ہمارے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی، بے روزگاری کی وجہ سے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اچھے مستقبل کے لیے بیرون ملک کا رخ کرتی ہے۔ جن میں اکثر تو سمندر میں ڈوب جاتے ہیں یا کنٹینروں میں دم گھٹ کر مر جاتےہیں ۔ جو بچ جاتے ہیں ان کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔

شاہد خان کا کہنا ہے کہ اس نے ایک مرتبہ ہنگری کی سرحد عبور کر کے یورپی یونین کی حدود میں پہنچنے کی کوشش کی۔ لیکن سرحدی نگرانی سخت ہونے کے باعث وہ پکڑا گیا اور ہنگری کے سرحدی محافظوں نے اس پر تشدد بھی کیا۔

بائیس سالہ پاکستانی تارک وطن شاہد خان کسی طرح پاکستان سے مشرقی یورپی ملک سربیا تک تو پہنچ گیا، لیکن جرمنی یا مغربی یورپ کے کسی دوسرے ملک پہنچ کر اپنا مستقبل بہتر بنانے کا اس کا خواب اب بھی ادھورا ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی سے کی گئی ایک گفتگو میں شاہد نے بتایا کہ اس نے ایک مرتبہ ہنگری کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ ہنگری اور سربیا کے مابین سرحد پر سخت پہرہ ہے، جب اس نے کچھ دیگر تارکین وطن کے ساتھ مل کر ہنگری کی سرحد عبور کر کے یورپی یونین کے اس رکن ملک کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سرحدی نگرانوں کی نظر میں آ گیا۔ شاہد کے مطابق جب اس نے بھاگنے کی کوشش کی تو ہنگری کی پولیس نے کتوں کی مدد سے اسے پکڑ لیا اور مبینہ طور پر اس پر تشدد بھی کیا۔

شاہد خان کا کہنا تھا، ’’جب وہ ہمیں مار رہے تھے تو وہ ساتھ میں قہقہے بھی لگا رہے تھے۔ کچھ پولیس والے ہمیں مارتے وقت اپنے فون سے سیلفی بھی بنا رہے تھے‘‘۔

ہنگری کی جانب سے ملکی سرحدوں کی نگرانی مزید سخت کرنے کے اعلان کے بعد اب شاہد کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے اُس کی اور اُس جیسے دیگر کئی پناہ کے متلاشی افراد کو، جو اپنے ملکوں سے غربت اور شورش کے باعث ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں، کی زندگیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔

سربیا کے سرحدی قصبے سبوتیسا میں شاہد اور ہزاروں دیگر تارکین وطن متروک عمارتوں میں اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سات ہزار سے زائد پناہ گزین سربیا میں موجود ہیں جو ہنگری یا کروشیا کی سرحد عبور کر کے مغربی یورپ پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔

ہنگری میں دائیں بازو کی جماعت برسر اقتدار ہے۔ مہاجر مخالف رویہ رکھنے والی اس حکومت نے سربیا سے متصل ملکی سرحدیں سن 2015 ہی میں بند کر دی تھی۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے اس برس مزید تارکین وطن ملکی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں اور اسی خدشے کے پیش نظر ایک جدید سرحدی باڑ نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تجرباتی بنیادوں پر دس کلو میٹر طویل باڑ تعمیر کی گئی ہے جس پر نگرانی کی خاطر جدید کیمروں کے علاوہ نقل و حرکت اور جسمانی حدت جانچ کر دخل اندازی کی کوشش روکنے والے سینسر بھی نصب ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں ہنگری کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ یونین کے اس رکن ملک کی مہاجرین سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے شاہد خان کا کہنا تھا، ’’وہ ہمارے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں، آخر ہم بھی انسان ہیں۔‘‘۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *