جاوید غامدی اور ان کی منطق

اویس اقبال

یہ تیس اکتوبر 2009 کا دن تھا اور مجھے جاوید احمد غامدی کے ساتھ جیو نیوز کے لئے یوتھ شو کی ریکارڈنگ کروانی تھی۔علامہ اقبال روڈ لاہور پہ واقع بظاہر خستہ حال عمارت کے اندر واقع اس سٹوڈیو میں اس سے پہلے میں اس شو کی پچپن اقساط ریکارڈ کروا چکا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ آج کی ریکارڈنگ اس شو کی آخری ریکارڈنگ ثابت ہو گی ۔

اس دن میرا موضوع تھا کہ کیا جبلت سماج اور مذہب سے زیادہ قوی ہے۔معمول کے ابتدائیے کے بعد غامدی صاحب سے دریافت کیا کہ اگر ریس کورس پارک لاہور میں ایک جوان لڑکی کا ریپ ہو جاتا ہے تو معاشرہ اس کے ریپسٹ کو زیادہ سے زیادہ سزائے موت دے سکتا ہے ،خدا چاہے تو اسکے ریپسٹ کو اپنے حتمی مغفرت کے وعدے کے بر خلاف ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ کا ایندھن بنا سکتا ہے مگر اگر خدا خود بھی چاہے تو کیا اس لڑکی کی عزت واپس لا سکتا ہے ۔

غامدی صاحب کے مسکراتے چہرے پہ گویا سنجیدگی نے فوراً گھر کر لیا ۔ایک توقف کے بعد انھوں نے ایک مختصر تقریر کر ڈالی جس کا لب لباب یہ تھا کہ اس لڑکی کو روز قیامت خدا بخشیش عطا کریگا اور اسے جنت میں بہت اعلی درجہ ملے گا ۔یہ جواب سن کہ میں زیر لب مسکرانے لگا۔ان کی اس بات پہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ایک مہمان طالبہ کہنے لگی کہ پھر تو وہ بھی ہیجان انگیز لباس زیب تن کر کے اپنا ریپ کروائے تو کیا وہ بھی جنت میں پہنچ جائیگی ۔جنت کسی محنت کا ثمر ہے یا پھر کسی کے بدلے میں حاصل ہونے والی جگہ ہے ۔

اس پر غامدی صاحب فرمانے لگے کہ اس لڑکی کو خدا کی اوور آل سکیم سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہاں پر میں نے لقمہ دیا کہ جس بد قسمت لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی ،وہ پہلے قریبی جھاڑی سے ڈھونڈ کراپنی پھٹی قمیض پہ چادر لپیٹے ،پھر رکشہ کروا کے شادمان تھانے جائے اور اپنے ریپ کی ایف آئی آر کٹوائے ۔پھر وہی رکشہ لیکر باغ جناح میں قائداعظم لائبریری جائے اور آپ کی تصانیف میں بیان کردہ خدا کی گرینڈ سکیم کو سمجھنے کی کوشش کرے جس سے دیگر علماء کی اکثریت اتفاق بھی نہیں کرتی تو اس لڑکی کے لئے ریپ والے دن یہ مصروفیات کچھ زیادہ نہیں ہو جائینگی اور کیا آپ اپنے بیٹے کی شادی کسی ایسی لڑکی سے کرینگے اور کیوں مذہب ایسی خواتین کی نفسیاتی اور سماجی بحالی کے لئے خاطر خواہ اقدامات تجویز نہیں کرتا ۔

یہ سب سن کہ غامدی صاحب غصے میں آگئے۔انھوں نے اپنا مائیک اتارا اور سٹوڈیو سے باہر چل دیئے ۔انھیں ہماری پروڈکشن ٹیم نے بہت روکنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کسی کی ایک نہ سنی۔بلٹ پروف پجارو کے اندر ایک اور بلٹ پروف کیبن میں بیٹھے اور ایلیٹ فورس کی دو حفاظتی گاڑیوں کے ہمراہ واپس ڈیفینس ہاوسنگ اتھارٹی میں واقع اپنے پر شکوہ بنگلے کی جانب روانہ ہو گئے ۔مجھے ایگزیکٹو پروڈیوسر عبدالروف صاحب سے ہومیو پیتھک ڈانٹ پڑی اور اگلے اڑھائی ماہ میں جیو نیوز کے مارننگ شو جیو پاکستان میں بطور پروڈکشن ایسوسی ایٹ کام کرتا رہا جب تک کہ مجھے دنیا نیوز نے بطور نیوز اینکر ہائر نہیں کر لیا۔

نومبر 2009 کے وسط میں جیو لاہور کے انفوٹینمینٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک فیکس آیا جسے فیکس مشین سے میں نے نکالا۔یہ فیکس تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھیجا گیا تھا اور اس میں دو لوگوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی ۔ایک نجم سیٹھی صاحب تھے جو ایک ملحد ہیں اور دوسرے غامدی صاحب تھے ۔اس دھمکی کے بعد وجود خدا کا منکر نجم سیٹھی تو پاکستان ہی میں رہا مگر جو غامدی صاحب خدا کو حفیظ اور غفوروالرحیم مانتے تھے ،وہ اپنا بوریا بستر لپیٹ کر ملائیشیا روانہ ہو گئے اور تادم تحریر وہیں مقیم ہیں۔

دیگر علماء کے مقابلے میں غامدی صاحب بہت زیادہ ریشنل ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر میں خداناخواستہ مسلمان ہوتا تو شاید انھی کے کیمپ میں ہوتا۔اگر عمومی علماء کی گاڑی 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پہ کھڑکتی ہے تو غامدی صاحب کی گاڑی 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پہ کھڑکتی ہے مگر۔۔۔۔۔کھڑکتی ہے۔وہ صحیح بخاری اور حدیث کی دیگر کتابوں سے منتخب کردہ احادیث کو درست مانتے ہیں اور انھی احادیث کے راویوں کی دیگر احادیث کو ضعیف قرار دیکر مسترد کر دیتے ہیں ۔جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے۔

وہ نتیجے پہ پہلے پہنچتے ہیں اور اس کے حق میں دلائل مذہبی اور دیگر سورسز سے بعد میں تلاشتے ہیں جو یقیناً علمی بد دیانتی کے مترادف ہے۔علم الکلام کے ماہر ہیں اور زبان کی فصاحت و بلاغت پہ عبور رکھتے ہیں ۔ان کا ایک جملہ آج بھی مجھے کوچہ لکھنئو کی چاشنی سے متعارف کرواتا ہے۔جب بابل میں سحر و ساحری کا غلغلہ ہو گیا تو خدا نے ہاروت اور ماروت کو بھیجا۔لوگ غامدی صاحب کی روانی کو انکی منطقیت سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ انکی روانی میں موجود دلائل اکثر ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں ۔

انکا کہنا ہے کہ آپ پہلے خدا کی ذات پہ ایمان لائیے اوراسکے بعد اسکے احکامات کی ریشنیلیٹی پہ سوال اٹھائیے۔حالانکہ ریشنیلیٹی سوالوں کے جواب پانے کے بعد خدا کی ذات پر ایمان لانے میں پنہاں ہے ۔جب وحیدمراد کا ستارہ روبہ زوال تھا تو تو نشے کی حالت میں انکا ایکسیڈینٹ ہو گیا تو وہ ہسپتال میں تھے۔ایک فلم پروڈیوسر انکی عیادت کرنے انکے پاس چلے گئے اور ان سے کہا کہ وحید تم جلدی سے ٹھیک ہو جاو پھر میں تمھیں فلم میں کام دے دونگا ۔وحید مراد نے جواب دیا کہ آپ مجھے فلم میں کام دے دیں ،مِیں جلدی سے ٹھیک ہو جاؤں گا ۔کچھ یہی غامدی صاحب بھی کرتے ہیں اور اس خدائی دانش پہ ایمان کو مذہب کی ریشنیلیٹی سمجھنے کی بنیادی شرط قرار دیتے ہیں جو خود بقول انکے انسانی دانش کی محدودیت میں سمانے سے قاصر ہے۔

اگر آپ ماضی کی کسی تحریر یا تقریر کا انھیں حوالہ دیں کہ جناب اب تو آپ کا موقف کچھ اور ہے تو انکے ترکش میں ایک اور تیر بھی ہے۔کہیں گے کہ انسانی عقل ارتقائی مراحل سے گزرتی ہے۔جب مجھ پہ اپنی غلطی واضح ہو گئی تو میں نے اپنی اصلاح کر لی ۔اس کو بھول جائیں کہ ماضی کے پیروکار ہدایت پانے میں کامیاب ہوئے یا موجودہ یا مستقبل کے ہونگے ،نکتہ صرف ایک ہے کہ حتمی الہامی دانش بھی علمائے دین کی رائے کو مستقل نہیں رکھ پاتی ۔

نظریہ تقدیر پہ ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔خدا مستقبل کاحال جانتا ہے مگر آپ مجبور محض نہیں ہیں کیونکہ اسکے علم کا آپ کے عمل پہ کوئی اثر نہیں پڑتا ۔میں نے عرض کی کہ حضور لیکن میرے عمل سے اگر اسکا علم تبدیل نہیں ہوتا تو پھر میں مجبورمحض ہی رہتا ہوں۔غامدی صاحب نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ تقدیر میں لکھا ہی یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ گھر سے باہر محنت کرنے کے لئے نکلیں گے تو دس روپے کمائیں گے ۔اگر نہیں نکلیں گے تو نہیں کمائیں گے۔

میں نے کہا کہ اسکا مطلب ہے کہ خدا نے کنڈیشنل تقدیر لوح محفوظ پہ لکھی ہے اور حتمی نتیجہ اسے بھی نہیں معلوم مگر اسکے باوجود غامدی صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہے کہ خدا مستقبل کاحال تو جانتا ہے مگر انسان اپنے اعمال میں مکمل طور پہ خود مختار ہے یعنی اسے پتہ ہے کہ آپ دوزخ یا جنت میں سے کس میں جائینگے مگر پھر بھی وہ آپ کا امتحان لے رہا ہے ۔جانی جانی یس پاپا ایٹنگ شوگر نو پاپا ٹیلنگ لائز نو پاپا اوپن یور ماوتھ ہاہاہا ۔

اسی پروگرام میں جوش خطابت میں یہ بھی کہہ ڈالا کہ اگر آپ قتل کے ارادے سے گھر سے نکلے مگر خدائی دانش نے اپنی کسی مصلحت کے تحت اس قتل کو روک دیا تو بھی بارگاہ خداوندی میں قتل کے مجرم قرار پا جائینگے ۔جی ہاں دوبارہ پڑھئے اور سردھنئے۔آج مِیں سوچتا ہوں کہ پاکستان میں ہونے والے دھماکوں میں جب ہزاروں افراد عزرائیل کی وساطت سے عالم ارواح کے ٹرانزٹ لاونج میں قیامت کی فلائٹ اناونسمنٹ کا انتظار کر رہے ہیں تو خدائی دانش کی کیا کسی بھی مصلحت کو خون ناحق نظر نہیں آیا اور جن ہلاک شدگان کی جوان بیٹیاں سورج نکلنے پہ منہ چھپائے گھر پہنچتی ہیں تو کیا انکا مستقبل مختلف نہیں ہو سکتا تھا تو اس کے جواب میں اسلام حکم دیتا ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوة دو۔

غامدی صاحب کی کتاب میزان کے دیباچے میں درج ہے کہ وہ شیخ افضال کے ممنون ہیں جنھوں نے اس علمی کام کے دوران انھیں فکر معاش سے بے نیاز رکھا اور جیو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میر ابراہیم شکیل نے بھی غامدی صاحب کے صاحبزادے معاذ احسن کو جیو نیٹ ورک کا ڈائریکٹر پروگرامنگ تعینات کر رکھا ہے اور یوں میڈیا،بزنس اور مذہب ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اہلیان پاکستان کی راہنمائی کا کٹھن فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ایک پروگرام ہم نے عیدالاضحی کی مناسبت سے ریکارڈ کیا۔

میں نے پوچھا کہ اگر سئور کے گوشت میں وٹامن بی ون ،بی ٹو ،بی سکس ،بی ٹویلو کے علاوہ زنک اور سیلینیم جیسے معدنیات ہوتے ہیں جن کو کھانے سے دل کی بیماریوں اور جوڑوں کے درد کا خطرہ بیف کی نسبت سولہ گنا کم ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ بیف حلال اور سئور حرام ہے ۔غامدی صاحب نے جواب دیا کہ چونکہ سئور اپنی محرمات سے اختلاط کرتا ہے اس لئے وہ حرام ہے۔جبکہ گائے حلال ہے ۔مِیں نے پوچھا کہ کیا پاکستان میں پائی جانیوالی گائیوں اور بیلوں کے باقاعدہ نکاح پڑھائے جاتے ہیں تو اس پر وہ جز بز ہو گئے ۔

عیدالاضحی سپیشل کی ریکارڈنگ کےدوران پھر میں نے پوچھا کہ کیا مردار حرام ہے ۔غامدی صاحب نے فرمایا بے شک ۔تو پوچھا کہ مچھلی کیوں حلال ہے تو اس پر قرانی استثنی کو بیچ میں لے آئے۔پھر کہنے لگے کہ تمام گوشت خور درندے حرام ہیں ۔پوچھا کہ گینڈا تو سبزی خور ہونے کے باوجود حرام کیوں ہے ۔چلیں چھوڑیں اسکا خیال احکامات خوراک مرتب کرتے وقت خالق کائنات کو آیا نہیں ہو گا۔ یہ پروگرام جیو کے سنسر بورڈ نے کبھی آن ائیر نہیں جانے دیا جس کے اراکین میں اس وقت ارشاد احمد عارف اور نذیر لغاری شامل تھے۔

ایک اور پروگرام میں غامدی صاحب سے پوچھ بیٹھا کہ جناب حضرت آدم زبان کون سی بولتے تھے ۔ذہین آدمی ہیں۔ایک دم چونک گئے ۔مصنوعی بے اعتنائی سے کہنےلگے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔میں نے کہا جناب فرق یہ پڑتا ہے کہ جب کوئی کہانی بنائی جاتی ہے تو اس میں بہت سے لوپ ہولز رہ جاتے ہیں اور زبان آدم کا علم نہ ہونا بھی آپ کی کہانی کے لوپ ہول کی جانب اشارہ کرتا ہے۔آپ کو یہ علم ہے کہ آدم کی پسلی سے حوا پیدا ہوئیں۔شجر ممنوعہ کھانے جیسے مضحکہ خیز جرم پہ دونوں جنت سے نکالے گئے۔ان کے دو بیٹے تھے۔ایک کا نام ہابیل اور دوسرے کا نام قابیل تھا۔آپ کو یہ بھی علم ہے کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا۔آپ کو یہ بھی علم ہے کہ قابیل کو ایک کوے نے تدفین کی راہ سجھائی۔مگر آپ کو یہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم زبان کون سی بولتے تھے ۔

. اسلام کے اقتصادی نظام پہ پروگرام کا اوپننگ سوال یہ تھا اگر زکوة قیامت تک مسلمانوں پہ فرض ہے تو کیا اس فرض کی ادائیگی کے لئے اسلام کو غریبوں کی ایک کثیر تعداد درکار ہے ۔یعنی اسلام غربت کو ختم نہ کر سکنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتا ہے ۔غامدی صاحب فرمانے لگے کہ زکوة ریاست کا ٹیکس ہے۔پوچھا کہ اب تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اس بات کا ادراک کیوں نہیں ہوا تو کہنے لگے کہ ہمیں پرفیکشن کے لیے کوشش کرنی چائیے تو میں نے کہا کہ اگر چودہ سو سال کی کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم راستہ بدل کہ دیکھیں۔

غامدی صاحب نے خشمگیں نگاہوں سے مجھے گھورا اور ریکارڈنگ کا وقت ختم ہو گیا۔چونکہ یہ پروگرام ریکارڈڈ ہوتا تھا لہذا اسے ایڈٹ ایسے کیا جاتاتھا کہ غامدی صاحب فاتح نظر آتے تھے مگر اسکے باوجود پوری دنیا سے مجھے ہیٹ میلز آتی تھیں اور خاص طورپہ یورپ ،امریکہ اور کینیڈا کے مسلمان مجھے ابلیس کایجنٹ قرار دیتے تھےاور ہر دوسری ای میل میں چینل انتظامیہ سے پرزور مطالبہ ہوتا تھا کہ اس ناہنجار کو فی الفور پروگرام کی میزبانی سے الگ کیا جائے۔

اسی طرح نیو ٹی وی پہ جب اوریا مقبول جان کے ساتھ حرف راز کرنے کا فروری تا جون 2016 اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ ان کا اسلام غامدیت کو کفر سمجھتا ہے۔سکندریہ کی لائبریری آٹھویں صدی عیسوی میں قائم تھی۔پاکستان شرابی جناح نے اسلام کے نام پہ بنایا تھا۔لونڈیاں تب پاکستانی فوج کے لئے جائز ہونگی جب نظام عمر پاکستان میں قائم ہو گا ۔عرض کی کہ تب تک شہادت کے درجات اور نشان حیدروامتیاز جیسے اعزازات کی تقسیم بند کیوں نہیں ہوتی۔اس پر انھوں نے پاکستانی معاشرے کی مذہب سے دوری پر اظہار افسوس کرنا شروع کر دیا۔سنڈریلا کی فحاشی اوریا صاحب کی آنکھوں میں کھٹکھتی ہے مگر مفتوح عورتوں کی جانوروں کی طرح تقسیم کو وہ برحق سمجھتے ہیں۔

آئی فون پکڑ کہ امریکہ کو کوستے بڑے کیوٹ لگتے ہیں اور عینک پہن کر خدا کو پرفیکٹ مانتے ہیں ۔انٹرنیٹ پہ جو مشہورکلپ ہے اس میں اوریا صاحب مخلوط نظام کی خامیاں گنوا رہے تھے۔عرض کی کہ جناب مقامات مقدسہ پر بھی تو مخلوط نظام ہوتا ہے۔اس پر وہ آگ بگولہ ہوگئے ۔قیصر و کسری کے ایوان لرز گئے اور انھوں نے مجھ پہ توہین مذہب کا الزام تک عائد کر ڈالا ۔اس واقعےکے کچھ عرصے بعد میں چینل مینجمنٹ سے درخواست کر کے اس پروگرام سے الگ ہو گیا اور لوگوں کو دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد بتا بتا کر روزی روٹی کا سلسلہ آگے بڑھایا ۔

مندرجہ بالا واقعات سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ صرف دلیل ہی زہر مذہب کا تریاق ہے اور اگر مجھے مولانا مسعود اظہر کی طرح جان کی حفاظت کی ضمانت دی جائے تو میں دنیا کے کسی بھی عالم دین سے مذہب کی حقیقت پر لائیو مناظرہ کرنے کو تیار ہوں اور اپنے معزز اساتذہ کرام حضرت ول ڈیورانٹ رحمة اللہ علیہ ،سبط حسن،علی عباس جلالپوری،کارل سیگن،رچرڈ ڈاکنز،برائن کاکس اور نطشے کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں اس بات کی قوی توقع رکھتا ہوں کہ مناظرے کے دوران دلائل سانسوں کی رفتار سے آتے رہیں گے مگر ایسا کوئی مناظرہ اول تو اہل مذہب کرنےپہ آمادہ نہیں ہونگے اور اگر ہوئے تو بعد میں توہین کے فتوے صادر کر کے اپنی مذہبی انانیت کی تسکین میں سرگرداں ہو جائینگے۔

14 Comments

  1. Nasser Akhter says:

    This is the tragedy of all believers who tend to rationalize their beliefs. However, please remember thevwise words of Oswald Spengler: “No argument can debut faith.”

  2. hashim farooq says:

    دنیا میں تمام مذاہب سے منسلک افراد کی تعداد زیادہ کیوں ہے بانسبت انکے جو مذہب بیزار ہیں؟ جمہوری ادوار میں صحیح اور درست کا فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر ہی نہیں ہونا چاہیے؟ اگر اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہئے تو آج کی جدید دنیا اس پر فیصلہ دے چکی۔۔۔۔؟

  3. سجیل سرور says:

    بہت اعلی تحریر بھائ جی۔۔

  4. You should ask your question at facebook page ask & tell. We will breif you with logical answers.

  5. نورالہدیٰ شاہ says:

    مجھے آپ کی بات بھی سمجھ نہیں آئی. غامدی یا اوریا سے مجھے قطعی دلچسپی نہیں مگر آپ نے جس قطعیت کے ساتھ وہ تمام نام گنوا دیے ہیں جن سے آپ زاتی طور پر متفق ہیں اور جنہیں صحیح ثابت کرنے سے پہلے صحیح ثابت قرار دے رہے ہیں، تو آپ میں اور ان میں کیا فرق رہ جاتا ہے جن سے آپ اختلاف کر رہے ہیں. مجھے آپ کے سوال بھی اتنے ہی بچگانہ لگ رہے ہیں جتنی اوریا کی آہ و بکا. علمی سطح پر بحث کے لیے دونوں طرف کا برابر کا علم چاہیے. آپ تو خود کو یہ کہہ کر بچا گئے کہ آپ پر فتوے لگیں گے اس لیے آپ کھلے عام بحث نہیں کر رہے کہ آپ پر فتوے لگیں گے ورنہ آپ بہت کچھ ثابت کر سکتے ہیں. تو پھر غامدی کو بھی جان بچانے کا حق دیجیے نا. آپ کے سوالوں کا انداز بھی وہی ہے جیسا آج کل مولویوں کی وڈیوز میں نظر آتا ہے. اپنی کہی بے سروپا بات کو دلیل کہہ کر منوانے کی کوشش. دلیل تو وہ ہوئی جو آپ دونوں طرف کے حوالے دے کر بحث کریں.
    اختلاف کے لیے معذرت
    مجھے یقین ہے کہ آپ کی روشن خیالی اختلاف کے حق کو سمجھتی ہوگی.

  6. A really absurd article. Waste of time. When you don’t have something to criticise someone I-e Orya Maqbool then why becoming personal and naming his belongings?. If you don’t think that religion is an essential part of life then kindly don’t call ‘Maulvi’ for giving Adhaan in your new born kids, don’t call him for offering ‘funeral’ and declare that you’re an atheist. In addition, when you die your dead body should be placed outside instead of burying as you have nothing to do with any religion. Leave this hypocrisy*.

    *Apologising for harsh words but these re facts so kindly face it. Secondly, I’m not a follower of Orya Maqbool Jan.

  7. Janab kuch chesin ache hain par ye jo aap ne haram ur halal wala topic.shro kia he to quran main mention kar dia jia he har ches ka name le le kar nahe bataya jia. Baqe insan ko bhe sense de jae he ke wo khud bhe kuch decide kar le baqe agar aap pigs ke bohat shouqeen hain to aap us ko kha lain .

  8. اویس اقبال ۔۔۔۔
    آپ کو میں کبھی کسی ٹی وی پر نہ دیکھ سکا وجہ صاف ظاہر کہ میں ٹی۔ وی ہی کم دیکھتا ہوں ۔ میرے لئے وقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔۔ آپ نے اس مضمون میں اپنے استدلال کو نہایت عمدگی سے پیش کیا ہے ۔۔۔ لیکن یہ وہ ذاتی تجربات ہیں جو آپ نے چند اہل علم کے ساتھ گفتگو میں کئے ہیں ۔ (معذرت ۔۔۔ میں اوریا کو اہل علم کی فہرست میں نہیں رکھتا)
    مذہب ایک افیون ہے ۔۔۔ اس پر بیشتر دانشوروں کا اتفاق ہے ۔ اور جن اساتذہ اکرام کا آپ نے مضمون کے آخر میں ذکر کیا ہے، وہ میرے لئے بھی قابل احترام ہیں۔ میری رائے میں آپ ایک ایسا مضمون لکھیں جس میں مذہبی الہامات سے احکامات تک کو عقلی دلائل، انسانی جبلت اور نیورو جینیٹک علامتوں سے رد کریں ۔۔۔
    یہ مضمون یقیناً ایک خاص حلقے سے قابلِ ستائش اگر نہ ہوا ، کم از کم علمی و فکری سطح پر ایک سوچ کا محرک ضرور ہوگا ۔

  9. As far as i know, you are one the most annoying Host of program where Mr. Ghamdi was a Guest. I saw some of your Program with Mr. Ghamdi. First of all you ask stupid questions & then when Mr. Ghamdi trying to answer them, you interrupted him constantly. You don’t even have the manners and etiquette how to host a Program.
    Secondly, like every one you have also have some conclusion of your answer and you think those right, but you think you are right only and others are wrong. So there is a serious deficiency of rationalism in you.
    However i condemn Orya’s (Idiot) accusation on you. That was a relevant question.

  10. Yar owais tumhari her baat mojhy to Sahi lagti hai or in bato ka dunya k kissi bhi aalim k pass na jawab tha na hai or na kabhi ho ga.

    Meri Taraf say bhi kuch sawal hazir khidmat hain.

    1- nabi Adam pbuh k zamana main Khuda ki shareyet main behen Bhai ki apas main shadi q jaiz thi?

    Kia khuda insani nasal ki baqa k lyay koi gherat mandana system nahi bana sakta tha.
    Itni begherati k Allah ki pannah…

    2- khuda aleem insan ko q azma raha hai?
    Kia wo insano k hatmi anjam say waqif nahi hai? Kia Khuda matlaq aleem nahi?
    Or agar waqif hai to phir azmaish kesi?
    Or Khuda ko iss insani azmaish say aisa konsa faida ho raha hai?
    Kia zarorat thi insan, shatan, jannat dozakh, gunnah sawab ki yay scheme banany ki?
    Or iss scheme main aisi Kon c khas hikmat hai? Insan wo imtihan day raha hai jiska anjam khuda ko malom hai.

    Khuda agar Raheem hota to Iblees jesy khabis character ko paida he nahi karta,
    Q k rehmat ka mantaqi taqqaza hai k wo kissi ko dukh denay wala koi Kam nahi karti.
    q khuda nay aisay kirdar paida kyay jin ki waja say shareef insano ka zameen pay Saans Lena bhi mahal hai.

    Kia Khuda ko sirf yay check karna tha k zameen pay rahnay walay insan apny khaliq ko pehchanty hain ya nahi? Bus?
    Itni c baat k lyay khuda nay fasad karny wali makhloq paida kar di.

    Agar khuda sedhay saday tariqay say insano ko jannat jesi jaga main Basa deta to Kia nuqsan ho jata khuda ka?

    3- sona hai syed biradri aik khas nasal hoti hai, lekin yay khas nasal London main zina sharab jesy lazeez kafirana amaal main kafiro ko bhi maat day rahi hai.
    Ajkal Syedo ki larkyan london main zina ki expert hain or larky bhi…
    Yay kesi nasal hai?

    Muslim log aik dosry ki jaan maal aabro say khelty hain or phir bhi on k lyay maghfirat k waaday!!!

    • نجم الثاقب کاشغری says:

      کامن سیینس بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے۔یہ مروجہ بائبل کا پیش کردہ نظرہہ ہے کہ حضرت آدم ؑ سب سے پہلے انسان تھے جو تخلیق کئے گئے۔قرآن مجید نے ایسی کوئی بات کہیں بھی ( جی ہاں کہیں بھی ) نہیں کی۔اسی طرح آدم کی مبینہ شریعت میں بہن بھائی کی شادی وغیرہ بے بنیاد اور احمقانہ مفروضہ ہے جو جاہلوں نے ( جن میں غلطی خوردہ “مفسرین” بھی شامل ہیں) اپنی عقل کے مطابق گھڑا ہوا ہے۔بات وہی ہے جو پطرس نے کہی تھی کہ “پڑھے نہ لکھے ،نام محمد ترقی پسند”!۔سنی سنائی باتوں یا فٹ پاتھ پہ بکنے والی دونمبر کے قصے کہانیوں کو پڑھ کرکامن سینس کا اور بھی ستیا ناس ہو جاتا ہے۔حضرت آدم تو قریبا سات ہزار قبل پیدا ہوئے تھے جبکہ لاکھ سال پہلے کے انسانی ڈھانچے دریافت ہو چکے ہیں۔آسٹریلیا کے دیسی باشندے ساٹھ ہزار سال سے یہاں آباد ہیں۔۔قرآن مجید نے صرف یہ بتا یا ہے کہ حضرت آدم اس زمین پہ مقرر ہونے والے پہلے خلیفہ (بحیثیت نبی) تھے۔ ان کے دور میں پہلے سے انسان موجود تھے جبھی تو فرشتوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ کیا ان میں سے خلیفہ بنایا جا رہا ہے جو زمین میں خون بہاتے ہیں ؟۔ ظاہر ہےانسان جو بہائم سی زندگی گزارتے تھے آدم کے وقت میں موجود تھے تو فرشتوں نے ایسی بات کہی۔ ان باتوں کو سمجھنے کے لئے کسی مدرسے یا سیکولر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونا ضروری نہیں۔

  11. It will take atleast 500 more years for muslim s to evolve to the level of humanity…

  12. الیاس انصاری says:

    اگر مناظرہ دو طرفہ ہو یعنی آپ کو سوال کرنے کی اجازت کے ساتھ آپ سے بھی سوال کرنے کی اجازت ہو تو بہت سے علماء مل جائیں گے – البتہ اگر سامنے والا ہٹ دھرم ہو تو نتیجہ کوئی نہیں نکل سکتا

  13. اس سارے مضمون میں رائٹر نے اپنی کج بحثی کی صلاحیت کو منوایا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *