو چی گویرا حالات کا جائزہ لینے اپنے کمین گاہ سے باہر آیا تو ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی تو دریافت کیا کہ کہیں اس نے کچھ بندوق بردار لوگوں کو دیکھا تو نہیں۔

اس چرواہے نےانتہائی زچ ہوکر کہا کہلعنت ہو تم اور ان لوگوں پرکیونکہ تمھاری لڑائی کی وجہ سے میری بکریاں پریشان ہیں اور دو دنوں سے گھاس نہیں چر پارہی ہیں۔ چی گویرا نے اس واقعے کو اس چرواہے کے انقلاب کےعظیم ثمرات سے لاتعلقی اور یہاں ابلاغ کی کمی کے حوالے سے بیان کیا اور کیوبا کی حکومت نے انقلاب کے بعد اس کمی کو اپنے انداز میں پوری کرنے کی کوشش بھی کی ہوگی۔

یہ تو بات اس زمانے کی تھی جب لوگوں تک معلومات پہنچانے کے ارزاں ذرائع نہیں تھے ۔ آج کے نوجوان کہتے ہیں کہ اگر موجودہ دور ہوتا تو وہ چرواہا اپنے موبائل فون سے چی گویرا کے جنگ کی لمحہ بہ لمحہ براہ راست کوریج کرکے نہ صرف بکریاں پالنے سے زیادہ منافع کماتا بلکہ تاریخ میں بھی امر ہوجاتا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر ایسا ہوتا تو چی گویرا سب سے پہلے اس چرواہے کو مار ڈالتا پھر اپنے دشمن کے پیچھے جاتا تو بھی غلط نہیں ہوتا کیونکہ سوشل میڈیا کا یہ جدید ابلاغ خود مابعدالطبعیات کے ارتقائی عمل کا حاصل نہیں بلکہ سرمایہ داری نظام کی پیداوار ہے جو عالمگیریت کو تقویت دیتا ہے۔

آج کی دنیا میں تیل بیچنے والے مشرق وسطیٰ کےشیوخ، کئی نسلوں سے مطلق العنانیت چلانے والے افریقی آمر حکمرانوں ، ہوائی سود کا کاروبار کرنے والے والے یہودی ساہوکاروں اور ٹیکنالوجی بیچنے والے جاپانی امیروں کو دھن دولت میں پیچھے چھوڑنے والے اپنی کلاس روم میں سب سے پیچھے کی بنچوں پر بیٹھنے والےاپنے دور کے وہ نوجوان ہیں جن کی شرارتیں دنیا میں سب سے بڑی کمائی کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ ان نوجوانوں کی شرارتوں نے دنیا کو سمیٹ کر لوگوں کی ہتھیلیوں پر رکھ کر ان خوابوں کو بھی شرمندہ تعبیر کیا ہے جو انسان نے دیکھے بھی نہیں تھے۔

ان نوجوانوں کی شرارتوں سے شروع ہونے والے ابلاغ یا سوشل میڈیا کے اس نئے دور نے ایک طرف عام لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ان کو بات چیت کی سہولتیں فراہم کی ہیں تو دوسری طرف خواص ابلاغ کے اس نئے جن کو بوتل میں واپس بند کرنے کی تراکیب سوچ رہی ہے کیونکہ وہ اس کو ایک بڑی مصیبت اور عذاب سمجھتے ہیں۔

بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا کہلانے والے ابلاغ سے سب سے زیادہ تو روایتی ابلاغ عامہ کے وہ سرخیل پریشان ہیں جو اظہار رائے کی آزادی اور ابلاغ عامہ کے فروغ کے لئے اپنی قربانیوں کی داستانیں صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی بیان نہیں کرتے بلکہ ابلاغ عامہ کی سند حاصل کرنے لئے لازمی طور پر پڑھائے جانے والا نصاب بھی بھرا پڑا ہے کہ معلومات تک رسائی کسی انسان کا کتنا بڑا حق ہے جس کے لئے اس قبیلے نے کتنی عظیم قربانیاں دی ہیں۔

اب جب کہ صبح سویرے کئے جانے والےتازہ اخبار کے انتظار کی قید سے آزاد ہوکر ہر شخص لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کی تازہ ترین اطلاعات کیساتھ ہر وقت باخبر رہتا ہے تو کاغذی اخبار صرف وقت اور پیسے کا ضیاع ہی نہیں بلکہ ماحولیاتی الودگی کا باعث بھی نظر آنے لگا ہے ۔ اخباری صنعت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے کیونکہ چار سے چھ صفحوں پر مشتمل اخبار جس قیمت پر بکتا ہے اس سے کاغذ کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا ۔

اب جب اخبار صرف اشتہارات کے لئے چھاپا اور خریدا جاتا ہے تو ایسے میں کچھ سرپھروں نے اشتہارات بھی بلا معاوضہ ہماری جھولی میں پھینک کر اخبارات کی چلتی روزی پر لات مارنے کو بھر پور کوشش کی ہے۔ بھاری بھرکم سرمایہ کاری کے بعد بھی اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی نہ ہونے والی ادائیگیاں دیکھ کر اخبارات کے مالکان اس جدید ابلاغ کی پھیلتی عفریت کو عذاب سمجھتے ہیں تو کیا وہ حق بہ جانب نہیں؟

ابلاغ کی نئی بیماری میں مبتلا تو نئے امریکی صدر بھی ہیں جو اپنے منّہ سے زیادہ اپنے ٹویٹر پر رکھے انگوٹھے سے بولتے ہیں جس کو پانچ کونوں والی عمارت میں براجمان امریکی طاقت اور جوہر کے اصل کرتا دھرتا اپنے لئے مصیبت سمجھتے ہیں۔ خود امریکی صدر ابلاغ عامہ سے تنگ ہیں تو امریکی اشرافیہ اپنے صدر کے جدید ابلاغی حرکتوں سے تنگ ہے۔ دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچانے والی سی آئی اے اگر اپنے منتخب صدر کی سوشل میڈیا پر پل پل بدلتی دھنوں پر ناچنے کو غلط سمجھتی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔

ویسے تو ہر ریاست چاہے وہ جمہوری ہو، مذہبی ہو یا اشتراکی ، ایک چیز جس کو سب سے زیادہ پیار کرتی ہے اور دل و جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہے وہ ہے رازداری” جس کی پاسداری امور مملکت چلانے والا ہرچھوٹا بڑا اہل کار قسم اٹھاکر کرتا ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے سرکاری کنٹرول سے تو یہ پاسداری ممکن تھی مگر ابلاغ کے اس نئے دور میں اب یہ ناممکن ہوتی جارہی ہے۔

ریاستوں کی حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ اپنی رازداری کو قائم رکھیں اور عام آدمی کو حکمرانوں کے معمولات کا صرف ان کے مرنے کے بعد ہی پتہ چلے۔ مگر اب سوشل میڈیا کی ننگی تلوار ہر وقت خواص کے سروں پر لٹکتی رہتی ہے جس کی حشر سامانیوں کی وجہ سے ریاست چلانے والے سب ہی ادارے اس دجالی میڈیا کو اگر مصیبت سمجھتے ہیں تو وہ بھی غلط نہیں ہیں۔

بھاری عوامی اور خواصی مینڈیٹ کی مدد سے براجمان پاکستان کی شیراں والی سرکار بھی سوشل میڈیا کو ہی ام الفساد سمجھتی ہے اور کسی طرح اس کو نیکٹا کی چھری کے نیچے لانے کے درپے ہے۔ ریاستی عملداری کو ہر دم للکارتے اسلام آباد اور، پشاور، لاہور اور کراچی کی سڑکوں پر سرکاری املاک کو روندتے ڈنڈا بردار جتھوں ، میڈیا کے چینلوں پر بیٹھے فتویٰ فیکٹریاں چلانے والوں اور معصوم بچوں کو تعلیم کے نام پر نفرتوں کا درس دینے والوں سے زیادہ پاکستان کے حکمرانوں کو اگر کوئی چیز سب سے زیادہ خائف رکھتی ہے تو وہ انگلیاں ہیں جو فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ جیسے دہشت گردی کے بٹنوں کو دباتی ہیں۔

حکمرانوں کا خیال ہے کہ جس دن فضاؤں میں اڑتی پتنگوں کے بعد سوشل میڈیا کا قلع قمع ہو جائیگا اس کے بعد ملک میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہنے لگیں گی اور راوی یہاں چین ہی چین لکھے گا۔ حکومت سمجھتی ہے کہ سوشل میڈیا میں اس کی کارکردگی کو مریمانہ انداز میں بیان کرنے کے بجائے لوگ عمرانا انداز میں نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اگر پر نہ کاٹ دیے گئے تو سوشل میڈیا کی ابابیل آئندہ انتخابات میں قوم کو شیر شاہ سوری ثانی جیسی قیادت کے انتخاب سے محروم کردے گی اور ملک و ملت ان کے ہاتھوں رونما ہونے متوقع ترقی سے محروم ہو جائینگے۔ حکومت اگر سوشل میڈیا کی مصیبت کو ملک میں آنے والی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے تو غلط کیسے ہے؟

پاکستان کے شمال گلگت بلتستان کی نیم سرکاربھی اس معاملے میں اپنے مربی و مرشدی لاہور والی سرکار سے دو ہاتھ آگے ہے۔ یہاں خود کو حکمران سمجھنے والے تو ابلاغیات کی ہر شکل کو دہشت گردی سے بھی آگے بڑھ کر غداری جیسا جرم سمجھتے ہیں۔ اس نیم سرکار نے ایک اخبار کو بند کرکے اس کے ایڈیٹر کو غداری کا مجرم بھی قرار دے دیا ہے اور اس کے اہل کار ایک اور صحافی کو ایک جنسی سیکنڈل کے آشکار کرنے پر شکاری کتوں کی طرح دھونڈتے پھر رہے ہیں۔ اس سیکنڈل میں چند حکومتی ارکان اور وزراء کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جو بادی النظر میں حاجی اور نمازی ہیں۔ اگر گلگت بلتستان کی سرکار اس ابلاغ کا شرفا ء اور امراء کی پردہ داری کو طشت ازبام کرنے کو اپنے اور ریاست کےلئے ایک خطرہ سمجھتی ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟

جدھر دیکھو آج کی نسل اپنے آس پاس سے بے نیاز ہوکر اپنے ہاتھوں میں دبے موبائل فون کے ذریعے کسی اور دنیا میں محو نظر آتی ہے۔کل تک لوگ ایک دوسرے کے رشتے دار ہوا کرتے تھے اب ایک سکرین آ ئی ڈی بن چکے ہیں۔ گھروں میں والدین بھی اپنے بچوں کو ہر وقت اپنی ہتھیلیوں کے طرف دیکھتے رہنے اور اس میں دبے موبائل فون کی سکرین پر مصروف ہونے کو ایک مصیبت سمجھتے ہیں تو کیا غلط ہے ۔ سوائے سارا دن دفتر میں موبائل کے استعمال سے محروم رہنے والے آدمی کی بیگم کے جو گھر میں شام کو اپنے شوہر کےجدید ابلاغیات کی سہولت سے مستفید ہونے کو غلط سمجھتی ہے، کوئی غلط نہیں ۔ کیونکہ وہ آدمی میں خود ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *